آر ایس ایس کی صدسالہ وجئے دشمی اور کاکروچ

آر ایس ایس کی صدسالہ وجئے دشمی  اور کاکروچ

آر ایس ایس کی صدسالہ وجئے دشمی اور کاکروچ

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے 20؍ اکتوبر 2026 کو وجئے دشمی کے دن ناگپور میں اپنی صد سالہ (100 ویں) سالگرہ تو منائی مگر کاکروچوں یعنی ملک کے نوجوانوں نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا۔ آر ایس ایس کے سربراہ ڈاکٹر موہن بھاگوت نے دسہرہ کے موقع پر اپنا سالانہ روایتی خطاب پیش توکیا مگر اپنے بانیوں کو ہی غلط ثابت کردیا ۔ اس تنظیم کے مرکز میں ’سویم‘ ہے ۔ اس میں ’سوو‘ کی تعریف بیان کرتے ہوئے وہ بولے اس کا مطلب آئین ہند کے ابتدائیہ میں استعمال ہونے والا جملہ’ہم بھارت کے لوگ ‘ہے۔ سوال یہ ہے کہ مذکورہ انکشاف سر سنگھ چالک موہن بھاگوت پر سوسال بعد کیوں ہوا ؟ ماضی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ آئین ہند کی مخالفت کرتا رہا ہے۔آر ایس ایس کا نظریہ قدیم ہندو روایات اور ‘ہندوتوا’ پر مبنی ہے، جو جدید سیکولر اور جمہوری آئینی اصولوں سے میل نہیں کھاتا۔ نفاذِ دستور سے قبل سنگھ کے ترجمان ’آرگنائزر‘ نے نومبر 1949 میں آئین پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے مغربی نظریات کا مجموعہ قرار دے کرمنو سمرتی‘ کو نافذ کرنے کی وکالت کی تھی۔
ڈاکٹر بھاگوت کی مانیں تو سنگھ کے نظریہ سازوں کو دستور ہند سمجھ میں نہیں آیا تھا یا موہن بھاگوت کے اندر اب منو سمرتی کی حمایت کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔کون جانے یہ اقتدار کی مجبوری ہے یا حقیقت کا اعتراف ہے؟ آر ایس ایس کا نظریہ ہندوستان کو ایک ’ہندو راشٹر‘ بنانے کی ترغیب دیتا ہے، جب کہ آئینِ تمام مذاہب کے لیے مساوات کی ضمانت دیتا ہے۔ موہن بھاگوت نے اپنے خطاب میں سماجی ہم آہنگی (ذات پات کے بھید بھاؤ کا خاتمہ)، پر زور دیا مگر جب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے آئین کا مسودہ تیار کیا تھا، تو سنگھ کی جانب سے اس میں مساوات اور اقلیتوں کے حقوق پر اعتراضات کیے گئے تھے۔ فی الحال مجبوراً بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما بظاہر آئین کا احترام کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن عملی طور پر آئینی اداروں اور سیکولر اقدار کو کمزور کرنے کی بھرپور سعی بھی کرتے ہیں کیونکہ آر ایس ایس کا فکری ڈھانچہ ہمیشہ سے موجودہ جمہوری و آئینی نظام کے خلاف رہا ہے۔ ملک کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی اور نیہا بورا وغیرہ کی جانب سے اٹھائی جانے والی نئی نسل کی تحریک کو ملنے والی حمایت نے سنگھ پریوار کے ہوش اڑا دئیے ہیں ۔ ایسے میں پرانا راگ الاپا جاتا تو جدید نسل کی کھلی بغاوت کا خطرہ تھا ۔
یہ کمال ستم ظریفی ہے کہ سر سنگھ چالک لاکھ چاہنے کے باوجود 100سالہ اپنے من کی بات نہیں کرسکےمگرسی جے آئی سوریہ کانت سے بھی بڑی غلطی کربیٹھے۔ایک ایسے وقت میں جبکہ سنگھ کے حامی والدین کی اولاداحتجاجی نوجوان بی جے پی کے تشدد کاشکار ہیں ان کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائےنمک چھڑکتے ہوئے بھاگوت نے یہالزام لگا دیا کہ عالمی سطح پر کچھ شرپسند اور تخریبی طاقتیں ‘رجیم چینج’ (اقتدار کی تبدیلی)کے نام پر ہندوستان کو کمزور کرنے اور اسے تقسیم کرنے کے منصوبے بنا رہی ہیں۔