کمانے والی بہو، خاندانی توقعات اور اسلامی تصورِ ازدواج

کمانے والی بہو، خاندانی توقعات اور اسلامی تصورِ ازدواج

کمانے والی بہو، خاندانی توقعات اور اسلامی تصورِ ازدواج
(بدلتے معاشرتی حالات میں بہو، بیٹے اور سسرالی خاندان کی ذمہ داریاں)
~~~~~~~

ازقلم:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
(فیملی کاؤنسلر)
9224599910
~~~~~~~

آج بہت سی خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد ملازمت، تدریس، طب، کاروبار اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ ان کی آمدنی خاندان کی معاشی ضروریات پوری کرنے، بچوں کی بہتر تعلیم اور مستقبل کی منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ لیکن بعض خاندانوں میں ملازمت پیشہ بہو کی آمد کے ساتھ نئی توقعات، غلط فہمیاں اور تنازعات بھی جنم لیتے ہیں۔
کبھی سسرالی خاندان یہ توقع کرتا ہے کہ بہو ملازمت کے ساتھ گھر کے تمام کام بھی پہلے کی طرح انجام دے۔ کبھی شوہر بیوی کی آمدنی کو اپنی مالی ذمہ داری سے سبک دوشی کا ذریعہ سمجھنے لگتا ہے۔ بعض اوقات بہو بھی گھر کے بزرگوں اور خاندانی ضروریات کو نظر انداز کرکے صرف اپنی سہولت کو ترجیح دیتی ہے۔
اس لیے مسئلے کو صرف بہو یا سسرال کی غلطی قرار دینے کے بجائے تمام متعلقہ افراد کے کردار اور توقعات کا متوازن جائزہ لینا ضروری ہے۔

1۔ شوہر کی ذمہ داری: مالی کفالت اور رفاقت
اسلامی تعلیمات کے مطابق بیوی کی بنیادی مالی کفالت شوہر کی ذمہ داری ہے۔ بیوی ملازمت کرتی ہو تب بھی اس کی آمدنی خود بخود شوہر کی ملکیت نہیں بن جاتی۔ اگر بیوی اپنی خوشی سے گھر کے اخراجات میں تعاون کرے تو یہ باہمی تعاون ہے، کوئی لازمی شرط نہیں۔
شوہر کو چاہیے کہ:
* بیوی کی تعلیم، پیشہ ورانہ صلاحیت اور محنت کا احترام کرے۔
* گھر کے اخراجات اور مالی منصوبہ بندی میں اپنی ذمہ داری قبول کرے۔
* بیوی کی آمدنی کو اپنی ذمہ داریوں سے فرار کا راستہ نہ بنائے۔
* گھریلو کاموں اور بچوں کی پرورش میں مناسب تعاون کرے۔
* ملازمت کے اوقات، تھکن اور پیشہ ورانہ ضروریات کو سمجھے۔
بیوی کی کامیابی شوہر کی ناکامی نہیں۔ کامیاب ازدواجی زندگی میں دونوں کی صلاحیتیں خاندان کی بہتری کا ذریعہ بنتی ہیں۔
*2۔ ملازمت پیشہ بہو کی ذمہ داری:* حقوق کے ساتھ حسنِ معاشرت
بہو کو اپنی تعلیم، ملازمت اور ذاتی وقار کا حق حاصل ہے، لیکن خاندانی زندگی میں حسنِ اخلاق، احترام اور باہمی تعاون بھی اہم ہیں۔
اسے چاہیے کہ:
* شوہر کے ساتھ مالی معاملات اور مستقبل کے منصوبوں پر صاف گفتگو کرے۔
* اپنی سہولت اور مصروفیات کے ساتھ گھر کی حقیقی ضروریات کو بھی سمجھے۔
* ساس سسر سے احترام کے ساتھ پیش آئے، خواہ اختلاف ہی کیوں نہ ہو۔
* ملازمت کے دباؤ کو غصے، تحقیر یا مسلسل بے اعتنائی کا جواز نہ بنائے۔
* اپنی آمدنی کے استعمال اور ذاتی مالی منصوبہ بندی میں شفافیت اور باہمی اعتماد کو اہمیت دے۔
یہ بھی واضح رہے کہ حسنِ معاشرت کا مطلب یہ نہیں کہ بہو سے اس کی استطاعت سے زیادہ کام لیا جائے یا اسے ہر وقت اپنی ملازمت اور ذاتی زندگی قربان کرنے پر مجبور کیا جائے۔ تعاون خوش دلی اور منصفانہ تقسیمِ ذمہ داریوں سے پیدا ہوتا ہے، جبر سے نہیں۔
*3۔ ساس سسر کی ذمہ داری: قبولیت، احترام اور مناسب حدود*
کسی تعلیم یافتہ اور ملازمت پیشہ بہو کو قبول کرنے کا مطلب صرف اس کی تنخواہ یا معاشی تعاون کو قبول کرنا نہیں، بلکہ اس کی شخصیت، مصروفیات اور جائز ضروریات کا احترام بھی ہے۔

سسرالی خاندان کو چاہیے کہ:
* بہو کی ملازمت کو محض گھریلو ذمہ داریوں سے فرار نہ سمجھے۔
* گھر کے تمام کاموں کی ذمہ داری خودکار طور پر بہو پر نہ ڈالے۔
* اس کے آرام، صحت، نجی زندگی اور پیشہ ورانہ ترقی کا خیال رکھے۔
* بیٹے اور بہو کے ذاتی معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے بچے۔
* گھر کے کاموں اور بزرگوں کی دیکھ بھال کے لیے سب کی استطاعت کے مطابق انتظام کرے۔
اسی طرح بہو اور بیٹے کو بھی والدین کی ضروریات، عمر اور جذبات کا لحاظ رکھنا چاہیے۔ الگ رہائش ہو یا مشترکہ خاندان، مقصد یہ ہونا چاہیے کہ والدین کے احترام اور میاں بیوی کی نجی زندگی میں مناسب توازن برقرار رہے۔
4۔ مشترکہ خاندان میں گھریلو کاموں کی منصفانہ تقسیم

ملازمت کے بعد گھر کے تمام کام صرف عورت کی ذمہ داری سمجھنا عملی طور پر غیر منصفانہ اور بعض اوقات ازدواجی تنازعے کا سبب بنتا ہے۔ گھر کی ضروریات، ملازمت کے اوقات، بچوں کی عمر اور ہر فرد کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے ذمہ داریاں طے کی جانی چاہییں۔
مثلاً:
* شوہر اور بیوی کھانا، خریداری اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں باہم تقسیم کرسکتے ہیں۔
* گھر کے دوسرے بالغ افراد اپنی استطاعت کے مطابق تعاون کرسکتے ہیں۔
* اگر مالی گنجائش ہو تو گھریلو معاونت کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔
* ساس سسر کی خدمت کو صرف بہو کی ذمہ داری قرار دینے کے بجائے اولاد کی مشترکہ اخلاقی ذمہ داری سمجھا جائے۔
اس تقسیم کا مقصد روایتی کرداروں کی توہین نہیں، بلکہ خاندان کی ضروریات اور افراد کی حقیقی مصروفیات میں توازن پیدا کرنا ہے۔

5۔ چند عام غلط فہمیاں*Miscunsenship

غلط فہمی: بہو کماتی ہے، اس لیے اسے گھر کے اخراجات کی لازماً نصف رقم دینی چاہیے۔

درست رہنمائی: مالی تعاون باہمی رضامندی، استطاعت اور طے شدہ ترجیحات کے مطابق ہونا چاہیے۔ بیوی کی آمدنی پر خودکار حق فرض نہیں کیا جاسکتا۔

غلط فہمی: بہو ملازمت کرتی ہے، اس لیے گھر کے کاموں میں اس کی ذمہ داری نہیں۔
درست رہنمائی: گھر مشترکہ زندگی کا نظام ہے۔ اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مناسب تعاون ضروری ہے، مگر ساری ذمہ داری کسی ایک فرد پر ڈالنا بھی درست نہیں۔
غلط فہمی: بہو کی زیادہ تعلیم یا آمدنی سے خاندان میں اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، اس لیے اسے دوسروں کی بات ماننے کی ضرورت نہیں۔
درست رہنمائی: تعلیم اور آمدنی کسی کو تحقیر یا خود پسندی کا حق نہیں دیتیں۔ اسی طرح کم آمدنی یا کم تعلیم کسی کی عزت گھٹانے کا جواز نہیں۔
غلط فہمی: شادی کے بعد بہو کو اپنی ملازمت اور تمام پیشہ ورانہ خواہشات چھوڑ دینی چاہییں۔
درست رہنمائی: ملازمت، رہائش، بچوں اور مستقبل کے بارے میں فیصلے شادی سے پہلے اور بعد میں باہمی گفتگو، رضامندی، دینی رہنمائی اور متعلقہ قانونی حقوق کو سامنے رکھ کر کیے جائیں۔

*6۔ اسلامی تصورِ ازدواج اور باہمی مشاورت*
قرآن مجید شوہروں کو بیویوں کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی گزارنے کی ہدایت دیتا ہے (النساء: 19)۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ ازدواجی تعلق میں احترام، انصاف، نرمی اور ذمہ داری کو اہمیت دی جائے۔
اسلامی خاندانی نظام میں شوہر کی مالی ذمہ داری، بیوی کے مالی حقوق، والدین کا احترام اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ ان ذمہ داریوں کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے کے بجائے حکمت کے ساتھ نبھانا چاہیے۔

کسی بھی فریق کو اپنے حق کے نام پر دوسرے کی تذلیل، مالی استحصال، غیر ضروری پابندیوں یا مسلسل ذہنی اذیت کا جواز نہیں ملتا۔

7۔ ARM ماڈل کے تحت عملی رہنمائی

عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری ماڈل آف اسلامک فیملی کاؤنسلنگ (ARM Model) کے چار اصول اس نوعیت کے تنازعات میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں:
* حکمتWisdom: فوری الزام تراشی کے بجائے مسئلے کی اصل وجہ معلوم کی جائے۔
* بصیرتInsight: ہر فرد کی مصروفیات، مالی حالات، جذباتی ضروریات اور خاندانی پس منظر کو سمجھا جائے۔
* موافقت: Compatibility ملازمت، گھر کے کاموں، مالی تعاون، بچوں اور والدین کی دیکھ بھال کے بارے میں قابلِ عمل انتظام طے کیا جائے۔
* مشاورت counseling: شوہر، بیوی اور ضرورت کے مطابق متعلقہ بزرگ باہمی احترام کے ساتھ گفتگو کریں؛ مسئلہ پیچیدہ ہو تو غیر جانب دار فیملی کاؤنسلر سے مدد لی جائے۔
*عملی مشق: خاندانی ذمہ داریوں کا معاہدہ*
شوہر، بیوی اور ضرورت کے مطابق خاندان کے دیگر متعلقہ افراد بیٹھ کر ان پانچ موضوعات پر واضح اتفاق کریں:
* گھر کے اخراجات اور مالی تعاون۔
* کھانے، صفائی اور دیگر گھریلو کاموں کی تقسیم۔
* بچوں کی نگہداشت اور تعلیم۔
* والدین کی دیکھ بھال اور خاندانی ملاقاتیں۔
* نجی زندگی، آرام، ملازمت اور اختلاف حل کرنے کے اصول۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے