میلاد کیلئے ہوگیا، اب امت کیلئے بھی سوچئے

میلاد کیلئے ہوگیا، اب امت کیلئے بھی سوچئے

میلاد کیلئے ہوگیا، اب امت کیلئے بھی سوچئے

ازقلم : مدثر احمد شیموگہ
9986437327

گزشتہ دنوں ملک بھر کی طرح ہمارے شہر اور علاقوں میں بھی جشنِ میلاد النبی ﷺ کا بڑے پیمانے پر اہتمام کیا گیا۔ مسلم نوجوانوں نے بڑے جوش و خروش کے ساتھ میلاد النبی ﷺ منایا۔ گلیوں، سڑکوں، محلوں، مساجد اور عمارتوں کو جھنڈوں، بینروں اور برقی قمقموں سے سجایا گیا۔ جلوس نکالے گئے اور حضور اکرم ﷺ کی آمد کی خوشیاں منائی گئیں۔بلاشبہ میلاد النبی ﷺ رسولِ اکرم ﷺ کی ولادت اور آپ ﷺ کی آمد پر خوشی منانے کا موقع ہے۔ مسلمان اپنے نبی ﷺ سے محبت کرتے ہیں اور اپنی محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس موقع پر ہمیں ایک اہم سوال پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں، کیا اس میں دین کی حدود، سنجیدگی اور اصل مقصد کا خیال رکھا جا رہا ہے؟۔میلاد کے نام پر چندہ جمع کیا جاتا ہے اور بڑی رقم سجاوٹ، لائٹنگ اور دیگر انتظامات پر خرچ ہوتی ہے۔ بعض جگہوں سے یہ شکایات بھی سامنے آتی ہیں کہ جمع کیا گیا چندہ پوری طرح صحیح مقصد کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔ اس لئے مذہبی رہنماؤں، محلے کے عمائدین اور ذمہ دار افراد کی یہ ذمہ داری ہے کہ چندے کے استعمال میں شفافیت ہو اور ہر کام ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے۔لیکن آج اصل ضرورت صرف ایک دن یا چند دن جشن منانے کی نہیں، بلکہ نبی کریم ﷺ کی امت کے حالات پر غور کرنے کی بھی ہے۔آج ہماری بستیوں اور شہروں میں نبی ﷺ کی امت کا ایک بڑا طبقہ مشکلات سے دوچار ہے۔ مساجد کے سامنے اور مختلف مقامات پر لوگ مدد مانگتے نظر آتے ہیں۔ جمعرات اور جمعہ کے دن بعض مسلم خواتین بچوں کے ساتھ بھیک مانگتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔کتنے ہی غریب والدین اپنے بچوں کی اسکول اور کالج کی فیس ادا کرنے سے عاجز ہیں۔ کتنے ہی مریض علاج کے لئے پیسوں کی فکر میں پریشان رہتے ہیں۔ بعض لوگ مناسب علاج نہ ملنے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔مسلم نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ بے روزگاری کا شکار ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار نہیں ملتا۔ بہت سی مسلم لڑکیوں کے مستقبل کے تعلق سے ان کے والدین پریشان ہیں۔ بیوائیں اور بے سہارا خواتین اپنی کفالت اور بچوں کی پرورش کے لئے مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔یہ سب بھی تو نبی ﷺ کی امت ہے۔جس طرح ہم میلاد النبی ﷺ کے موقع پر اپنی محنت کی کمائی سے چندہ دیتے ہیں اور سجاوٹ و دیگر انتظامات کے لئے لاکھوں اور کروڑوں روپے جمع کر لیتے ہیں، اسی طرح ہمیں سال بھر اپنی امت کی ضرورت مند افراد کے لئے بھی منظم انداز میں سوچنا چاہیے۔ہر محلے میں بیت المال کا مضبوط نظام قائم کیا جا سکتا ہے۔ جہاں بیت المال پہلے سے موجود ہے، وہاں اسے مزید فعال اور شفاف بنایا جا سکتا ہے۔ مساجد اور سماجی تنظیموں کے تحت ایسے مستقل فنڈ قائم کیے جا سکتے ہیں، جن سے غریب طلبہ کی فیس، مریضوں کے علاج، بیواؤں کی کفالت اور بے روزگار نوجوانوں کے روزگار کے لئے مدد کی جا سکے۔صرف وقتی مدد کافی نہیں، بلکہ نوجوانوں کو ہنر سکھانے، روزگار سے جوڑنے اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لئے بھی تعاون کی ضرورت ہے۔ اگر ہر محلہ اور ہر مسجد اپنی ذمہ داری محسوس کرے تو بہت سے خاندانوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔میلاد النبی ﷺ ہمیں صرف جھنڈے لگانے، لائٹنگ کرنے اور جلوس نکالنے کا پیغام نہیں دیتا، بلکہ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنے کا درس دیتا ہے۔ آپ ﷺ کی سیرت میں غریبوں، یتیموں، بیواؤں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کا واضح پیغام موجود ہے۔آج ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر ہم ایک دن کے جشن کے لئے بڑی رقم جمع کر سکتے ہیں تو کیا ہم پورے سال کے لئے اپنی قوم اور معاشرے کی مدد کے لئے مستقل فنڈ قائم نہیں کر سکتے؟۔ نبی ﷺ سے محبت کا اظہار ضرور کیجئے، لیکن نبی ﷺ کی امت کی خدمت کو بھی اپنی محبت کا حصہ بنائیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ جشن کے ساتھ خدمت، محبت کے ساتھ قربانی اور نعروں کے ساتھ عملی کام کو بھی جگہ دی جائے۔ تبھی میلاد النبی ﷺ کی خوشی کا پیغام ہماری زندگیوں اور پورے معاشرے میں حقیقی طور پر محسوس ہوگا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے