پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت کا دن تمام امت مسلمہ کے لیے بہت بڑا دن ہے، آپ کی ولادت ہم گنہ گاروں کے لیے باعث فخر بھی ہے کہ ہم جس نبی کے امتی ہیں،جن کا کلمہ پڑھتے ہیں، اس دنیا میں ان کی تشریف آوری سے جہالت کی تاریکی دور ہوئی، جاہلانہ رسم و رواج ختم ہوئے اور انسانیت کو عزت و بلندی حاصل ہوئی ،آپ کے نور سے کائنات منورہوئی،اسی لیے آپ کی ولادت کا جشن مناکر ہم اپنی غلامی کا ثبوت دینا چاہتے ہیں ۔ہر جائز و مستحسن طریقے سے ہم جشن منا سکتے ہیں اور لغو کام ،بے ڈھنگے اچھل کود سے ہم کو بچنا چاہیے ۔میلاد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو منانے میں ہمیں ہرحال میں شریعت کی حدود کا خیال رکھنا ہے ۔ایسا نہ ہو کہ ایک جائز و مستحب کا م کے لیے فرائض و واجبات کو ترک کردیںاور رب کی ناراضگی مول لیں،جشن کو بھی منائیں اور عبادات کو ان کے وقتوں میں بجا لائیں۔
ہم ان کا جشن بہت دھوم دھام سے مناتے ہیں ،ضرور منائیںلیکن مناتے وقت اس طریقے سے بھی اپنا جائزہ لیں کہ ہم جشن ولادت تو منا رہے ہیں لیکن کیاہم رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرت پر عمل پیرا بھی ہیں، ہم ان کی سیرت کو پڑھتے بھی ہیں،ہم ان کی مبارک سیرت کو کتنا عام کر رہے ہیںتاکہ نبوی تعلیمات سے سارے عالم کو آگاہ کر دیں۔بے شک رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمام امت مسلمہ کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔بہترین آئیڈیل ہے۔
پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرت پاک کو ہم جس اعتبار سے بھی دیکھیں وہ قابل تقلید نمونہ ہے، آپ کی سیرت میں چاہے وہ گھریلو زندگی کا پہلو ہو یا سماجی پہلو ہو یاآپ کا مبارک بچپن ہو ،پاکیزہ جوانی ہو یا عفت مآب بڑھاپا ہو ،تبلیغ دین کا پہلو ہو یا غزوات و سرایا کی تیاری کا پہلوہو ،ہر اعتبار سے آپ کی حیات طیبہ ایک بہترین نمونہ ہے۔آپ کی حیات کا ہر ہر پہلو ہمارے لیے بہترین آئیڈیل ہے ۔آپ ایسے آئیڈیل ہیں کہ آپ کے بعد تو ہمیں کسی اور کے طرف دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔
کیا ہم صرف بارہویں شریف منا لیں، جلوس میلادنکال لیں،واٹس ایپ پراسٹیٹس لگا لیں توآقا کی غلامی کا حق ادا نہیں ہو جاتابلکہ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم سنت و سیرت پربھی صحیح طریقے سے عمل پیرا ہوں۔ ہمارا انداز، ہمارا کردار ،ہمارا طرز زندگی سنت رسول کے مطابق ہونا چاہیے۔
ہم بس اس ماہ ربیع النور شریف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق نہ بنیںبلکہ ہر گھڑی ،ہر لمحہ، زندگی کا ایک ایک لمحہ سیرت رسول کو مدنظر رکھتے ہوئے گزاریںتاکہ اللہ عزوجل اور اس کے رسول ہم سے راضی ہوں ۔ہم میلاد منائیں ساتھ میں سچے نمازی بھی بنیں، ہم اپنا ظاہر ستھرا کریں، ساتھ ہی باطن بھی ستھرا کریں ،باہر لائٹیں تو ضرور لگائیں،چراغاں بھی کریں،ساتھ ہی اپنے باطن میں بھی عشق مصطفیٰ کاچراغاں کریں ،دلوں کو عشق رسول سے منورومجلّٰی کریں۔ لوگوں کے لیے بھلائی و ہمدردی کا جذبہ رکھیں ،دوسروں کی دل جوئی کرنا سیکھیں ۔لوگوں کی فلاح وبہبود کا کام کریں۔
اپنے پیارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یاد کرنے کے لیے درد پاک کی کثرت کریں ۔یہ ایسا عمل ہے جسے قبولیت کا شرف حاصل ہے تو کیوں نہ ہم آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مہینے میں انہیں محبتوں بھرے درود کا نذرانہ پیش کریں ۔درود پاک کی بڑی فضیلتیں آئی ہیں اس کا ورد تمام پریشانیوں کا حل ہے ۔درود پاک پڑھنے والا دنیا اور آخرت کی بھلائیاں پاتاہے کیونکہ جو کثرت سے درودپاک پڑھتا ہے وہ پیارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کا محبوب بن جاتا ہے اور جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا محبوب بن جائے پھر وہ اللہ رب العزت کا محبوب بن جاتا ہے، سبحان اللہ اور جو رب تعالیٰ کا محبوب بن جائے پھر کیاکہنے وہ دنیا میں بھی سرخرو ہو جاتا ہے اور آخرت میں بھی۔
ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو دنیا میں مجھ پر کثرت سے درود پاک پڑھتا ہوگا۔
تو ہمیںپیارے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان عالی شان بھی یاد رکھنا چاہیے اور حضور پاک کا میلادبھی گج وج کے منانا چاہیے ۔
حشر تک ڈالیں گے ہم پیدائش مولا کی دھوم
مثل فارس نجد کے قلعے گراتے جائیں گے
خاک ہو جائیں اور عدو جل کر مگر ہم تو رضا
دم میں جب تک دم ہے ذکر ان کا سناتے جائیں گے
(حدائق بخشش)
بے شک یہ ارادہ کوئی دو چار دن کا نہیں ہے بلکہ ہمارے اعلیٰ حضرت نے سکھا دیا کہ حشر تک ڈالیں گے پیدائش مولا کی دھوم، ہم دو چار دن نہیںبلکہ حشر تک حضور کی ولادت کی خوشیاں منائیں گے۔ دھومیں مچائیں گے،جب تک دم میں دم رہے گا ہم ذکر ان کاسناتے جائیں گے ۔ کیوں نہ سنائیں ،خوشیاں کیوں نہ منائیں کیوں کہ یہ تو وجہِ تخلیقِ کائنات کا جشن ہے ۔توکیوں نہ ہم منائیں بالخصوص ہم بیٹیوں کو تومیلاد منانا ہی چاہیے کہ جن کی تشریف آوری سے بیٹیوں کو سرخروئی نصیب ہوئی ،انہیںکی وجہ سے ہمیں عزت ملی ورنہ ہم بیٹیاں تو پیدا ہوتے ہی درگور کر دی جاتی تھیں۔آپ کی آمد سے توہمیں نئی حیات ملی۔ ہمارے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں عزت و آبرو، شان و شوکت والی زندگی عطا کی،ہماری قدر ومنزلت بڑھا دی تو ہم کیوں نہ ان کی پیاری سیرت کے ایک ایک پہلو کو اپنی زندگی میں بسائیں، کیوں نہ ان کے آنے کا جشن منائیں ۔
اب ہم پر ضروری ہے کہ ہم سیر ت پاک کا مطالعہ خود بھی کریں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں،اور اپنی زندگی سیرت و سنت کے مطابق گزاریں ، اسی میں ہمارے لیے دنیا وآخرت کی بھلائی ہے ۔