چائے پہ چرچا سے چائے پہ خرچا تک

چائے پہ چرچا سے چائے پہ خرچا تک

چائے پہ چرچا سے چائے پہ خرچا تک

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کی غریب اکثریت کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے اپنی پہلی انتخابی مہم کے دوران اپنے بارے میں یہ جھوٹ مشہور کردیا کہ وہ بچپن میں اپنے والد کی دوکان پر چائے بیچتے تھے۔ اس کے خلاف جنوری 2014ء میں کانگریس کے بڑ بولے سینئر رہنما منی شنکر ائیر نے رعونت سے دہلی میں کانگریس کے ایک اجلاس کے دوران کہہ دیا تھا کہ نریندر مودی 21ویں صدی میں کبھی وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ انہوں نے مزید طنز کیا تھا کہ اگر وہ چاہیں تو کانگریس کے اجلاس میں چائے بیچ سکتے ہیں اور ہم وہاں ان کے لیے جگہ تلاش کر لیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس بیان کا خوب فائدہ اٹھایا ۔ بی جی پی نے اسے کانگریس کی طرف سے ایک غریب پس منظر اور چائے بیچنے والے کی توہین قرار دے کر سیاسی روٹیاں سینکنا شروع کردیا۔ نریندر مودی نے اس طنز کو محض شکوہ شکایت کرنے کے بجائے اپنی انتخابی مہم کے دوران ’’چائے پہ چرچا‘‘کے نام سے ایک مقبول مہم شروع کردی تاکہ ان کے عاجزانہ پس منظر کو اجاگر کیا جاسکے۔ وہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ ہندوستان میں مودی سے متعلق ہر جھوٹ بک جاتا تھا حالانکہ آگے چل کر پتہ چلا کہ اس وقت تو وڈ نگر میں ریلوے اسٹیشن ہی نہیں تھا بس ایک ریلوے یارڈ تھا جس پر چائے کی دوکان کا کوئی وجود نہیں تھا مگر جب تک یہ حقائق سامنے آتے اور مودی کو شرمندہ کرتے مودی بھگتوں کی بہت بڑی فوج تیار ہوچکی تھی۔ وہ ان کے بارے میں ہر جھوٹ پر آنکھ موند کر ایمان لے آتی تھی اور یہ حال ہوگیا تھا بقول پروین شاکر ؎
میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا
یہ حسن اتفاق ہے چائے کی دوکان والی خبر بھی مودی کی جعلی ڈگری کی مانند جھوٹی تھی لیکن 2014کے عام انتخابات میں بی جی پی نے شاندار کامیابی کے پیچھے اس چائے پر چرچا نے بھی اہم کردار ادا کیا اور آگے چل مودی کو ملک کا وزیر اعظم بنادیا۔ بعد از خرابیٔ بسیار منی شنکر ائیر نے یہ صفائی دی کہ ان کے بیان کو میڈیا اور مودی نے غلط رنگ میں پیش کیا تھا اور انہوں نے براہ راست توہین آمیز لفظ استعمال نہیں کیے تھے مگر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔ یہ بھی عجب تماشا ہے کہ جس چائے نے مودی کو زیر اعظم بنایا اب اسی چائے میں پڑنے والی چینی اور دودھ نے ان کی نیند حرام کررکھی ہے۔ وطن عزیز میں ہندووں کے تہوار کا موسم اگست سے نومبرتک ہوتا ہے۔ تہوار اور مٹھائی کے درمیان چولی دامن کا رشتہ ہے۔ یہ اس قدر گہرا ہے کہ امیتابھ بچن کا مشہور جملہ "کچھ میٹھا ہو جائے” ضرب المثل بن گیا ۔ اس نے نہ صرف کیڈبری ڈیری ملک (Cadbury Dairy Milk)چاکلیٹ کی کھپت میں اضافہ کیا بلکہ 2005ء میں اسی نام سے ایک فلم بھی بنائی گئی لیکن آج کل چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے تہوار کی مٹھاس کو کڑواہٹ گھول دی ہے ۔
