مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کی شاید یہ سب سے بڑی خبر ثابت ہو سکتی ہے۔سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تقریباً ایک ماہ بعد یہ خبر آئی ہے کہ ایران کو بھی اس اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی خبر رساں ایجنسی کے سربراہ مہدی رحیمی نے المیادین کو بتایا کہ تہران کو باضابطہ دعوت موصول ہوئی ہے اور اس تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اتحاد کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں شیعہ سنی جھگڑے فساد شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔
یاد رہے کہ یہ سہ فریقی دفاعی معاہدہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے دستخطوں سے وجود میں آیا تھا۔ معاہدے کی بنیادی شق یہ ہے کہ کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ دراصل ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی سمجھوتے کی توسیعی شکل ہے، جس میں بعد میں ترکیہ کو بھی شامل کر لیا گیا۔
دلچسپ اور اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے ایران کو اس معاہدے میں لانے کی کوششیں کھلے عام جاری ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے واضح کیا تھا کہ اسلام آباد معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کرے گا، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے انہیں معاہدے کے نمایاں نکات سے پہلے ہی آگاہ کر چکے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عراقچی کو اسلام آباد کے دورے کی دعوت بھی دی جا چکی ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی پہلے ہی یہ بیان دے چکے ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کے لیے کسی خطرے کی علامت نہیں، بلکہ امریکی سیکیورٹی گارنٹیوں کی ناکامی کے بعد خطے میں نئے دفاعی انتظامات کا حصہ ہے۔
تاہم اس اہم پیش رفت کے باوجود، ایران کی باضابطہ شمولیت کی سرکاری تصدیق اب تک سامنے نہیں آئی۔ نہ تہران کی وزارتِ خارجہ اور نہ ہی سعودی عرب، ترکیہ یا پاکستان کی حکومتوں نے دعوت کی حتمی توثیق کی ہے۔ فارورو سمیت ایرانی ذرائع کے مطابق دعوت کی خبر ایک ایرانی ذریعے کے حوالے سے سامنے آئی ہے، جس نے واضح طور پر یہ بھی کہا کہ اس بارے میں تاحال کوئی رسمی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اگر یہ پیش رفت حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو یہ خطے کی سیاست میں ایک بڑا اسٹریٹجک موڑ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان برسوں سے چلی آ رہی علاقائی رقابت کسی حد تک پس منظر میں چلی جائے گی۔ اس سے نہ صرف ایک وسیع تر مسلم دفاعی نیٹ ورک کی راہ ہموار ہوگی بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کی نئی صف بندی بھی وجود میں آئے گی۔ فی الحال، اسے ایک اہم مگر غیر مصدقہ سفارتی پیش رفت سمجھنا ہی زیادہ محتاط اور درست رویہ ہوگا۔
اگر ایسا ہوتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ سے امریکا کا کردار ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکتا ہے۔ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کی طرف سے خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی اڈوں پر حملوں نے خلیجی ریاستوں کو اپنی حفاظت خود کرنے پر مجبور کر دیا۔ امریکا نے اپنی ساری توانائی اسرائیل کی حفاظت میں لگائی اور خلیجی ریاستوں کو مصیبت کے وقت دھوکا دے دیا۔ خلیج میں امریکی اڈے اور دفاعی نظام تقریباً تباہ ہو چکے ہیں، اور انہیں دوبارہ کھڑا کرنا شاید آسان نہیں۔ امریکی بحری بیڑے خلیجی ریاستوں کی حفاظت میں ناکام ثابت ہوئے، اور تو اور، آبنائے ہرمز بھی ابھی تک نہیں کھول سکے، جس کی وجہ سے پورے علاقے کو ایک ایسے زبردست بحران کا سامنا ہے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف کوئی مؤثر عسکری آپشن باقی نہیں رہا، لہٰذا سعودی عرب اپنی حفاظت اور دفاع کے لیے پاکستان اور ترکیہ سے رجوع کرتا ہے، اور تینوں ممالک کا یہ انتہائی اہم اتحاد مکہ معاہدے کی شکل میں 7 اگست کو سامنے آتا ہے۔ اور آج یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ اس معاہدے میں ایران کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ بنگلہ دیش بھی اس معاہدے میں شامل ہونے کی کوشش کر رہا ہے، اس طرح مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں شاید اس صدی کا سب سے بڑا معاہدہ عمل میں آ سکتا ہے، جو نہ صرف دفاعی نقطہ نظر سے اہم ہوگا بلکہ معاشی استحکام اور علاقے میں پائیدار امن، استحکام اور سلامتی کا بھی ضامن ثابت ہو سکتا ہے۔
پانی بھی مسخر ہے ، ہوا بھی ہے مسخر
کيا ہو جو نگاہ فلک پير بدل جائے
ديکھا ہے ملوکيت افرنگ نے جو خواب
ممکن ہے کہ اس خواب کي تعبير بدل جائے
طہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
شايد کرۂ ارض کي تقدير بدل جائے