انسان کی زندگی میں کبھی ایسے حالات آتے ہیں جب وہ کسی انسان کو راضی کرنے کے لیے بہت کوشش کرتا ہے۔ کبھی کسی کی خوشامد کرتا ہے، کبھی بار بار معافی مانگتا ہے، اور کبھی اپنی عزتِ نفس تک کو داؤ پر لگا دیتا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ضروری نہیں کہ وہ انسان راضی ہو جائے۔ اس کے برعکس ہمارا رب ایسا کریم اور مہربان ہے کہ بندہ جب سچے دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے، اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے اور اس سے معافی مانگتا ہے تو وہ اپنے بندے کے لیے توبہ اور رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ کو منانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس کی ناراضگی کا سبب بننے والے کاموں سے توبہ کرے، اس کے احکامات کی پابندی کرے، حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرے اور اپنی زندگی کو اس کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے۔۔۔۔ اللہ تعالی نے ان بندوں سے جو بہت سارے گناہ کر چکے ہیں فرمایا کہ مایوس ہرگز نہ ہوں
قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (الزمر: 53)
کہہ دیجیے: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں بے شک اللہ سارے گناہ معاف کر دیتا ہے، وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
ایک اور جگہ پر اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرہ: 222)
بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں کو پسندکرتا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
سچی توبہ کرنے والوں کی اللہ تبارک و تعالی کے پاس بڑی قدر ہے چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے ارشاد فرمایا
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا (التحریم: 8)
اے ایمان والو! اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو۔کتنا پیارا خدا ہے کہ اللہ تعالی بندوں کے برابر ہو کر فرما رہے ہیں کہ تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا
فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ (البقرہ: 152)
تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا، میرا شکر کرو اور ناشکری نہ کرو۔
توبہ کی قبولیت کا اللہ تعالی نے اعلان فرمایا وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ (الشوریٰ: 25)
وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور برائیوں سے درگزر فرماتا ہے۔
کسی سے کوئی گناہ ہو جائے اور وہ استغفار کرے معافی مانگے تو اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اللہ کو وہ ضرور معاف کرنے والا پائے گا چنانچہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء: 110)
جو کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ سے معافی مانگے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا۔
کسی نے بڑا گناہ کیا پھر اس کے بعد اس کو احساس ہو گیا اور اس نے اللہ تعالی سے معافی مانگی اللہ فرماتے ہیں اللہ اس کو بھی معاف فرمائے گا
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَن يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ (آل عمران: 135)
وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کریں یا اپنی جانوں پر ظلم کریں پھر اللہ کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور اللہ کے سوا گناہ کون بخش سکتا ہے۔۔۔۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ اللہ تعالی کہاں ہیں تو اللہ تعالی نے جواب میں ارشاد فرمایا
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرہ: 186)
جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔
مانگنے والے سے اللہ تعالی خوش ہوتے ہیں نہ مانگنے والے پر اللہ تعالی ناراض ہوتے ہیں وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (غافر: 60)
تمہارے رب نے فرمایا: مجھے پکارو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔
اللہ تعالی کے غصے پر اللہ کی رحمت بھاری پڑ جاتی ہے
وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ (الاعراف: 156)
اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔
گناہ ہو جانے کے بعد سچی توبہ کرنے والے کے گناہوں کو اللہ تعالی نے نیکیوں سے بدلنے کا اعلان فرمایا ہے
إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ (الفرقان: 70)
مگر جو توبہ کرے، ایمان لائے اور نیک عمل کرے، تو اللہ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا۔
ان ساری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی بندوں کو معاف کرنا چاہتے ہیں بندوں کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا چاہتے ہیں بشرطیکہ بندے اللہ تعالی کی طرف سچے دل سے معافی مانگنے کے لیے رجوع کریں ۔۔۔۔
بندہ سچے دل کے ساتھ اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتا ہے چاہے وہ کتنے بھی گناہ کر چکا ہو بڑے گناہ ہوں یا چھوٹے گناہ سارے گناہوں کو معاف کرنے کا اللہ نے اعلان فرمایا
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ مِنْكَ وَلَا أُبَالِي. يَا ابْنَ آدَمَ، لَوْ بَلَغَتْ ذُنُوبُكَ عَنَانَ السَّمَاءِ ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ وَلَا أُبَالِي. يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً (ترمذی)
اللہ فرماتا ہے: اے ابنِ آدم! جب تک تو مجھے پکارتا اور مجھ سے امید رکھتا رہے گا، میں تیرے گناہ بخشتا رہوں گا اور پروا نہیں کروں گا۔ اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جائیں پھر تو معافی مانگے تو بھی بخش دوں گا۔ اور اگر تو زمین بھر خطائیں لے کر آئے، بشرطیکہ شرک نہ کیا ہو، تو میں زمین بھر مغفرت لے کر تجھے ملوں گا۔
اللہ تعالی کتنے مہربان ہیں اس حدیث شریف سے اندازہ کیا جا سکتا ہے
إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا (صحیح مسلم)
اللہ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گنہگار توبہ کر لے، اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گنہگار توبہ کر لے، یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو۔(یعنی اس کی موت کا وقت ا جائے یا قیامت ا جائے )
لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ سَقَطَ عَلَى بَعِيرِهِ وَقَدْ أَضَلَّهُ فِي أَرْضِ فَلَاةٍ (صحیح مسلم)
اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جسے بیابان میں گمشدہ سواری مل جائے۔ (حدیث میں ہے کہ اس سواری پر اس کا کھانا پینا بھی تھا۔)
کوئی اللہ تعالی سے معافی مانگ کر تو دیکھے اللہ تعالی کتنے مہربان ہیں اندازہ ہوگا بندہ ایک قدم اگے بڑھاتا ہے اللہ تعالی اس کی طرف اپنی رحمت سے ایسے اگے بڑھتے ہیں
وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً (صحیح بخاری و مسلم)
اگر بندہ ایک بالشت میرے قریب آئے تو میں ایک ہاتھ قریب آتا ہوں، وہ ایک ہاتھ آئے تو میں دونوں بازوؤں کے پھیلاؤ جتنا قریب آتا ہوں، اور وہ چلتا ہوا آئے تو میں دوڑتا ہوا آتا ہوں۔
گناہوں سے سچی توبہ کرنے والا اللہ تعالی کی نظر میں ایسا ہو جاتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا
التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهُ (ابن ماجہ)
گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس کا کوئی گناہ ہی نہیں۔۔۔۔۔
ہر انسان سے گناہ ہوتا ہے اللہ کی نظر میں وہ بندہ محبوب اور پسندیدہ ہے جو غلطی اور گناہ ہو جانے پر فورا توبہ کر لے
كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ، وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ (ترمذی، ابن ماجہ)
ہر انسان خطا کار ہے، اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو بہت توبہ کرتے ہیں۔
انسان کی موت انے کی علامت ظاہر ہونے سے پہلے پہلے ہر توبہ قبول کی جاتی ہے
إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ مَا لَمْ يُغَرْغِرْ (ترمذی)
اللہ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک نزع کی حالت (سانس اکھڑنا) شروع نہ ہو۔
اللہ تعالی کے غصے اور ناراضگی پر اللہ تعالی کی رحمت بھاری ہوتی ہے
إِنَّ رَحْمَتِي سَبَقَتْ غَضَبِي (صحیح بخاری و مسلم)
میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔
ایک ماں اپنے بچے سے جتنی زیادہ محبت کرتی ہے اس سے زیادہ اللہ تعالی اپنے بندوں سے محبت کرتے ہیں
لَلَّهُ أَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا (صحیح بخاری و مسلم)
اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنی یہ ماں اپنے بچے پر ہے۔ (یہ آپ ﷺ نے ایک قیدی ماں کو بچے سے ملتے دیکھ کر فرمایا۔)
گناہ کر کے توبہ کرنے والے اللہ تعالی کی نظر میں محبوب اور پسندیدہ ہیں
وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ اللَّهُ بِكُمْ، وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ اللَّهَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ (صحیح مسلم)
قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ تمہیں لے جائے اور ایسے لوگ لائے جو گناہ کریں پھر اللہ سے معافی مانگیں اور وہ انہیں بخش دے۔ (مطلب یہ ہے کہ اللہ کو معافی مانگنا پسند ہے، گناہ کی ترغیب نہیں۔)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے سارے گناہوں کی معافی کا اللہ تعالی نے اعلان فرمایا اس کے باوجود رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر دن 70 مرتبہ استغفار یعنی اللہ تعالی سے معافی مانگا کرتے تھے
وَاللَّهِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً (صحیح بخاری)
اللہ کی قسم! میں روزانہ ستر سے زیادہ بار اللہ سے استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔ (یہ نبی ﷺ کا عمل ہے جو معصوم تھے، تو ہم کتنے محتاج ہیں!)
ایک اور حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں روزانہ 100 مرتبہ اللہ تعالی سے معافی استغفار کیا کرتا ہوں
يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى اللَّهِ، فَإِنِّي أَتُوبُ فِي الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ (صحیح مسلم)
لوگو! اللہ کے سامنے توبہ کرو، میں روزانہ سو بار اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔۔۔۔۔
★ توبہ سے متعلق حضرات علماء کرام نے تحریر فرمایا ہے کہ
"اللہ نے توبہ قبول کرنا لازم کرلیا اپنے آپ پر ان لوگوں کے لیے ہے جو نادانی (یا جذبات میں آ کر) گناہ کر بیٹھتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ اللہ ایسے ہی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے، اور اللہ سب کچھ جاننے والا، حکمت والا ہے۔”(النساء 17)
اس آیت میں "جہالت” سے مراد علم کی کمی نہیں بلکہ عارضی غفلت مراد ہے۔۔۔۔ یعنی جب کوئی انسان خدا سے بغاوت کے لیے نہیں، بلکہ جذبات، غصے یا شیطان کے بہکاوے میں آ کر کمزوری کی وجہ سے گناہ کر بیٹھتا ہے۔
★ جلدی توبہ: گناہ کے بعد انسان ضدی نہ بنے، بلکہ جوں ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہو (یا موت کا وقت آنے سے پہلے پہلے) وہ سچے دل سے شرمندہ ہو کر خدا سے معافی مانگ لے۔
★ اللہ کا وعدہ: جو شخص اس طرح سچے دل سے رجوع کرتا ہے، اللہ نے اپنے کرم سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی توبہ ضرور قبول کرے گا کیونکہ وہ دلوں کے حال جانتا ہے۔۔۔۔۔
★ حقوق اللہ سے متعلق توبہ کی 3 شرائط:
★ اگر گناہ کا تعلق صرف اللہ تعالیٰ کے حق سے ہے (مثلاً نماز چھوڑنا، شراب پینا، یا کوئی اور معصیت)، تو اس کی تین شرائط ہیں:
(1) گناہ کو فوراً ترک کر دینا: جس گناہ میں بندہ مبتلا ہے اسے اسی وقت چھوڑ دے۔
(2) گذشتہ گناہ پر ندامت: دل میں اس بات کا شدید افسوس اور شرمندگی ہو کہ اس نے یہ نافرمانی کیوں کی۔
(3) آئندہ وہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم: دل میں مصمم ارادہ کرے کہ وہ دوبارہ اس گناہ کی طرف نہیں لوٹے گا۔
★حقوق العباد سے متعلق توبہ کی چوتھی شرط:
(4) اگر اس گناہ کا تعلق کسی دوسرے انسان کے حقوق سے ہے (مثلاً کسی کا مال چھینا، جھوٹا الزام لگایا، غیبت کی، یا کسی کو جسمانی/مالی نقصان پہنچایا)، تو ان تین شرائط کے ساتھ چوتھی شرط کا ہونا بھی ضروری ہے:
★ حق واپس کرنا یا معاف کروانا: اس شخص کا حق اسے واپس لوٹائے، یا اس سے معافی مانگے۔۔۔۔۔
★ بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جس نے 99 انسانوں کو قتل کیا تھا۔ ایک دن اس کے دل میں توبہ کا خیال آیا، تو اس نے لوگوں سے پوچھا کہ اس وقت زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟ لوگوں نے اسے ایک عابد (عبادت گزار شخص) کا پتہ بتایا۔ وہ اس عابد کے پاس گیا اور کہا کہ میں نے 99 قتل کیے ہیں، کیا میری توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ عابد نے جواب دیا: "نہیں، تمہاری کوئی توبہ نہیں ہو سکتی۔” یہ سن کر اس شخص کو غصہ آ گیا اور اس نے اس عابد کو بھی قتل کر دیا، جس سے اس کے مقتولین کی تعداد 100 ہو گئی۔۔۔
اس کے بعد اس نے پھر لوگوں سے پوچھا کہ زمین پر سب سے بڑا عالم کون ہے؟ اس بار لوگوں نے اسے ایک دور اندیش عالم کا پتہ بتایا۔ اس نے عالم کے پاس جا کر کہا کہ میں نے 100 قتل کیے ہیں، کیا میری توبہ کی کوئی راہ ہے؟ عالم نے جواب دیا: "ہاں، بالکل ہے! تمہارے اور توبہ کے درمیان کون سی چیز رکاوٹ بن سکتی ہے؟ لیکن تم یہ (گناہوں والی) زمین چھوڑ دو اور فلاں بستی کی طرف چلے جاؤ، کیونکہ وہاں ایسے لوگ رہتے ہیں جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ تم بھی ان کے ساتھ مل کر اللہ کی عبادت کرو اور اپنے وطن واپس مت آنا”
وہ شخص عالم کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اس نیک بستی کی طرف چل پڑا۔ ابھی اس نے آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ اس کی موت کا وقت اگیا ۔۔۔۔
اس کی روح قبض کرنے کے لیے رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے دونوں آ گئے۔
★ رحمت کے فرشتوں نے کہا: "یہ شخص سچے دل سے توبہ کر کے اللہ کی طرف رجوع کر رہا تھا۔”
★ عذاب کے فرشتوں نے کہا: "اس نے زندگی میں کبھی کوئی نیک کام نہیں کیا۔”۔۔۔۔
اسی دوران اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو انسان کی شکل میں ان کے پاس منصف اور حکم بنا کر بھیجا۔ اس نے فیصلہ کیا: "تم دونوں بستیوں (گناہوں والی بستی اور نیک لوگوں کی بستی) کا فاصلہ ناپ لو، یہ شخص جس بستی کے زیادہ قریب ہو، اسی کا حقدار مانا جائے گا۔”
جب فرشتوں نے زمین کو ناپا، تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین سمیٹ دی گئی اور وہ شخص نیک بستی کی طرف صرف ایک بالشت (ایک ہاتھ) زیادہ قریب نکلا۔ چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اس کی روح کو اپنے ساتھ لے لیا اور اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی۔۔۔۔۔
★ ایک انصاری نوجوان صحابی تھے جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت گزاری پر مامور تھے۔
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے انہیں کسی کام سے بھیجا۔ راستے میں ان کی نظر اتفاقاً ایک انصاری کے گھر کے اندر چلی گئی جہاں ایک خاتون غسل کر رہی تھیں۔ نظر پڑتے ہی ان کے دل میں شدید پشیمانی اور خوفِ خدا پیدا ہوا کہ کہیں میری اس حرکت پر اللہ تعالیٰ وحی نازل کر کے رسول اللہ ﷺ کو آگاہ نہ کر دے۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس خوف اور ندامت کی وجہ سے مدینہ سے نکل کر مکہ اور مدینہ کے درمیان پہاڑوں میں چلے گئے اور وہاں رو رو کر توبہ کرنے لگے۔ چالیس دن تک جب وہ واپس نہ آئے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ ﷺ کو بتایا کہ آپ کا ایک امتی پہاڑوں میں خوفِ خدا سے گریہ و زاری کر رہا ہے۔۔۔۔
آپ ﷺ نے حضرت عمر اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہم کو انہیں لانے کے لیے بھیجا۔ جب انہیں مدینہ لایا گیا تو وہ شدید کمزور ہو چکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی گود میں لیا، تو انہوں نے روتے ہوئے عرض کی: "یا رسول اللہ! مجھے اپنے گناہوں کا خوف کھائے جا رہا ہے۔” اسی دوران ان کی روح پرواز کر گئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی ہے اور ان کے جنازے کے ساتھ فرشتوں کا ہجوم ہے۔۔۔۔۔
★ اولیاءاللّه اور بزرگان دین کے واقعات میں ملتا ہے کہ "فضیل بن عیاضؒ” علیہ الرحمہ پہلے ڈاکہ ڈالا کرتے تھے۔ ایک رات دیوار پر چڑھ رہے تھے کہ کسی تلاوت کرنے والے کی آواز کان میں سنائ دی
أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ (الحدید: 16)،
یعنی کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر کے آگے جھک جائیں؟
حضرت فضیل بن عیاض بول اٹھے : "ہاں اے میرے پروردگار ! وہ وقت آ گیا۔” اسی لمحے سچی اور پکی توبہ کی اوراللہ تعالی نے انکی توبہ قبول فرمائ ۔۔۔۔ بعد میں فضیل ابن عیاض رحمہ اللہ اپنے وقت کے بڑے اولیاء میں شمار ہوئے۔
★ مالک بن دینارؒ کے بارے میں منقول ہے کہ جوانی میں غفلت کی زندگی گزارا کرتے تھے۔ اللہ تعالی کی طرف سے انہیں ایک ایسا منظر دکھایا گیا جس میں پکار تھی: "اے مالک! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تو اپنے رب کی طرف لوٹ آئے؟” وہ جاگ کر رو پڑے، توبہ کی اور بصرہ کے مشہور زاہد بنے۔۔۔۔۔
★ عبداللہ بن مبارک علیہ الرحمہ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک رات کسی مخلوق کے انتظار میں صبح کی اذان تک جاگتے رہے۔ اذان سنی تو خیال آیا کہ میں ساری رات مخلوق کے لیے جاگا، رب کے لیے نہیں۔ اسی لمحے توبہ کی توفیق ملی اورسچی پکی توبہ کی پھر نیکی کے کاموں میں مشغول ہو گئے علم و جہاد میں بلند مقام پایا۔۔۔۔
★ حضرت عبداللہ بن عمر رضي اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا (اور آپ ﷺ نے اسے کئی بار دہرایا):
بنی اسرائیل میں "کفل” نامی ایک شخص تھا جو گناہوں سے بالکل پرہیز نہیں کرتا تھا اور کوئی برائی ایسی نہ تھی جو اس سے سرزد نہ ہوتی ہو۔ ایک مرتبہ اس کے پاس ایک عورت آئی جسے پیسوں کی سخت ضرورت تھی، تو اس نے اسے ساٹھ (60) دینار اس شرط پر دیے کہ وہ اس کے ساتھ برائی (زنا) کرے۔
جب وہ اس عورت کے قریب پہنچا اور بالکل اسی طرح تیار ہوا جس طرح مرد عورت کے پاس جاتا ہے، تو وہ عورت کانپنے لگی اور زار و قطار رونے لگی۔
کفل نے پوچھا: "تم کیوں رو رہی ہو؟ کیا میں نے تمہیں اس کام پر مجبور کیا ہے؟”
عورت نے کانپتے ہوئے کہا: "نہیں، (مجبوری نے مجبور کیا ہے) لیکن یہ کام میں نے پہلے کبھی نہیں کیا، اور آج جو یہ قدم اٹھا رہی ہوں، تو یہ صرف فاقہ کشی اور مجبوری کی وجہ سے ہے۔”
یہ سن کر کفل کے دل میں خدا کا خوف جاگ اٹھا۔ اس کا ضمیر ملامت کرنے لگا۔ اس نے کہا: "تو پھر اٹھ جا! (میں یہ گناہ نہیں کرتا) اور یہ ساٹھ دینار بھی تیرے ہی ہیں، آج کے بعد میں اللہ کی نافرمانی کبھی نہیں کروں گا۔”
چنانچہ اس نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور توبہ کر لی۔ اتفاق سے اسی رات اس کا انتقال ہو گیا۔
جب صبح ہوئی تو لوگوں نے اس کے دروازے پر قدرتی طور پر (یا کسی غیبی ذریعے سے) لکھا ہوا پایا:
"إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لِلْكِفْلِ”
(بلاشبہ اللہ نے کفل کو بخش دیا ہے)۔(جامع ترمذی 2496)
★ بشر حافی علیہ الرحمہ کے بارے میں مشہور ہےایک دن کسی راستے سے گزر رہے تھے کہ زمین پر ایک کاغذ پڑا دیکھا فورا اٹھالیا اور دیکھا تو اس پر اللہ کا نام لکھا تھا۔ اللہ تعالی نے توفیق دی کہ اللہ کے نام کو عزت بخشیں چنانچہ انہوں نے اس کاغذ کو عطر لگایا اور کسی اونچی جگہ عزت سے رکھ دیا۔ رات خواب میں آواز آئی: "اے بشر! تم نے میرا نام پاک کیا، میں بھی تمہیں پاک کر دوں گا۔” اس کے بعد انہوں نے توبہ کی اور اللہ کی راہ اختیار کر لی۔۔۔۔۔
★ ابراہیم بن ادھم علیہ الرحمہ بلخ کے شاہی خاندان سے تھے۔۔۔۔منقول ہے کہ شکار کے دوران غیب سے آواز آئی: "تمہیں اس کام کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔” وہ فوراً سب کچھ چھوڑ کر اللہ کی راہ پر نکل پڑے اور زہد و تقویٰ میں اپنے وقت کے اللہ والے مشہور ہوئے۔۔۔۔
ان آ یات اور احادیث مبارکہ اور حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات بزرگان دین اولیاء اللہ کی توبہ کے واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالی ہر اس بندے کی توبہ کو ضرور قبول فرماتے ہیں جو سچی توبہ کرے ۔۔۔۔
اسی وجہ سے کسی درد مند شخص کے دل سے یہ جملہ نکلا کہ "سب سے زیادہ اسان اللہ تعالی کو منانا ہے "