حکومت اور اپوزیشن میں بات چیت کا مسئلہ.
پہل کرنا حکمراں جماعت کا کام ہوتا ہے
ازقلم:عبدالعزیز
جمہوریت میں اپوزیشن کی حیثیت اہم اور ناگزیر ہوتی ہے۔ ناگزیر اس لئے ہے کہ اگر اپوزیشن نہ ہو تو حکمراں جماعت یا اہل اقتدار مطلق العنان ہوجاتے ہیں۔آج ہندستان میں جمہوریت برائے نام ہے کیونکہ اقتدار ایسے ہاتھوں میں ہے جو ملک میں ’اپوزیشن مُکت بھارت‘ کے قائل ہیں۔ اس سے ملتے جلتے نریندر مودی اور امیت شاہ کے دو اور نعرے اقتدار میں آتے ہی بلند ہونے لگے تھے ’کانگریس مکت بھارت‘ اور ’مسلم مکت بھارت‘۔ نریندر مودی ملک کے زمامِ کار کو سنبھالنے سے پہلے گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے ۔ اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی دنوں بعد گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوئے جس میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا۔ نریندر مودی نے فرقہ وارانہ فسادات یا مسلمانوں کے قتل عام کو اپنی حکمرانی کی ناکامی سمجھنے کے بجائے اسے اپنے لئے باعث ترقی اور نفع بخش سمجھا۔ پشیمانی کے بجائے اپنی غلط حکمرانی پر فخر و تکبر کا اظہار کیا کرتے تھے۔ اپنی غلطیوں، خامیوں اور جرم کو اپنی حکمرانی کی مدت کو دراز کرنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے جب ایک پریس کانفرنس میں نریندر مودی کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’راجا کو راج دھرم کا پالن (احترام) کرنا چاہئے‘‘۔ مودی نے اپنے بزرگ رہنما کی نصیحت قبول کرنے کے بجائے کہاکہ ’’وہ یہی کر رہے ہیں‘‘۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جو کچھ ان کی سرپرستی اور نگرانی میں انسانیت شرمسار ہوئی یا مسلمانوں کا قتل عام ہوا اس کے لئے وہ شرمندہ نہیں ہیں بلکہ اپنے کئے پر مصر تھے، اسے صحیح ٹھہرا رہے تھے۔ جب کوئی شخص اپنی غلطی یا جرم کو قبول نہیں کرتا بلکہ اس پر اصرار کرتا ہے تو وہ بھی بہت بڑی غلطی اور جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔ ’عذرِ گناہ بد تر از گناہ‘‘ (گناہ پر عذر کرنا گناہ سے بھی بدتر ہے)۔ شری اٹل بہاری واجپئی نریندر مودی کے مجرمانہ کردار کو بھانپ چکے تھے اس لئے وہ ان کو وزارتِ اعلیٰ کے عہدہ سے برطرف کرنا چاہتے تھے لیکن ایل کے اڈوانی، ارون جیٹلی ، راج ناتھ سنگھ اور آر ایس ایس کے جغادری آڑے آئے اور اٹل بہاری واجپئی کی بات گوا اجلاس میں رد کر دی گئی۔ نریندر مودی کو لوک سبھا کی انتخابی مہم کا سربراہ مقرر کرلیا گیا۔ اس طرح مودی کی وزارتِ عظمیٰ کا راستہ ہموار ہوا۔ فارسی زبان کا ایک مشہور شعر ضرب المثل ہے:’’خشت اوّل نہد معمار کج- تا ثریّا میرود دیوار کج‘‘ (پہلی اینٹ معمار جب ٹیڑھی لگادے تو دیوار اگر ثریا(آسمان) تک بھی چلی جائے تو ٹیڑھی ہی رہے گی)۔
جان بوجھ کر نریندر مودی کو ہندستان جیسے عظیم ملک کی سربراہی کی ذمہ داری دینے کا آر ایس ایس اور ان کے چٹے بٹوں نے فیصلہ کیا۔ جن لوگوں نے مودی جیسے شخص کو وزیر اعظم بنانا چاہا ان کے نزدیک ایک موزوں و مناسب اور لائق و فائق شخص کو وزیر اعظم کے عظیم عہدے پر فائز کرنے اور ملک کو جمہوری طور طریقے سے چلانے کا ارادہ نہیں تھا بلکہ آر ایس ایس کے انسانیت دشمن اور مسلم دشمن ایجنڈے کو کامیاب کرنے کا ارادہ تھا۔ ان کا ارادہ یا ان کا ایجنڈا نریندر مودی یا امیت شاہ نے پورا بھی کر دیا۔ خواہ کشمیر میں دفعہ 370 کو ہٹانا ہو ۔ بابری مسجد کو گراکر رام مندر کی تعمیر ہو یا یکساں سیول کوڈ کا نفاذ ہو۔ زور زبردستی کے ذریعے غیر قانونی اور غیر جمہوری طریقے سے یہ کام پورا ہوا۔ اب جو سب سے بڑا ایجنڈا مودی-شاہ کے پیش نظر تھا وہ یہ تھا کہ ایک مدتِ دراز تک یہ دونوں سیاہ و سفید کے مالک رہیں اور عوام و خواص پر مسلط رہنے کی کوشش کریں۔ اس کے لئے انھوں نے ضروری سمجھا کہ ملک کے دستور کو ترمیم و تبدیل کر نے کے بجائے ختم کرکے اپنی مرضی کے مطابق ملک چلانے کے لئے ایک نیا دستور کو نافذ العمل کریں۔ 2024ء کے لوک سبھا الیکشن میں اس کے لئے انھیں 400سیٹوں پر کامیابی کی ضرورت تھی۔ اس لئے ان کا نعرہ تھا ’’اب کی بار چار سو پار‘‘۔ دو بڑے اسباب کی بنا پر انھیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ بی جے پی کے اندر ہی چند لوگوں نے راز فاش کردیا کہ ان کو چار سو سیٹوں پر کامیابی پر اس لئے ضرورت ہے کہ وہ دستور میں تبدیلی ، ترمیم اور تنسیخ کرسکیں۔ دوسری بڑی وجہ راہل گاندھی کی ’’دستور بچاؤ مہم ‘‘ اس قدر پُر زور اور پر اثر تھی کہ بی جے پی دھاندلی اور ووٹ چوری کے باوجود 240 سیٹوں پر سمٹ گئی۔
جب نریندر مودی اور امیت شاہ کو لگا کہ ان کا خواب پورا نہیں ہوگا تو پہلا کام انھوں نے الیکشن کمشنر کی تقرری کمیٹی کی ایسی قانون سازی کہ نریندر مودی اپنی مرضی کے مطابق تو الیکشن کمشنر مقرر کر سکیں۔ وزیر اعظم نے دوسرا کام یہ کہاکہ جب وہ 143 ممبرانِ پارلیمنٹ کو اسپیکر اوم برلا نے معطل کر دیاتو الیکشن کمشنر کے بچاؤکے لئے پارلیمنٹ سے قانونِ استثنا (Immunity) منظور کرالی جائے گی۔ اس طرح الیکشن کمشنر کو غیر قانونی اور غیر جمہوری کام انجام دینے کی چھوٹ مل گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بڑے پیمانے پر ووٹوں کی چوری شروع ہوئی ۔ ہریانہ، مہاراشٹر، بہار اور بنگال میں اپوزیشن کو کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی یا کانگریس کو اپوزیشن پارٹیاں مغربی بنگال کے الیکشن سے پہلے یہ کہا کرتی تھیں کہ کانگریس بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست دینے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ حالانکہ مہاراشٹر میں کانگریس کے علاوہ این سی پی اور شیو سینا کو بھی شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔ راہل گاندھی نے ووٹوں کی چوری کو اعداد و شمار کے ساتھ پوائنٹس پریزنٹیشن کے ذریعے پریس کانفرنسوں میں پُر اثر اور مدلل طریقے سے کرنے لگے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے راہل گاندھی کی ہمنوائی جس طرح کرنی چاہئے تھی اس طرح کرنے کے بجائے اپوزیشن پارٹیوں نے صرف بیان بازی پر اکتفا کیا لیکن جب مغربی بنگال میں ممتا بنرجی جن کو ’شیرنی‘ کہا جاتا تھا اس شیرنی کو بی جے پی نے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپناکر زور زبردستی ہرا دیا، تب اپوزیشن پارٹیوں کی آنکھ کھلی۔ راہل گاندھی نے اپوزیشن پارٹیوں کو صاف صاف بتایا کہ الیکشن کے راستے سے بی جے پی کو شکست دینا مشکل ہے۔ مزاحمت کا راستہ اپنانا ہوگا۔ سڑکوں کی سیاست کرنی ہوگی۔ پارلیمنٹ کو اسپیکر نے حکومت کے اشارے پر ویران کردیا۔ جب پارلیمنٹ ویران ہوتی ہے اور سڑکوں کو آباد نہیں کیا جاتا تو سڑکیں آوارہ ہوجاتی ہیں۔
راہل گاندھی نے یوتھ کانگریس کو سڑکوں پر اتار دیا اور ’طالب علموں کی گونج‘ کے عنوان سے جنریشن -زی کو بیدار کرنا شروع کیا۔ پیپر لیک کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ تعلیمی نظام کی تباہی اور بربادی کا ذکر کرتے ہوئے طالب علموں، نوجوانوں کے مستقبل کو تاریک بتایا۔ اسی دوران مذاق ہی مذاق میں نئی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے جنم لیا۔ حکومت نے اس پارٹی کی آؤ بھگت کی۔ اس کے بانی ابھجیت دیپکے کو آسانی سے جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی سہولت فراہم کر دی گئی۔ ابھجیت دیپکے یا اس کی نوزائیدہ پارٹی کو راہل گاندھی اور کانگریس کی کاٹ کے لئے سہولت دی گئی تھی۔ حکومت کو اندازہ نہیں تھا کہ ابھجیت یا ان کی پارٹی کی آواز پر اتنے نوجوان اور طالب علم جمع ہوجائیں گے اور اس قدر جری اور بہادر ثابت ہوں گے کہ پولس کی لاٹھی اور پیلیٹ گن بھی ان کو روکنے میں ناکام ثابت ہوگی۔ مجبوراً حکومت کو جھکنا پڑے گا اور وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔ راہل گاندھی کاکروچ پارٹی کے دھرنے اور مظاہرے اور اپنی پارٹی کے چیف اسپوکس مین پون کھیڑا کو جنتر منتر بھیج کر یہ پیغام دیا کہ جو و طالب علموں اور نوجوانوں کی مہم کی حمایت کرتے ہیں۔ راہل گاندھی نے بعد میں بھی یہ حمایت جاری ررکھی۔ پیلیٹ گن یا دوسرے طریقے سے جو زخمی ہوئے تھے ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ الگ سے راہل گاندھی نے اپنی مہم کو پہلے سے بھی زیادہ تیز کر دی۔
اب صورت حال یہ ہے کہ کانگریس پارٹی اور کاکروچ پارٹی سے حکومت اس خائف ہوگئی ہے کہ پوری دہلی کو فوجی چھاؤنی میں بدل دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں تجارتی طبقے کو بھی پریشانی لاحق ہوگئی ہے۔ نریندر مودی اور امیت شاہ بھی حواس باختہ نظر آرہے ہیں۔ بہت دنوں تک تو چپی سادھے رہے۔ 20 جولائی اور 21 جولائی کی درمیانی رات میں نریندر مودی طلبا و طالبات اور نوجوانوں کو دوست کہہ کر مخاطب کیا اور لڑکیوں نے جو اُن کو ڈھیر ساری گالیوں سے نوازا تھا اس کا بھی انھوں نے نوٹس نہیں لیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک دہلی کی کئی بار قلعہ بندی کی گئی۔ لڑکے، لڑکیوں اور طالب علموں کو ہر طرح سے پولس نے زد و کوب کیا۔ حراست میں لیا ۔ بی جے پی کے نچلے درجے کے لوگ دفاع کرتے رہے لیکن مودی اور شاہ چپ رہے۔ دو تین دن پہلے امیت شاہ نے منہ کھولا لیکن اصل موضوع سے ہٹ کر صرف راہل گاندھی، راہل گاندھی اور کانگریس، کانگریس کرتے رہے۔ کیا کچھ ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ہورہا ہے اس کا ذکر تک نہیں کیا۔
بی جے پی اور آر ایس ایس کے ہمدرد اور اندھ بھکت راہل گاندھی، ابھجیت دیپکے اور اپوزیشن پارٹیوں کو ہنگامہ خیزی اور فتنہ و فساد اور ملک کو تہ و بالا کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کے بجائے اپوزیشن پارٹیوں اور کاکروچ پارٹی کے ذریعے جو کچھ ہو رہا ہے اسی کو ملک کے لئے خطرہ بتا رہے ہیں، حالانکہ یہ ملک کے لئے خطرہ تو نہیں ہے لیکن ان دونوں کے لئے اور ان کی پارٹی کے لئے ضرور خطرہ ہیں کیونکہ دونوں کی عدم مقبولیت اور پارٹی کی بدنامی ہندستان سے لے کر لندن اور امریکہ تک ہورہی ہے۔ ہندستان میں تو مودی اور شاہ کے خلاف جلسے جلوس کرنے والوں کو سختی سے کچلا جارہا ہے لیکن بیرون ملک میں اور ایسے ملک میں جو دو سو سال تک ہندستان پر قابض تھا وہاں بھی جمہوریت کی بحالی کے لئے اور آمریت کے خاتمے کے لئے ریلی اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ حکومت جتنی بھی فورسز لگا دے اور جتنے بھی بڑے پیمانے پر قلعہ بندی کردے اب جو سیلاب یا انقلاب برپا ہورہا ہے حکومت اسے روکنے میں ناکام ہے۔ جتنا انقلابیوں کو کچل رہی ہے اسی قدر انقلابیوں میں توانائی اور مضبوطی بڑھتی جارہی ہے۔ حکومت یا حکمراں جماعت کے جو ہمدرد ہیں وہ راہل گاندھی یا ابھجیت دیپکے کو صلاح و مشورہ دے رہے ہیں کہ سڑکوں پر اترنے کے بجائے وہ قانون کا راستہ اپنائیں۔ قانون کا راستہ بھی اپنایا گیا۔ اگر عدالتوں نے اپنا فرض ادا کیا ہوتا تو ووٹ کی چوری روکی جاسکتی تھی لیکن الیکشن کمشنر کی تمام غیر قانونی حرکتوں کو سپریم کورٹ نے درخواست کنندگان کے توجہ دلانے کے باوجود شکنجہ نہیں کسا بلکہ سپریم کورٹ SIR جیسے غیر قانونی طریقے کو کرنے کے لئے الیکشن کمشنر کو چھوٹ دے دی۔ اپوزیشن پارٹیوں یا ابھجیت دیپکے کی پارٹی کو مجبوراً جان جوکھوں میں ڈال کر سڑکوں پر اترنا پڑا۔
جو حکومت امن و امان چاہتی ہے، قانون کی حکمرانی کی خواہاں ہوتی ہے وہ اپوزیشن مکت ملک نہیں چاہتی بلکہ Chek and balance (توازن) برقرار رکھنے کے لئے اپوزیشن کے سوالوں کا جواب دیتی ہے ۔ انھیں ہر طرح سے مطمئن کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کا سربراہ نہ پریس کانفرنس کرنے کا قائل ہے ، نہ سوالوں کے جواب دینے کی ضرورت سمجھتا ہے ۔ ووٹ چور ی کا جو بانی مبانی ہے جو دھڑلے سے راہل گاندھی کو حلفیہ بیان دینے کے لئے کہتا تھا آج اس کا مجرمانہ عمل طشت از بام ہوچکا ہے تو اپنے منہ پر تالا لگائے ہوئے ہے۔
حکومت یا ان کے کارندوں کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ آج جو وہ اقتدار کا مزہ لے رہے ہیں اگر ملک میں جمہوریت نہیں ہوتی تو کیا وہ اقتدار کی کرسیوں پر فائز ہوتے ؟ اور آمرانہ طرزِ عمل اپناتے؟ اگر نریندر مودی اور امیت شاہ چاہتے ہوں کہ ملک کا بھلا ہو، ملک میں امن و امان ہو، خانہ جنگی جیسی صورت حال نہ پیدا ہو تو ضرورت ہے کہ پولس اور پیرا ملٹری فورسز کے ذریعے اپوزیشن کو کچلنے کی کوشش نہ کریں ، بات چیت کا راستہ اپنائیں۔ ہر جمہوری حکومت سوالوں کے جواب دیتی ہے۔ غلط فہمیوں کا ازالہ کرتی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنے کے بجائے انھیں کھلی چھوٹ دیتی ہے۔ بڑے سے بڑا مسئلہ بات چیت ہی سے طے ہوتا ہے۔اگر حکومت یا ان کے اہلکار اپنی چوری اور سینہ زوری سے کام نہ لیں اور بات چیت کا راستہ اپنائیں تو حالات کے بگاڑ میں کمی آسکتی ہے ۔ حالات کا سدھار ہوسکتا ہے۔ ملک بہت بڑے بگاڑ اور جنگجویانہ حالت سے بچ سکتا ہے۔ کیا اقتدار پر فائز لوگ ہوش کے ناخن لیں گے؟ آنے والے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی کوشش کریں گے؟ گونگے، بہرے اور اندھے بن کر کوئی بھی آمر زیادہ دنوں تک اقتدار کی کرسی پر فائز نہیں رہ سکتا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068