عورت کی حرمت، معاشرتی زوال اور جنسی درندگی .
(اسباب، ذمّہ داریاں اور اسلامی تصورِ انسانیت
✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
پوری دنیا میں خواتین اور معصوم بچّوں کے خلاف جنسی جرائم کا مسئلہ انسانی ضمیر کے لیے ایک سنگین سوال بن چکا ہے۔ عورتوں کی عزّت و آبرو پر حملے، کم سن بچّیوں کا استحصال اور جنسی تشدّد کے ہولناک واقعات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ جدید تہذیب کی مادی ترقی، سائنسی انکشافات اور مواصلاتی انقلاب کے باوجود انسان کا اخلاقی شعور ہر جگہ اسی تناسب سے ترقی نہیں کرسکا۔ بالخصوص جب پانچ، سات یا دس سال کی معصوم بچّیاں بھی درندگی کا نشانہ بنتی ہیں تو یہ محض کسی ایک فرد کے جرم یا کسی ایک خاندان کے المیے کا معاملہ نہیں رہتا، بلکہ پورے معاشرے کے اخلاقی نظام، تربیتی اداروں، قانونی ڈھانچے اور اجتماعی احساسِ ذمّہ داری پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ ایسے جرائم کی سنگینی اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ان میں متاثرہ فرد کی جسمانی سلامتی ہی نہیں، اس کی نفسیاتی صحت، احساسِ تحفّظ اور زندگی بھر کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم اس مسئلے کا سنجیدہ تجزیہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جذباتی ردعمل کے ساتھ حقائق، جرائم کے مستند اعداد و شمار اور سماجی و نفسیاتی عوامل کو بھی پیش نظر رکھا جائے، کیونکہ جنسی تشدّد ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے اسباب کو محض ایک جملے یا کسی ایک سماجی طبقے کے کھاتے میں ڈال کر نہیں سمجھا جاسکتا۔
اس صورت حال کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو انسان کو دوسرے انسان کی حرمت پامال کرنے، کسی کم زور کی بے بسی سے فائدہ اٹھانے اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے انسانی شرافت کی تمام حدود عبور کرنے پر آمادہ کرتے ہیں؟ اس کا جواب صرف جنسی خواہش میں تلاش کرنا درست نہیں، کیونکہ خواہش بذاتِ خود کسی جرم کا جواز نہیں بنتی اور نہ ہی جنسی تشدّد کو محض خواہش کی شدّت سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اس کے پس منظر میں طاقت کا غلط استعمال، عورت کو ایک مکمل انسان کے بجائے محض جسمانی وجود سمجھنے کی ذہنیت، دوسروں کی رضامندی اور حدود کا احترام نہ کرنے کی تربیت، تشدّد پسند رویے، استحصال کے مواقع، بعض نفسیاتی عوامل اور جرم کے بعد سزا سے بچ نکلنے کا تصور شامل ہوسکتے ہیں۔ جب کسی معاشرے میں بااثر مجرم قانون سے بالاتر دکھائی دینے لگیں، متاثرہ فرد کو انصاف کے بجائے الزام و ملامت کا سامنا کرنا پڑے، اور خاندان یا ادارے اپنی ساکھ بچانے کے لیے جرم کو چھپانے لگیں تو مجرم کے اندر جواب دہی کا خوف کم ہوسکتا ہے۔ اس لیے جنسی جرائم کی روک تھام کے لیے صرف اخلاقی وعظ کافی نہیں؛ ضروری ہے کہ قانون کی عمل داری، مؤثر تفتیش، بروقت انصاف، بچّوں کے تحفّظ اور مجرموں کی جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔
اسلامی تہذیب کے تاریخی تصور میں عورت کا مقام محض اس کی جسمانی کشش، ظاہری حسن یا کسی مرد کے ساتھ اس کے تعلق سے متعین نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ اپنی انسانی حرمت، خاندانی رشتوں، معاشرتی کردار اور اخلاقی عظمت کے باعث احترام کی مستحق سمجھی جاتی تھی۔ عورت ماں تھی، جس کے بارے میں نبی کریمﷺ نے حسنِ سلوک کی خصوصی تاکید فرمائی؛ وہ دادی اور نانی تھی، جن کے وجود سے نسلوں کی تربیت اور خاندانی روایت کا تسلسل وابستہ تھا؛ وہ خالہ اور پھوپھی تھی، جو محبت، شفقت اور قرابت کے رشتوں کو مضبوط کرتی تھیں؛ وہ بہن تھی، جس کے ساتھ عزّت، خیرخواہی اور محبت کا تعلق قائم کیا جاتا تھا؛ اور وہ شریکِ حیات تھی، جس کے ساتھ زندگی کا سفر اعتماد، مودت، رحمت اور باہمی ذمّہ داری کی بنیاد پر طے کیا جاتا تھا۔ ان تمام رشتوں میں عورت کی شخصیت کا ایک مختلف پہلو سامنے آتا ہے، لیکن ان سب کے پیچھے ایک بنیادی تصور کارفرما ہے: عورت کو عزّت دینا دراصل انسانیت، رشتوں اور اخلاقی ذمّہ داری کا احترام کرنا ہے۔ البتہ عورت کی حرمت کو صرف ان خاندانی رشتوں تک محدود کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ اسلام میں اس کی انسانی عزّت کسی کی ماں، بہن، بیٹی یا بیوی ہونے کی محتاج نہیں؛ وہ اپنی ذات میں ایک محترم انسان ہے اور اس کے حقوق کا تحفّظ اسی بنیادی اصول کا تقاضا ہے۔
اسلامی تعلیمات نے عورت کے احترام کو محض جذباتی عقیدت یا معاشرتی روایت کے حوالے نہیں کیا، بلکہ اسے اخلاقی اور قانونی ذمّہ داری کے طور پر پیش کیا ہے۔ قرآنِ مجید مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہوں کی حفاظت، پاک دامنی اور اخلاقی حدود کی پابندی کی تعلیم دیتا ہے۔ سورۂ نور میں پہلے مردوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنی پاک دامنی کی حفاظت کا حکم دیا گیا، پھر عورتوں کو بھی یہی اخلاقی ہدایت دی گئی۔ اس ترتیب میں ایک اہم اصول پوشیدہ ہے: معاشرے کی پاکیزگی کا سارا بوجھ عورت کے لباس، کردار یا طرزِ زندگی پر نہیں ڈالا جاسکتا؛ مرد بھی اپنی نگاہ، رویے، خواہشات اور اعمال کے لیے اتنے ہی جواب دہ ہیں۔ اسی طرح قرآنِ مجید انسان کی جان، عزّت اور حقوق کی حرمت کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ نبی کریمﷺ نے عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید فرمائی اور خطبۂ حجۃ الوداع میں بھی خواتین کے حقوق اور ان کے ساتھ بھلائی کی وصیت فرمائی۔ ان تعلیمات کی روشنی میں جنسی تشدّد، جبری استحصال، ہراسانی اور کم زور افراد کی بے حرمتی کو کسی بھی صورت میں اسلامی اخلاق کے ساتھ ہم آہنگ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
اسلامی تاریخ میں خواتین کے کردار کے ایسے روشن نمونے موجود ہیں جو عورت کی علمی، اخلاقی، سماجی اور روحانی عظمت کو نمایاں کرتے ہیں۔ حضرت خدیجہؓ کی بصیرت، استقامت اور قربانی، حضرت عائشہؓ کی علمی خدمات، حضرت فاطمہؓ کی سیرت اور حضرت امِ عمارہؓ کی شجاعت اس حقیقت کی یاد دلاتی ہیں کہ عورت تاریخ کے کنارے پر کھڑی ایک خاموش تماشائی نہیں رہی، بلکہ اس نے علم، تربیت، دعوت، خدمت اور اجتماعی زندگی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بعد کے مسلم معاشروں میں بھی خواتین نے تدریس، حدیث، فقہ، ادب، رفاہِ عامہ اور سماجی خدمت کے میدانوں میں اہم خدمات انجام دیں۔ ان مثالوں کا مقصد صرف ماضی پر فخر کرنا نہیں، بلکہ اس اخلاقی تصور کو زندہ کرنا ہے جس میں عورت کو علم و کردار کی حامل، رائے رکھنے والی اور اپنے حقوق کی مستحق شخصیت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم تاریخی عظمت کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ان روشن مثالوں کو محض تقریروں کی زینت بنانے کے بجائے موجودہ معاشرتی رویوں، تعلیمی نظام اور قانونی تحفظ میں بھی ان کی معنویت کو جگہ دی جائے۔
اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر کسی معاشرے میں عورت کو مذہبی اور خاندانی اعتبار سے بلند مقام حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہو تو وہاں اس کے خلاف جرائم کیوں رونما ہوتے ہیں؟ اس کا ایک جواب نظریے اور عمل کے درمیان پائے جانے والے فاصلے میں پوشیدہ ہے۔ کسی معاشرے کی اصل اخلاقی کیفیت کا اندازہ صرف اس کے مذہبی نعروں، تاریخی فخر یا تہذیبی دعووں سے نہیں لگایا جاسکتا، بلکہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے کم زور افراد کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے، مظلوم کی فریاد پر کس حد تک توجہ دیتا ہے اور طاقت ور مجرم کے مقابلے میں قانون کو کس حد تک بے لاگ رکھتا ہے۔ اگر عورت کے احترام کی بات کی جائے لیکن گھریلو تشدّد پر خاموشی اختیار کی جائے، اگر عصمت و عفت کے وعظ کیے جائیں لیکن بچّوں کو محفوظ و غیر محفوظ لمس، ذاتی حدود اور مدد طلب کرنے کے طریقے نہ سکھائے جائیں، اگر مظلوم سے ثبوت مانگنے میں غیر معمولی سختی برتی جائے مگر ملزم کی سماجی حیثیت کو اس کے حق میں استعمال ہونے دیا جائے، تو یہ اخلاقی اصولوں کی عملی ناکامی ہے۔ دین کی حقیقی روح اسی وقت معاشرتی قوت بنتی ہے جب اس کی تعلیمات انصاف، رحم، دیانت اور انسانی حرمت کے تحفظ کی صورت میں ظاہر ہوں۔
جنسی درندگی کے مسئلے کو سمجھنے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ، ڈیجیٹل دنیا اور بدلتے ہوئے معاشرتی ماحول کے اثرات کا جائزہ بھی ضروری ہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے علم، رابطے اور اظہار کے بے شمار امکانات پیدا کیے ہیں، لیکن انہی ذرائع کو ہراسانی، بلیک میلنگ، نجی تصاویر کے ناجائز استعمال اور بچوں کے آن لائن استحصال کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود جنسی جرائم کا سبب ہے، بلکہ اصل مسئلہ اس کے غیر ذمہ دارانہ استعمال، نگرانی کے فقدان، مجرمانہ ذہنیت اور حفاظتی تدابیر کی کم زوری کا ہے۔ اسی طرح خاندانوں میں تشدّد، بچّوں کے ساتھ نامناسب رویوں کو چھپانا، متاثرہ فرد کو خاموش رہنے پر مجبور کرنا اور جنسی جرائم سے متعلق بنیادی آگاہی کو معیوب سمجھنا بھی خطرات بڑھا سکتا ہے۔ بچّوں کے تحفّظ کے لیے ضروری ہے کہ انہیں عمر کے مطابق اپنی جسمانی حدود، رضامندی کے بنیادی مفہوم، نامناسب رویے کی شناخت اور قابلِ اعتماد بالغ افراد سے مدد لینے کی تعلیم دی جائے۔ والدین، اساتذہ اور سرپرستوں کو ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں بچّہ خوف، شرمندگی یا سزا کے اندیشے کے بغیر اپنی بات بیان کرسکے۔
اس ضمن میں ایک اور بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ جنسی جرائم کی روک تھام کا مطلب عورتوں کی آزادی محدود کرنا، انہیں گھروں میں محصور کردینا یا ان کے لباس اور نقل و حرکت کو جرم کا بنیادی سبب قرار دینا نہیں ہے۔ ایسا نقطۂ نظر نہ صرف جرم کی اصل ذمّہ داری سے توجہ ہٹاتا ہے بلکہ مظلوم کے بجائے اسی پر الزام عائد کرنے کی روایت کو بھی تقویت دے سکتا ہے۔ جرم کی ذمّہ داری مجرم پر عائد ہوتی ہے، اور معاشرے کی ذمّہ داری یہ ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کرے جہاں ہر شخص، بالخصوص بچے اور کم زور افراد، محفوظ زندگی گزار سکیں۔ خواتین کے تحفّظ کے لیے محفوظ تعلیمی ادارے، باوقار کام کی جگہیں، قابلِ رسائی شکایتی نظام، تربیت یافتہ پولیس، حساس طبی و نفسیاتی خدمات اور مؤثر عدالتی کارروائی ناگزیر ہیں۔ اسی طرح متاثرین کی شناخت، رازداری اور عزت کا تحفظ بھی انصاف کے عمل کا لازمی حصّہ ہے۔ اگر کسی معاشرے میں جرم کے بعد متاثرہ فرد کو سماجی رسوائی کا خوف ہو تو بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے، جس کے نتیجے میں مجرموں کو مزید نقصان پہنچانے کا موقع مل سکتا ہے۔
عالمی سطح پر جنسی تشدّد کے واقعات کا درست جائزہ لیتے وقت یہ احتیاط بھی ضروری ہے کہ مختلف ممالک میں جرائم کی رپورٹنگ، قانونی تعریفوں، تفتیشی صلاحیت اور اعداد و شمار جمع کرنے کے طریقوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ کسی ملک میں رپورٹ ہونے والے واقعات کی زیادہ تعداد لازماً اس بات کا ثبوت نہیں ہوتی کہ وہاں جرم کی حقیقی شرح ہر دوسرے ملک سے زیادہ ہے؛ ممکن ہے وہاں متاثرین کو شکایت درج کرانے کی نسبتاً بہتر سہولت حاصل ہو۔ اسی طرح کم اعداد و شمار کو معاشرتی پاکیزگی کی دلیل قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ بہت سے جرائم بدنامی، خوف، خاندانی دباؤ یا اداروں پر عدمِ اعتماد کے باعث رپورٹ نہیں ہوتے۔ لہٰذا اس مسئلے کے بارے میں علمی اور تحقیقی گفتگو کے لیے معتبر اعداد و شمار، جرائم کی نوعیت، متاثرین کی عمر، رپورٹنگ کی شرح اور قانونی کارروائی کے نتائج کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔ جذباتی طور پر چونکا دینے والے واقعات معاشرے کو متوجہ ضرور کرتے ہیں، مگر پائیدار اصلاح کے لیے مستند تحقیق اور شواہد پر مبنی پالیسیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
بالآخر جنسی درندگی کے خلاف جدوجہد محض قانون، پولیس یا عدالت کی ذمّہ داری نہیں، بلکہ یہ گھر، مدرسے، اسکول، مسجد، میڈیا، ریاست اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمّہ داری ہے۔ خاندان کو بچّوں کی تربیت میں محبت کے ساتھ حدود اور ذمّہ داری کا شعور پیدا کرنا ہوگا؛ تعلیمی اداروں کو اخلاقی تربیت کے ساتھ تحفّظ اور شکایت کے مؤثر طریقے فراہم کرنا ہوں گے؛ مذہبی و سماجی رہنماؤں کو عورت کے احترام اور مظلوم کی حمایت کے اصولوں کو عملی زندگی سے جوڑنا ہوگا؛ میڈیا کو سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ دارانہ رپورٹنگ اختیار کرنی ہوگی؛ اور ریاست کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کسی فرد کی دولت، منصب، شہرت یا سماجی اثر و رسوخ اسے قانون سے بالاتر نہیں کرسکتا۔ مجرم کو سزا دینا ضروری ہے، لیکن اس کے ساتھ متاثرہ فرد کی بحالی، نفسیاتی معاونت اور سماجی وقار کی بحالی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ معاشرتی اصلاح اسی وقت مکمل ہوسکتی ہے جب انصاف صرف سزا دینے کا نام نہ رہے، بلکہ آئندہ جرائم کی روک تھام اور انسانی زندگی کے تحفّظ کا مؤثر ذریعہ بھی بنے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی تہذیب کی عظمت کا معیار اس کی بلند عمارتیں، جدید ٹیکنالوجی، معاشی قوت یا تاریخی فتوحات نہیں، بلکہ اس کا اخلاقی کردار اور کم زور انسان کے لیے فراہم کردہ تحفّظ ہے۔ جس معاشرے میں معصوم بچّی خوف کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو، جہاں عورت اپنی عزّت و سلامتی کے بارے میں غیر یقینی کا شکار رہے، اور جہاں مظلوم کو انصاف کے لیے دروازے دروازے بھٹکنا پڑے، وہاں ترقی کے تمام دعوے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے لیے اپنے دینی ورثے سے حقیقی وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ عورت کے احترام کو محض ماضی کی یاد یا خطابت کا موضوع نہ بنایا جائے، بلکہ اسے عدل، تربیت، تحفّظ اور انسانی حقوق کے عملی نظام میں تبدیل کیا جائے۔ عورت ماں ہو، بہن ہو، بیٹی ہو، شریکِ حیات ہو یا ان میں سے کوئی رشتہ نہ رکھتی ہو، اس کی عزّت و حرمت اپنی جگہ مسلم ہے؛ اور معصوم بچّے کی حفاظت تو ہر اخلاقی، دینی اور انسانی معاشرے کا بنیادی فرض ہے۔ جب خواہش پر کردار، طاقت پر انصاف، خاموشی پر حق گوئی اور تعصب پر انسانی حرمت کو ترجیح دی جائے گی، تبھی وہ معاشرہ تشکیل پاسکے گا جس میں عورت اور بچّہ محض تحفّظ کی دعا کرنے والے نہیں، بلکہ حقیقی امن اور عزّت کے ساتھ زندگی گزارنے والے انسان ہوں گے۔ یہی کسی مہذب معاشرے کی پہچان اور اسلامی تعلیمات کے اخلاقی پیغام کا ایک بنیادی تقاضا ہے۔
🗓️ (19.10.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○