ایک زمانے تک ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان اچھے سفارتی اور تجارتی تعلقات رہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کوئی سخت بیان سامنے آتا ہے تو لوگ پرانے تعلقات کا حوالہ دے کر اسے مشکوک کردیتے لیکن اب ترکیہ نےاسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی وارنٹ جاری کرکے ان شکوک و شبہات کے ازالہ کا بہت ٹھوس اشارہ دے دیا ہے۔ اس بابت ترکیہ کے وزیرِ انصاف اَکِن گُرلک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ یہ وارنٹ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے ایک بحری قافلے کو روکنے کے معاملے کی تحقیقات کے حصے کے طور پر جاری کیا گیا ہے۔اَکِن گُرلک نےاپنےبیان میں مزید کہا کہ ہم اس خیال کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہیں کہ غزہ میں نسل کشی کی پالیسی پر عمل پیرا نیتن یاہو کی حکومت قانون سے بالاتر ہے اور اسے اپنے اعمال کا جواب نہیں دینا پڑے گا۔’ہم غزہ میں کیے جانے والے جرائم کو چُھپانے یا اُن کے ذمہ داروں کو سزا سے بچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم قومی اور بین الاقوامی قانون کے تحت حاصل تمام ممکنہ قانونی اقدامات اٹھائیں گے۔ وزیرِ انصاف نے مزید کہا کہ ’ترکیہ فلسطین کے عوام، مظلوموں اور انسانیت کے اجتماعی ضمیر کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا رہے گااور خلافِ انسانیت جرائم کرنے والوں کو قانون کے سامنے جواب دہ بنایا جائے گا۔
پچھلےدنوں شمالی شام کےشہرادلب میں واقع ابو الظہور اڈے پر اسرائیل نے بمباری کردی جس سے ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ۔ اس کے بعد اسرائیل خود ڈر گیا اور اس نے کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اپنے سکیورٹی عہدیدار سے اعلان کروایا کہ وہ ترکیہ کو دشمن نہیں بنانا چاہتا۔ وہ اگر واقعی ایسا چاہتا ہے تو اسے شام میں مزید کارروائی کا خیال اپنے دماغ سے نکال دینا چاہیے مگر وہ اس کا امکان خارج بھی نہیں کرتا۔ اس کا کہنا ہے کہ جب پیغامات مؤثر ثابت نہ ہوں تو اسرائیلی فریق کو کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ اس گیدڑ بھپکی سے قطع نظراسرائیل کی ہوا اس لیے نکل گئی کیونکہ شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک نے اسرائیلی فضائی حملوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے اس فضائی اڈے کو نشانہ بنانے سے قبل امریکہ کو اطلاع نہیں دی تھی۔ترکیہ میں بھی امریکی سفیر کی ذمہ داری نبھانے والے ٹام بارک کے مطابق منگل کا حملہ اسرائیل کی جانب سے ترکیہ کو اکسانے کی ایک خطرناک اور تشویش ناک کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ اس پھٹکار کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے یہ جواز پیش کیا کہ دمشق نے ترک فوجیوں کو وہاں تعینات کرنے کی اجازت دے کر ایک معاہدے کی خلاف ورزی کی اس لیے اس اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملہ ان لوگوں کے چہرے پر بھی طمانچہ ہے جو شامی حکومت اسرائیل اور امریکہ کا ایجنٹ کہتے ہیں۔
ترکیہ کا اسرائیل کے ساتھ یہ ٹکراو اور اس کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوجانا عالمی تناظر میں ایک بہت بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ امریکی صدر فی الحال ترکیہ کو یوروپ اور اسرائیل سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔ اس سے پتہ چلتا ہے دنیا میں طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور بڑی تبدیلیاں واقع ہورہی ہیں اور عالمی افق پر ترکیہ کی اہمیت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انقلاب فرانس سے پہلے والےزمانے کو خود یوروپ تاریک دور سے تعبیر کرتا ہے مگر اس کے بعد فرنگیوں کو جو غلبہ حاصل ہوا اس کے بعد کسی سُپر پاور کے ساتھ اس طرح کا واقعہ شاید ہی منظر عام پر آیا ہو۔ یوروپ کے اندر ملوکیت کے تحت جاگیردارانہ نظام نافذ تھا اس کے تناظر میں کارل مارکس کی مشہورتصنیف داس کیپیٹل کا پہلا حصہ 1867ء میں شائع ہوا۔اس میں سرمایہ اور سرمایہ داری کا تجزیہ کرنے کے بعد سرمایہ دارانہ نظام، محنت کش طبقے کا استحصال اور معاشی و طبقاتی تقسیم کو موضوع بحث بنایا گیا ۔ مارکس کی وفات کے بعد ان کے دوست فریڈرک اینجلس نے باقی تین جلدیں بھی شائع کروائیں اور اس کی روشنی میں1917کے اندر اشتراکی انقلاب رونما ہواجس نے نصف جرمنی سمیت پورے مشرقی یوروپ کو سوویت یونین کے تحت ایک عظیم وفاق میں بدل دیا۔ اس کے بعد ہونے والی دو عظیم جنگوں میں خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔ مسلم ممالک قومی ریاستوں میں بنٹ گئے۔
مغربی یوروپ نے امریکہ کے ساتھ مل نیٹو کے ذریعہ اپنا دفاع کرنے کا ارادہ کیا۔ اس طرح دو قطبی دنیا میں ایک طرف امریکہ کے ساتھ اس کے حلیف اور دوسری جانب سوویت یونین اور اس کے حامی ممالک تھے۔ مسلم دنیا کے ملوک امریکہ اور آمر سوویت یونین کے حلیف بن گئے۔افغانستان میں فوج کشی کے بعد سوویت یونین کا انتشار شروع ہوا اور وہ گورباچیف کے ہاتھوں اختتام پر پہنچا ۔ اس کے بعد یک قطبی دنیا عالمی نظام وجود میں آیا اور امریکہ کی من مانی بامِ عروج پر پہنچ گئی۔ ایران تو اسلامی انقلاب کے بعد ہی امریکہ کے نشانے پر تھا مگر 911؍حملے کے بعد اس نے افغانستان پر چڑھائی کردی ۔ وہاں پر چونکہ خاطر خواہ کا میابی نہیں ملی اس لیے جارج ڈبلیو بُش نے عراق میں عمومی تباہی کے اسلحہ کا جھوٹ گھڑ کر کے صدام حسین کو نہ صرف معزول کردیا بلکہ پھانسی پر بھی چڑھا دیا۔ اس کے بعد الیکشن ختم تو کھیل ختم ۔ امریکی انتظامیہ نے یہ تسلیم کرلیا کہ وہاں عمومی تباہی کے اسلحہ نہیں تھے وہ اطلاع خفیہ ایجنسی کی غلط رپورٹنگ تھی۔ اس کے بعد لیبیا کے کرنل قذافی کو بھی معزول کیا گیا حالانکہ وہ مفاہمت کرچکے تھے ۔ صدر ٹرمپ نے مسلم دنیا کی جانب سے توجہ ہٹا کر پہلے وینزویلا میں تختہ پلٹ کیا اور صدر مدورو کا اغوا کرلیا۔ اس طرح وہ وینزویلا کے تیل پر بلواسطہ قابض ہوگئے ۔ آگے چل کر گرین لینڈ پر اپنا دعویٰ ٹھونک کر نیدر لینڈ سمیت پورے یوروپ کو ناراض کردیا۔ روس کی جانب ہاتھ بڑھا کر یوروپ سے تعلقات بگاڑ کر کیوبا کو بھی دھمکی دینے لگے ۔ غزہ کی باز آبادکاری کا احمقانہ منصوبہ پیش کیا مگر ان سب میں وہ ناکام رہے۔
صدر ٹرمپ کی مقبولیت بہت کم ہوچکی تھی مگر اس بیچ ان کے سامنےوسط مدتی انتخاب میں اپنی کانگریس(پارلیمان) میں پارٹی کی اکثریت قائم رکھنے کا چیلنج آگیا۔ اسی دوران نیتن یاہو کو قومی انتخاب جیتنے کی ضرورت پیش آگئی تاکہ بدعنوانی کے معاملے میں خود کو جیل جانے سے بچا سکیں ۔ اس لیے ان دونوں غیر مقبول رہنماوں نے ایران میں اقتدار تبدیل کرکے اس کی آگ پر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے کا ناپاک منصوبہ بنایا مگر وہ وہ شعلے ایسے بھڑکے کہ ان کے ہاتھ کے ساتھ چہرے بھی جھلس گئے۔ ٹرمپ کے سامنے ابراہم لنکن کی جگہ واشنگٹن بحری بیڑہ بھیجنے کی مجبوری آن پڑی۔ اپنے ہوائی جہاز سے چوری چھپے نکل کر دوسرے جہاز میں چھپ کر واپس جانے کی نوبت آگئی۔ ایران کو ہر مز کی شکل میں ایک نادر تحفہ مل گیا۔ مشرق وسطیٰ امریکی فوجی اڈوں سے پاک ہوگیا۔ سعودی عرب نے ترکی اور پاکستان کے ساتھ مل کر اپنے تحفظ کا انتظام کرلیا اور دنیا امریکہ سمیت مغربی تسلط سے نجات مل گئی ۔ ایران اور امریکہ کی یہ جنگ دوسری جنگ عظیم کے بعد قائم ہونے والےمغربی تسلط کا خاتمہ ہے۔ اس کے بعد امریکہ کی من مانی پر ہمیشہ کے لیے لگام لگ جائے گی اورپچھلے 80 ؍ سال سے جاری فرنگی غلبے کا خاتمہ ہوجائے گا۔
ایران پر امریکہ کی جانب سے تھوپی جانے والی جنگ چھٹے مہینے سے گزر رہی ہے اور ہنوز محاذ سے دلچسپ خبروں کی آمد کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اس ہفتے دو انکشافات ہوئے۔ ان میں پہلا تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے تھا اور دوسرا امریکی فوجیوں کی حالت زار بیان کرتا تھا ۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر ٹرمپ نیٹو کے اجلاس میں شریک ہونے کے لیے انقرہ آئے تھے مگر واپسی میں ان کے طیارے کی تبدیلی نے اس سفر کو یادگار بنادیا۔ ابھی اس پر گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے ابراہم لنکن پر پر تعینات متعدد فوجی اہلکاروں نے خودکشی کی کوشش کرکے چونکادیا۔پتہ چلا کہ 7؍ماہ سے سمندر میں موجود امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن پر تعینات فوجی عملے کی ذہنی صحت بگڑنے لگی ہے اور اس کے نتیجے میں کئی اہلکاروں نے سمندر میں کود کر خودکشی کی کوشش تک کرڈالی۔ سوال یہ ہے کہ ایسی نوبت کیوں آئی اور کیا اس کے لیے صدر ٹرمپ کا جنگی جنون ذمہ دار نہیں ہے۔ویسے انہوں نے طیارہ بردار جنگی جہاز ابراہم لنکن کی نو ماہ کی تعیناتی کو طویل ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطا بق یہ قلیل عرصہ ہے۔ اس بات تو درست مان لیا جائے تو اب ابراہم لنکن کی جگہ دوسرےطیارہ بردار بحری جہاز واشنگٹن کے بھیجے جانے کا فیصلہ ناقابلِ فہم ہوجاتاہے۔ امریکی صدر کے بیشتر فیصلے ایسا معمہ ہوتے ہیں جن کو حل کرنے میں انسانی دماغ تو دور اے آئی کی مصنوعی ذہانت بھی فیل ہے۔ ایسے میں علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہوجائے گی