جمعہ نامہ:معجزاتِ موسیٰؑ کا دعوتی پیغام

جمعہ نامہ:معجزاتِ موسیٰؑ   کا دعوتی  پیغام

جمعہ نامہ:معجزاتِ موسیٰؑ کا دعوتی پیغام

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے:(کیا) تمہیں موسیٰؑ کی بھی کچھ خبر پہنچی ہے؟‘‘ قرآن دوسرے انبیاء سے زیادہ حضرت موسیٰ ؑ کا ذکرتقریباً 136 مرتبہ آیا ہے۔سورۂ طٰہ میں مسلسل 90آیات میں یہ قصہ بیان ہوا توآغاز پیدائش کے بجائے نبوت سے کیا گیا کہ جب انہوں نےمدین سے لوٹتے ہوے ’’ ایک آگ دیکھی اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ ” ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے، شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آؤں، یا اِس آگ پر مجھے کوئی رہنمائی مل جائے”(مگر)وہاں پہنچا تو پکارا گیا "اے موسیٰؑ! میں ہی تیرا رب ہوں، جوتیاں اتار دے تو وادی مقدس طویٰ میں ہے اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے‘‘۔ گویا ’آگ لینے گئے تو پیغمبری مل گئی‘۔ منصب نبوت پر فائز کرنے کے بعد فریضۂ دعوتِ دین اور کارِ رسالت سے یوں آگاہ فرما یاگیا:’’ِ سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔ میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر ۔قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاکہ ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے‘‘ ان ہدایات کے بعدخبردار کیا گیا :’’ پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے، ورنہ تو ہلاکت میں پڑ جائے گا‘‘۔یہ وارننگ امت محمدیہؐ کے ہر فرد کے لیے بھی ہے کیونکہ وہ تاقیامت کارِنبوت پر مامور ہے۔
فرعون کے دربار میں اسلام کی دعوت کو موثر بنانے کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰؑ کو معجزات سے جب لیس فرمایا تو اس کی منظر نگاری ملاحظہ فرمائیں :’’ اور اے موسیٰؑ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟” موسیٰؑ نے جواب دیا "یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں” فرمایا "پھینک دے اس کو موسیٰؑ” اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دَوڑ رہا تھا۔ فرمایا "پکڑ لے اس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے یہ دوسری نشانی ہے ۔ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں ‘‘۔ یعنی یہ چھوٹے معجزات ہیں آگے چل کر رونما ہونے والے واقعات ان سے بھی بڑھ کر ہوں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندے کو نعمتوں سے نوازکر ان کی ذمہ داری اور جوابدہی میں اضافہ فرماتے ہیں۔اسی لیے آگے حکم دیا گیا :’’ اب تو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے”۔حضرت موسیٰؑ کو ایسے سرکش حکمراں کے سامنے جاکر دعوت دینے کا حکم دیا جارہا ہے جو نہ صرف خدائی کا دعویدار تھا بلکہ بنی اسرائیل کو غلام بنارکھا تھا۔ ان کی بیٹیوں کو زندہ رکھتا اور بیٹوں کو مار دیتا تھا۔ اس کے علاوہ موسیٰؑ پر ایک قبطی کے قتل کا الزام بھی تھا اس کے باوجود انہوں نے معذرت کرنے کے بجائے حوصلہ مند دعا فرمائی :
’’ پروردگار، میرا سینہ کھول دے۔ اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے ۔ ہارونؑ، جو میرا بھائی ہے۔ اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے تاکہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں اور خوب تیرا چرچا کریں تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگران رہا ہے” اس سے پتہ چلتا ہے کہ حالات کی سختی شکوہ یا اپنی کم مائیگی کابہانہ بنانے کے بجائےاللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل کرکے درکار وسائل و ذرائع طلب کرنا چاہیے۔ یہ دعا مستجاب ہوئی اور جواب آیا "دیا گیا جو تو نے مانگا اے موسیٰؑ ، ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا‘‘۔ یہاں سے یہ قصہ فلیش بیک میں چلا جاتا ہے۔حضرتِ موسیؑ کو ان کا بچپن یاد دلایا جاتا ہے تاکہ اس کی مدد سے وہ مستقبل کی بابت مطمئن ہوجائیں ۔ارشادِ فرقانی ہے:’’ یاد کر وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اوراس کو دریا میں چھوڑ دے ۔دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا۔ میرا دشمن (صندوق) اوربچےکو اٹھا لے گا ‘‘۔ اس طرح مشیت الٰہی نے حضرت موسیٰؑ کی پرورش کا اہتمام غلاموں کے بجائے حکمرانوں کے درمیان کردیا۔
ارشادِ ربانی ہےاس نے ’’اپنی طرف سے تجھ پر محبت طاری کر دی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری (اللہ کی)نگرانی میں پالا جائے ۔ یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی، پھر جا کر کہتی ہے، "میں تمہیں اُس کا پتہ دوں جو اِس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟” اس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اُس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو‘‘۔ سوال یہ ہے کہ کیا ۔ دریا میں ٹوکری کا نہ ڈوبنا اور تیرتے ہوئے فرعون کے محل تک پہنچ جانا۔اس کے بعدفرعون کی بیوی کے دل میں موسیٰؑ کی محبت اور ان کی ماں کا دائی بن جانا کسی معجزے سے کم ہے؟یہ واقعاتی معجزات ہیں ۔ دوسرا معجزہ آگے اس طرح مذکور ہے:’’ اورتو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، ہم نے تجھے اِس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تو مَدیَن کے لوگوں میں کئی سال ٹھہرا رہا پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آ گیا ہے اے موسیٰؑ !میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے‘‘۔ ان نوازشات کے بعد حکم دیا جاتا ہے:’’ میری نشانیوں کے ساتھ تُو اور تیرا بھائی فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ سرکش ہو گیا ہے(مگر) اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے” یعنی ایمان لے آئے یا خوفزدہ ہوکر ظلم و استبداد سے باز آجائے۔ ‘‘۔ عصرِ حاضر میں بھی دعوت کامقصد و اسلوب یہی ہونا چاہیے۔ اس موقع پر تلقین فرمائی گئی کہ:’’ دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا‘‘۔ اللہ تبارک و تعالیٰ امت کو اپنا فرضِ منصبی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
(۰۰۰۰جاری )

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے