از قلم: مفتی احسان شاہ قاسمی
مدرسہ فیضِ سعيد نرمل تلنگانہ
کسی بھی معاشرے کی اخلاقی عظمت کا اندازہ صرف اس سے نہیں لگایا جاسکتا کہ وہاں جرم کرنے والوں کو کتنی سخت سزا دی جاتی ہے؛ اس کا حقیقی معیار یہ بھی ہے کہ وہاں نیکی کی آبیاری کس قدر ہوتی ہے، برائی کے اسباب کی روک تھام کے لیے کیا تدابیر اختیار کی جاتی ہیں اور انسان کے ظاہر و باطن کی اصلاح کے لیے کتنا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سزا قانون کی ضرورت ہے، مگر کردار سازی تہذیب کی روح ہے؛ عدالت جرم کے بعد انصاف کرتی ہے، لیکن ایک صالح معاشرہ جرم سے پہلے انسان کو سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے۔مکہ مکرمہ میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دیے جانے کی خبر نے اسی تناظر میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک عدالتی فیصلے کی خبر نہیں، بلکہ حرمِ مکی کے تقدس، اسلامی نظامِ عدل، معاشرتی پاکیزگی اور مسلم دنیا کی اخلاقی ترجیحات پر غور کرنے کا ایک موقع بھی ہے۔
حرمِ مکہ کی حرمت اور ہمارا افسوسناک رویہ!
مکہ مکرمہ محض ایک شہر نہیں؛ وہ ملتِ اسلامیہ کے ایمان، عبادت اور روحانی وابستگی کا مرکز ہے۔ اس کی گلیوں، وادیوں اور فضاؤں سے مسلمانوں کی عقیدت وابستہ ہے۔ دنیا کے گوشے گوشے سے آنے والے مسلمان یہاں اپنے گناہوں کی معافی، دلوں کی پاکیزگی اور زندگی کی نئی ابتدا کی امید لے کر حاضر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کی حرمت کو خصوصی اہمیت عطا فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَمَنْ يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُذِقْهُ مِنْ عذاب ألیم. ترجمہ: ’’اور جو اس میں ظلم کے ساتھ کج روی کا ارادہ کرے، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔‘‘ (سورۃ الحج: 25) ٹصور کیجیے اس نورانی ماحول کا جب مکہ مکرمہ کی فضاؤں میں گونجنے والی اذان، بیت اللہ کے گرد طواف کرتے لاکھوں انسان، دعاؤں میں بھیگی ہوئی آنکھیں اور اپنے گناہوں کی مغفرت کے لیے اٹھنے والے ہاتھ؛ یہ سب اس حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ انسان جب حرمِ الٰہی میں قدم رکھتا ہے تو اسے اپنے وجود، اپنے کردار اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس پہلے سے کہیں زیادہ ہونا چاہیے۔ یہ سرزمین خواہشاتِ نفس کی بے مہار پیروی کے لیے نہیں، بندگی، تقویٰ، حیا اور رجوع الی اللہ کے لیے ہے۔ اس کے ذہن میں یہ تصور ہر لمحہ جاگزیں ہونا چاہیے کہ حرمِ کعبہ محض پتھر کی ایک عمارت کا نام نہیں، یہ توحید کی ابدی علامت، ملتِ ابراہیمی کی عظیم امانت اور کروڑوں دلوں کی دھڑکن ہے۔ اس مقدس مقام کی طرف رخ کرکے مسلمان نماز پڑھتے ہیں، ان کی زیارت کے لیے عمر بھر کی کمائی جمع کرتے ہیں، ان کے تصور سے آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور ان کی محبت کو اپنے ایمان کی شیرینی کا حصہ سمجھتے ہیں؛ لیکن افسوس! کبھی کبھی اسی مقدس سرزمین پر انسانی کردار کی ایسی کمزوریاں سامنے آتی ہیں جو اہلِ ایمان کو سوچنے پر مجبور کردیتی ہیں۔ کہیں عبادت کی جگہ کو تصویروں کی نمائش گاہ بنادیا جاتا ہے، کہیں خشوع و خضوع کی فضا میں کیمرے کی چمک غالب آجاتی ہے، کہیں حیا کی چادر کو سوشل میڈیا کی شہرت کے لیے پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے اور کہیں مقدس مقامات کی زیارت بھی نفس کی خواہشات، نمائشی طرزِ زندگی اور لوگوں کی نگاہوں میں نمایاں ہونے کی طلب کا شکار ہوجاتی ہے؛ مگر جب مسجد کے صحن میں عبادت سے زیادہ تصویر اہم ہوجائے، جب طواف کے دوران دل ذکرِ الٰہی کے بجائے کیمرے کے زاویوں میں الجھا رہے، جب میاں بیوی یا دوسرے افراد مقدس مقامات میں ایسی قربتوں، حرکات یا ویڈیوز کو ریکارڈ کرنے لگیں جو حیا اور عبادت کے ماحول سے مناسبت نہ رکھتی ہوں، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم زیارت کے حقیقی مقصد سے کتنے قریب ہیں؟
اسی پس منظر میں مکہ مکرمہ کی ایک مسجد میں مبینہ نازیبا حرکت کے الزام میں بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے نذیرالاسلام عبدالبصیر اور سیتی اختر کی سزائے موت کی خبر نے ایک حساس اور سنجیدہ بحث چھیڑ دی ہے۔ سعودی حکام کے بیان کے مطابق دونوں کو مسجد کی حرمت پامال کرنے کے جرم میں تعزیری سزا دی گئی؛ لیکن مبینہ فعل کی مکمل تفصیل، مقدمے کے تمام مراحل اور بعض اہم قانونی پہلو واضح نہیں کیے گئے جبکہ یہ چیزیں نظامِ عدل کی بنیاد ہیں۔
حضرت ماعزؓ کا واقعہ: توبہ، تحقیق اور نبوی حکمت
اسلامی عدل کی روح کو سمجھنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے عہدِ مبارک کے واقعات سے بڑھ کر کوئی روشن مثال نہیں۔حضرت ماعز بن مالک اسلمیؓ سے متعلق واقعہ کتبِ حدیث میں مذکور ہے۔ انہوں نے ایک سنگین گناہ کا اعتراف کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے معاملے میں جلد بازی کے بجائے تحقیق فرمائی اور ان کے بیان کی حقیقت واضح کی۔ صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا کہ کہیں معاملہ محض بوسے، اشارے یا نظر کا تو نہیں تھا؟ جب حضرت ماعزؓ نے اس کی نفی کی اور صریح اعتراف کیا، تب معاملے کو اس کی حقیقی نوعیت کے مطابق دیکھا گیا۔ (صحیح البخاری، کتاب الحدود، حدیث 6824) اس واقعے کا سبق آموز پہلو یہ ہے کہ شرعی سزا کا معاملہ سنجیدگی، تحقیق اور واضح ثبوت کا تقاضا کرتا ہے۔ گناہ کے مختلف درجات کو ایک ہی حکم میں ضم نہیں کیا جاسکتا، اور کسی مبہم الزام کو کسی سنگین جرم کے برابر قرار نہیں دیا جاسکتا۔حضرت ماعزؓ کے واقعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت میں توبہ کا دروازہ، گناہ کی نوعیت کی تحقیق اور سزا کے شرعی معیار سب اہم ہیں۔ کسی شخص کی حرکت قابلِ مذمت ہو سکتی ہے، لیکن اس مذمت کی وجہ سے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اس کے خلاف ہر قسم کی سزا جائز قرار دے دی جائے۔اسی اصول کی روشنی میں سعودی حکومت سے بھی یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا نذیر الاسلام اور سیتی اختر کو اپنے دفاع کا مؤثر موقع ملا؟ کیا ان کے لیے قانونی معاونت اور دستیاب اپیل کے مراحل میسر تھے؟ اور کیا متعلقہ سفارتی و قونصلر ضوابط کی پاس داری کی گئی؟بنگلہ دیشی قونصل خانے نے اطلاع نہ ملنے کی شکایت کی، اور بنگلہ دیشی حکومت نے سعودی حکام سے وضاحت طلب کی۔ یہ صورتِ حال ان سوالات کو مزید اہم بناتی ہے۔ ان سوالات کا اٹھانا کسی حکومت کی مخالفت نہیں؛ یہ عدل کی صحت اور انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق جائز احتساب ہے۔اگر جرم معتبر ثبوت کے ساتھ ثابت ہو اور عدالت شرعی و قانونی ضوابط کے مطابق فیصلہ کرے تو قانون کے نفاذ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ حرمِ مکی جیسے مقدس مقام پر غیر اخلاقی حرکت یقیناً ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔
سزاء سے پہلے معاشرتی اصلاح کی جد وجہد لازمی یہاں یہ اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: "کیا ہماری ساری توجہ جرم کے بعد سزا دینے پر مرکوز ہوگئی ہے، یا ہم اس ماحول کی تشکیل کے لیے بھی اتنے ہی فکرمند ہیں جس میں انسان گناہ سے بچے اور معاشرہ اخلاقی انحطاط سے محفوظ رہے؟” سوال سزا دینے کا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ سزا کی ضرورت پیش آنے سے پہلے معاشرے کو پاکیزہ رکھنے کے لیے ہم نے کیا کیا؟ یہی وہ فکری نکتہ ہے جس پر جذباتی ردِعمل کے بجائے سنجیدہ غور وفکر کی راہیں کھلنی چاہیے، جس طرح جرم ثابت ہونے پر عدل کے تقاضے پورے کرنا ضروری ہے، اسی طرح جرم سے بچانے والے ماحول کی تشکیل بھی حکمرانوں، معاشرتی اداروں، اہلِ علم اور عوام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسلام انسان کو محض قانون کے خوف سے نیک بنانا نہیں چاہتا، بلکہ اس کے اندر ایسا زندہ ضمیر پیدا کرنا چاہتا ہے جو تنہائی میں بھی اسے برائی سے روکے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے گناہ کی ممانعت کے ساتھ ان راستوں سے بھی بچنے کی ہدایت دی ہے جو انسان کو گناہ کے قریب لے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَىٰ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا۔ ترجمہ: ’’اور زنا کے قریب بھی نہ جاؤ، بے شک وہ بے حیائی ہے اور بہت برا راستہ ہے۔‘‘ (سورۃ الإسراء: 32) اس قرآنی ہدایت میں انسانی نگاہ کی حفاظت، تعلقات کی حدود، عفت و عصمت، خاندانی نظام اور معاشرتی پاکیزگی کے تحفظ کی حکمت پوشیدہ ہے۔ اس آیت کا پیغام صرف مجرم کو سزا دینے کے مرحلے تک محدود نہیں؛ یہ انفرادی کردار، اجتماعی تربیت اور معاشرتی ماحول کی پاکیزگی کی طرف بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن جب حرمین شریفین کے خادمین اور ان کے زیرِ أثر اداروں کی جانب سے ایک طرف حرمِ مقدس اسلامی احکام کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کا نفاذ عمل میں لایا جائے اور دوسری طرف جزیرۃ العرب کی پاک سرزمین پر تفریحی پروگراموں، اور ثقافتی سرگرمیوں کے نام پر عریانی، فحاشی، بے حیائی، جنسی اشتعال انگیزی اور اخلاقی بے راہ روی کے فروغ کو معمولی بات سمجھ لیا جائے تو یہ اخلاق سوز مناظر ہر صاحبِ ایمان کے سامنے سعودی عرب کے اسلامی مملکت کے حوالے سے نہ صرف سوالیہ نشان کھڑا کردیتے ہیں بلکہ اس وقت تشویش بڑھ جاتی ہے جب معاشرے میں کسی غلط رویے کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو جیل کی تنہائیوں میں قید کرکے انہیں خاموش کرانے کی کوشش کی جائے، جب اخلاقی اقدار کے تحفظ کو دقیانوسیت سمجھا جائے، یا جب طاقت ور طبقات کے لیے الگ اور کمزور لوگوں کے لیے الگ اخلاقی پیمانے اختیار کیے جائیں۔
عدل کا ترازو سب کے لیے یکساں ہوں! انصاف اور عدل کے قیام کے لیے سب کے ساتھ عدالتی معاملہ یکساں ہونا ضروری ہے، اسلامی قانون کی نگاہ میں امیر و غریب، حاکم و محکوم، اپنے و پرائے، طاقتور و کمزور کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ حرمِ مکی کے تقدس کی حفاظت یقیناً ضروری ہے، لیکن عدل کا تقاضا یہ بھی ہے کہ قانون کا نفاذ ہر شخص پر یکساں ہو اور کسی بااثر فرد کی خطا، کسی کمزور کی خطا سے کم سنگین نہ سمجھی جائے۔ قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کو عدل کا ایسا آفاقی اصول عطا کیا ہے جو رشتوں، مفادات، دولت، اقتدار اور دشمنی، ہر چیز سے بلند ہے ارشادِ ربانی ہے : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ’’اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہنے والے بنو، اللہ کے لیے گواہی دینے والے، خواہ وہ گواہی خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف۔‘‘ (النساء: 135) یہ آیت محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں، بلکہ عدالتی نظام، حکمرانوں اور صاحبِ اقتدار طبقے کے لیے ایک دائمی منشور ہے۔ اگر انصاف اپنے اور پرائے، امیر اور غریب، طاقتور اور بے بس کے لیے الگ الگ پیمانے رکھتا ہو تو پھر عدل کا دعویٰ اپنی روح کھو دیتا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے اس اصول کو ایک تاریخی مثال کے ذریعے ہمیشہ کے لیے واضح فرما دیا۔ قریش کے ایک معزز خاندان کی عورت نے چوری کی تو بعض لوگوں نے اس کی سفارش کے ذریعے سزا رکوانا چاہی۔ آپ ﷺ نے غضب ناک ہوکر فرمایا کہ تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ جب ان میں کوئی معزز شخص جرم کرتا تو اسے چھوڑ دیتے، اور جب کوئی کمزور جرم کرتا تو اس پر سزا نافذ کرتے۔ پھر فرمایا: وَايْمُ اللَّهِ، لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَهَا ’’اللہ کی قسم! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹتا۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ وہ عدل ہے جس میں کسی کی خاندانی وجاہت قانون کے راستے کی دیوار نہیں بنتی، کسی کا اقتدار اس کے لیے ڈھال نہیں بنتا اور کسی کی غربت اس کے خلاف اضافی جرم نہیں بن جاتی۔ حرمِ مکی کا تقدس اپنی جگہ عظیم ہے، اور اس کی حرمت پامال کرنا یقیناً قابلِ تشویش ہے؛ لیکن اسی حرمت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ وہاں عدل کی عظمت پوری طرح جلوہ گر ہو۔ اگر کسی کمزور پر قانون کا پورا وزن ڈال دیا جائے، مگر کسی طاقتور کے معاملے میں وہی قانون مصلحتوں کے بوجھ تلے دب جائے، تو یہ طرزِ عمل عدل کے اسلامی روح کے لیے بہت زیادہ خطرناک ہے، حکمران طبقے کی غیرت کا حقیقی امتحان یہ نہیں کہ وہ کمزور مجرم کو سزا دینے میں کتنی سختی دکھاتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ طاقتور کی خطا کے سامنے بھی حق کا دامن کتنی مضبوطی سے تھامتا ہے۔ عدلیہ کی عظمت فیصلوں کی سختی سے نہیں، ان کی غیر جانب داری، شفافیت اور انصاف سے قائم ہوتی ہے؛ اور حکومت کا وقار محض اقتدار کی قوت سے نہیں، بلکہ اس اعتماد سے جنم لیتا ہے کہ اس کے زیرِ سایہ کوئی شخص اپنے اثر ورسوخ کے بَل پر قانون سے بالاتر نہیں ۔ یاد رکھیے! ایک صالح معاشرہ وہ نہیں جس میں صرف سزا کا خوف ہو، بلکہ وہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی جواب دہی کا احساس، انسانی حقوق کا احترام، اخلاقی پاکیزگی کی قدر اور نیکی کی طرف بڑھنے کا جذبہ زندہ ہو اور جس معاشرے میں حیا باقی ہو، وہاں کردار محفوظ رہتے ہیں؛ اور جس نظام میں انصاف زندہ ہو، وہاں انسان کا وقار محفوظ رہتا ہے۔ مسلمانوں کی حقیقی سربلندی اسی میں ہے کہ وہ حرمین کے ادب کے محافظ بھی بنیں اور عدلِ اسلامی کے سچے علم بردار بھی۔