ڈونلڈ ٹرمپ کے بجائے ناوی پلے کو نوبیل کا امن انعام کیوں ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
1901 میں اس نوبیل انعام کاآغاز ہوا تھا اس لحاظ سے امسال یہ اعزاز اپنی 125 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ ویسے تو پچھلے سوا سو سال میں 112؍ افراد اور 28 اداروں کو نوبیل امن انعام سے نوازہ گیا مگر 2026کا تاریخی اعزاز جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ہندوستانی نژاد قانون داں ناونیتھنم ناوی پِلے کے حصے میں آیا ۔ اس طویل عرصہ میں صرف دو مرتبہ کسی ہندوستانی کو یہ اعزاز بخشا گیا ۔ 2014ء میں نریندر مودی وزیر اعظم بنے تو اسی سال کیلاش ستیارتھی کو پاکستان کی ملالہ یوسف زئی کے ساتھ مشترکہ طور پر نوبیل امن انعام سے نوازا گیا تھا ۔ اس وقت مودی نے اپنےبیان میں کہا تھا کہ "پورا ملک اوسلو میں ہونے والی اس تقریب کو انتہائی خوشی اور فخر کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ کیلاش ستیارتھی نے اپنی زندگی ایک ایسے مقصد کے لیے وقف کر دی ہے جو پوری انسانیت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، میں ان کی انتھک کوششوں کو سلام کرتا ہوں۔” اس کے فوراً بعد کیلاش ستیارتھی نے نئی دہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کی تھی، جہاں مودی نے انہیں گلے لگا کر مبارکباد دی اور شال اوڑھا کر ان کی عزت افزائی کی مگر اس بار دہلی میں ایک پر اسرار سناٹا پسرا ہوا ہے۔ ہندوستانی نژاد ناوی پلے کی اس عظیم کامیابی پر مودی جی ایسے گم ُسُم بیٹھے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ۔ ایک سوال یہ ہے کہ ہر’آپدا تک میں اوسر‘ تلاش کرنے والے مکار سیاستداں کی زبان پر آخر قفل کیوں لگا ہوا ہے؟ وہ اس کا فائدہ کیوں اٹھا نہیں رہا ہے؟َ؟
کیلاش سیتارتھی سے قبل 1979ء میں مدر ٹریسا وہ پہلی ہندوستانی شخصیت تھیں جن کو امن کے نوبیل اعزاز سے نوازہ گیا تھا ۔ عیسائی مذہب کی پیروکار ہونے کے سبب سنگھ پریوار ان کودل سے ہندوستانی ہی نہیں مانتا۔ ویسے اس وقت مودی جی کو کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا اس لیےانہیں زبانی منافقت کی ضرورت پیش نہیں آئی مگر اس بار ان کی خاموشی معنیٰ خیز ہے۔ نوبیل کمیٹی کے چیئرمین یارگن واٹنے فرائیڈنس نے پچھلے ہفتہ ناروے کے شہر اوسلو میں منعقد ہونے والی تقریب کے دوران ناونیتھنم ناوی پِلے کے نام کا اعلان کرکے دنیا بھر کے امن پسندوں کو خوش کردیا مگر اس سے تین لوگ مختلف وجوہات کی بناء پر خفا ہوگئے۔ ان ناراض لوگوں میں سرِ فہرست اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو تھے کیونکہ ان کو نسل کشی کا مجرم ٹھہرانے والی یہی خاتونِ آہن ہیں۔ ان کی ناراضی فطری ہونے کے باوجود خود اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ناوی پلے نے ایسا کوئی سلوک نہیں کیا حالانکہ ایران پر حملہ کے بعد انہوں نے بھی خود کو اس کا حقدار بنالیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف رہبر معظم سمیت ان کی بیٹی اور نواسی کو بلکہ ایرانی رہنماوں کی پہلی صف کو شہید کردیا۔ اس کے بعد اسکول پر حملہ کرکے175 طالبات کی شہادت کا سبب بنے۔آگے چل کر پورے ایران کو تباہ کرکے ایک پانچ ہزار سال قدیم تہذیب کو برباد کردینے کی دھمکی دی۔ اس کے معنیٰ ساری دنیا نے ایٹمی حملے کے لیے ۔ امریکہ کی جانب سے ایران کے توانائی اور صنعتی انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں اس میں ایران کے توانائی اور تیل کے بنیادی ڈھانچے اورنمکین پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس پر حملے بھی شامل تھے۔ ایران نے پلوں پر امریکہ کے حملے کو ’داعش کی دہشت گردی کی طرز پر جنگی جرم‘ کے مترادف ٹھہرایا تھا۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی اور اس کاشمار جنگی جرائم میں ہوتا ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی، ایل یونیورسٹی، اسٹین فورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سمیت مختلف اداروں کے 100 سے زیادہ بین الاقوامی قانون کے ماہرین نے ایک مشترکہ خط لکھ کر امریکی فوج کے اقدامات اور اعلیٰ امریکی حکام کے بیانات پر سنگین خدشات کا اظہار کیا تھا ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ایران پر امریکہ ’’صرف مزے کے لیے‘‘ بھی حملے کر سکتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جوہری تنصیبات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے ’مدر آف آل بومبز‘ (ایم او اے بی) استعمال کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ ایران کی زیرِ زمین جوہری تنصیب ’پکیکس ماؤنٹین‘ کو تباہ کیا جا سکتا ہے ۔۔ یہ سب کرنے کے باوجود صدر ٹرمپ نے آٹھ تنازعات کو کامیابی سے ختم کرنے کا دعویٰ کردیا۔ ان میں اسرائیل اور حماس، اسرائیل اور ایران، آرمینیا اور آذربائیجان، مصر اور ایتھوپیا، پاکستان اور انڈیا، جمہوریہ کانگو اور روانڈا، کوسووو اور سربیا، اور کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان کشیدگی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ کہہ کر بھی اپنی پیٹھ تھپتھپائی کہ غزہ امن منصوبے کے نتیجے میں باقی تمام یرغمالیوں کی رہائی ممکن ہوئی، علاقائی سلامتی اور خوشحالی کے لیے ‘بورڈ آف پیس’ کا قیام عمل میں آیا اور مشرق وسطیٰ میں دیرپا استحکام کی راہ ہموار ہوئی۔ ونزویلا کے صدر نکولس مادورو اور اس کی اہلیہ کو اغوا کرکے آپریشن سدرن سپیئر کے تحت حملوں میں 150 منشیاتی دہشت گردوں کو ہلاک کر نے کا دعویٰ کرکے خود کو نوبیل انعام کا حقدار ٹھہرا دیا ۔اس لیے ٹرمپ کو شکایت یہ ہے کہ نوبیل انعام ان کو کیوں نہیں دیا جاتا؟ وہ برسوں سے اس پر رال ٹپکا رہے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کا دھرم سنکٹ یہ ہے کہ انہوں نے دونوں بدمعاشوں میں سے ایک اپنا بڑا اور دوسرے کو چھوٹا بھائی بنارکھا ہے ، اس لیے ان کی ناراضی کے خوف سے ایک ہندوستانی نسل کی خاتون کو مبارکباد دینے سے کترا رہے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا معاملہ بڑا دلچسپ ہے ۔ پچھلے سال وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو نے ملک میں جمہوری تبدیلی کے لیے جدوجہد پر نوبیل امن انعام جیتا تھا۔ انہیں ایسے وقت میں جمہوریت کی شمع روشن رکھنے پر سراہا گیا جب ملک میں جمہوری اقدار کو مشکلات کا سامنا تھا۔ اس کے بعد امریکہ نے وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کو اغوا کرکے اقتدار سے ہٹادیا ۔ اس دھاندلی کے کچھ عرصے بعد ماچاڈو نے قصر ابیض میں جاکر اپنا نوبیل تمغہ ڈونلڈ ٹرمپ کو تحفہ دے دیا ۔ امریکی صدر نے خوش ہوکر بے حیائی سے وہ تحفہ قبول بھی فرمالیا تاہم آگے چل کر نوبیل کمیٹی نےیہ انکشاف کرکے ان کا موڈ خراب کردیا کہ اس طرح کے علامتی اقدام سےیہ اعزاز کسی دوسرے شخص کو منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے باوجود وہ پر امید تھے کہ کم ازکم اگلے سال ان کی قسمت رنگ لائے گی لیکن اس بار بھی یہ نہیں ہوا تو وہ آپے سے باہر ہوگئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام نہ ملنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور اسے ایک ’شرمناک فیصلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہہ دیا کہ اس اقدام نے نوبیل کمیٹی کے میزبان ملک ناروے پر ایک نہ مٹنے والا داغ چھوڑ دیا ہے۔سچائی تو یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ نوبیل کمیٹی بھول چوک سے یہ اعزازایپسٹین فائل کے ہیرو اور غزہ کے ولن ڈونلڈ ٹرمپ کو دے دیتی تو وہ اس کے ماتھے پر انمٹ کلنک بن جاتا۔ اس کے بعد باوقار لوگ اس انعام کو لینے سے یہ کہہ کرمعذرت کرلیتے کہ وہ ایسی فہرست میں شامل نہیں ہوسکتے جہاں ٹرمپ جیسے سرپھرے کا نامِ نامی ہو۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ اس سال طب کا نوبیل انعام ’دماغ کیسے کام کرتا ہے؟‘، یہ راز افشا کرنے والے تین سائنس دانوں کو ملا ہے لیکن جب دماغ کام کرنا بند کردے تو انسان کیسا برتاو کرتا ہے اس کی سب سے عمدہ مثال ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے دو ہمنواوں کی ذاتِ والا صفات ہے۔ کسی کو اگر یہ تبصرہ سخت محسوس ہوتا ہے تو وہ ٹرمپ کا ردعمل دیکھ لے۔یہ صدر ٹرمپ کے امریکی کانگریس کی خاطر وسطی مدتی انتخابی تشہیرکے دوران سامنے آیا۔
ٹرمپ کو جب نیویارک کے شہر سیراکیوز میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب سے قبل پتہ چلا کہ اس سال کا نوبیل امن انعام بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی سابق جج ناوی پلّے کے حصے میں آیا ہے تو غصے میں پاگل ہوگئے۔ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی ناوی پلّے نے اقوامِ متحدہ کی اس تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہی کی تھی جس کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس عظیم کارنامہ کو انجام دینے والی خاتون سے متعلق یہ کہہ کر ٹرمپ نے اپنی جہالت کا ثبوت دیا کہ ’میں نے اس شخص کے بارے میں پہلے کبھی نہیں سنا اور نہ ہی کسی اور نے ان کا نام سن رکھا ہے۔‘ ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا نے ٹرمپ کا نام تک نہیں سنا تھا ناوی پلے ( 2008 سے 2014 تک کے درمیان) انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر کی خدمات انجام دے رہی تھیں۔ ٹرمپ کو اگر اس حقیقت کا علم نہیں ہے تو کوئی بات نہیں لیکن ان کا ایسی عالمی شہرت یافتہ قانون داں کونہیں جاننا تو ان کی کم علمی ہے جس پر انہیں شرمندہ ہونا چاہیے۔ ان پر تو غالب کا مشہور شعر معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
نوبل کس منہ پاوگے ڈونلڈ
شرم تم کو مگر نہیں آتی