وزیر اعظم نے اپنی بگڑتی ہوئی شبیہ کوتباہ ہونے سے بچانے کے لیے جنتر منتر تحریک کے دوران از خود ایک ویڈیو بنا کر اپنا مذاق بنوالیا ۔ اس ویڈیو میں وزیر اعظم کو احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات پر تشدد کا ذرہ برابر دکھ نہیں تھا ۔ مودی جی نےخود کو اور آنجہانی والدہ کو دی جانےوالی گالیوں پر رنج و غم کا اظہار کیا ۔ وزیر اعظم کاخود کو نان بایو لوجیکل کہنا بذات خود والدہ کے وجود کا انکار یا توہین ہے۔ مودی مظاہرین کو معاف کردیاجبکہ انہیں تشدد کا شکار طلبا سےمعافی مانگنی چاہیے تھی ۔ اس طرح ایک دیو ہیکل کھوکھلی شبیہ کے پاش پاش ہونے کا جو آغاز چھپّن انچ کا چھوٹا بندر ، بال نریندربال نریندر پر اختتام پذیر ہوا ۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی معافی کے بعد بھی ان کےبھگتوں اور انتظامیہ کا دل نہیں پسیجا ۔ انہوں نے وزیر اعظم کے معافی نامہ کو ماننے سے صاف انکار کر کےنعرہ لگانے والی 15؍ سالہ طالبہ کے خاندان کو مسلسل ہراساں کرتے رہے یہاں تک کہ اس کی بیوہ ماں کواپنی بیٹی کے ساتھ نوئیڈا کا کرائے کا گھر چھوڑنا پڑا۔ اس کی والدہ کا کہنا ہے کہ بیٹی اپنی غلطی تسلیم کر چکی ہے، لیکن پولیس کی آمدورفت اور لوگوں کے دباؤ نے ان کی معمول کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے اس لیے وہ نقل مکانی پر مجبور ہے ۔ ان کے پاس فی الحال اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔وزیرِ اعظم نریندر مودی کی بات اگر ان کی ناک نیچے بھگت اور انتظامیہ نہ مانے تو ان کا رعب داب کہاں رہا؟
دسویں جماعت میں زیرِ تعلیم ایک ایسی یتیم طالبہ کو پولیس اور نامعلوم افراد کے ذریعہ مسلسل ان کے گھر آ کر ڈرانا نہایت شرمناک ہے۔خاص طور پر ایسے میں جبکہ وہ اپنی غلطی پر معذرت کر چکی ہو اور وزیرِ اعظم بھی اسے معاف کر چکے ہوں۔ اس لڑکی کے والد 2019ءکے اندر ایک حادثے میں انتقال کر گئے تھے۔ اب اس کی پرورش تنہا ماں ٹیوشن کرکے کرتی ہے۔ ان کا چھوٹا بیٹا اپنے دادا دادی کے ساتھ رہتا ہے۔ مودی بھگتوں نے دباو ڈال کر اس طالبہ کی ایک ویڈیو جاری کروائی جس میں اس لڑکی نے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اس کی ’’پہلی اور آخری غلطی‘‘ تھی اور وہ احتجاج میں موجود بعض گروہوں کے بہکاوے میں آ گئی تھی۔ویڈیو میں وہ کہتی ہے، ’’میں احتجاجی مقام پر موجود تھی، جہاں کئی گروہ وزیرِ اعظم مودی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کر رہے تھے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے پر اکسا رہے تھے۔ مجھے اپنے الفاظ پر اتنی شرمندگی ہے کہ میں کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکتی۔ میں پورے ملک سے معافی مانگتی ہوں۔ یہ میری پہلی اور آخری غلطی ہے۔ ‘‘
اس ویڈیو کے باوجود سیاہ گاڑیوں میں اتر پردیش پولیس اور دیگر بدمعاش اس کے گھر برابر چکر لگاتے ر ہے۔اس معاملے میں جو زیرو ایف آئی آر درج کی گئی اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یوگی کی ڈبل انجن سرکار کیسے کام کرتی ہے؟ ایف آئی آر میں لڑکی کی پیدائش کا سال 1994ءدرج کیا گیا جبکہ اس کی والدہ کےمطابق ان کی بیٹی صرف 15؍برس کی ہے اور2011ء میں پیدا ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’میری شادی2010ء میں ہوئی تھی۔ میری بیٹی2011ء میں اور بیٹا2014ء میں پیدا ہوا۔ وہ ابھی صرف ایک نابالغ بچی ہے۔ براہِ کرم اسے معاف کر دیں اور ہمیں بھی دوسرے لوگوں کی طرح سکون سے جینے دیں۔ ‘‘ والدہ نے مزید کہا، ’’اس سے بہت بڑی غلطی ہوئی، لیکن وہ معافی مانگ چکی ہے۔ وزیرِ اعظم بھی اسے معاف کر چکے ہیں۔ ‘‘سوال یہ ہے کہ اب اس مقدمہ کو ختم کرنے کے بجائے نوئیڈا سے دہلی کیوں منتقل کیا گیا؟ کہیں اس کا مقصد یوگی کے بجائے شاہ کی دہلی پولیس کو ہراساں کرنے کا موقع دینا تو نہیں ہے۔
مودی سرکار کا یہ ڈرانا دھمکانا اس بات کا کھلا ثبوت ہے جنتر منتر کا خوف سرکار کے اعصاب پر بری طرح سوا رہے اور ڈری ہوئی سرکا ر بیوہ ماں اور یتیم بچی کو خوفزدہ کر رہی ہے ۔ نوئیڈا پولیس نے اس طالبہ کے احتجاجی نعرے کو وزیر اعظم کی توہین سمیت عوامی فساد پھیلانے کا ذریعہ کیوں سمجھا یہ تو وہی بتا سکتی ہے یا یوگی بابا بتا سکتے ہیں کیونکہ ان کی بات کا کوئی سر پیر نہیں ہوتا۔ اس لڑکی کے خلاف ہتکِ عزت سے متعلق دفعات بھی لگائی گئی ہیں جبکہ عوام کی نظر میں اس حکومت کی کوئی عزت و وقعت نہیں بچی ہے۔ دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے نہ تو باقاعدہ ایف آئی آر درج کی ہے اور نہ ہی زیرو ایف آئی آر کو معمول کی ایف آئی آر میں تبدیل کیا ہے۔اس کے مطابق ممکن ہے اس مقدمے کو مزید آگے بڑھایا ہی نہ جائے کیونکہ لڑکی معافی مانگ چکی ہے، تاہم ابھی قانونی رائے حاصل کی جا رہی ہے۔ لوگ تو اس خوش فہمی کا شکار کردئیے گئے تھے کہ فی الحال وزیر اعظم قانون سے بالاتر ہیں ۔ ایوان پارلیمان کے اندر بی جے پی ارکان پارلیمان بے حیائی کے ساتھ اس کا اعلان بھی کرتے رہے ہیں مگر ایک یتیم بچی نے یہ راز کھول دیا کہ مودی اگر کسی کو معاف کردیں تب بھی ماہرین قانون کی رائے لیے بغیر اس کی خلاصی ممکن نہیں ہے۔
یہ حکومت کی وعدہ خلافی ہے۔ احتجاج ختم کراتے وقت تو یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ کسی کے خلاف مقدمہ نہیں ہوگا مگر اب وہ اپنے عہد سے پھر گئی۔ سرکار کے اشارے پر احتجاج کے سلسلے میں دہلی پولیس اب تک تقریباً 13؍مقدمات درج کر چکی ہے۔ان میں فساد، اقدامِ قتل اور سرکاری ملازمین پر ڈیوٹی کے دوران حملے جیسے الزامات شامل ہیں۔ اب دہلی حکومت یہ بہانہ بنارہی ہے کہ جن طلبہ نے پرامن انداز میں احتجاج کیا اور کسی تشدد میں ملوث نہیں تھے، ان کے خلاف تو کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ البتہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی ہوگی جن کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے یا جو احتجاج کے دوران امن و امان خراب کرنے کے ارادے سے وہاں داخل ہوئے تھے یعنی تعذیب کا ایک چور دروازہ کھول دیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق مختلف آئینی عہدوں پر فائز شخصیات کے خلاف مبینہ توہین آمیز مواد کی تحقیقات بدستور جاری ہیں۔ دہلی پولیس کے سائبر سیل نے وزیرِ اعظم اور دیگر آئینی عہدیداروں کے خلاف مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے کی گئی مبینہ توہین آمیز پوسٹوں کے سلسلے میں الگ مقدمہ درج کر رکھا ہے، جس کی تفتیش جاری ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مگر مچھ کے آنسو بہانے والوں کے دل میں بغض و عناد کی آگ اب بھی جل رہی ہے اور وہ انتقام لینے کے لیے موقع کی تاک میں ہیں ۔
یوگی اور شاہ کی پولیس بے قصور لوگوں پر ایف آئی آر درج کرنے میں تو بہت تیز ہے مگر جب کسی مظلوم کی جانب شکایت درج کرنے کا موقع آتا ہے تو اس کی نانی مرجاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ساحل لوچپ اپنی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے نہ صرف اپنے والد دیپک اور والدہ جیوتی بلکہ راہل گاندھی سمیت پرینکا گاندھی ، جے رام رمیش ، وویک تنکھا، سپریہ شرینیت اور پارٹی کےمتعدد سینئررہنماوں کو ساتھ لانا پڑا۔اس کے باوجود پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس ( نئی دہلی) کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سچن شرما نے اپنی ذمہ داری ادا کرنے سے انکار کردیا ۔ بس پھر کیا تھا سارے کانگریسی پولیس اسٹیشن کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ راہل گاندھی نے اعلان کردیا کہ ’’۶؍ مہینے بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوگی تو میں ۶؍ مہینے یہیں پولیس اسٹیشن کے باہر بیٹھا رہوں گا۔‘‘یہ سن کر پولیس اور انتظامیہ کے ہاتھ پیر پھول گئے۔ مودی سرکار کا پورا نظام ہل گیا اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے ماتحت کام کرنےوالی دہلی پولیس کو مجبوراً ساحل لوچپ کی انفرادی ایف آئی آر درج کرنا پڑا۔
سرکاری اسپتال کی رپورٹ میں 19؍ سالہ ساحل کے بارے میں یہ تفصیل موجود ہے کہ پیلٹ گن کے چھروں سے اس نے اپنی ایک آنکھ کی بینائی گنوا دی ہے۔ ان کے دل سے انتہائی قریب ۔ اور اب بھی کچھ ایسے چھرے پیوست ہیں کہ جنہیں نکالنے سے جان کو خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔ ان ساری معلومات کے باوجود پولیس افسر کہہ رہے تھے کہ اوپر سے احکامات ہیں، اس لیے ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتی لیکن راہل اڑ گئےکہ جب تک ایف آئی آر درج نہیں ہوگی، ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔‘‘انہوں نے کہا، ’’ہمارا واحد مطالبہ ایف آئی آر اور تفتیشی افسر کا نام ہے۔ ہم صرف انصاف مانگ رہے ہیں۔‘‘راہل گاندھی نے حکومت پر الزام لگایا کہ ایک نوجوان پر گولی تو چلائی جاتی ہے، لیکن ’’امیت شاہ کی وزارت کے ماتحت دہلی پولیس متاثرکو انصاف نہیں دے رہی ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے سوال کیاکہ ’’ اسپتال کی رپورٹ کے باوجود اگر پولیس کہتی ہے کہ اس نے پیلٹ گن نہیں چلائی تو آخر کس نے چلائی ؟آئین اور آئینی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔ امیت شاہ جی، آپ انصاف سے اتنے خوفزدہ کیوں ہیں؟ یہ خوف ظاہر کرتا ہے کہ آپ اپنے جرم کا اعتراف کر رہے ہیں۔‘‘ حزب اختلاف کے رہنما کا ۶؍ گھنٹوں تک ایک ایف آئی آر کے لیے جدو جہد کرنا بتاتا ہے ملک میں قانون کی بالادستی ختم ہوچکی ہے۔ یہ واقعات مودی اور شاہ کے دور حکومت پر ایک ایسا بدنما کلنک ہیں جنہیں مٹانا ممکن نہیں ہے۔