نانا پاٹیکر: ایک اداکار سے جہد کار تک

نانا پاٹیکر: ایک اداکار سے جہد کار تک

نانا پاٹیکر: ایک اداکار سے جہد کار تک

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ناناپاٹیکر کی رخصتی کو ایک عشرہ گزر گیا لیکن اس بہترین اداکار کا چہرہ اب بھی نگاہوں میں ہے۔ اس نے اپنی مشہور فلم کرانتی کے کلائمکس میں تختۂ دار پر کھڑے ہوکر ہنستے ہوئے کہا تھا :آگئے میری موت کا تماشا دیکھنے ۔ اب مجھے لٹکا دیں گے۔ زبان باہر آئے گی آنکھیں باہر آئیں گی۔تھوڑی دیر لٹکتا رہوں ۔ پھر یہ میرا بھائی مجھے نیچے اتار دے گا ۔پھر آپ چرچا کرتے گھر چلے جاوگے ۔ کھانا کھاوگے اور سوجاوگے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی تحریک شروع ہوئی تو بی جے پی نے یہی سوچا کہ اس میں شامل چند لوگوں کی تعذیب کریں گے تو سارا معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوجائے گا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اب یہ حال ہے کہ اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگوں کی نیند حرام ہوچکی ہے کیونکہ نانا پاٹیکر آگے خبردار کرتا ہے۔’’ تمہاری یہ نامردی ، بزدلی ایک دن اس دیش کی موت کا تماشا اسی خاموشی سے دیکھے گی۔کچھ نہیں کہنا ہے مجھے تمہیں ۔ کچھ نہیں تمہاری زندگی میں کوئی فرق پڑنے والا نہیں ۔اندھیرے میں رہنے کی عادت پڑی ہے تم کو غلامی میں رہنے کی عادت پڑی ہےپہلے راجہ مہاراجاوں کی غلامی کی پھر انگریزوں کی اور اب چند غدار نیتاوں کی غنڈوں کی ۔ دھرم کے نام پر یہ تمہیں بہکاتے ہیں ۔ تم ایک دوسرے کے گلے کاٹ رہے ہو۔کاٹو کاٹو ۔ اوپر والا بھی اوپر سے دیکھتا ہوگا تو اسے شرم آتی ہوگی۔سوچتا ہوگا میں نے سب سے خوبصورت چیز بنائی تھی انسان، انسان نیچے دیکھا تو سب کیڑے بن گئے، کیڑے رینگتے رہو‘‘۔
فلمی پردے کا کرانتی ویر جس بیداری کو پیدا کرنے کی خاطر پھانسی کے پھندے کو گلے لگانے کے لیے تیار ہوجاتا ہے وہ کام چیف جسٹس سوریہ کانت سے نوجوانوں کو کاکروچ کہنے کے بعد ہوگیا۔اس ایک جملے نے عوام کو اپنی حیثیت کا احساس دلایا اور پھر جب وہ احتجاج کے لیے نکلے تو سرکار نے ان پر تشدد کرکے اس آگ میں تیل ڈالنے کا کام کردیا ۔ اب وہ چنگاری ایک ایسی شعلۂ جوالہ بن چکی ہے کہ جس سے ظلم و استبداد کے قلعہ کوبھسم ہونے کا ڈر ستانے لگا ہے۔ بی جے پی سرکار بار بار اسے فرقہ واریت کا رنگ دے کر بھٹکانے کی کوشش کررہی ہے مگر بات نہیں بن پارہی تھی کیونکہ نانا پاٹیکر جیسے لوگ اس سے خبردار کرچکے ہیں۔ وہ صرف گفتار کا غازی نہیں تھا ۔ ممبئی کے فسادکے بعد وہ رات کے وقت مسلم علاقوں کا دورہ کر کے وہاں پہرے داری کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ اس کے بعد ممبئی میں سیریل دھماکے ہوگئے تو بڑے بڑے دانشور اس کے سخت ردعمل کی توقع کررہے اور طرح طرح کے اندیشوں کا اظہار ہورہا تھا لیکن نانا پاٹیکر نے ایک انٹرویو میں کہہ دیا تھا کہ اب کم ازکم دس سالوں تک ممبئی میں فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوگا۔ نانا کی یہ پیشنگوئی درست نکلی۔
للن ٹاپ سے گفتگو کرتے ہوئے نانا نے ان یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا تھا’’1993کے ممبئی بم دھماکوں میں انہوں نے اپنے ایک قریبی رشتے دار (بھائی) کو کھو دیا تھا۔ اس حادثے کے باوجود، وہ ممبئی کی گلیوں میں امن، بھائی چارے اور اتحاد کو فروغ دینے کے لیے نکلے تھے کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور شہریوں کو آپس میں لڑنے کے بجائے امن و امان سے رہنا چاہیے۔ اس کے برعکس وزیر اعظم نریندر مودی نے فساد کی آگ پر اپنی سیاست چمکائی اور بہت کچھ حاصل کیا مگر ان دونوں میں کس نے کیا کمایا یہ دنیا کے سامنے ہے۔ عہدہ و اقتدار سے علی الرغم اقوال و اعمال کی بنیاد پر کل کا مورخ بڑی آسانی سے فیصلہ کرلے گا کہ ان میں عظیم کون تھا؟ فلمی پردے پر بھی ’دی اٹیک آف26/11‘‘میں انہوں نے پولس کمشنر راکیش ماریا کا کردار ادا کرتے ہوئے عوام کو باہمی محبت و اخوت کا پیغام دیا۔ نانا پاٹیکر کی مختلف تقاریر میں اپنی موت کا تذکرہ آجاتا تھا۔ اس نے کہا تھا میں اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہوں ۔ میرے ۶؍ بھائی جاچکے ہیں میں بھی چلا جاوں گا اور سب کچھ پیچھے رہ جائے گا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا اسٹیج کے سارے بڑے اداکار ہارٹ اٹیک سے مرے ہیں اور اس کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ گوا کے اندر یہ کہنے کے محض چار دن بعد کہ ’نہ جانے کل ہماری ملاقات ہو یا نہ ہو‘ حرکت قلب بند ہوجانے کے سبب نانا پاٹیکراپنے الفاظ کا شاہد بن گیا۔
فنکار حساس ہوتا ہے ۔ یہ حساسیت سب سے زیادہ اس کردار کے تئیں ہوتی ہے جسے وہ اسٹیج یا پردۂ سیمیں پر ادا کرتا ہے۔ اسی لیے وہ اپنے کردار میں ڈوب کر اداکاری کی بلندیاں سر کرلیتا ہے اور یہ چیز اسے عظیم اداکار بنادیتی ہے۔ ناناپاٹیکر نے اسٹیج پر جب پُروش نامی مراٹھی ڈرامے میں آبروریزی کی اداکاری کی تو ناظرین کے درمیان بیٹھی خواتین کی چیخ نکل گئی تماش بین سکتے میں آگئے۔ کرانتی ویر نامی فلم میں پھانسی پھندے پر چڑھ کر اس نے ناظرین کو اپنے زندہ لاش ہونے کا احساس دلاکر ان کے اندرانقلابی روح پھونک دی ۔ کامیابی کی بلندیوں پر بیٹھے اس اداکارکو ایک دن ڈیڑھ کروڈ کی نئی گاڑی خریدنے کا خیال آتا ہے۔ اسی روز شام میں وہ ٹیلیویژن پر ایک ایسے خاندان کو دیکھ لیتا ہے جس کے کمانے والے کسان نے خودکشی کرلی ۔ وہ پسماندگان کی آنکھوں میں جھانک کردیکھتا ہے تو اسے وہاں آنجہانی کو گنوانے کے افسوس سے زیادہ شام کی بھوک کا خوف نظر آجاتا ہے۔ اس لیے نانا پاٹیکرخود کو زندہ لاش سمجھ کر زندہ رہنے کی خاطر گاڑی خریدنے کا ارادہ ترک کر کے وہ رقم خودکشی سے متاثر ہونے والے پسماندگان میں تقسیم کرنے کا عزم کرتا ہے۔ اس طرح نآم نامی تنظیم عالم وجود میں آتی ہے ۔ عنقریب اس کی ڈیڑھ کروڈ والی تجوری میں ساٹھ کروڈ جمع ہوجاتے ہیں کیونکہ چندہ دینے والوں کو یقین ہوتا ہے کہ اس میں خرد برد نہیں ہوگی ۔ اس طرح ایک فلمی اداکار کے اندر سے سماجی جہد کار جنم لے لیتا ہے۔
نانا پاٹیکر نے اپنے کارِ خیر کو مشتہر نہیں کیا ۔بہار کے سیلاب زدگان کو بیس کروڈ دینے کے باوجود اس کی تشہیر سے گریزکرنے والا نانا پاٹیکر اس جہانِ فانی کو داغِ مفارقت دےگیا ۔ نانا پاٹیکر کے یادگار کرداروں کی ماننداس کی شخصیت کا ایک پہلو ہندو مسلم دوستی کا فروغ بھی تھا ۔ اس نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بچپن ہی سے مسلمانوں میں پلا بڑھا ہے۔ اس کے بچپن کی پہلی دوست دلشاد تھی ۔ اس وقت سب لوگ مل جل کر رہتے اور ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک رہتے ۔ ایک مرتبہ اس نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ ہندو اور مسلمان میں کیا فرق ہے تو ماں نے بتایا ایک ہاتھ جوڑ کر دعا کرتا ہے اور دوسرا ہاتھ کھول کر ۔ وہ کہتا ہے کتنی آسانی سے ماں نے فرق سمجھا دیا۔ فلمی پردے کی طرح ناناپاٹیکر اپنی روزمرہ کی زندگی میں بھی منہ پھٹ تھا ۔ اس نے اپنی رائے کے اظہار میں کبھی کسی کی ناراضی کی پروا نہیں کی۔ اپنے وہ برملا مذہبِ اسلام کے احترام کا اعلان کرتا تھا۔ کسانوں میں کام کرتے ہوئے اس کو پتہ چلا کہ مسلمان خود کشی نہیں کرتے تواس کی ببانگ دہل توصیف کردی۔
اپنی تنظیم ‘نآم فاؤنڈیشن’ کی سرگرمیوں کے حوالے سے خودکشی کرنے والے غریب کسانوں کی بابت میڈیا سے گفتگو کے دوران نانا نے اپنا مشاہدہ شیئر کرتے ہوئے کہا تھا”میں نے دیکھا ہے کہ مسلمان کسانوں میں خودکشی کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں خودکشی کو حرام (گناہِ کبیرہ) قرار دیا گیا ہے، اور یہی مذہبی عقیدہ انہیں مشکل حالات میں بھی انتہائی قدم اٹھانے سے روکتا ہے۔” اس کے بعد انہوں نے دیگر مذاہب کے لوگوں پر بھی زور دیا تھا کہ وہ اس عقیدے سے سیکھیں اور کٹھن حالات میں زندگی کا خاتمہ کرنے کے بجائے ہمت سے کام لیں۔کرم ویر کے کلائکس میں جیل کے اندر انسپکٹر نانا سے کہتا ہے ’’تمہاری پھانسی کا دن مقرر ہوگیا ہےاگر کوئی آخری خواہش ہے تو بتادو۔‘‘نانا جواب دیتا ہے’یہاں گھٹن سی ہوتی ہے۔ میں ان چار دیواروں میں مرنا نہیں چاہتا۔ مجھے وہیں پھانسی دے دو کرانتی میدان میں سب کے سامنے، جہاں سے اس دیش میں کرانتی کی شروعات ہوئی تھی‘‘۔
اس موقع پرنانا کی ماں جیل میں ملنے آتی ہے تو وہ پوچھتا ہے ’کاہے کو رو رہی ہے تو،ماں جواب دیتی ہےنہیں رے یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔ بیٹا آج تو نے تلک خاندان کے نام پر سچ مچ یش (کامیابی) کا تلک لگا دیا۔میں خوش ہوں۔ بہت خوش ہوں ۔اب تو بھگوان سے یہ بھی پرارتھنا کروں گی۔تجھے جنم و جنم میرا ہی بیٹا بناکر‘ نانا درمیان میں بول پڑتا ہے’نہیں ماں اگلے جنم میں کسی مندریا مسجد کی اینٹ بن کر زندگی بھر وہاں روتا رہوں گا۔اس زندگی کا رونا میرا باقی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ میں نے تمہارے لیے کچھ نہیں کیا۔ نہیں بیٹا تم نے بہت کچھ کیا۔ تمہارے دادا جی کی آتما کو بھی شانتی مل گئی‘‘۔اس طرح جذبۂ ایثارو قربانی پیدا کیا جاتا ہے۔ وہ پاکھنڈ سے نفرت کرنے والا ایک سچا انسان تھا ۔ اسی لیے جاتے جاتے بھی اس نے منافقت سے بچنے کا پیغام اس طرح دیا:’’ مجھے معلوم ہے کل جانا ہے، بارہ من لکڑی لگے گی۔وہ لکڑی میری اپنی پراپرٹی ہے، میں نے جمع کر کے رکھی ہے۔لکڑی سوکھی ہے، اسی میں جلانا۔گیلی لکڑی مت استعمال کرنا، ورنہ دھواں آئے گا۔آس پاس کے سب لوگ جمع ہوں گے،ان کی آنکھوں میں دھواں جائے گاتو آنکھوں سے پانی آئے گا۔ایسا لگے گا کہ میرے لیے رو رہے ہیں،کم از کم مرنےکے وقت غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ نانا پاٹیکر کے لیے دنیا بھر کے شائقین نے بغیر دھوئیں کے سچے آنسو بہا کر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے