نازیہ خانم کی موت جہیز کی بھینٹ ایک اور بیٹی

نازیہ خانم کی موت جہیز کی بھینٹ  ایک اور بیٹی

نازیہ خانم کی موت جہیز کی بھینٹ ایک اور بیٹی

ازقلم: شیخ سلیم
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا

 

نئی دہلی، 21 اگست وزارتِ دفاع میں اسسٹنٹ سیکشن آفیسر کے عہدے پر فائز 30 سالہ نازیہ خانم جمعہ کے روز جنوب مغربی دہلی کے دوارکا میں واقع اپنی رہائش گاہ میں مردہ حالت میں پائی گئیں۔ نازیہ تین ماہ کی حاملہ تھیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق انہیں بے ہوشی کی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق خودکشی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکٹر 23 پولیس اسٹیشن کی ٹیم شام تقریباً 4:21 بجے موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔ نازیہ کے اہلِ خانہ کو ان کی موت کی اطلاع 21 اگست کی صبح تقریباً 4 بجے دی گئی تھی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے دین دیال اپادھیائے اسپتال بھیجا گیا، جہاں کارروائی ابھی مکمل نہیں ہو سکی۔ خاندان نے پوسٹ مارٹم کی ویڈیوگرافی اور تمام شواہد کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
نازیہ کی شادی رواں سال 11 اپریل کو محمد اعظم علی خان سے ہوئی تھی، جو گڑگاؤں میں سپلائی چین مینیجر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یعنی شادی کو محض چار ماہ ہی گزرے تھے کہ یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
پولیس کو دیے گئے بیان میں شوہر کا کہنا ہے کہ واقعے سے قبل میاں بیوی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد نازیہ نے خود کو کمرے میں بند کر لیا۔ ان کے بقول جب وہ بعد میں کمرے میں داخل ہوئے تو نازیہ کھڑکی سے لٹکی ہوئی حالت میں ملیں۔
دوسری جانب نازیہ کے اہلِ خانہ نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نازیہ کو جہیز کے سلسلے میں مسلسل ذہنی اور جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ نازیہ کے والد توآب خان کے مطابق بیٹی اکثر گھر والوں سے رابطہ کر کے ازدواجی زندگی کے مسائل کا ذکر کرتی تھیں۔ خاندان کا الزام ہے کہ انہیں شوہر محمد اعظم علی خان، ساس سمین نشا اور سسر بابر علی خان کی جانب سے ہراساں کیا جاتا تھا۔ رشتہ داروں نے موت کے حالات پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ طور پر انہیں قتل کر کے واقعے کو خودکشی کا رنگ دیا گیا ہو۔
اہلِ خانہ کی شکایت پر پولیس نے شوہر اور سسرال کے افراد کے خلاف زبانی اور جسمانی تشدد، دھمکیوں، ظلم و زیادتی اور خودکشی پر اکسانے سمیت متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق محمد اعظم علی خان فی الحال مفرور ہیں اور پولیس ان کی گرفتاری کے لیے تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ واقعہ ابھی تحقیقات کے مرحلے میں ہے۔ خاندان کی جانب سے جہیز کے لیے ہراسانی اور خودکشی پر اکسانے کے الزامات ایک شکایت کی بنیاد پر ہیں، جبکہ شوہر کا بیان واقعے کی مختلف تصویر پیش کرتا ہے۔ ان دونوں موقف کی حتمی تصدیق پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک شواہد اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو سکے گی۔
یہ ایک اور افسوس ناک واقعہ ہے جو ہمارے مسلم سماج میں جہیز کی لعنت کے باعث ایک زندگی، اور اس کے ساتھ ایک زندگی جو ابھی دنیا میں آئی ہی نہیں اور مار دی گئی۔ کسی کی بیٹی،ایک باصلاحیت سرکاری افسر، جو وزارتِ دفاع جیسے ذمہ دار ادارے میں خدمات انجام دے رہی تھی، محض چار ماہ کی ازدواجی زندگی میں اس انجام کو پہنچی۔یہ ہمارے مسلم سماج کے لیے یہ ایک لمحہ فکر ہے۔شاید اسی لیے بیٹی کی پیدائش کو سماج اچھی نظروں سے نہیں دیکھتا ماں باپ کو شادی میں خرچ کرنا پڑتا ہے چاہے یا نہ چاہیں جہیز کا مطالبہ اور ساتھ میں نوکری کرنے والی بیوی کا مطالبہ یہ ساری خبریں سن کر ٹی وی پر دیکھ کر بیٹی والے کیا اندازہ لگاتے ہوں گے آپ اندازہ نہیں لگا سکتے ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے