سلیمان خطیب ٹرسٹ:
علم کی روشنی، دکنی ادب کی خوشبو اور خدمتِ خلق کا سفر
ازقلم:محمد امین نواز
ادب محض الفاظ کی دل آویزی، شاعری محض جذبات کی ترجمانی اور تعلیم محض حصولِ علم کا نام نہیں؛ بلکہ ان کی حقیقی معنویت اس وقت اجاگر ہوتی ہے جب یہ انسانی زندگی کی تعمیر، فکری بالیدگی، اخلاقی تربیت، تہذیبی اقدار کے تحفظ اور نئی نسل کی صحیح رہنمائی کا مؤثر ذریعہ بن جائیں۔ ادب انسان کو زندگی کے اسرار و رموز سے آشنا کرتا ہے، شاعری معاشرتی شعور کو بیدار کرکے انسانی احساسات کو زبان عطا کرتی ہے، جبکہ تعلیم فرد کی شخصیت کو سنوارنے کے ساتھ ایک باشعور، مہذب اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ جب یہ تینوں عناصر خدمتِ خلق، فروغِ علم اور تہذیبی ورثے کے تحفظ کے جذبے کے ساتھ یکجا ہوجائیں تو ان سے ایسے ادارے وجود میں آتے ہیں جو محض اپنے عہد کی ضروریات پوری نہیں کرتے، بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی علم و ادب کی روشن راہیں متعین کرتے ہیں۔ گلبرگہ کی زرخیز علمی، ادبی اور تہذیبی سرزمین پر قائم سلیمان خطیب یادگار تعلیمی، ثقافتی و امدادی ٹرسٹ اسی مثبت فکر، بلند مقصد اور عملی جدوجہد کی ایک قابلِ قدر مثال ہے۔ اس ادارے نے اپنے بانی، نامور دکنی شاعر سلیمان خطیب مرحوم کی یاد کو محض رسمی تقریبات، تعریفی کلمات اور یادگاری حوالوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک بامقصد سماجی و تعلیمی تحریک کی صورت عطا کی ہے، جس کا بنیادی مقصد تعلیم کی سرپرستی، اردو زبان و ادب کی ترویج، دکنی تہذیب و ثقافت کا تحفظ، ادبی ذوق کی آبیاری اور ضرورت مندوں کی معاونت کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی کی راہیں ہموار کرنا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ ٹرسٹ اردو میڈیم کے ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی، تعلیمی صلاحیتوں کے اعتراف اور ان کے روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے کوشاں ہے۔ اس کی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ نئی نسل کو اپنی مادری زبان، ادبی روایت اور تہذیبی شناخت سے وابستہ رکھنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ جدید تعلیم اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کے باوجود ہماری لسانی و ثقافتی جڑیں کمزور نہ ہونے پائیں۔ بالخصوص دکنی ادب کے فروغ کے حوالے سے اس ادارے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ دکنی زبان و شاعری محض اظہار و بیان کا ایک دل چسپ وسیلہ نہیں، بلکہ ہماری مشترکہ تہذیب، عوامی زندگی، معاشرتی رویّوں، انسانی رشتوں اور اجتماعی تجربات کا ایک قیمتی تاریخی و ادبی سرمایہ ہے۔ سلیمان خطیب مرحوم کی شاعری میں موجود برجستگی، طنز و مزاح، عوامی مشاہدہ اور اصلاحِ معاشرہ کا جذبہ آج بھی اپنی معنویت برقرار رکھتا ہے، ان کے کلام میں جہاں زندگی کی تلخ حقیقتوں کو مسکراہٹ اور قہقہوں کے پردے میں پیش کیا گیا ہے، وہیں سماج کی پوشیدہ برائیوں، انسانی کمزوریوں اور معاشرتی تضادات پر غور کرنے کی دعوت بھی ملتی ہے۔ ایسے میں اس ادبی ورثے کو محفوظ رکھنا، اس کی معنویت کو اجاگر کرنا اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنا محض ایک شاعر سے وابستہ ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ اردو اور دکنی ادب سے محبت کرنے والے ہر فرد کا تہذیبی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سلیمان خطیب یادگار ٹرسٹ کی خدمات کا جائزہ لیتے ہوئے اسے صرف ایک تعلیمی یا امدادی ادارے کے طور پر دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اسے علم، ادب، تہذیب اور سماجی خدمت کے درمیان ایک مضبوط رشتے کی تشکیل کی کوشش کے طور پر سمجھنا چاہیے، ایسی کوشش جو اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ کسی عظیم ادبی شخصیت کو حقیقی خراجِ عقیدت اس کے نام پر محض یادگاریں قائم کرنے سے نہیں، بلکہ اس کے فکر و فن کو زندہ رکھنے، اس کے پیغام کو عام کرنے اور اس کے مشن کو عملی زندگی میں آگے بڑھانے سے ادا ہوتا ہے۔
سلیمان خطیب مرحوم کے افرادِ خاندان نے 1989ء میں اس ٹرسٹ کی بنیاد رکھی۔ ان کے فرزندان اور دختران اس ادارے کے اراکین اور عہدیداران کی حیثیت سے اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ خواجہ تحسین خطیب صدر، ڈاکٹر شمیم ثریا معتمد، محترمہ تنویر ثریا شریکِ معتمد، جبکہ خواجہ تمکین خطیب اور ڈاکٹر تنویر فاطمہ اراکین میں شامل ہیں۔ خاندان کی جانب سے اپنے بزرگ کی علمی و ادبی میراث کو محفوظ رکھنے اور اسے عملی خدمت کے ذریعے زندہ رکھنے کا یہ اقدام اس حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے کہ کسی عظیم شخصیت کی حقیقی یادگار اس کے نام پر قائم عمارت یا تقریب نہیں، بلکہ وہ مثبت اثرات ہیں جو اس کے افکار و اعمال معاشرے میں چھوڑ جاتے ہیں۔
ٹرسٹ کے بنیادی مقاصد میں اردو ذریعہ تعلیم سے ایس ایس ایل سی کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کی حوصلہ افزائی سرفہرست ہے۔ اس مقصد کے تحت ریاستِ کرناٹک کے اردو میڈیم اسکولوں میں اول مقام حاصل کرنے والے طالب علم یا طالبہ کو پانچ گرام سونے کا تمغہ، نقد انعام اور توصیفی سند پیش کی جاتی ہے، جبکہ دوسرے اور تیسرے مقام پر آنے والے طلبہ کو نقد انعامات سے نوازا جاتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد محض امتحانی کامیابی کا اعتراف نہیں، بلکہ اردو میڈیم کے طلبہ میں خود اعتمادی پیدا کرنا، ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنا اور انہیں تعلیمی میدان میں مزید آگے بڑھنے کی ترغیب دینا ہے۔ٹرسٹ کے دیگر مقاصد میں علمی و ادبی توسیعی خطابات کا انعقاد، اردو کتابوں کی اشاعت، بالخصوص سلیمان خطیب کی شعری و نثری تخلیقات پر لکھے گئے مضامین، مقالات اور تحقیقی تحریروں کی اشاعت، ان کے فن پر تحقیق کرنے والے اسکالرس کی حوصلہ افزائی، تعلیمی و سماجی اداروں کا قیام اور غریب و مستحق طلبہ کی حصولِ تعلیم میں معاونت شامل ہیں۔ ان مقاصد کی وسعت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹرسٹ نے تعلیم، ادب اور سماجی بہبود کو ایک دوسرے سے مربوط کرکے ایک جامع فلاحی تصور کو عملی صورت دینے کی کوشش کی ہے۔
ٹرسٹ کی عملی سرگرمیوں کا آغاز 1990ء میں ہوا، جب انجمن ہائر سیکنڈری اسکول، ہبلی کے طالب علم سید احمد عمران کو ایس ایس ایل سی بورڈ امتحان میں اردو میڈیم سے شرکت کرتے ہوئے ریاستِ کرناٹک میں سب سے زیادہ 625 میں سے 505 نشانات حاصل کرنے پر پہلے سلیمان خطیب یادگار طلائی تمغے سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز مرحوم سجادہ نشین بارگاہِ بندہ نواز، سید شاہ محمد محمد الحسینی کے دستِ مبارک سے عطا کیا گیا۔ اسی کے ساتھ ایک ایسی روایت کا آغاز ہوا جس نے اردو میڈیم کے ہونہار طلبہ کی کامیابی کو سماجی سطح پر شناخت دینے اور ان کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا مستقل سلسلہ قائم کیا۔اس کے بعد ہر سال گلبرگہ میں گولڈ میڈل تقریب کا انعقاد عمل میں آتا رہا۔ کرناٹک کے مختلف اضلاع، بشمول ہبلی، دھارواڑ، بلگام، ہاسپیٹ، باگل کوٹ، گدگ، کاروار، ہاویری، گوکاک، گلبرگہ، بیدر، وجئے پور، شیموگہ اور شمالی کنڑ، کے طلبہ و طالبات اس اعزاز سے سرفراز ہوچکے ہیں۔ اس طرح یہ تقریب ایک شہر یا ایک خاندان کی سرگرمی سے آگے بڑھ کر ریاستی سطح پر اردو میڈیم کے تعلیمی وقار اور طلبہ کی کامیابیوں کی علامت بن گئی ہے۔تعلیمی میدان میں نمایاں کارکردگی کا اعتراف کسی طالب علم کے لیے محض انعام حاصل کرنے کا لمحہ نہیں ہوتا، یہ اس کے والدین، اساتذہ اور ادارے کی محنت کا اعتراف بھی ہوتا ہے۔ جب کسی طالبہ کو طلائی تمغہ دیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ اردو میڈیم اسکولوں کے ان اساتذہ کی خدمات بھی نمایاں ہوتی ہیں جو محدود وسائل کے باوجود طلبہ کی علمی و ذہنی تربیت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ سلیمان خطیب ٹرسٹ نے اپنے اس اعزاز کے ذریعے انفرادی کامیابی کو اجتماعی حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔تعلیم کے ساتھ ٹرسٹ کی دوسری اہم جہت ثقافتی سرگرمیاں ہیں۔ اس ادارے نے مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے نمائندہ فن کاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے تہذیبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور قومی یکجہتی کے فروغ میں اپنا حصہ ادا کیا۔ اس سلسلے کا ایک نمایاں قدم 2003ء میں منعقدہ ہمہ لسانی محفلِ شعر و سخن تھا، جس میں اردو، کنڑا، ہندی اور مراٹھی زبانوں کے شعراء نے شرکت کی۔ کاشی ناتھ امبلگی،رنگ راؤ مسافر، اکرم نقاش، منظور وقار، وحید انجم، خورشید وحید، سخی سرمست اور عظمت اللہ بھلاواں جیسے شعرا کی شرکت نے اس محفل کو مختلف لسانی روایتوں کے باہمی اشتراک کا مظہر بنایا۔24 دسمبر 2011ء کو ڈاکٹر ایس۔ ایم۔ پنڈت رنگ مندر، گلبرگہ میں منعقدہ مزاحیہ مشاعرہ ٹرسٹ کی ثقافتی سرگرمیوں کا ایک اور اہم سنگِ میل تھا۔ اس محفل میں غوث خواہ مخواہ، نریندر رائے نریندر، مصطفی علی بیگ، درگا دت پانڈے، سردار اثر، سراج شولاپوری، منور علی مختصر اور یامین خطیب نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ مزاحیہ شاعری اپنے اندر معاشرتی ناہمواریوں، انسانی کمزوریوں اور روزمرہ زندگی کے تضادات کو دل چسپ انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس نوعیت کی محفلوں کے ذریعے ٹرسٹ نے ادب کے اس رنگ کو بھی فروغ دیا جو تفریح کے ساتھ فکری تحریک کا سبب بنتا ہے۔22 دسمبر 2012ء کو منعقدہ بین الاقوامی مشاعرے نے اس ادبی سرگرمی کو مزید وسعت دی۔ امریکہ سے ن میکس بروس نادر اور فرحت شہزاد نے شرکت کی، جبکہ ہندوستان کی نمائندگی سنیل کمار تنگ، مصطفی علی بیگ، نریندر رائے نریندر، سردار اثر، سراج شولاپوری اور نورالدین نور نے کی۔ بیرونِ ملک مقیم شعرا اور ہندوستانی ادبی حلقوں کے نمائندوں کی شرکت نے اس تقریب کو بین الاقوامی رنگ عطا کیا اور گلبرگہ کی ادبی فضا میں ایک یادگار اضافہ کیا۔اسی برس 21 اور 22 دسمبر کو ٹرسٹ کی سلور جوبلی کے موقع پر ڈاکٹر ایس۔ ایم۔ پنڈت رنگ مندر میں دو روزہ پروگرام منعقد کیا گیا۔ پہلے دن اسکول کے طلبہ نے سلیمان خطیب کے کلام پر مبنی ڈرامے پیش کیے، جبکہ دوسرے دن بین الاقوامی مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ اس تقریب کی اہمیت اس پہلو سے بھی نمایاں ہے کہ اس میں ایک طرف سلیمان خطیب کے ادبی سرمایے کو ڈرامائی قالب میں نئی نسل کے سامنے پیش کیا گیا، تو دوسری طرف مشاعرے کے ذریعے شعری روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔24اگست 2013ء کو "تیرے بغیر زندگی …….سفر گیتوں اور غزلوں کا” کے عنوان سے ایک شامِ غزل سجائی گئی۔ معروف گلوکار جگجیت سنگھ کے شاگرد جسویندر سنگھ بنٹی امریکہ سے تشریف لائے اور ساز کے ساتھ مختلف شعرا کا کلام پیش کیا۔ غزل کی موسیقیت اور شاعری کے امتزاج سے آراستہ اس محفل نے سامعین کو ایک مختلف ادبی و موسیقائی تجربہ فراہم کیا۔ اس پروگرام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرسٹ کی سرگرمیاں محض روایتی مشاعروں تک محدود نہیں رہیں، بلکہ اس نے شعر و سخن کو موسیقی اور فنونِ لطیفہ کے دیگر مظاہر سے بھی مربوط کیا۔28 دسمبر 2014ء کو ڈاکٹر ایس۔ ایم۔ پنڈت رنگ مندر میں قومی سطح کا مشاعرہ منعقد کیا گیا، جس میں وسیم بریلوی، پاپولر میرٹھی، راحت اندوری، مہتاب عالم، محب کوثر اور اکرم نقاش نے شرکت کی۔ ان معروف شعرا کی شرکت نے اس محفل کو غیر معمولی ادبی اہمیت عطا کی۔ اس کے بعد 26 دسمبر 2015ء کو آل انڈیا مزاحیہ مشاعرہ منعقد کیا گیا، جس میں شاداب بے دھڑک مدراسی، تمیز پرواز، چاچا پالموری، سردار اثر، وحید پاشاہ قادری، کملاکر دلیر، سراج شولاپوری، وحید انجم اور نورالدین نور نے اپنے کلام کے ذریعے سامعین کو محظوظ کیا۔18 دسمبر 2016ء کو گولڈ میڈل تقریب کے بعد ڈاکٹر ایس۔ ایم۔ پنڈت رنگ مندر میں نشاط تھیٹر، پونے کی جانب سے ”سلیمان خطیب: دکنی ادب کا انمول رتن“ کے عنوان سے ڈراما پیش کیا گیا۔ اس ڈرامے کے ہدایت کار اور اسکرپٹ رائٹر ج.ایم حمید پٹیل تھے۔ سلیمان خطیب کی زندگی اور ادبی مقام کو ڈرامائی صورت میں پیش کرنے کا یہ اقدام اس اعتبار سے اہم تھا کہ اس نے ادبی شخصیت کو کتابوں کے صفحات سے نکال کر اسٹیج پر زندہ کردار کی صورت میں پیش کیا۔22 دسمبر 2019ء کی شام کے۔ بی۔ این۔ آڈیٹوریم، گلبرگہ میں منعقدہ آل انڈیا مشاعرے میں منظر بھوپالی، وسیم بریلوی، طاہر فراز، خوشبیر سنگھ شاد، شبینہ ادیب، آلوک شریواستو، سردار اثر اور قاضی انور جیسے نامور شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔ یہ مشاعرہ ٹرسٹ کی ان سرگرمیوں میں شامل ہے جنہوں نے گلبرگہ کو ملک کے معروف شعرا اور ادب دوست سامعین کے درمیان ایک اہم رابطہ گاہ بنانے میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔
عالمی وبا کووڈ-19 کے باعث ثقافتی سرگرمیوں کا سلسلہ متاثر ہوا اور ٹرسٹ بھی اس تعطل سے محفوظ نہ رہ سکا۔ تاہم، اس کے بعد سلیمان خطیب کے کلام پر مبنی میوزیکل ڈراما”کیوڑے کا بن”کی پیش کش نے اس ادبی و ثقافتی سفر کو نئی توانائی عطا کی۔ دستیاب تفصیل کے مطابق یہ ڈراما ڈاکٹر ایس۔ ایم۔ پنڈت رنگ مندر، گلبرگہ میں 13/دسمبر2025کی شام میں پیش کیا گیا اور اسے سامعین کی بھرپور پذیرائی حاصل ہوئی۔ حیدرآباد اور بنگلورو میں بھی اس ڈرامے کو مقبولیت ملی۔ اس پیش کش نے سلیمان خطیب کی تخلیقی کائنات، دکنی زبان کی شیرینی اور اس کے اندر پوشیدہ تہذیبی و سماجی پیغام کو وسیع تر حلقوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ـ”کیوڑے کا بن”کی اہمیت محض ایک اسٹیج ڈرامے تک محدود نہیں۔ سلیمان خطیب کی شاعری اور دکنی اظہار کی روایت میں مقامی زبان، عوامی زندگی، تہذیبی حافظے اور معاشرتی شعور کو خاص مقام حاصل ہے۔ جب ان کے کلام کو موسیقی، اداکاری اور ڈرامائی پیش کش کے ذریعے سامعین کے سامنے لایا جاتا ہے تو ادب کا یہ سرمایہ نئی نسل کے لیے زیادہ قابلِ فہم اور دل چسپ بن جاتا ہے۔ اس طرح ٹرسٹ نے ادبی ورثے کی حفاظت کے ساتھ اس کی زندہ ترسیل کا فریضہ بھی انجام دیا ہے۔اشاعتی میدان میں بھی ٹرسٹ کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ "کیوڑے کا بن” کے سات اردو ایڈیشن شائع کیے جاچکے ہیں، جبکہ اس کے کنڑا اور ہندی ایڈیشن بھی منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ کسی ادبی تخلیق کا متعدد زبانوں میں شائع ہونا اس کے پیغام کو مختلف لسانی حلقوں تک پہنچانے کا مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔ اس اقدام نے سلیمان خطیب کے کلام کو اردو خواں طبقے تک محدود رکھنے کے بجائے دوسری زبانوں کے قارئین کے لیے بھی قابلِ رسائی بنایا۔2014ء میں ٹرسٹ نے سلیمان خطیب کی نثری تخلیقات پر مشتمل کتاب”آپ بھی عجیب آدمی ہیں” شائع کی۔ اس کے علاوہ گلبرگہ کے بزرگ شاعر محمد اسمعیل شریف ازل کے شعری مجموعے "انتخابِ کلامِ ازل”کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا۔ ڈاکٹر شمیم ثریا کی تصنیف "سلیمان خطیب: حیات اور ادبی خدمات” بھی اسی اشاعتی سلسلے کا حصہ ہے۔ یہ کتابیں اس اعتبار سے اہم ہیں کہ ادبی شخصیات کے تخلیقی سرمایے کو محفوظ کرنے کے ساتھ ان کے فن، فکر اور ادبی خدمات کے مطالعے کے لیے مواد فراہم کرتی ہیں۔تحقیق و جستجو کی حوصلہ افزائی کے ضمن میں 2010ء میں سلیمان خطیب کی ویب سائٹ کا افتتاح شاعر ندا فاضلی کے ہاتھوں عمل میں آیا۔ اس اقدام نے سلیمان خطیب کے ادبی سرمایے کو جدید ذرائع کے ذریعے قارئین اور محققین تک پہنچانے کی راہ ہموار کی۔ 2012ء میں ان کی آواز میں ریکارڈ شدہ نظموں پر مشتمل آڈیو کیسٹ ”دھنک“ جاری کی گئی۔ ان کی زندگی اور فن سے متعلق "کیوڑے کا بن” کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم بھی تیار کی گئی، جسے دوردرشن کیندر، بنگلورو سے ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ یوں ٹرسٹ نے مطبوعہ کتابوں کے ساتھ صوتی اور بصری ذرائع کو بھی ادبی ورثے کی حفاظت اور تشہیر کے لیے استعمال کیا۔ٹرسٹ کی علمی سرگرمیوں میں مختلف موضوعات پر توسیعی خطابات کا انعقاد بھی شامل رہا ہے۔ گلبرگہ میں وقتاً فوقتاً منعقد ہونے والے ان خطابات کا مقصد عوام میں علمی ذوق پیدا کرنا، مختلف موضوعات پر سنجیدہ مکالمے کی فضا قائم کرنا اور ادب و سماج کے باہمی رشتوں کو اجاگر کرنا رہا ہے۔ کسی ادبی ادارے کی فعالیت کا اندازہ صرف اس کے مشاعروں یا اشاعتی سرگرمیوں سے نہیں لگایا جاسکتا، اس کی علمی مجالس، تحقیقی منصوبے اور نئی نسل کی فکری تربیت بھی اس کے کردار کی اہم جہات ہوتی ہیں۔اب جب سلیمان خطیب یادگار طلائی تمغے کے چھتیسویں سلسلے کی تقریب 28 اکتوبر 2026ء کو منعقد ہونے جارہی ہے تو یہ موقع گزشتہ برسوں کی تعلیمی خدمات کا جائزہ لینے اور آئندہ نسلوں کے لیے اس روایت کی اہمیت کو سمجھنے کا بھی ہے۔ گزشتہ برس، یعنی مارچ 2025ء میں منعقدہ ایس ایس ایل سی امتحان میں گورنمنٹ ہائی اسکول، کناویلی، ضلع ہاویری کی اردو میڈیم طالبہ نذرین بنت غوث محی الدین نے 625 میں سے 621 نشانات حاصل کرکے ریاستِ کرناٹک کے اردو میڈیم اسکولوں میں اول مقام حاصل کیا تھا۔ انہیں سلیمان خطیب یادگار طلائی تمغے اور نقد انعام سے نوازا گیا۔ اسی اسکول کی طالبہ شگفتہ عبدالقادر نے 615 نشانات حاصل کرکے تیسرے مقام کے لیے پانچ ہزار روپے نقد انعام حاصل کیا۔سالِ رواں، مارچ 2026ء میں منعقدہ ایس ایس ایل سی امتحان میں بھی گورنمنٹ ہائی اسکول، کناویلی کی طالبہ مدیحہ بانو تسکانور بنت محمد رفیق تسکانور نے 625 میں سے 621 نشانات حاصل کرکے ریاست کے اردو میڈیم اسکولوں میں سب سے زیادہ نشانات حاصل کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس نمایاں کامیابی کے نتیجے میں وہ سلیمان خطیب یادگار طلائی تمغے اور نقد انعام کی مستحق قرار پائی ہیں۔ ٹرسٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ مسلسل دو برس اسی اسکول کی طالبات کے اس باوقار اعزاز کے لیے منتخب ہونے کے پیشِ نظر 28 اکتوبر 2026ء کو تقریب اسی اسکول میں منعقد کی جائے، تاکہ اسکول کے طلبہ اور تدریسی عملے کو بھی اس اعزاز کی خوشی میں شریک کیا جاسکے۔اس فیصلے میں ایک اہم تعلیمی پیغام پوشیدہ ہے۔ جب کسی ادارے کے طلبہ مسلسل نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہیں تو اس کامیابی کے پس منظر میں طلبہ کی محنت کے ساتھ اساتذہ کی رہنمائی، ادارے کا تعلیمی ماحول اور والدین کی قربانیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔ تقریب کو متعلقہ اسکول میں منعقد کرنے سے ان تمام افراد کی خدمات کا اعتراف ممکن ہوگا اور دوسرے طلبہ کو بھی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی کے حصول کی ترغیب ملے گی۔سالِ رواں دوسرے مقام پر آنے والی طالبہ عمیرہ محمد صاحب اُستاد، گورنمنٹ اردو ہائی اسکول، بلگانور، تعلقہ سندگی، ضلع وجئے پور سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے ایس ایس ایل سی امتحان میں 625 میں سے 620 نشانات حاصل کیے۔ تیسرے مقام پر گورنمنٹ اردو ہائی اسکول، ہیرے کیرور، ضلع ہاویری کے طالب علم فیض احمد کمال فرزند جابر احمد کمال رہے، جنہوں نے 619 نشانات حاصل کیے۔ ان تینوں طلبہ کی کامیابی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ اردو میڈیم کے طلبہ صلاحیت، محنت اور مناسب رہنمائی کے ذریعے ریاستی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرسکتے ہیں۔یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ 28 اکتوبر 2026ء کی تقریب میں اعزازات کی پیش کش کے سلسلے میں مذکورہ تفصیلات ٹرسٹ کے طے شدہ پروگرام سے متعلق ہیں؛ تقریب کے انعقاد اور انعامات کی باقاعدہ پیش کش کی حتمی تصدیق اس کے بعد ہی ممکن ہوگی۔سلیمان خطیب یادگار تعلیمی، ثقافتی و امدادی ٹرسٹ کی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو اس کے کام کے کئی روشن پہلو سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف یہ ادارہ اردو میڈیم کے ذہین طلبہ کو اعزازات دے کر تعلیمی میدان میں ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، دوسری طرف مشاعروں، شامِ غزل، ڈراموں اور ہمہ لسانی ثقافتی پروگراموں کے ذریعے زبان و ادب کی روایت کو زندہ رکھتا ہے۔ کتابوں کی اشاعت، ویب سائٹ کے قیام، آڈیو ریکارڈنگ اور دستاویزی فلم کی تیاری کے ذریعے اس نے سلیمان خطیب کے تخلیقی سرمایے کو مختلف صورتوں میں محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ ادبی ورثے کی حفاظت صرف ماضی کو یاد کرنے کا نام نہیں، بلکہ اسے حال کی زندگی اور مستقبل کی فکر سے جوڑنے کا عمل ہے۔ایسے ادیبوں کی تخلیقات کو محفوظ رکھنا، ان پر تحقیق کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں مختلف زبانوں اور فنون کے ذریعے نئی نسل تک پہنچانا ہماری مشترکہ تہذیبی ذمہ داری ہے۔ سلیمان خطیب کے خاندان نے اپنے بزرگ کی یاد میں ٹرسٹ قائم کرکے اس ذمہ داری کو ایک ادارہ جاتی صورت عطا کی۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں اس ادارے نے تعلیم، ادب، ثقافت اور سماجی خدمت کے میدانوں میں جو سرگرمیاں انجام دی ہیں، وہ گلبرگہ کی علمی و ادبی تاریخ کا ایک قابلِ ذکر باب ہیں۔ اس ادارے کے سفر کا اصل حاصل صرف طلائی تمغوں کی تقسیم، مشاعروں کے انعقاد یا کتابوں کی اشاعت میں نہیں، بلکہ اس پیغام میں پوشیدہ ہے کہ علم کی قدر کی جائے، زبان و ادب کے سرمایے کو محفوظ رکھا جائے، مختلف ثقافتوں کے درمیان احترام و ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے اور معاشرے کے مستحق افراد کی ترقی میں اپنا حصہ ادا کیا جائے۔ بلاشبہ، سلیمان خطیب ٹرسٹ کی یہ روایت اس حقیقت کی ترجمان ہے کہ جب خاندانی وابستگی خدمت کے جذبے سے ہم آہنگ ہوجائے اور کسی ادبی شخصیت کی یاد کو اجتماعی فلاح کا وسیلہ بنا دیا جائے تو اس کے اثرات ایک نسل تک محدود نہیں رہتے۔ وہ ایک مسلسل سفر کی صورت اختیار کرلیتے ہیں، جس میں ہر نئی تعلیمی کامیابی امید کا چراغ روشن کرتی ہے، ہر ادبی محفل تہذیبی رشتوں کو مضبوط بناتی ہے اور ہر نئی اشاعت ماضی کے سرمایے کو مستقبل کی امانت میں تبدیل کردیتی ہے۔ یہی سلیمان خطیب کی یاد کا حقیقی احترام اور ان کے نام سے قائم اس ٹرسٹ کے مشن کی بنیادی معنویت ہے۔ جہاں تک دکنی شاعری کہ ضمن میں یہ کہا جاڈکتا ہے کہ دکنی شاعری کی تاریخ میں سلیمان خطیب کا نام ان شخصیات میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے عوامی زبان، مقامی تہذیب اور روزمرہ زندگی کے تجربات کو ادبی اظہار کا حصہ بنایا۔ ان کی تخلیقات میں دکنی زبان کی بے ساختگی، معاشرتی مشاہدے کی گہرائی اور انسانی زندگی کے مختلف رنگوں کی جھلک ملتی ہے۔ سلیمان خطیب کی دکنی شاعری کا حقیقی امتیاز یہ ہے کہ وہ سماج کی پوشیدہ برائیوں، انسانی کمزوریوں، اخلاقی تضادات اور معاشرتی ناانصافیوں کو طنز و مزاح کے پیرائے میں اس طرح اجاگر کرتی ہے کہ سامعین قہقہے بھی لگاتے ہیں اور اپنے گریبان میں جھانکنے پر بھی مجبور ہوجاتے ہیں۔ ان کے یہاں مزاح محض تفریح کا وسیلہ نہیں، بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا ایک مؤثر ہتھیار ہے، ایسا ہتھیار جو کسی کی دل آزاری کے بجائے ضمیر کو جھنجھوڑتا، فکر کو بیدار کرتا اور انسان کو اپنی خامیوں کا احساس دلاتا ہے۔ ان کی شاعری کا پیغام یہ ہے کہ سماج کی برائیوں پر ہنس لینا کافی نہیں، بلکہ ان کے اسباب کو سمجھنا، ان کی حوصلہ شکنی کرنا اور ان کے خاتمے کے لیے عملی قدم اٹھانا بھی ضروری ہے۔ علم انسان کو شعور عطا کرتا ہے، ادب اس شعور کو زبان دیتا ہے، تہذیب اسے شائستگی اور انسان دوستی سے آراستہ کرتی ہے، جبکہ خدمتِ خلق ان اقدار کو عملی زندگی میں متشکل کرتی ہے۔ سلیمان خطیب ٹرسٹ کی خدمات اسی جامع فکر کی توسیع ہیں کہ ادبی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ اس کے اصلاحی پیغام کو نئی نسل تک پہنچایا جائے اور تعلیم، ثقافت و سماجی خدمت کے ذریعے ایک باشعور، مہذب اور حساس معاشرے کی تشکیل میں حصہ لیا جائے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سلیمان خطیب کی شاعری پر صرف داد و تحسین کے پھول نچھاور نہ کریں، بلکہ اس میں پوشیدہ پیغام کو اپنی زندگی اور معاشرتی رویّوں کا حصہ بنائیں؛ کیونکہ جب قہقہوں کے درمیان چھپی حقیقت دل میں اتر جائے، تو وہ محض ایک شعر نہیں رہتی، بلکہ سماج کے لیے لمحہ فکریہ اور اصلاحِ احوال کی دعوت بن جاتی ہے۔ یہی سلیمان خطیب کے فن کی معنویت، ان کی ادبی میراث کا وقار اور ان کے نام سے قائم ٹرسٹ کی علمی، تہذیبی اور فلاحی خدمات کا حقیقی مقصد ہے۔