ٹرمپ کی جانب سے حمایت کے بعد … کیا اسرائیل میں انتخابی نتائج نتن یاہو کے حق میں جائیں گے
دبئی،20اکٹوبر(ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کی 27 اکتوبر کے انتخابات میں حمایت کے اعلان نے سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا اس سے ان کے اقتدار میں برقرار رہنے کے امکانات بڑھیں گے؟ نتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو آئندہ حکومت بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن سے مقابلے اور ایران و غزہ کی جنگوں کے اثرات بھی انتخابی صورتِ حال پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
انتخابات سے تقریباً 8 روز قبل کئی ماہ تک حمایت کا اعلان کرنے سے گریز کے بعد، ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر نتن یاہو کو ’’عظیم جنگجو وزیرِاعظم‘‘ اور ایران کے مقابلے میں اہم شراکت دار قرار دیا۔ امریکی ویب سائٹ “axios” کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ ابتدا ہی سے حمایت کا اعلان کرنا چاہتے تھے، لیکن بہت پہلے ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے۔
امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مطابق مبصرین نے ٹرمپ کی حمایت کو اندرونِ ملک دباؤ کا سامنا کرنے والے نتن یاہو کے لیے انتخابات سے قبل اہم تقویت قرار دیا ہے۔ حکومت مخالف مظاہروں کی واپسی کے ساتھ سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں میں سابق آرمی چیف گادی آیزنکوٹ کی قیادت میں قائم اتحاد کو سب سے زیادہ ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ اس میں وسطی، دائیں اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں، لیکن اسے اکثریت ملنے کی توقع نہیں۔ اسرائیل میں مختلف حلقے نتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ویب سائٹ ’’زمان اسرائیل‘‘ کے ایک جائزے میں آیزنکوٹ کی جماعت کو کنیسٹ کی 26 اور لیکوڈ پارٹی کو 20 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی۔ نتن یاہو کی مخالف یہودی جماعتوں کو مجموعی طور پر 54 نشستیں، جبکہ ان کے سیاسی کیمپ کو 49 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ یوں کوئی بھی فریق 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دیتا۔
ٹرمپ کا یہ اعلان امریکی اسرائیلی تعلقات میں غیر معمولی ہے، کیونکہ اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے اسرائیلی انتخابات میں کسی امیدوار کی کھل کر حمایت نہیں کی تھی۔ ’’ایکسِیوس‘‘ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے فیصلے کو نتن یاہو سے ذاتی تعلق اور ایران کے معاملے میں دونوں کے تعاون سے جوڑا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی دوسرے اسرائیلی رہنما کے انتخاب سے امریکا کو ایران کے خلاف تنہا محاذ آرائی جاری رکھنا پڑ سکتی ہے۔
نتن یاہو نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’’ہم مل کر مشن مکمل کریں گے‘‘۔ لیکوڈ پارٹی نے بھی ٹرمپ کے سابقہ بیانات پر مشتمل وڈیو جاری کی، جس میں وہ اسرائیلی وزیرِاعظم کی تعریف کر رہے تھے۔
اسرائیلی امور کے ماہر احمد فؤاد انور کے مطابق ٹرمپ نے نتن یاہو کی حمایت کا اعلان اس وقت کیا جب رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی پوزیشن بہتر ہوئی تھی۔ تقریباً ایک ماہ قبل جب نتن یاہو انتخابی اعتبار سے کمزور ترین پوزیشن میں تھے، ٹرمپ نے ان کی حمایت نہیں کی تھی۔
فؤاد انور نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ/الحدث ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ مقابلہ نتن یاہو کے حکمران اتحاد اور گادی آیزنکوٹ کے تبدیلی کے حامی کیمپ کے درمیان سخت ہے۔ امریکی حمایت کا وقت اہم ہے، لیکن اس کا اثر لازماً ایک ہی سمت میں نہیں ہو گا۔
ان کے مطابق بعض اسرائیلی شہری ٹرمپ کی حمایت کو اس اشارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ نتن یاہو ایران کے خلاف نئی فوجی محاذ آرائی کریں گے، حالانکہ اسرائیل میں تھکن اور دباؤ کی کیفیت ہے۔ ٹرمپ کی حمایت فائدہ پہنچا سکتی ہے، لیکن بعض ووٹروں کو اپوزیشن کی طرف بھی مائل کر سکتی ہے۔
"العربیہ” کے اسرائیلی امور کے مشیر مجدی الحلبی نے ٹرمپ کی حمایت کو اہم سیاسی تقویت قرار دیا، لیکن کہا کہ اس سے انتخابی مقابلے کا نقشہ لازماً نہیں بدلے گا۔ داخلی عوامل نتن یاہو کی دوبارہ وزارتِ عظمیٰ یا 61 نشستوں کی اکثریت والا اتحاد بنانے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
الحلبی کے مطابق اسرائیل کے عرب شہریوں میں ووٹنگ کی شرح بڑھنے سے دونوں سیاسی کیمپوں کے حساب بدل سکتے ہیں۔ قومی اتحاد کی حکومت یا عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بننے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ ووٹنگ سے پہلے کے آخری دن غیر فیصلہ کن ووٹروں کے لیے اہم ہوں گے، جن کے فیصلوں پر سلامتی، ایران سے محاذ آرائی اور معاشی حالات اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو کی 27 اکتوبر کے انتخابات میں حمایت کے اعلان نے سوالات اٹھا دیے ہیں کہ آیا اس سے ان کے اقتدار میں برقرار رہنے کے امکانات بڑھیں گے؟ نتن یاہو کے سیاسی اتحاد کو آئندہ حکومت بنانے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ اپوزیشن سے مقابلے اور ایران و غزہ کی جنگوں کے اثرات بھی انتخابی صورتِ حال پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
انتخابات سے تقریباً 8 روز قبل کئی ماہ تک حمایت کا اعلان کرنے سے گریز کے بعد، ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر نتن یاہو کو ’’عظیم جنگجو وزیرِاعظم‘‘ اور ایران کے مقابلے میں اہم شراکت دار قرار دیا۔ امریکی ویب سائٹ “axios” کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ ابتدا ہی سے حمایت کا اعلان کرنا چاہتے تھے، لیکن بہت پہلے ایسا نہیں کرنا چاہتے تھے۔
امریکی اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے مطابق مبصرین نے ٹرمپ کی حمایت کو اندرونِ ملک دباؤ کا سامنا کرنے والے نتن یاہو کے لیے انتخابات سے قبل اہم تقویت قرار دیا ہے۔ حکومت مخالف مظاہروں کی واپسی کے ساتھ سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق رائے عامہ کے جائزوں میں سابق آرمی چیف گادی آیزنکوٹ کی قیادت میں قائم اتحاد کو سب سے زیادہ ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ اس میں وسطی، دائیں اور بائیں بازو کی جماعتیں شامل ہیں، لیکن اسے اکثریت ملنے کی توقع نہیں۔ اسرائیل میں مختلف حلقے نتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ویب سائٹ ’’زمان اسرائیل‘‘ کے ایک جائزے میں آیزنکوٹ کی جماعت کو کنیسٹ کی 26 اور لیکوڈ پارٹی کو 20 نشستیں ملنے کی پیش گوئی کی گئی۔ نتن یاہو کی مخالف یہودی جماعتوں کو مجموعی طور پر 54 نشستیں، جبکہ ان کے سیاسی کیمپ کو 49 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ یوں کوئی بھی فریق 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرتا دکھائی نہیں دیتا۔
ٹرمپ کا یہ اعلان امریکی اسرائیلی تعلقات میں غیر معمولی ہے، کیونکہ اس سے پہلے کسی امریکی صدر نے اسرائیلی انتخابات میں کسی امیدوار کی کھل کر حمایت نہیں کی تھی۔ ’’ایکسِیوس‘‘ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے فیصلے کو نتن یاہو سے ذاتی تعلق اور ایران کے معاملے میں دونوں کے تعاون سے جوڑا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کسی دوسرے اسرائیلی رہنما کے انتخاب سے امریکا کو ایران کے خلاف تنہا محاذ آرائی جاری رکھنا پڑ سکتی ہے۔
اسرائیلی کنیسٹ
اسرائیلی کنیسٹ
نتن یاہو نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ’’ہم مل کر مشن مکمل کریں گے‘‘۔ لیکوڈ پارٹی نے بھی ٹرمپ کے سابقہ بیانات پر مشتمل وڈیو جاری کی، جس میں وہ اسرائیلی وزیرِاعظم کی تعریف کر رہے تھے۔
اسرائیلی امور کے ماہر احمد فؤاد انور کے مطابق ٹرمپ نے نتن یاہو کی حمایت کا اعلان اس وقت کیا جب رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی پوزیشن بہتر ہوئی تھی۔ تقریباً ایک ماہ قبل جب نتن یاہو انتخابی اعتبار سے کمزور ترین پوزیشن میں تھے، ٹرمپ نے ان کی حمایت نہیں کی تھی۔
فؤاد انور نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ/الحدث ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ مقابلہ نتن یاہو کے حکمران اتحاد اور گادی آیزنکوٹ کے تبدیلی کے حامی کیمپ کے درمیان سخت ہے۔ امریکی حمایت کا وقت اہم ہے، لیکن اس کا اثر لازماً ایک ہی سمت میں نہیں ہو گا۔
ان کے مطابق بعض اسرائیلی شہری ٹرمپ کی حمایت کو اس اشارے کے طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ نتن یاہو ایران کے خلاف نئی فوجی محاذ آرائی کریں گے، حالانکہ اسرائیل میں تھکن اور دباؤ کی کیفیت ہے۔ ٹرمپ کی حمایت فائدہ پہنچا سکتی ہے، لیکن بعض ووٹروں کو اپوزیشن کی طرف بھی مائل کر سکتی ہے۔
"العربیہ” کے اسرائیلی امور کے مشیر مجدی الحلبی نے ٹرمپ کی حمایت کو اہم سیاسی تقویت قرار دیا، لیکن کہا کہ اس سے انتخابی مقابلے کا نقشہ لازماً نہیں بدلے گا۔ داخلی عوامل نتن یاہو کی دوبارہ وزارتِ عظمیٰ یا 61 نشستوں کی اکثریت والا اتحاد بنانے میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
الحلبی کے مطابق اسرائیل کے عرب شہریوں میں ووٹنگ کی شرح بڑھنے سے دونوں سیاسی کیمپوں کے حساب بدل سکتے ہیں۔ قومی اتحاد کی حکومت یا عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بننے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ ووٹنگ سے پہلے کے آخری دن غیر فیصلہ کن ووٹروں کے لیے اہم ہوں گے، جن کے فیصلوں پر سلامتی، ایران سے محاذ آرائی اور معاشی حالات اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی حمایت نتن یاہو کی امریکی صدر سے قربت کی شبیہ مضبوط کرتی ہے، لیکن اسرائیل میں یہ سوال بھی اٹھ سکتا ہے کہ اس حمایت کے بدلے نتن یاہو نے کیا پیش کیا اور کیا انہیں متنازع علاقائی معاملات میں ٹرمپ کا موقف اپنانا پڑے گا۔
اسرائیلی ویب سائٹ ’’والا‘‘ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ گذشتہ چند ہفتوں میں ٹرمپ پر نتن یاہو کی حمایت کا اعلان کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا گیا۔ یہ دباؤ ان کے مشیروں اور معاونین نے نجی گفتگو کے دوران بھی ڈالا۔