ملک بھر میں چینی کی قیمت آسمان چھو رہی ہے۔اس بابت بہار کی سرکار میں وزیر شرون کمار نے ا پنے انوکھے جواب سے وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کی یاد دلا دی۔ ۷؍ سال قبل جب اسی طرح پیاز کی قیمتیں اچانک بڑھ گئی تھیں تو معاملہ ایوان پارلیمان تک پہنچ گیا اور این سی پی کی رکن پارلیما ن سپریہ سولے نے وزیر مالیات سے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔ اس پر نرملا نے نہایت سکون سے جواب دیا میں بہت زیادہ پیاز اور لہسن نہیں کھاتی۔ میں ایک ایسے خاندان سے آتی ہوں جس کاپیاز سے کم ہی سابقہ پڑتا ہے۔ نرملا جی بھول گئیں کہ وہ محض اپنے باورچی خانے کی ملکہ نہیں بلکہ پورے ملک کی وزیر خزانہ ہیں جہاں پیاز کے بغیر عوام کا گزارہ نہیں ہوتا ۔ پیاز کی قیمت میں اضافہ ان کے آنسو رواں دواں کردیتا ہے۔ اپنے وزیر مالیات کی پیروی کرتے ہوئے شرون کمار نے کہا چینی کے دام بڑھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا آج کل سب ڈائبٹیز کے شکار ہیں۔ ویسےبھی لوگ چینی کم کھا رہے ہیں ۔ بی جے پی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ پورے ملک کو اپنی طرح بیمار سمجھتی ہے جبکہ ملک کی نئی نسل نے اسے بستر مرگ پر پہنچا دیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کے پاس مہنگائی کو قابو میں رکھنے کا کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں ہے اس انہوں نےمئی ہی میں حیدرآباد کے اندر ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ایندھن کے استعمال میں کمی لائیں اور ایک سال تک سونا خریدنے سے گریز کریں تاکہ عالمی جنگوں اور سپلائی چین کے بحران کے باعث معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔مودی نے اپنے پروچن(نصیحت) سے یہ پیغام دیا کہ سرکار کچھ نہیں کرے گی۔ عوام خودسرکار کی ہدایت پر اپنے مسائل کریں مگر وہ خود اس پر عمل نہیں کریں گے اس لیے کہ دوسروں کو غیر ملکی دوروں سے روکنے والے خود نکل گئے اور امارات کے سربراہ شیخ محمد النہیان کو سونے کا ہیرے جڑا خنجر تحفہ دے دیا۔ اب وہ خنجر کس کی پیٹھ میں بھونکا جائے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ وزیر اعظم نے مہنگائی میں اضافے کے لیے کورونا وبا اور دنیا بھر میں جاری جنگوں کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنا دامن جھٹک لیا ۔ انہوں نے دعویٰ تو کیا کہ مرکزی حکومت عالمی مہنگائی کا بوجھ ہندوستانی عوام پر کم کرنے کی مسلسل کوشش کر رہی ہے لیکن وہ بار آور ہوتی نظر نہیں آتیں ۔
وزیر اعظم مودی کےمطابق پٹرول اور ڈیزل کے مسائل پر قابو پانے کا طویل مدتی حل ملک میں تیل کی کھپت کم کی جائے۔ انہوں نے اس بابت الیکٹرک گاڑیوں کےفروغ اور ریلوے کے شعبے میں بھی ڈیزل کے استعمال میں نمایاں کمی کا ذکر کیا مگر یہ بھول گئے کہ بجلی بنانے میں بھی تو ایندھن درکار ہے۔ وہ بولے ’’آئیے ایک سال تک سونا خریدنا بند کریں، اگر سونے کی درآمد کم ہوگی تو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا۔‘‘ وزیر اعظم کو معلوم ہونا چاہیے کہ زر مبادلہ بچانے سے نہیں بلکہ کمانے سے بڑھتا ہے۔ ہندوستان کی اوسط اور چھوٹی صنعتوں کے خاتمے کی وجہ سے درآمدات بڑھتی ہیں اور زر مبادلہ نکل جاتا ہے۔ وزیر اعظم کا کوئی خطاب سیاسی مفاد سے خالی ہو یہ ناممکن ہے۔ انہوں نے کانگریس اور بی آر ایس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد اب تلنگانہ میں بھی عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور جلد یہاں بھی بی جے پی کی حکومت قائم ہوگی۔ مودی نے کہنا تھا کہ ملک کے عوام خاندانی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں جبکہ این ڈی اے حکومت ترقیاتی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔
مودی جی کا یہ دعویٰ اگر درست ہے تو ترنمول اور شیوسینا کے ارکان پارلیمان کو خرید کراین ڈی اے میں شامل کرنے ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ یہ کام نوٹ کے بجائے ووٹ سے کیوں نہیں ہوپاتا۔ مودی جی نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ ووٹ لینے کے بعد عوام کو بھول جاتی ہے اور ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بنتی ہے حالانکہ ملک بھر کی ڈبل انجن سرکاروں میں عوام کا بہت برا حال ہے۔ سربراہِ مملکت اگر معیشت جیسے سنجیدہ مسئلہ میں سیاست کرنے لگے تو حزب اختلاف کیسے پیچھے رہ سکتاہے۔ وزیر اعظم کی اپیل کے جواب میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر لکھ دیاتھا کہ : "مودی جی کا عوام سے قربانیوں کا مطالبہ، سونا نہیں خریدنے ، بیرون ملک سفر نہ کرنے، پیٹرول کا کم استعمال کرنے، کھاد اور کوکنگ آئل میں کمی کرنے ، میٹرو کا استعمال کرنے اور گھر سے کام کرنے کی اپیل ان کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ گاندھی نے مزید لکھا، "12 سالوں میں، انہوں نے ملک کو ایسے موڑ پر پہنچا دیا ہے کہ عوام کو بتایا جا رہا ہے کہ کیا خریدنا ہے اور کیا نہیں خریدنا ہے، کہاں جانا ہے اور کہاں نہیں جانا ہے۔ ہر بار، وہ خود احتسابی سے بچنے کے لیے عوام پر ذمہ داری ڈال دیتے ہیں ۔ ایک سمجھوتہ کرنے والے وزیر اعظم میں اب ملک کو چلانے کی صلاحیت نہیں ہے۔” یہ ایک سچائی ہے کہ مہنگائی کی مار مودی سرکار کی نا اہلی کےبدولت ہی ہے۔ وزیر اعظم مودی چہار جانب سے گھر چکے ہیں ایک طرف مہنگائی ہے تو دوسری جانب بیروزگاری۔ کہیں پیپر لیک ہورہا ہے کہیں چندہ چوری کا شور ہے۔ جنتر منتر سے طلبا گئے تو سادھو آگئے اور رام مندر کی چندہ چوری پر سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کرنے لگے۔ ان کے بعد نام نہاد اونچی ذات کے لوگ آکر ریزرویشن کے خاتمے کا مطالبہ کرنے لگے۔ انہیں کسی طرح سمجھا منا کر رخصت کیا تو اب نیم فوجی دستوں یعنی سی آر پی ایف کے سبکدوش اہلکار احتجاج کرنے کے لیے آرہے ہیں۔ ان مظاہروں سے مودی کا سنگھاسن ڈولنے لگا ہے اور ان کی حالتِ زار پر پروین شاکر ہی کی نظم کا یہ بند معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتے ہیں؎
آج کی شب تو بہت کچھ ہے مگر کل کے لیے
ایک اندیشۂ بے نام ہے اور کچھ بھی نہیں
دیکھنا یہ ہے کہ کل پھر سے احتجاج کے بعد
جیت ہو جائے گی یا کھیل بگڑ جائے گا

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے