کیا آپ صرف سبق پڑھاتے ہیں یا نسلوں کی تعمیر بھی کرتے ہیں؟
سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں استاد کا کردار اور ذمہ داریاں
ازقلم:محمدعبدالحلیم اطہر سہروردی،
صحافی و ادیب،،گلبرگہ
8277465374۔
athar.gul@gmail.com
’’بے شک میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔‘‘رسولِ اکرم، معلمِ انسانیت، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا یہ ارشادِ مبارک معلم کے منصب کی عظمت، اس کی ذمہ داریوں کی وسعت اور اس کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ آپ ﷺ کی تعلیمات میں معلم کا تصور محض کتاب پڑھانے والے شخص تک محدود نہیں، بلکہ وہ ایک ایسے مربی، مصلح اور رہنما ہیں جو انسان کے ذہن کو علم کی روشنی، دل کو ایمان کی حرارت، فکر کو پاکیزگی اور کردار کو بلندی عطا کرتے ہیں۔حضور اکرم ﷺ کی بعثت انسانیت کی تاریخ کا وہ عظیم انقلاب ہے جس نے جہالت کی تاریکیوں میں علم کے چراغ روشن کیے، اخلاق کی گرتی ہوئی قدروں کو سنوارا، انسان کو اس کی حقیقت سے آشنا کیا اور ایک ایسی جماعت تیار کی جس نے اپنے کردار و عمل سے دنیا کو تہذیب، عدل، اخوت اور انسانیت کا درس دیا۔ آپ ﷺ نے صرف تعلیم نہیں دی، بلکہ انسان بنائے؛ صرف احکام نہیں سنائے، بلکہ ان پر عمل کرکے دکھایا؛ صرف ذہنوں کو تیارنہیں کیا، بلکہ دلوں کی دنیا بدل دی۔یہی وہ نبوی منہجِ تعلیم و تربیت ہے جو آج کے ہر استاد کے لیے مشعلِ راہ ہے۔استاد کا منصب،محض پیشہ نہیں، ایک مقدس امانت ہے ،بحیثیت استاد! جب آپ درس گاہ میں قدم رکھتے ہیں تو آپ صرف ایک نصاب پڑھانے نہیں آتے، بلکہ آپ ایک نسل کے مستقبل سے ملاقات کرنے آتے ہیں۔ آپ کے سامنے بیٹھے ہوئے طلبہ محض حاضری رجسٹر کے نام نہیں، بلکہ وہ کل کے والدین، علما، معلمین، قائدین، مصلحین اور معاشرے کے معمار ہیں۔ آج ان کے ذہنوں میں جو فکر پروان چڑھے گی، کل وہی فکر معاشرے کی سمت متعین کرے گی؛ آج ان کے دلوں میں جو اقدار راسخ ہوں گی، کل وہی اقدار ان کے کردار اور فیصلوں میں ظاہر ہوں گی۔اس لیے معلم کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ کتاب کا ایک باب مکمل کرکے دوسرے باب کی طرف بڑھ جائے، بلکہ اس کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو علم کے ساتھ شعور، قابلیت کے ساتھ اخلاق اور کامیابی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس بھی عطا کرے۔ایک کامیاب استاد وہ نہیں جس کے طلبہ صرف امتحان میں اچھے نمبر حاصل کریں، بلکہ وہ ہے جس کے شاگرد زندگی کے امتحان میں بھی دیانت، سچائی اور کردار کی بلندی کا ثبوت دیں۔
استاد کی بنیادی ذمہ داری علم کی صحیح، واضح اور مؤثر ترسیل ہے۔ اسے چاہیے کہ اپنے مضمون پر عبور حاصل کرے، مسلسل مطالعہ کرے، اپنے علم میں اضافہ کرے اور طلبہ کو محض معلومات یاد کرانے کے بجائے ان میں سمجھنے، غور کرنے، سوال کرنے اور حقیقت تک پہنچنے کی صلاحیت پیدا کرے۔قرآنِ مجید نے رسول اللہ ﷺ کے فرائض میں تلاوتِ آیات، تعلیمِ کتاب و حکمت اور تزکیہ نفوس کا ذکر فرمایا ہے۔ (سورۃ الجمعہ: ۲) یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ حقیقی تعلیم محض الفاظ کی منتقلی نہیں، بلکہ علم و حکمت کے ساتھ انسان کی فکری اور اخلاقی تربیت بھی ہے۔استاد کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے اندر جستجو، تحقیق، مطالعے اور سیکھنے کی محبت پیدا کرے۔ ایسا نہ ہو کہ طالب علم امتحان کے بعد سب کچھ بھول جائے، بلکہ علم اس کی فکر کا حصہ بنے، اس کی نگاہ کو وسعت دے اور اسے حق و باطل، صحیح و غلط اور نفع و نقصان میں امتیاز کرنے کے قابل بنائے۔استاد کی سب سے اہم ذمہ داریوں میں سے ایک طلبہ کے کردار کی تعمیر ہے۔ علم اگر اخلاق سے خالی ہو تو اس کا فائدہ محدود ہو سکتا ہے، لیکن جب علم کے ساتھ تقویٰ، دیانت، عدل، تواضع اور احساسِ ذمہ داری شامل ہو جائیں تو وہ انسان اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتا ہے۔رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ حسنِ اخلاق کا کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے قول کے ساتھ اپنے عمل سے بھی تعلیم دی۔ آپ ﷺ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ تربیت کا سب سے مؤثر ذریعہ عملی نمونہ ہے۔استاداگر طلبہ کو سچ بولنے کا درس دیتے ہیں تو خود بھی سچائی کو اپنا شعار بنائیں۔ اگر استاد ان میں وقت کی پابندی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو اپنی پابندیِ وقت سے مثال قائم کریں۔ اگر استادانہیں احترامِ انسانیت سکھانا چاہتے ہیں تو ان کے ساتھ عزت و شفقت کا معاملہ کریں۔یہ یاد رکھیںطلبہ آپ کے الفاظ سنتے ہیں، لیکن آپ کے کردار کو پڑھتے بھی ہیں۔ آپ کی دیانت ان کے لیے سبق ہے، آپ کا عدل ان کے لیے تربیت ہے، آپ کا تحمل ان کے لیے نمونہ ہے اور آپ کی شفقت ان کے لیے اخلاقی درس ہے۔استاد کی زبان تعلیم دیتی ہے، لیکن اس کا کردار تربیت کرتا ہے۔اسلامی تعلیم میں استاد کی ذمہ داری صرف ذہنی صلاحیتوں کی نشوونما تک محدود نہیں، بلکہ طلبہ کے باطن کی اصلاح بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی معرفت، سنتوں کی پابندی،عبادات سے محبت، حلال و حرام کا شعور، حقوق العباد کی پاس داری اور اپنے اعمال کے محاسبے کا جذبہ پیدا کرنا ضروری ہے۔استاد کو چاہیے کہ وہ دینی تعلیمات کو محض یاد کرنے کے لیے چند اسباق نہ بنائے، بلکہ انہیں زندگی کے عملی تقاضوں سے جوڑے۔ نماز کی اہمیت بتائے تو اس کے اخلاقی اور روحانی اثرات بھی سمجھائے؛ امانت کا درس دے تو روزمرہ معاملات میں اس کی مثالیں بھی پیش کرے؛ حقوق العباد پڑھائے تو والدین، اساتذہ، پڑوسیوں اور معاشرے کے دوسرے افراد کے حقوق بھی واضح کرے۔البتہ یہ تربیت حکمت، محبت اور تدریج کے ساتھ ہونی چاہیے۔ مقصد طلبہ کے دلوں میں دین سے محبت اور نیکی کا شوق پیدا کرنا ہے، نہ کہ انہیں تحقیر، خوف یا بے جا سختی کے ذریعے تعلیم سے دور کر دینا۔ایک حقیقی معلم اپنے تمام طلبہ کو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں اور انسانی وقار کے ساتھ دیکھتا ہے۔ وہ ذہین اور کمزور، امیر اور غریب، خوش گفتار اور خاموش، سب کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ وہ کسی طالب علم کو اس کی کمزوری کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھتا اور نہ کسی کی غلطی کو اس کی پوری شخصیت کا عنوان بنا دیتا ہے۔ہر طالب علم کی ذہنی استعداد، گھریلو ماحول، سیکھنے کی رفتار اور نفسیاتی کیفیت مختلف ہو سکتی ہے۔ ایک اچھا استاد ان اختلافات کو سمجھتا ہے اور اپنی تدریس کو طلبہ کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔اگر کوئی طالب علم سبق نہیں سمجھ پا رہا تو اسے شرمندہ کرنے کے بجائے دوبارہ سمجھانا، اگر کوئی ناکامی سے مایوس ہے تو اسے امید دلانا، اگر کوئی غلطی کر بیٹھا ہے تو اس کی اصلاح کرنا اور اگر کوئی صلاحیت کے باوجود پیچھے رہ گیا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنا، یہ سب معلم کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔استاد کو یاد رکھنا چاہیے کہ کبھی اس کا ایک نرم جملہ کسی طالب علم کے اندر اعتماد پیدا کر سکتا ہے اور کبھی اس کی ایک سخت، تحقیر آمیز بات برسوں تک اس کے دل پر بوجھ بن سکتی ہے۔
تعلیم کا مقصد ایسے افراد تیار کرنا بھی ہے جو اپنی ذات، اپنے وقت، اپنے فرائض اور اپنے معاملات کے بارے میں ذمہ دار ہوں۔ اس لیے استاد کو طلبہ میں پابندیِ وقت، صفائی، نظم و ضبط، وعدے کی پاس داری، اجتماعی تعاون اور ذمہ دارانہ رویّے پیدا کرنے چاہییں۔تاہم نظم و ضبط کا مطلب محض خاموشی، خوف یا ہر بات پر غیر مشروط اطاعت نہیں۔ حقیقی نظم و ضبط وہ ہے جس میں طالب علم اپنی ذمہ داری کو سمجھے، اپنے رویّے کے نتائج کو پہچانے اور اچھے عمل کو شعوری طور پر اختیار کرے۔استاد کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو اپنے کام کی ذمہ داری لینا، اپنی غلطی تسلیم کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اور اختلاف کے باوجود احترام کے ساتھ گفتگو کرنا سکھائے۔ یہ اوصاف ان کی پوری زندگی میں رہنمائی فراہم کریں گے۔ایک مؤثر معلم اپنے طلبہ کو محض معلومات کا ذخیرہ نہیں بناتا، بلکہ انہیں سوچنے، سمجھنے اور حکمت کے ساتھ فیصلے کرنے کے قابل بناتا ہے۔ وہ سوال کرنے والے طالب علم کو اپنی توہین نہیں سمجھتا، بلکہ اس کے سوال کو سیکھنے کا موقع بناتا ہے۔ وہ دلیل، تحقیق اور غور و فکر کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور طلبہ کو افواہوں، تعصب، بے بنیاد باتوں اور سطحی سوچ سے بچنے کی تربیت دیتا ہے۔خصوصاً آج کے دور میں، جب معلومات کی فراوانی کے ساتھ غلط معلومات بھی تیزی سے پھیلتی ہیں، استاد کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ اسے طلبہ میں علمی دیانت، ذرائع کی جانچ، دلیل کی اہمیت اور اختلافِ رائے کے آداب پیدا کرنے چاہییں۔دینی پس منظر رکھنے والا معلم یہ شعور بھی پیدا کرے کہ علم انسان کو تکبر میں مبتلا کرنے کے بجائے حق کی تلاش، عاجزی اور ذمہ داری کی طرف لے جائے۔ علم کی پختگی اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب انسان اپنے علم کو درست مقاصد کے لیے استعمال کرنا سیکھتا ہے۔معلم دوسروں کی اصلاح کا خواہاں ہو تو اسے اپنی اصلاح سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ جو شخص خود سیکھنا چھوڑ دے، وہ دوسروں میں سیکھنے کا شوق دیر تک زندہ نہیں رکھ سکتا۔ جو اپنی غلطی تسلیم نہ کرے، وہ طلبہ کو اعترافِ خطا کا سلیقہ نہیں سکھا سکتا۔ جو اپنے رویّے کا محاسبہ نہ کرے، وہ دوسروں کے کردار کی تعمیر میں پوری تاثیر پیدا نہیں کر سکتا۔استاد کو چاہیے کہ وہ اپنے علم، اخلاق، دینی شعور، تدریسی مہارت اور معاملات کا مسلسل جائزہ لیتا رہے۔ وہ اپنے ساتھیوں سے سیکھے، طلبہ کی ضروریات کو سمجھے، اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرے اور بہتری کے لیے عملی کوشش کرے۔قرآنِ مجید ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ انسان دوسروں کو نیکی کا حکم دے اور خود کو بھول نہ جائے۔ (سورۃ البقرہ: ۴۴) اس آیت میں ہر معلم کے لیے ایک اہم تنبیہ ہے کہ نصیحت کی تاثیر اس وقت بڑھتی ہے جب نصیحت کرنے والا خود بھی اپنی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔اپنی شخصیت کو سنوارنا استاد کی ذاتی ضرورت ہی نہیں، اس کی پیشہ ورانہ اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔استاد کا کام کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتا۔ اس کی تعلیم و تربیت کے اثرات گھر، خاندان، ادارے اور پورے معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ ایک باکردار طالب علم اپنے گھر میں اخلاق کی روشنی پھیلا سکتا ہے، ایک دیانت دار نوجوان معاشی معاملات میں اعتماد پیدا کر سکتا ہے اور ایک صاحبِ علم انسان اپنی صلاحیتوں سے معاشرے کی اصلاح میں کردار ادا کر سکتا ہے۔اسی لیے استاد کو طلبہ میں خدمتِ خلق، وطن اور معاشرے کے لیے مثبت کردار، کمزوروں کے ساتھ ہمدردی، قانون و انصاف کا احترام، ماحول کی حفاظت اور اجتماعی بھلائی کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے۔ اسے یہ سمجھانا چاہیے کہ تعلیم کا مقصد صرف ذاتی ترقی، ملازمت یا معاشی آسودگی نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو خیر کے لیے استعمال کرنا بھی ہے۔ کامیابی وہی زیادہ بامعنی ہے جو انسان کو دوسروں کے لیے نفع بخش بنائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔‘‘ (صحیح البخاری: ۷۲۰۵)یہ ارشاد قرآن سیکھنے اور سکھانے کی فضیلت بیان کرتا ہے۔ اس سے معلم کے لیے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ علم کی خدمت ایک عظیم سعادت ہے، بالخصوص جب تعلیم اخلاص، عمل اور خیر خواہی کے ساتھ وابستہ ہو۔
استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ تدریس کو محض تنخواہ، ملازمت یا رسمی ڈیوٹی تک محدود نہ رکھے، بلکہ اسے ایک امانت سمجھے۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے ادا کرے، وقت کی قدر کرے، طلبہ کے تعلیمی حقوق کا خیال رکھے، امتحانات میں انصاف کرے اور اپنی ذاتی پسند و ناپسند کو طلبہ کی کارکردگی پر اثر انداز نہ ہونے دے۔طلبہ کے نتائج مرتب کرتے وقت عدل، ان کی معلومات کی حفاظت، والدین سے مناسب رابطہ، ادارے کے قواعد کی پاس داری اور تعلیمی معاملات میں سچائی، سب اسی امانت داری کے مظاہر ہیں۔اخلاص کا مطلب یہ نہیں کہ استاد اپنی ضروریات یا حقوق کو نظر انداز کرے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی پورے شعور اور دیانت سے ادا کرے۔ایک معلم کی سب سے بڑی خوش نصیبی یہ ہے کہ اس کے پڑھائے ہوئے علم سے دوسرے انسانوں کو فائدہ پہنچے۔ رسول اللہ ﷺ نے نفع بخش علم کو ان اعمال میں شمار فرمایا جن کا اجر انسان کی وفات کے بعد بھی جاری رہ سکتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۳۶۱)سوچیے! ایک استاد نے کسی طالب علم کو سچائی کا مفہوم سمجھایا، اس طالب علم نے اسے اپنی زندگی میں اپنایا، پھر اپنے بچوں کو سکھایا۔ ایک معلم نے کسی نوجوان میں علم کی محبت پیدا کی، وہ نوجوان آگے چل کر ہزاروں افراد کی تعلیم کا ذریعہ بن گیا۔ کسی استاد کی ایک مخلصانہ رہنمائی نے کسی طالب علم کو خدمتِ خلق کے راستے پر ڈال دیا اور اس کے ذریعے بے شمار لوگوں کو فائدہ پہنچا۔یہی معلم کی محنت کا وہ ثمر ہے جو اس کی زندگی کے دائرے سے آگے نکل جاتا ہے۔ اس لیے استاد کو اپنی معمول کی تدریس کو بھی معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ ممکن ہے آج پڑھایا جانے والا ایک چھوٹا سا سبق کل کسی بڑی تبدیلی کی بنیاد بن جائے۔جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی معلمی کے منصب کو واضح فرمایا تو انسانیت کو تعلیم و تربیت کی عظمت کا ایک روشن تصور عطا ہوا۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم اس تصور کو اپنے کردار، اپنی درس گاہوں اور اپنے تعلیمی رویّوں میں زندہ کریں۔اپنے آپ سے پوچھیے: کیا ہم صرف نصاب مکمل کر رہے ہیں یا انسان بھی بنا رہے ہیں؟ کیا ہم صرف امتحانات کی تیاری کرا رہے ہیں یا زندگی کے لیے بھی تیار کر رہے ہیں؟ کیا ہمارے طلبہ ہمارے پاس سے محض معلومات لے کر جا رہے ہیں یا وہ سچائی، دیانت، ادب، حیا، خدمت اور ذمہ داری کا شعور بھی اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں؟
آئیے! ہم عہد کریں کہ اپنی تدریس کو عبادت کے جذبے، اپنی تربیت کو خیر خواہی، اپنے رویّے کو شفقت، اپنے فیصلوں کو عدل اور اپنی شخصیت کو مثالی بنانے کی کوشش کریں گے۔ ہم طلبہ کی ذہانت کے ساتھ ان کے کردار پر بھی توجہ دیں گے، ان کی کامیابی کے ساتھ ان کی اخلاقی پختگی کو بھی اہمیت دیں گے اور ان کی علمی ترقی کے ساتھ ان کی روحانی و انسانی بالیدگی کے لیے بھی محنت کریں گے۔کیونکہ استاد کا اصل کمال صرف یہ نہیں کہ وہ کتنے اسباق پڑھا گیا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی تعلیم سے کتنے ذہن روشن، کتنے کردار مضبوط اور کتنی زندگیاں بہتر ہوئیں۔ہمیں ایسے معلم بننا ہے جو علم کی شمع روشن کریں، اخلاق کے چراغ جلائیں، فکر کو پختگی بخشیں، شخصیتوں کو نکھاریں اور آنے والی نسلوں کے لیے خیر و ہدایت کا راستہ ہموار کریں۔یاد رکھیے! سبق پڑھانا ایک پیشہ ہو سکتا ہے، لیکن نسلوں کی تعمیر ایک مقدس مشن ہے۔ کتابیں پڑھانے والے بہت مل جاتے ہیں، مگر کتابوں کے علم کو زندگی کے عمل میں ڈھالنے والے معلم خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ الفاظ کی تشریح کرنا آسان ہے، لیکن ان الفاظ کی روشنی میں کردار سنوارنا، فکر کو پاکیزگی بخشنا اور دلوں میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرنا ایک عظیم فن ہے؛ اور یہی فن معلم کو محض مدرس سے مربی بناتا ہے۔یقیناً، نسلوں کی تعمیر کوئی ایک دن کا کام نہیں۔ یہ صبر، محبت، حکمت، استقامت اور اخلاص کا طویل سفر ہے۔ اس کے نتائج کبھی فوراً دکھائی نہیں دیتے۔ ممکن ہے آپ کا پڑھایا ہوا کوئی طالب علم برسوں بعد آپ کی کسی نصیحت کو یاد کرے؛ ممکن ہے آپ کا دیا ہوا کوئی حوصلہ کسی مایوس انسان کی زندگی بدل دے؛ ممکن ہے آپ کے کردار کی کوئی جھلک کسی نوجوان کو حق و صداقت کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کر دے۔ یہی تو معلم کی وہ خاموش کامیابی ہے جسے نہ امتحانی نتائج پوری طرح ناپ سکتے ہیں اور نہ دنیاوی اعزازات اس کا احاطہ کر سکتے ہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان وفات پا جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، جن میں نفع بخش علم بھی شامل ہے۔ (صحیح مسلم: ۱۳۶۱) اس بشارت کی روشنی میں ایک مخلص معلم کے لیے امید کا کتنا روشن دروازہ کھلتا ہے! وہ علم جو کسی طالب علم کے عمل میں ڈھل جائے، وہ خیر جو کسی شاگرد کے ذریعے دوسروں تک پہنچے، اور وہ اخلاقی روشنی جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہے، اس کے اثرات معلم کی زندگی کے بعد بھی باقی رہ سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں علمِ نافع، عملِ صالح، اخلاصِ نیت اور حسنِ اخلاق سے مزین فرمائے، ہمارے علم و عمل کو طلبہ کے لیے ذریعہ ہدایت بنائے اور ہمیں ایسی نسلیں تیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو ایمان میں پختہ، کردار میں بلند، فکر میں روشن اور خدمتِ انسانیت میں پیش پیش ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ علم سکھانے، حکمت کے ساتھ تربیت کرنے، اپنے کردار کو بہتر بنانے اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہماری محنت کو طلبہ کی اصلاح، معاشرے کی بھلائی اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بنائے۔آمین یا رب العالمین!