ایک وردی، دو ترازو: قانون کی آنکھ یا تعصب کا چشمہ؟
بھارت کی بیوروکریسی: آئین بمقابلہ عقیدہ ؟
ازقلم: اسماء جبین فلک
ذرا ایک منظر کا تصور کیجیے۔ چھتیس گڑھ کے قصبے راج نند گاؤں میں دسہرے کا دن ہے۔ روایتی شستر پوجا کے فوراً بعد ضلعی پولیس کی سربراہ انکتا شرما، ساڑھی میں ملبوس، ایک خودکار جنگی رائفل اٹھاتی ہیں اور ہوا میں فائرنگ کرتی ہیں۔ ویڈیو وائرل ہوتی ہے۔ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل کے جے سنگھ ڈھلوں جیسے عسکری ماہرین کھلے عام سوال اٹھاتے ہیں کہ گولیوں سے بھرا ہتھیار اس طرح لہرانا سنگین لاپروائی ہے، اور وہ فوری تادیبی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مگر تلاش کے باوجود کسی واضح تادیبی کارروائی یا سرکاری تحقیقات کا کوئی مصدقہ ریکارڈ سامنے نہیں آتا۔
اب دوسرا منظر دیکھیے۔ مغربی بنگال کے کھڑگ پور میں انڈین پولیس سروس(آئی پی ایس) کی ایک مسلم افسر، ڈاکٹر بشریٰ بانو، یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کے امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کے لیے ایک حوصلہ افزا ویڈیو ریکارڈ کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ وہ سعودی عرب میں اسسٹنٹ پروفیسرکی ملازمت چھوڑ کر واپس آئیں، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی اقامتی تربیتی اکیڈمی (Residential Coaching Academy) سے رہنمائی حاصل کی، اور یہ پیغام دیا کہ محنت کرنے والے طلبہ بھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ ویڈیو کا آغاز ’’السلام علیکم‘‘ سے ہوتا ہے اور اختتام ’’جزاک اللہ‘‘ پر۔ کچھ ہی گھنٹوں بعد دائیں بازو کی ایک تنظیم، ’’ہندو لیگل فنڈ‘‘، مغربی بنگال کے سیکریٹری داخلہ کو شکایت بھیجتی ہے کہ افسر نے ’’وندے ماترم‘‘ یا ’’جے ہند‘‘ کیوں نہیں کہا۔ 14 ستمبر کو تبادلے کا حکم نامہ جاری ہو جاتا ہے۔ سرکاری طور پر ’’عوامی مفاد‘‘ کا حوالہ دیا جاتا ہے، لیکن وقت ایسا ہے کہ ہر قاری یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہو جاتا ہے: آخر جرم کیا تھا؟ واضح رہے کہ انہوں نے پی ایچ ڈی زرعی سائنس میں نہیں، بلکہ انتظامی علوم (Management Studies) میں کی ہے۔ یہ تفصیل درست رکھنا ضروری ہے، ورنہ تنقید کی ساکھ خود متاثر ہوتی ہے۔
یہ دو واقعات الگ الگ نہیں، بلکہ ایک ہی سوال کے دو رخ ہیں: قانون کا پیمانہ عمل دیکھتا ہے یا نام اور عقیدہ؟ کل ہند خدمات کے ضابطۂ اخلاق، 1968 (All India Services [Conduct] Rules, 1968) کی شق 3(1A) کے تحت ہر افسر پر لازم ہے کہ وہ اعلیٰ اخلاقی معیار، دیانت اور سیاسی غیر جانب داری برقرار رکھے۔ غور کیجیے: سیاسی غیر جانب داری کا یہ تقاضا سیاسی وفاداری سے متعلق ہے، یعنی کسی جماعت کی رکنیت، کسی سیاسی تحریک میں شمولیت یا سرکاری فیصلوں میں تعصب برتنے سے ممانعت۔ یہ کسی کی تہذیبی زبان یا مذہبی سلام پر پہرہ بٹھانے کا اجازت نامہ ہرگز نہیں۔ ’’السلام علیکم‘‘ کہنا نہ تو سیاسی وابستگی ہے اور نہ ہی سرکاری فرائض کی خلاف ورزی، بلکہ یہ خطے کی مشترکہ تہذیبی زبان کا حصہ ہے جسے ایک باوقار افسر نے طلبہ سے اپنائیت کے اظہار کے لیے استعمال کیا۔ دوسری طرف، عوامی مقام پر گولیوں سے بھری جنگی رائفل سے ہوائی فائرنگ کرنا، ہتھیار کے استعمال کے بنیادی حفاظتی قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک واقعے پر تادیبی کارروائی کا کوئی سرکاری ریکارڈ سامنے نہ آئے اور دوسرے پر چند ہی گھنٹوں میں تبادلہ کر دیا جائے، تو ماتحت افسران اور عوام کیا سمجھیں گے؟ یہی کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں نہیں ہوتا۔
یہاں سب سے تکلیف دہ پہلو اداروں کا رویہ ہے۔ آئی پی ایس ایسوسی ایشن، جو افسران کے پیشہ ورانہ تحفظ اور وقار کی ضامن ہے، ان دونوں واقعات پر کوئی واضح مؤقف پیش کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ ایک طرف جہاں ایک افسر کے ہاتھوں ہتھیار کے غیر محتاط مظاہرے پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں مگر کوئی تادیبی حرکت دکھائی نہیں دیتی، وہیں دوسری طرف ایک فرض شناس افسر کو محض خیر سگالی کے سلام پر معتوب ٹھہرا دیا جاتا ہے اور کوئی ادارہ ان کے حق میں کلمۂ خیر نہیں کہتا۔ یہ خاموشی اتفاقیہ نہیں بلکہ اس تنظیمی فضا کا پتا دیتی ہے جہاں غالب نظریے کی علامتی اطاعت کو پیشہ ورانہ بقا کے لیے ناگزیر سمجھ لیا گیا ہے۔ اگرچہ مغربی بنگال حکومت نے اس تبادلے کو معمول کی انتظامی کارروائی قرار دیا، لیکن دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق یہ حکم نامہ شکایت کے محض 24 گھنٹوں کے اندر جاری ہوا، جس میں معمول کا تاثر دینے کے لیے دو دیگر افسران کے نام بھی شامل کیے گئے۔ بات یہ نہیں کہ کاغذی عذر کیا تراشا گیا، بلکہ لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ حالات اور وقت کی ترتیب کس ذہنیت کو بے نقاب کر رہی ہے۔ جب ایک بظاہر سیکولر دعویدار حکومت دائیں بازو کے دباؤ کے سامنے سرنگوں ہو جائے، تو پیغام یہی جاتا ہے کہ اقلیتی افسر کے لباس، زبان اور سلام کو اس کی پیشہ ورانہ اہلیت پر ترجیح دی جائے گی۔
جب ریاستی اور انتظامی مشینری کو مخصوص سیاسی مقاصد کے تابع کر دیا جائے، تو ماہرینِ عمرانیات و سیاسیات اسے ’’ریاستی اداروں پر مفاداتی تسلط‘‘ (State Capture) سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ادارے اور قوانین کتابوں میں تو موجود رہتے ہیں، مگر ان کی روح اور غیر جانب داری سلب ہو چکی ہوتی ہے۔ ایک ہی وردی کے سائے تلے فائرنگ پر خاموشی اور سلام پر احتساب اسی مفاداتی تسلط کا کھلا ثبوت ہے۔ یہ وہ تشویش ناک موڑ ہے جہاں سے نظامِ انصاف پر عوام کا اعتماد متزلزل ہونا شروع ہوتا ہے۔ بھارتی آئین کی دفعات 14 اور 15 تمام شہریوں کو مساوات اور بلا تفریق تحفظ کی ضمانت دیتی ہیں۔ دستوری اصولوں کے مطابق ’’معقول درجہ بندی‘‘ (Reasonable Classification) اسی صورت جائز تسلیم کی جاتی ہے جب اس کی بنیاد کسی واضح اور قابلِ فہم امتیاز (Intelligible Differentia) پر ہو اور اس امتیاز کا مقصد سے منطقی تعلق (Rational Nexus) ثابت ہو۔ نام، مذہب اور سلام کی بنیاد پر دو الگ پیمانے وضع کرنا معقول درجہ بندی نہیں بلکہ صریح آئینی انحراف ہے۔
اس دوہرے رویے کا ایک اور مظاہرہ تلنگانہ میں دیکھا گیا، جہاں پولیس چیف سی وی آنند نے ویدک منتروں اور پوجا پاٹ کے روایتی اہتمام کے ساتھ اپنے عہدے کی باقاعدہ ذمہ داری سنبھالی۔ اسے سرکاری و ثقافتی تسلسل قرار دے کر خاموشی سے قبول کر لیا گیا، اور کسی سطح پر یہ سوال نہ اٹھا کہ سیکولرازم کی روح کے تحت سرکاری دفاتر میں ایسی رسومات کا انعقاد کہاں تک درست ہے۔ اس واضح تضاد سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ اکثریتی مذہبی مظاہر کو تو غیر محسوس انداز میں ریاستی عمل کا جزو مان لیا جاتا ہے، لیکن اقلیتی طبقے کے فطری تہذیبی اظہار یا زبان کو فوری طور پر شک، تعصب اور بے وفائی کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جاتا ہے۔ یہی وہ تفریق ہے جو بیوروکریسی کی اخلاقی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے۔
سول سوسائٹی اور آئی پی ایس ایسوسی ایشن کی جانب سے اس دوہرے معیار پر خاموشی اختیار کرنا ایک المیہ ہے۔ ایک وقت تھا جب باوقار افسر شاہی سیاسی دباؤ کے سامنے ڈٹ کر اپنے غیر جانب دارانہ کردار کی حفاظت کرتی تھی۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ یہی نمائندہ فورم مصلحتوں کے اسیر دکھائی دیتے ہیں، حتیٰ کہ کسی مہلک ہتھیار کے غیر قانونی عوامی استعمال پر بھی سرزنش کی جسارت نہیں پاتے۔ اگر قانون کے محافظ ادارے ہی اس تفریق پر آنکھیں موند لیں، تو عام شہری انصاف کی دہائی لے کر کس کے پاس جائے گا؟
ایسے امتیازی اقدامات کا سب سے مہلک اثر سماجی تانے بانے پر پڑتا ہے۔ بھارت کی پسماندہ اقلیتوں کے لیے سرکاری ملازمت محض رزق کا وسیلہ نہیں بلکہ سماجی وقار، بااختیاری اور دستوری تحفظ کی سب سے معتبر امید رہی ہے۔ ڈاکٹر بشریٰ بانو جیسی باہمت خواتین کی کامیابی نے حاشیے پر موجود لاکھوں نوجوانوں کو ایک مثبت اور روشن حوصلہ دیا تھا؛ مگر ان کے ساتھ اس نوعیت کے غیر منصفانہ برتاؤ سے یہ زہریلا تاثر ابھرتا ہے کہ آپ کی ذہانت، دیانت اور حب الوطنی خواہ کتنی ہی مسلم کیوں نہ ہو، آپ کا نام اور عقیدہ ہمیشہ زیرِ عتاب رکھا جا سکتا ہے۔ جب ریاست خود اپنے باصلاحیت بیٹوں اور بیٹیوں میں بیگانگی کے بیج بونے لگے، تو باہمی یگانگت اور یکجہتی کے تمام دعوے بے معنی ہو جاتے ہیں۔
تاریخ کا یہ اٹل سبق ہے کہ جو معاشرے اپنے قوانین کو اشخاص کے مذہب اور گروہی شناخت کے تابع کر دیتے ہیں، وہ بالآخر انتشار اور بے سمتی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ قانون کا وقار محض اس کے غیر جانب دارانہ نفاذ سے ہی سلامت رہ سکتا ہے۔ اگر اے کے 47 (AK-47) سے ہوائی فائرنگ کرنے والی افسر کو کھلی رعایت ملتی رہے اور طلبہ سے سلام کرنے والی باوقار افسر کو جواب دہ بنا دیا جائے، تو نظامِ عدل کا بھرم قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ محض دو افراد کا تقابل نہیں بلکہ آئین کی اس روح کا نوحہ ہے جسے فرقہ وارانہ مصلحتوں کی نذر کیا جا رہا ہے۔ آج سنجیدہ حلقوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ملک کو قانون کی بالادستی پر چلانا ہے یا ایک ایسی بے قاعدہ قوت کے سپرد کرنا ہے جہاں عدل کا فیصلہ ہتھیار اور نام دیکھ کر کیا جائے۔
اس گھٹن زدہ فضا کو بدلنے کے لیے روایتی زبانی مذمت ناکافی ہے، بلکہ ہمہ جہت اور پائیدار اصلاحات ناگزیر ہیں۔ کل ہند خدمات کے ضابطۂ کار میں یہ وضاحت درکار ہے کہ سیاسی غیر جانب داری اور بنیادی تہذیبی یا مذہبی اظہار میں کیا فرق ہے، تاکہ کوئی بھی افسر محض ’’السلام علیکم‘‘ کہنے پر امتیازی کارروائی کا نشانہ نہ بنے۔ تبادلوں اور تعیناتیوں کے انتظامی فیصلوں کو شفاف، آزاد اور عدالتی جانچ پڑتال کے دائرے میں لایا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی پی ایس ایسوسی ایشن کو محض تماشائی بننے کے بجائے افسران کے پیشہ ورانہ وقار کی ڈھال بننا ہوگا، اور پولیس شکایات اتھارٹی کو ہر سطح پر بااختیار بنایا جائے تاکہ شہریوں اور اقلیتوں کا انصاف پر یقین بحال ہو سکے۔ جمہوریت کے استحکام کا انحصار اسی امر پر ہے کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کے دلوں میں اعتماد، مساوات اور تحفظ کا احساس پیدا کرے، بیگانگی کا نہیں۔