آر ایس ایس سربراہ کا یہ بیان اسی طرح مضحکہ خیز ہے جیسے وزیر داخلہ نے کہہ دیا کہ راہل گاندھی ایس آئی آر کی مخالفت کرکے دراندازوں کی حمایت کررہے ہیں ۔ وہ بھول گئے کہ ایس آئی آر کی آڑ میں ساڑھے تیرہ کروڈ نام کاٹے گئے۔ اتنے سارے درانداز کسی ملک میں گھس آئیں اور وہاں کا وزیر داخلہ و وزیر دفاع ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں یہ شرمناک ہے ۔ ملک کا وزیر اعظم اگر ایسے نااہل وزراء پر کارروائی نہ کرے تو وہ بھی اس جرم میں برابر کا شریک ہے۔ اسی طرح سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کا یہ بیان بھی غیر ذمہ دارانہ ہے ۔
موہن بھاگوت کی مانیں تو ملک کے مختلف شہروں میں بشمول دارالخلافہ دہلی کچھ شرپسند اور تخریبی طاقتیں ‘رجیم چینج’ (اقتدار کی تبدیلی)کے نام پر ہندوستان کو کمزور کرنے اور اسے تقسیم کرنے کے منصوبوں پر کھلم کھلا عمل کررہی ہوں اور مرکزی حکومت اس پر لگام نہ لگا سکے تو اسے اقتدار میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ایسے شر پسند عناصر سے ڈر کر ان کی خوشنودی کے لیے اس وزیر تعلیم سے استعفیٰ لے لینا کہ جو انہیں دہشت گردوں کی بی ٹیم کہتا ہے کمال درجہ کی بزدلی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آر ایس ایس نے اپنے بغل بچہ بی جے پی کو ایسا کرنے ہی کیوں دیا ؟ کیا اقتدار کو بچانے کے لیے کسی کی شر پسند تخریب کاری کو برداشت کیا جاسکتا ہے؟ اور اگر ایسا کچھ نہیں ہے تو نوجوانوں کے جائز احتجاج کو ہندوستان کو کمزور کرنے یا تقسیم کرنے کی کوشش قرار دینا نہایت سنگین جرم ہے۔الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کے خلاف مظاہروں میں حزب اختلاف کی تمام جماعتیں شامل ہیں اور ان کی قیادت اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کررہے ہیں۔ ایسے میں حالیہ ملکی احتجاجی تحریکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ کہہ دینا کہ اقتدار کی ہوس میں کچھ قائدین بیرونی طاقتوں کا آلہ کار بن رہے ہیں ، نہایت غیر ذمہ دارانہ بہتان ہے۔
ڈاکٹر بھاگوت نے فرانس، البانیہ، نیپال اور بنگلہ دیش جیسے ممالک کی حالیہ بدامنی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مغرب سے ایک ایسا نظریاتی طوفان اٹھا ہے جو قائم شدہ سماجی و ثقافتی اقدار کو تباہ کرنا چاہتا ہے اور اب ہندوستان ان کا اگلا ہدف ہے۔ اس طرح کے بیانیہ سے متاثر ہو کر چنکی چودھری جیسے ہندو سُرکشا سینا کے لوگ اپنے ہی نوجوانوں کو سڑکوں پر گھسیٹ کر زدو کوب کرتے ہیں۔ خواتین مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔ بیرونی طاقتوں کے آلہ کار احتجاج کو تاکید کرنا کہ مطالبا ت جو بھی ہو ں احتجاج اور اقدامات ہمیشہ قانون، آئین اور سماجی حدود قیود کے دائرے میں ہونے چاہئیں بے معنیٰ توقع ہے۔ ان متضاد باتوں کی بیک وقت سن کر یہ محسوس ہوتا ہے سرسنگھ چالک موہن بھاگوت بری طرح کنفیوز ہوچکے ہیں اور وہ خود نہیں جانتے کہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اس پر یہ زعم مضحکہ خیز ہے کہ کہ نئی نسل کو اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی تربیت دیں گے تاکہ وہ ملک کو ‘وشو گرو’ (عالمی رہنما) بنانے کی ذمہ داری سنبھال سکیں۔ غیر ملکیوں کا آلۂ کار کہنے کے بعد ان کی مدد سے وشو گرو بننے کا خواب تو کوئی مونگیری لال ہی دیکھ سکتا ہے۔
آر ایس ایس سے قطع نظر ملک کے بیشتر حصوں میں وجے دشمی اور دسہرہ جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ مندروں کے آس پاس میلوں ٹھیلوں کی بھی دھوم رہی ۔ دہلی میں صدر دروپدی مرمو، نائب صدر سی پی رادھا کرشنن اور وزیر اعظم نریندر مودی نے مختلف تقریبات میں شرکت کی۔اس دوران بی جے پی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کولکاتا میں درگا پوجا کے دوران چورباگان پنڈال کے قریب بھگدڑ مچ گئی۔ اس میں 19 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے۔ اس معاملے میں ۷؍ افراد گرفتار کیے گئے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی کا اقتدار میں آنا صوبے کے لوگوں کی خاطر منحوس ثابت ہوا۔ دہلی کےپٹیل نگر میں راون کا پتلا اچانک جھکنے لگا اور گرنے کے خدشہ پیدا ہوگیا اس لیے اسے پر قبل از وقت جلانا پڑا۔ اس کے بعد منتظمین نے نیا پتلا لگا کر پروگرام جاری رکھا اور ممکنہ بڑا حادثہ ٹل گیا۔اس میں یہ سبق ہے کہ اگر احتجاج کے سبب مودی سرکار جھکنے لگے تو اسے وقت سے پہلے ہٹا دیا جانا چاہیے اور اس کی جگہ نئی سرکار بنا کر کام کو آگے بڑھانا چاہیے۔ ویسے اگر سرکار نہ سہی تو سربراہ کا ہٹنا تو لازمی ہے۔
ملک بھر میں حسبِ روایت رام لیلاؤں کے اختتام پر شہروں اور قصبوں میں راون، کمبھ کرن اور میگھناد کے پتلے نذرِ آتش کیے گئے۔ اس بار میڈیا میں رام سے زیادہ چرچا راون کا تھا ۔ دسہرہ کے موقع پر راون کے روپ میں نذرِ آتش کرنے کے لیے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا پتلا میڈیا میں خوب بحث کا موضوع بنا رہا ۔یہ سیاسی تنازع انڈین یوتھ کانگریس اور نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا کے کارکنوں نے نئی دہلی اور دیگر شہروں میں کھڑا کیا ۔ کانگریس کی یوتھ ونگ نے اس دوران ایک نکڑ ناٹک کی شکل میں رام لیلا کے بجائے ‘ووٹ چوری کی راس لیلا’ بھی پیش کی۔ شمال مغربی دہلی کے ماڈل ٹاؤن کے قریب کرانتی کاری یوا سنگٹھن کے طلباء نے بھی گیانیش کمار کی تصویر والا 20 فٹ اونچا پتلا نصب کر کے احتجاج کیا۔ اس سے ناراض ہو کر امیت شاہ کی پولیس نے کئی طلباء کو حراست میں لے لیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس کے اس اقدام کی سخت مذمت کی اور اسے ‘سناتن مخالف’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کانگریس مذہبی تہواروں کا سیاسی استعمال کر رہی ہے۔ ایک طرف تو دوسروں پر مذہبی تہواروں کے غلط استعمال کا الزام اور دوسری جانب دہلی ہی کے علاقے زعفرانیوں نے پیتام پورا میں اس سال دسہرے کے موقع پر راون، میگھناد اور کمبھ کرن کے روایتی پتلوں کے ساتھ 30 فٹ اونچا کاکروچ کا پتلا بھی نذرِ آتش کیا اور اس کا مقصد عوام کو صفائی ستھرائی اور گندگی کے خاتمے کا انوکھا پیغام دینا بتایا لیکن سوال یہ ہے کہ ان کو پہلی بار یہ خیال کیوں آیا؟ سچ تو یہ ہے کہ فی الحال کاکروچ بی جے پی سمیت پورے سنگھ پریوار کے اعصاب پر راون کی مانند سوال ہوچکا ہے اور وہ بابر کی اولاد والا نعرہ پوری طرح بھول چکے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے