عقائد صحیحہ پر اعمال کی قبولیت کا مدار

عقائد صحیحہ پر اعمال کی قبولیت کا مدار

ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو عقل سلیم عطا فرمایا ہے اور یہ اس کی نعمتوں میں سے عظیم ترین نعمت ہے ،عقل فہم وادراک کا نام ہے ، انسان اسی سے صحیح و غلط اور درست و غیر درست کی تمیز کرتا ہے اور اپنی عقل کے مطابق کام انجام دیتا ہے،مگر عقل ہر جگہ اور ہر موقع پر صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں کر سکتی ہے اور اگر کرنے کی حماقت کرتی ہے تو پھر ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گرجاتی ہے ،تاریخ انسانی گواہ ہے کہ ہر معاملہ میں عقل کا فیصلہ تسلیم کرنے کی وجہ سے اچھے اچھے عقلمند اور دانشور اس کی زد میں آکر نقصان سے دوچار ہو چکے ہیں ،عقل کے مقابلہ میں ایک اور چیز ہے جس کی رہنمائی میں انسان کبھی بھی ٹھوکر نہیں کھا سکتا ہے اور نہ ہی غلط راہ پر جا سکتا ہے اور وہ ہے ’’نقل‘‘ نقل کہتے ہیں وحی الٰہی کو ،اس کی روشنی میں انسان اسی طرح راہ ہدایت پاتا ہے جس طرح سورج کی روشنی میں انسان راستہ پالیتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان کو نقل کا پابند بنایا گیا ہے نہ کہ عقل کا اور دین اسلام اور اس کے سارے احکامات نقل (وحی) کے ذریعہ اتارے گئے ہیں اس لئے اس میں خطاء کا تصور وگمان بھی نہیں کیا جا سکتا،وحی الٰہی حکمِ ربانی کو کہا جاتا ہے اور رب سے خطا ونقصان ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہوتا ہے، اس سے خطاء وغلطی کا تصور ممکن ہی نہیں ہے اور اس طرح کی سوچ رکھنا بھی انسان کے لئے جائز نہیں ہے ۔
دو بنیادی طور پر اسلام کے دو اجزاء ہیں ،ایک عقائد اور دوسرے اعمال ، ایک مسلمان ومومن کے لئے ان دونوں کا ہونا ضروری ہے،مگر ان دونوں میں بھی بنیادی جزو عقیدہ ہے کیونکہ اسلامی عقیدہ کو عمارت کی بنیاد سے تشبیہ دی گئی ہے ،اگر یہ نہ ہو تو پھر خوبصورت عمارت کی حیثیت غذی پھول کی سی ہو کر رہ جاتی ہے ، بعض حضرات نے عقیدہ کو درخت کی جڑ اور عمل کو اس کی شاخوں سے تشبیہ دی ہے ،شاخیں کمزور ومضبوط ہو سکتی ہیں مگر درخت کی سلامتی کے لئے جڑ کا مضبوط وطاقتور ہونا ضروری ،یہی وجہ ہے کہ اسلام میں صحیح عقائد کی بڑی اہمیت ہے ، عقیدہ ’’ ـ عقد‘‘ سے ہے جس کے معنی گرہ باندھنے کے ہیں ، عقیدہ کی تعریف کچھ اس طرح سے کی گئی ہے کہ’’ کسی شے کی ایسی تصدیق کرنا ہے کہ جس میں کوئی شک وشبہ نہ ہو‘‘،’’شریعت کی نظر میں‘‘ عقیدہ دین سے متعلق اس خبر یا بات کو کہتے ہیں جو دل میں خوب جم جائے کہ اس کے خلاف سوچنے یا عمل کرنے کی ہمت نہ ہو،اس کے خلاف سننے یا دیکھنے سے دل پر چوٹ سی لگے( فتاوی دارالعلوم دیوبند)،عقیدہ آدمی کے کردار اور اعمال کی تعمیر میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے،کیونکہ آدمی کے تمام اخلاق واعمال کی بنیاد اس کے اِرادے پر موقوف ہے اور ارادہ کا محرک دل ہے اور ظاہر ہے کہ دل انہی چیزوں کا ارادہ کرتا ہے جو دل میں راسخ اور جمی ہوئی ہوں ،اس لئے آدمی کے اعمال کی درستگی کے لئے اس کے دل میں صحیح عقیدہ کا ہونا ضروری ہے اور صحیح عقیدہ صحیح عمل کی رہنمائی کرتا ہے اور صحیح عمل آدمی کو صحیح راستہ پر چلاتے ہوئے منزل مقصود پر پہنچاتا ہے ۔
اللہ اور اس کے رسول اللہ ؐ سے دین کی جو بات قطعی طور پر ثابت ہو اسے دل وجان سے تسلیم کرنا ایمان ہے اور انہیں دل میں مضبوط جمالینا عقیدہ ہے اور ان باتوں کو عملی جامہ پہنانا اعمال ہے ،اللہ اور اس کے رسول ؐ کے بیان کردہ کسی بات پر دل کے کسی گوشہ میں خلاف یقین کچھ بات رہ جائے تو اسکا عقیدہ ناتمام اور نامکمل ہے ،جس کا عقیدہ نامکمل ہے اور اس میں بال برابر بھی کمی باقی ہے تو پھر اس کا کوئی عمل قبولیت کے مقام تک پہنچ نہیں سکتا،عقیدہ کی خرابی اور اس میں کمی کی وجہ سے اس کے بڑے سے بڑے اعمال اکارت کر دئیے جائیں گے اور اس کا عمل ضائع کر دیا جائے گا ،قرآن مجید میں عقیدہ کی اہمیت کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور عقیدہ وایمان کی خرابی کی وجہ سے اعمال کے ضائع کر دئیے جانے کا ذکر ان لفاظ کے ذریعہ کیا گیا ہے : وَمَن یَکْفُرْ بِالإِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہُ وَہُوَ فِیْ الآخِرَۃِ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ(المائدہ:۵)’’اور جو شخص ایمان سے انکار کرے گا(غلط یا باطل عقیدہ رکھے گا) تو اس کا عمل ضائع ہو جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوگا، اس آیت مبارکہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان کا انکار جو درحقیقت عقیدہ یعنی دل کے رسوخ کے ساتھ جڑا ہوا ہے اگر وہ نہ ہوگا تو پھر بڑے سے بڑے عمل کرنے والوں کے اعمال بھی قبول نہیں کئے جائیں گے اور بد عقیدگی کی وجہ سے اسے آخرت میں اجر عظیم سے محروم کر دیا جائے گا۔
یہود جو سیدنا موسیٰ ؑ کو نبی مانتے ہیں اور ان کی شریعت پر عمل بھی کرتے ہیں ،توحید کے قائل ہیں ،موسیٰ ؑ سے قبل مبعوث کئے گئے تمام نبیوں کو مانتے ہیں ،توریت پر ایمان رکھتے ہیں ،نیز فرشتوں اور قیامت پر یقین رکھتے ہیں ،اپنی عبادت گاہوں کی تعمیر کرتے ہیں اور بہت کچھ درست اعمال انجام دیتے ہیں ،اسی طرح عیسائی جو سیدنا عیسیٰ ؑ کو پیغمبر مانتے ہیں ،انبیاء ؑ کے وجود کے قائل ہیں ،قیامت وآخرت پر ایمان رکھتے ہیں ،اپنے گرجا گھروں میں عبادت بھی کرتے ہیں ،غریبوں اور مسکینوں کی مدد بھی کرتے ہیں اور بہت کچھ اچھے کام انجام دیتے ہیں ،اسی طرح مشرکین مکہ رسول اللہؐ کی بعثت سے قبل بیت اللہ کا طوف کرتے تھے،حج وعمرہ ادا کرتے تھے ،بچوں کی ختنہ کرتے تھے،عقیقہ کرتے تھے اور صدقہ وخیرات بھی دیا کرتے تھے ، حاجیوں کی خدمت بھی کرتے تھے اور دیگر اچھے کاموں میں حصہ بھی لیتے تھے ،نیز دنیا میں جتنے مذاہب پائے جاتے ہیں ان کے ماننے والے بھی اچھے کام کرتے ہیں اور کار خیر میں حصہ لیتے ہیں مگر ان سب کے باوجود اسلام کی نگاہ میں یہ ناکام کیوں ہیں؟ اس لئے کے وہ ان چیزوں پر ایمان نہیں رکھتے جس کا اسلام انہیں حکم دے رہا ہے اور وہ عقائد نہیں رکھتے ہیں جن کا رکھنا اسلام پر باقی رہنے کے لئے ضروری ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کے اعمال اکارت ہیں اور ایمان کے تقاضوں کے مطابق نہ ہونے اور ان کا عقیدہ شرعی عقیدہ نہ ہونے کی وجہ سے آخرت میں اجر وثواب سے محروم کر دئیے جائیں گے اور انہیں ناکام قرار دے کر جنت اور اس کی نعمتوں سے محروم کر دیا جائے گا ۔
یہ اہل علم فرماتے ہیں کہ عملِ بد کی معافی ممکن ہے ،اللہ تعالیٰ اگر چاہیں گے تو اس کے بداعمالیوں پر سزا دیں گے یا اسے معاف کردیں گے ،اگر سزا مل بھی جائے گی تو تکمیل سزا کے بعد اس کی معافی ہو جائے گی اور وہ جنت کا حقدار قرار پائے گا لیکن برخلاف اس شخص کے جس کے عقائد ہی ناکارہ ہوں اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوں تو اس کے لئے معافی کا کوئی تصور نہیں بلکہ بد عقیدگی کی وجہ سے اسے دائمی سزا سنائی جائے گی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا،سیدنا عائزؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ ایک مرد کے جنازے کے ساتھ تشریف لے گئے ،جب جنازہ رکھا گیا تو سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے عرض کیا : یارسول اللہ ؐ ! اس پر نماز جنازہ نہ پڑھیں کیونکہ یہ فاسق ہے،رسول اللہ ؐ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: تم میں سے کسی نے اسے اسلامی عمل کرتے دیکھا ہے؟ ایک شخص نے کہا جی ہاں یارسول اللہ ؐ، اس نے ایک رات اللہ کی راہ میں پہرہ دیا تھا،تو رسول اللہ ؐ نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اس پر مٹی ڈالی اور ارشاد فرمایا: تمہارے ساتھی گمان کرتے ہیں کہ تم اہل نار میں سے ہو اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اہل جنت میں سے ہو،پھر (سیدنا عمر ؓ کی طرف متوجہ ہو کر )فرمایا : عمر ! تم سے لوگوں کے اعمال کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گابلکہ تم سے فطرت کے بارے میں پوچھا جائے گا(مشکوۃ :کتاب الجہاد ) ،اس حدیث شریف کی تشریح کرتے ہوئے حضرت ملا علی قاری ؒ اور شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ فان الاعتبار بالفطرۃ ولاعتماد بالاعتقاد : ’’ یعنی اعتقاد فطرت اور عقیدہ کا ہے‘‘، چونکہ مرنے والے کا عقیدہ درست تھا اس لئے باوجود اس کے کہ سیدنا عمر فاروقؓ اس کے فسق وفجور کی گواہی دے رہے ہیں مگر اس مرنے والے کو رسول اللہ ؐ سے بخشش ونجات کی بشارت مل رہی ہے ،معلوم یہ ہوا کہ فسق وفجور تو قابل معافی ہے لیکن عقیدہ کا فساد معافی کے قابل نہیں ہے ۔
آخرت میں پہلے عبادات کے متعلق سوال کیا جائے گا اور جس عبادت کے متعلق سب سے پہلے سوال ہوگا وہ عبادت نماز ہوگی لیکن احادیث میں یہ بھی ہے کہ آخرت کی پہلی منزل قبر میں سب سے پہلے عقائد پر مبنی سوالات کئے جائیں گے اور عقیدہ کے صحیح اور غلط ہی پر سزا وجزاء مرتب ہوگی یعنی اگر مرنے والے کا عقیدہ درست ہوگا تو اس کے لئے سہولتیں مہیا کی جائیں گی اور اگر عقیدہ خراب ہوگا تو اس کے ساتھ سختی برتی جائے گی ،چنانچہ سیدنا براء ابن عازب ؓ کی طویل روایت میں اس کا ذکر موجود ہے ،آپ ؐ نے فرمایا: وانہ لیسمع خفق نعالہم اذا ولوا مدبرین حین یقال لہ: یاہذا ،من ربک ومادینک ومن نبیک؟ ( ابودواؤد) ’’ جب دفن کرنے والے منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں تو وہ مردہ ان کے جوتوں کی دھمک سنتا ہے ،اس وقت اس سے کہا جاتا ہے کہ اے شخص تیرا رب کون ہے؟ اور تیرا مذہب کیا ہے؟ اور تیرے نبی کون ہیں؟‘‘اس حدیث سے بھی صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قبر جو آخرت کی منزل کا پہلا زینہ ہے یہاں پر عقیدوں ہی کے متعلق سوال کیا جائے گا ،جس سے عقیدوں کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ،پہلی منزل کی کامیابی وناکامی کا مدار ہی عقیدوں کی درستگی وغیر درستگی پر موقوف ہے ،حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ؐ نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا کہ مجھے ایسے درخت کے متعلق بتاؤ جس کی مثال مومن کی طرح ہو اور مومن کی مثال اس درخت کی طرح ہو،سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نے بہت سوچا اور میرے ذہن میں بھی آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں اکابر صحابہ کرام ؓ کی موجود میں خاموش رہا، پھر رسول اللہ ؐ خود بتایا کہ وہ درخت کھجور کا درخت ہے ( بخاری)،مومن کی مثال اس درخت کی سی ہے ،بہت ساری باتیں مومن میں اور اس درخت میں مشترک ہیں ،کھجور کا درخت اور اس کی جڑیں بہت مضبوط ہوتی ہیں ،یہ سیدھا اوپر کی طرف جاتا ہے،اس پر موسمی اثرات اثر انداز نہیں ہوتے ،سردی ہو یا گرمی یہ ہرا بھرا رہتا ہے،عموماً دیکھا گیا کہ عام درخت جو زمین سے اگتے ہیں ان کے ساتھ اور بھی درخت اس کی جڑوں کے ساتھ اگ جاتے ہیں ،کچھ درخت اگتے ہی زمین کے ارد گرد درختوں کو اپنے اندر دبا لیتے ہیں ،لیکن کھجور کا درخت سیدھا اوپر کی طرف اگتا ہے اور اپنے تنے پر کھڑا رہتا ہے۔بالکل مومن بھی اسی طرح مضبوط اور پختہ ایمان کا حامل ہوتا ہے ،مومن پر حوادث زمانہ ،موسمی تغیرات ،دنیا کے حالات، زمانہ کے مدوجزر ،غمی وخوشی ،تنگی اور آسانی اثر انداز نہیں ہوتے ،وہ ہر لمحہ اپنے رب کے احکامات پر عمل کرتا ہے اس کی نیت اور ارادہ صرف اپنے رب کی رضا وخوشنودی ہوتی ہے ،جس طرح کھجور کا درخت دوسروں کو مغلوب نہیں کرتا اسی طرح مومن بھی اپنے ارد گرد رہنے والے انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتا بلکہ فائدہ ہی پہنچاتا ہے،مومن کے عقیدہ کی مثال مضبوط اور تناور درخت کی سی ہے،مومن کے اعمال اس طرح پھیلے ہوئے ہوتے ہیں کہ سیدھا آسمان کی طرف جاتے ہیں ،مومن کے اعمال ثمر والے ہوتے ہیں ،پوری دنیا اس سے فائدہ اُٹھاتی ہے ۔
اسلام میں عقائد کی غیر معمولی اہمیت اور اسی پر اعمال کے قبولیت کے مدار ہے اس کے باوجود مسلمانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ صحیح عقائد سے لاعلم ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ انہیں صحیح عقائد معلوم کرنے کی بھی فکر نہیں ہے بلکہ اس جانب توجہ بھی نہیں ہے،عام طور سے لوگ ایک دوسرے کو اعمال کی طرف بلانے کی فکر کرتے ہیں مگر ان کے عقائد درست کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتے ہیں ،یہ بات توجہ طلب ہے کہ باطل افکار ونظریات کے حامل لوگ باطل عقائد کی ترویج واشاعت میں بڑے انہماک کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور اپنی چرب زبانی کے ذریعہ سیدھے سادھے اور بھولے بھالے مسلمانوں کو باطل عقائد کےجال میں پھنساکر ان کے اعمال کو برباد اور ان کی آخرت کو تباہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں ،مسلمان ، خاص کر دین سے وابستہ اور علمی واصلاحی میدان سے جڑے ہوئے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عام مسلمانوں کو فرقہ ٔ باطلہ کے باطل عقائد اور ان کے گمراہ افکار ونظریات سے واقف کرائیں اور ان تک صحیح عقائد پہنچانے اور ان سے انہیں واقف کرانے کی فکر کریں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے