قَسَم اور ہماری بے راہ روی
(بے جا قسمیں اور اسلامی رہبری)
از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ
انسان کی شخصیت کا حسن محض اس کے ظاہری رکھ رکھاؤ، بلند آہنگ گفتگو یا خوش نما الفاظ سے نہیں، بلکہ اس کے زبان کی صداقت اور قول و قرار کی پاس داری سے نمایاں ہوتا ہے۔ انسان کے اعضا میں زبان کو ایک خاص امتیاز حاصل ہے؛ یہی زبان محبت کے پھول بھی کھلاتی ہے اور نفرت کے کانٹے بھی بوتی ہے، یہی دلوں کو جوڑتی بھی ہے اور رشتوں میں دراڑیں بھی ڈالتی ہے۔ اگر زبان صداقت، شائستگی اور احتیاط کی پابند ہو تو انسان کے وقار میں اضافہ کرتی ہے، اور اگر بے لگام ہو جائے تو اس کے لیے ذلت و رسوائی کا سبب بن جاتی ہے۔
زبان کی حفاظت کے سلسلے میں ایک نہایت اہم معاملہ قسم کا ہے۔ قسم درحقیقت اللہ تعالیٰ کے مقدس نام کو اپنے قول کی تصدیق کے لیے پیش کرنے کا نام ہے۔ اس لیے یہ کوئی معمولی لفظ یا عام محاورہ نہیں، بلکہ ایک عظیم شرعی معاملہ ہے، جس میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔ افسوس کہ ہمارے معاشرے میں قسم کھانا ایک عام عادت بنتی جا رہی ہے۔ اہم بات ہو یا غیر معمولی، سچ ہو یا جھوٹ، لوگ بلا ضرورت قسمیں کھاتے نظر آتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے: خدا کی قسم! میں نے ایسا نہیں کیا، کوئی کہتا ہے: قرآن کی قسم! میری بات سچی ہے، اور کوئی ہر چند جملوں کے بعد اللہ کی قسم کھانے کو اپنی گفتگو کا لازمی حصہ بنا لیتا ہے۔
بعض اوقات انسان کو اپنی بات پر اعتماد نہیں ہوتا، اس لیے وہ قسموں کے ذریعہ دوسروں کو یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے۔ حالانکہ ایک سچے انسان کی گفتگو میں خود اعتمادی، متانت اور اعتبار ہوتا ہے؛ اسے ہر بات کے ساتھ قسم کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کثرتِ قسم سے نہ صرف اللہ تعالیٰ کے نام کی عظمت لوگوں کے دلوں میں کم ہونے لگتی ہے، بلکہ قسم کھانے والے کی اپنی بات کا اعتبار بھی متاثر ہوتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:وَلَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّأَيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَتَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ۔ اور اللہ کو اپنی قسموں کے لیے آڑ نہ بناؤ کہ تم نیکی کرنے، تقویٰ اختیار کرنے اور لوگوں کے درمیان اصلاح کرنے سے رک جاؤ۔(البقرۃ)
اس آیتِ کریمہ میں ایک اصول بیان کیا گیا ہے کہ انسان اپنی قسم کو نیکی اور بھلائی کے راستے میں رکاوٹ نہ بنائے۔ مثلاً کوئی شخص غصے کی حالت میں قسم کھا لے کہ میں اپنے بھائی یا رشتہ دار سے بات نہیں کروں گا، یا فلاں شخص سے کبھی صلح نہیں کروں گا، تو اسے اپنی قسم پر اَڑنے کے بجائے بہتر راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ رشتوں کو جوڑنا، ناراض لوگوں میں صلح کرانا اور بھلائی کے کاموں میں حصہ لینا زیادہ اہم ہے۔ ایسی صورت میں قسم توڑ کر اس کا کفارہ ادا کیا جائے، لیکن نیکی اور اصلاح کا راستہ بند نہ کیا جائے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے کثرتِ قسم کو بھی ناپسندیدہ صفت قرار دیا ہے:وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ۔ اور کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیے جو بہت قسمیں کھانے والا اور پست کردار ہو۔ (القلم)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بار بار قسم کھانا انسان کی شخصیت کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔ جو شخص اپنی ہر بات کی تائید میں قسم کا سہارا لیتا ہے، رفتہ رفتہ اس کی بات کا اعتبار بھی کم ہونے لگتا ہے۔ ایک مسلمان کی گفتگو میں سنجیدگی، متانت اور سچائی ہونی چاہیے، نہ کہ قسموں کی بھرمار رسول اللہ ﷺ نے قسم کے معاملے میں نہایت واضح ہدایت فرمائی:مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللّٰهِ أَوْ لِيَصْمُتْ : جو شخص قسم کھانا چاہے، وہ اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قسم صرف اللہ تعالیٰ کے نام کی کھانی چاہیے، کسی مخلوق، بزرگ، باپ، ماں، کعبہ یا کسی دوسری چیز کی قسم کھانا جائز نہیں۔ انسان کو اپنی گفتگو میں ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے جو شریعت کی نگاہ میں نامناسب ہوں۔ خصوصاً والدین، اولاد، اولیائے کرام اور مقدس مقامات کے نام پر قسم کھانے سے بچنا ضروری ہے۔ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللّٰهِ فَقَدْ أَشْرَكَ : جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی، اس نے شرک کا ارتکاب کیا۔ (سنن ابی داؤد)
اور جامع ترمذی کی روایت میں الفاظ ہیں:مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللّٰهِ فَقَدْ كَفَرَ أَوْ أَشْرَكَ۔ (جامع ترمذی)ان احادیث میں غیر اللہ کی قسم کھانے پر سخت وعید وارد ہوئی ہے۔ اہلِ علم نے وضاحت فرمائی ہے کہ اس سے مراد شرک کی وہ صورت بھی ہو سکتی ہے جو شرکِ اصغر کے درجہ میں آتی ہے لہذا اس عمل سے بہرحال اجتناب لازم ہے۔
یہاں ایک بات قابلِ توجہ ہے کہ قسم کی عظمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان بلا ضرورت قسم نہ کھائے، اور جب کبھی قسم کھائے تو سچائی کے ساتھ کھائے۔ جھوٹی قسم زبان کا معمولی گناہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے نام کو جھوٹ کے لیے استعمال کرنا ہے۔ خصوصاً کسی کا حق مارنے، مال ہڑپ کرنے، کسی کو دھوکا دینے یا کسی بے گناہ کو نقصان پہنچانے کے لیے جھوٹی قسم کھانا نہایت سنگین جرم ہے۔
قرآن پاک کی قسم
قرآنِ مجید کی قسم کھانے کے معاملے میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اس لیے اس کی قسم کے معتبر الفاظ کہنے سے قسم منعقد ہو سکتی ہے؛ البتہ محض قرآنِ مجید پر ہاتھ رکھنے سے قسم منعقد نہیں ہوتی۔ اس لیے قرآن کو محض اپنے دعوے کی تصدیق کا ذریعہ بنانے کے بجائے اس کے احترام اور عظمت کا پورا لحاظ رکھنا چاہیے۔
قرآن اللہ کا کلام اور اس کی صفت ہے، اللہ کی اور اس کے کلام کی قسم کھانا درست ہے (فتاوی دارالعلوم دیوبند)
قسم کی قسمیں
اسلام میں قسم کی مختلف اقسام بیان کی گئی ہیں۔ فقہِ حنفی کے مطابق بنیادی طور پر قسم کی تین قسمیں ہیں: یمینِ لغو، یمینِ غموس اور یمینِ منعقدہ۔ ان کی حقیقت، شرعی حیثیت اور احکام کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ بعض قسمیں ایسی ہیں جن پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہوتا، بعض کبیرہ گناہ کا سبب بنتی ہیں، اور بعض کے ٹوٹنے پر شرعی کفارہ ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔
یمینِ لغو
یمینِ لغو ایسی قسم کو کہتے ہیں جو بلا ارادہ زبان سے نکل جائے، یا کسی گزشتہ واقعہ کے متعلق انسان اپنے غالب گمان کے مطابق بات کرے اور بعد میں اس کے خلاف حقیقت ظاہر ہو۔ مثلاً گفتگو کے دوران عادتاً کسی کے منہ سے نکل جائے: واللہ! ایسا ہی ہے، حالانکہ اس نے باقاعدہ قسم کھانے کا ارادہ نہ کیا ہو۔ یا کسی شخص نے سمجھا کہ فلاں بات درست ہے اور اسی یقین کے ساتھ قسم کھا لی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ حقیقت اس کے خلاف تھی۔
ایسی قسم پر شرعاً مؤاخذہ نہیں اور نہ ہی اس کا کفارہ لازم ہوتا ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلٰكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ ترجمہ: اللہ تمہاری بے ارادہ قسموں پر تمہاری گرفت نہیں فرماتا، لیکن ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تمہارے دلوں نے ارادے سے باندھا ہو۔(البقرۃ)
یمینِ غموس
یمینِ غموس ایسی جھوٹی قسم ہے جو انسان جان بوجھ کر کسی گزشتہ یا موجودہ واقعہ کے بارے میں کھائے، حالانکہ اسے حقیقت معلوم ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔ مثلاً کسی نے کسی کا مال لیا ہو اور عدالت یا لوگوں کے سامنے قسم کھا کر انکار کر دے، یا کسی معاملے میں حقیقت جانتے ہوئے جھوٹی قسم کھائے۔ اسی طرح کسی کے حق کو دبانے، اپنی غلطی چھپانے یا ناجائز فائدہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹی قسم کھانا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔
اسے یمینِ غموس اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ انسان کو گناہ میں ڈبو دیتی ہے۔ یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے اور اس سے سچی توبہ و استغفار کرنا لازم ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق اس قسم کا عام کفارہ لازم نہیں ہوتا،
یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ صرف زبان سے استغفار کر لینا کافی نہیں، بلکہ انسان کو اپنے کیے پر حقیقی ندامت ہونی چاہیے، آئندہ ایسا نہ کرنے کا پختہ عزم کرنا چاہیے اور اگر کسی بندے کا حق پامال ہوا ہے تو اسے واپس کرنا چاہیے۔ حقوق العباد کا معاملہ نہایت سنگین ہے؛ محض زبانی توبہ سے کسی دوسرے کا مالی یا اخلاقی حق ساقط نہیں ہوتا۔
یمینِ منعقدہ
یمینِ منعقدہ وہ قسم ہے جو انسان مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے متعلق ارادے سے کھائے۔ مثلاً کوئی کہے: واللہ! میں کل فلاں شخص سے ملاقات کروں گا، یا واللہ! میں آئندہ یہ کام نہیں کروں گا۔ اگر ایسی قسم کھانے کے بعد انسان اسے توڑ دے تو اس پر کفارہ لازم ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں قسم کا کفارہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الْأَيْمَانَ فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ۔ اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا، یا انہیں کپڑے دینا، یا ایک غلام آزاد کرنا ہے؛ اور جو شخص ان کی استطاعت نہ رکھے، وہ تین روزے رکھے۔(المائدۃ)
قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت دے دے( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم )اور اگر جو دے تو اس کا دو گنا (تقریباً ساڑھے تین کلو) دے، یا دس فقیروں کو ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دے۔ اور اگر کوئی ایسا غریب ہے کہ نہ تو کھانا کھلا سکتا ہے اور نہ کپڑا دے سکتا ہے تو مسلسل تین روزے رکھے ،اگر الگ الگ کر کے تین روزے پورے کر لیے تو کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ اگر دو روزے رکھنے کے بعد درمیان میں کسی عذر کی وجہ سے ایک روزہ چھوٹ گیا تو اب دوبارہ تین روزے رکھےفقط واللہ اعلم
( فتاوی دارالعلوم دیوبند و دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن)
قسم کے کفارے کے سلسلے میں ایک عام غلط فہمی یہ بھی پائی جاتی ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ قسم توڑنے کے بعد صرف تین روزے رکھ لینا کافی ہے، حالانکہ قرآنِ کریم نے پہلے کھانا کھلانے، کپڑے دینے یا غلام آزاد کرنے کا حکم بیان کیا ہے، اور ان کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں روزوں کا حکم دیا ہے۔ اس لیے ہر شخص کو اپنی مالی استطاعت کے مطابق شرعی حکم پر عمل کرنا چاہیے۔
یہاں ایک اہم بات یاد رکھنے کی ہے کہ کفارہ ادا کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان آئندہ بھی قسمیں کھانے میں بے احتیاطی کرے۔ اصل مطلوب یہ ہے کہ مسلمان اپنی زبان کو بے جا قسموں سے محفوظ رکھے، اور اگر کوئی قسم شرعاً توڑنا ضروری ہو جائے تو اس کا کفارہ ادا کرے۔ اسی طرح ہر قسم کے معاملے میں یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی اپنی صورتِ حال کسی مستند عالم یا مفتی کے سامنے رکھے، تاکہ قسم کے الفاظ، نیت اور حالات کے مطابق درست شرعی حکم معلوم ہو سکے۔
قسم کا تعلق صرف عبادات یا انفرادی معاملات تک محدود نہیں، بلکہ تجارت، لین دین، خرید و فروخت اور روزمرہ معاشرتی زندگی میں بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔ بازاروں میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بعض تاجر اپنی چیز فروخت کرنے کے لیے بار بار قسمیں کھاتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے: خدا کی قسم! اس سے کم قیمت میں مجھے بھی نہیں ملی، کوئی کہتا ہے: قرآن کی قسم! اس مال میں کوئی عیب نہیں، اور کوئی اپنی چیز کی تعریف میں مبالغہ آرائی کرتے ہوئے قسموں کا سہارا لیتا ہے۔
بعض دکاندار خریدار کو مطمئن کرنے کے لیے اپنی چیز کی اصل قیمت سے متعلق غلط بیانی کرتے ہیں، خریداری کی قیمت بڑھا چڑھا کر بتاتے ہیں یا مال کے عیوب چھپا لیتے ہیں۔ پھر جب خریدار کو شک ہوتا ہے تو قسمیں کھا کر اسے یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اسلامی تجارت کے اصولوں کے بالکل خلاف ہے۔ مسلمان تاجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مال کی حقیقت واضح کرے، عیب کو نہ چھپائے اور خریدار کو دھوکے میں مبتلا نہ کرے۔
رسول اللہ ﷺ نے تجارت میں سچائی اور دیانت داری کی خاص تاکید فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا : اگر خریدنے اور بیچنے والے دونوں سچ بولیں اور حقیقت واضح کر دیں تو ان کی خرید و فروخت میں برکت دی جاتی ہے، اور اگر وہ عیب چھپائیں اور جھوٹ بولیں تو ان کی تجارت کی برکت مٹا دی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تجارت کی اصل کامیابی محض زیادہ نفع کمانے میں نہیں، بلکہ صدق و دیانت، امانت داری اور معاملات کی صفائی میں ہے۔ بظاہر جھوٹ بول کر یا قسمیں کھا کر مال فروخت کرنے والا شخص وقتی طور پر نفع حاصل کر سکتا ہے، لیکن وہ اپنے کاروبار سے برکت کو ختم کر دیتا ہے۔ مال کی مقدار بڑھ جانا ہی حقیقی کامیابی نہیں، بلکہ اس مال میں سکون، اطمینان، خیر اور نفع کا باقی رہنا بھی ضروری ہے۔ایک دوسری روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:التَّاجِرُ الصَّدُوقُ الْأَمِينُ مَعَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ۔ سچا اور امانت دار تاجر انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ (جامع ترمذی)
اس روایت میں ایک سچے تاجر کی عظمت اور اس کے بلند مرتبے کو بیان کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تجارت اگر صدق و امانت کے ساتھ کی جائے تو وہ محض دنیا کمانے کا ذریعہ نہیں رہتی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
یہی وہ اخلاقی اصول ہیں جنہیں اختیار کر کے انسان اپنی تجارت کو عبادت اور اپنے کاروبار کو برکت کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ تاجر کو چاہیے کہ اپنی چیز کے عیب واضح کرے، قیمت کے معاملے میں دھوکا نہ دے، ناپ تول میں کمی نہ کرے اور خریدار کو مطمئن کرنے کے لیے جھوٹی قسموں کا سہارا نہ لے۔
اسی طرح عام معاشرتی زندگی میں بھی قسموں کی کثرت سے اجتناب ضروری ہے۔ بعض لوگ معمولی اختلافات میں قسمیں کھانے لگتے ہیں، بعض اپنے دعوے کو منوانے کے لیے قسم کا سہارا لیتے ہیں، اور بعض تو بچوں، گھر والوں اور دوستوں کے سامنے بھی ہر بات پر قسم کھاتے ہیں۔ بعض گھروں میں تو یہ کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کہ والدین بچوں کی ہر بات پر قسم لینے لگتے ہیں، اور بچے بھی اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے قسمیں کھانے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اس طرح قسم کی عظمت رفتہ رفتہ دلوں سے کم ہونے لگتی ہے اور یہ ایک معمولی لفظ بن کر رہ جاتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ مسلمان کی پہچان اس کی زبان کی سچائی ہے، نہ کہ اس کی قسموں کی کثرت۔ جس شخص کی زبان سے سچائی ظاہر ہوتی ہو، اسے اپنی بات منوانے کے لیے بار بار قسم کھانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اسی لیے ہمیں اپنی گفتگو میں صداقت، اپنے معاملات میں امانت اور اپنے وعدوں میں وفاداری کو شعار بنانا چاہیے۔
بعض لوگوں کی زبان پر ہر معمولی بات کے ساتھ قسم کھانا اس قدر غالب آچکا ہے کہ وہ بلا ضرورت ماں کی قسم، باپ کی قسم، اولاد کی قسم، اپنی جان کی قسم اور دیگر اشیا کی قسمیں کھاتے رہتے ہیں، بات بات پر گلے کو ہاتھ لگانا سر پر ہاتھ رکھنا وغیرہ گویا قسم کے بغیر ان کی بات معتبر ہی نہیں ہوسکتی۔ حالاں کہ غیر اللہ کی قسم کھانا شرعاً ناجائز اور گناہ ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم بھی بلا ضرورت کثرت سے کھانا پسندیدہ نہیں۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِينٍ (سورۃ القلم) یعنی اور کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیے جو بہت قسمیں کھانے والا اور ذلیل ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاللّٰهِ أَوْ لِيَصْمُتْ (صحیح البخاری) یعنی جو قسم کھانا چاہے، وہ اللہ کی قسم کھائے، ورنہ خاموش رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قسم کو روزمرہ گفتگو کا معمول بنالینا اسلامی آداب کے خلاف ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم جھوٹ بولنے، کسی کا حق دبانے یا دھوکا دینے کے لیے کھائی جائے تو اس کا وبال کہیں زیادہ سنگین ہے۔ لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ اپنی زبان کو بے جا قسموں سے محفوظ رکھے اور اپنی سچائی کا اعتبار قسموں کی کثرت سے نہیں، بلکہ صدق و امانت سے قائم کرے۔
اسمیں ابتداء اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ اگر ہر شخص یہ عہد کر لے کہ وہ بلا ضرورت قسم نہیں کھائے گا، جھوٹی قسم سے مکمل اجتناب کرے گا، اپنے وعدوں کی پاس داری کرے گا اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھے گا تو معاشرے میں اعتماد، محبت اور باہمی احترام کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی تربیت میں زبان کی حفاظت اور سچائی کی اہمیت کو نمایاں کریں، بات بات ان سے قسمیں نہ لیں اور اہلِ تجارت اپنے معاملات میں دیانت داری کو بنیادی اصول بنائیں۔
آخر میں یہی عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کی عظمت ہمارے دلوں میں راسخ ہونی چاہیے۔ زبان کو بے جا قسموں سے محفوظ رکھنا، جھوٹی قسم سے بچنا، سچائی کو اختیار کرنا اور اپنے قول و قرار کی پاس داری کرنا ایک مسلمان کے اخلاقی کردار کا لازمی حصہ ہے۔ ہماری گفتگو ایسی ہو کہ لوگ ہمارے الفاظ پر اعتماد کریں، ہمارے معاملات ایسے ہوں کہ لوگ ہماری دیانت کے قائل ہوں، اور ہمارا کردار ایسا ہو کہ ہمیں اپنی بات کی صداقت ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے مقدس نام کو بار بار درمیان میں لانے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں زبان کی حفاظت، صدق و دیانت، معاملات کی پاکیزگی اور اپنے نام کی عظمت کا پاس رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