ایران کے خلاف جنگ کے چھ مہینے، غیرمتوقع جغرافیائی و سیاسی اثرات
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
امریکی ماہرین کے تازہ ترین تجزیے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اب حکومت کی تبدیلی کی جانب بڑھنے کے بجائے ایک طویل اور آسانی سے ختم نہ ہونے والی جنگ کا روپ دھار چکی ہے۔ چھ ماہ گزر جانے کے باوجود تہران میں حکومت بدستور اپنی جگہ قائم ہے، اسرائیل اور امریکا کی طرف سے اسے گرانے کا خیال ناکام ہو چکا ہے، اور اقتصادی و عسکری دباؤ کے باوجود نہ واشنگٹن اور نہ ہی اسرائیل کوئی فیصلہ کن فتح حاصل کر سکے ہیں۔ اس طویل جنگ نے امریکہ اور پوری دنیا کو خطرناک اقتصادی مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ گویا یہ جنگ اب ایک مختصر معرکے کے بجائے ایک طویل مدتی اسٹریٹیجک کشمکش کی شکل اختیار کر چکی ہے۔امریکہ کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا ہے میزائل اور میزائل انٹرسپٹر کم پڑ گئے ہیں امریکی بحری بیڑے خلیج سے رخصت ہو چکے ہیں امریکی فوج میں بے اطمینانی کا کھلے عام اظہار کیا جارہا ہے۔
مشرق وسطیٰ اب زیادہ خودانحصاری یا اپنی مدد آپ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ خلیجی ممالک کو یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر انحصار کافی نہیں، خاص طور پر جب امریکہ کی پہلی اور آخری ترجیح اسرائیل ہی رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب، کویت،قطر اور دیگر ریاستیں اپنی فوجی طاقت مضبوط بنانے اور کئی عالمی طاقتوں سے تعلقات استوار کرنے پر توجہ دے رہی ہیں۔ اسی سلسلے میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون خاص طور پر اہمیت کا حامل ہے اس میں کویت بھی شامل ہونا چاہتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے مطابق کسی ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جائے گا، یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ خطے کے ممالک اب مکمل طور پر واشنگٹن پر بھروسہ کرنے کے بجائے اپنا آزاد سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دے رہے ہیں اور عملی اقدامات کر رہے ہیں ۔
دوسرا بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز کا ہے، جو اب عملاً ایک اسٹریٹیجک ہتھیار بن چکی ہے۔ حقیقت میں اس آبی راستے سے جہاز رانی میں پیدا ہونے والا خلل عالمی معیشت کے لیے میدانِ جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوا ہے۔ اگر ٹریفک میں یہ کمی طویل عرصے تک برقرار رہی تو تیل کی برآمدات، ایل این جی کی ترسیل، جہاز رانی کی انشورنس اور خطے میں سرمایہ کاری، سب کچھ داؤ پر لگ جائے گا۔ خلیجی ریاستوں کے لیے یہاں ایک عجیب مسئلہ پیدا ہو گیا ہے تیل کی قیمتیں تو بڑھی ہیں، مگر تیل برآمد کرنے میں دشواری کے باعث اصل آمدنی گھٹ گئی ہے۔ تیل مہنگا ضرور ہے، مگر آپ اسے بیچ نہیں سکتے، اگر باہر بھیج ہی نہ سکیں تو زیادہ قیمت کا کیا فائدہ۔ ساتھ ہی بڑھتی افراطِ زر اور دفاعی اخراجات خلیجی ممالک کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں، وہاں دن بہ دن ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ خلیج کی اقتصادی تنوع (تیل کے علاوہ آمدنی پیدا کرنے کی کوشش)، یعنی تیل کے علاوہ آمدنی کے ذرائع پیدا کرنا بھی ایک کڑے امتحان سے گزر رہی ہے۔ چاہے وہ سعودی عرب کا وژن 2030 ہو یا متحدہ عرب امارات کی عالمی سرمایہ کاری کی حکمت عملی، یہ سب منصوبے اسی بنیاد پر کھڑے ہیں کہ خلیج کو بین الاقوامی سرمائے کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم مقام سمجھا جائے۔ ایک طویل جنگ اس تاثر کو نقصان پہنچا رہی ہے، اگر سرمایہ کار خلیج کو مستقل تنازعات اور جنگ کی سرزمین سمجھنے لگیں تو سیاحت، ہوابازی، ریئل اسٹیٹ، لاجسٹکس اور غیر ملکی سرمایہ کاری، سب متاثر ہو سکتے ہیں۔ البتہ اس کا الٹا اثر بھی ممکن ہے، دبئی کی معیشت کا دارومدار خاص طور پر امن پر قائم ہے، اگر امن نہ ہو تو کون وہاں گھومنے آئے گا، کون گھر خریدے گا؟ جنگ کے باعث ایویشن فیول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے، اور ہوائی کرائے بھی بڑھ چکے ہیں۔
اس وسیع منظرنامے میں چین اور بھارت کی اسٹریٹیجک اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ جیسے جیسے امریکہ کی یکطرفہ بالادستی کمزور پڑتی جا رہی ہے، ویسے ویسے ان دونوں ممالک کے لیے گنجائش پیدا ہو رہی ہے۔ اس موقع سے کون سا ملک فائدہ اٹھاتا ہے دیکھنا ہوگا چین پہلے ہی پورے خلیج میں گہرے اقتصادی مفادات رکھتا ہے اور توانائی کا ایک بڑا خریدار ہے، جبکہ بھارت کے بھی خطے میں توانائی، تجارت اور اپنی وسیع تارکینِ وطن آبادی کے حوالے سے بڑے مفادات ہیں۔ امکان یہی ہے کہ دونوں ممالک کھلے عام کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے کے بجائے محتاط توازن کی پالیسی پر عمل جاری رکھیں گے، جس کے نتیجے میں مستقبل کا مشرق وسطیٰ کچھ اس طرح کا نظر آ سکتا ہے امریکہ عسکری طور پر تو طاقتور رہے گا، مگر چین اقتصادی طور پر مزید اہم ہوتا جائے گا، اور بھارت سفارتی و تجارتی میدان میں زیادہ نمایاں کردار ادا کر سکے گا۔ اس پوری صورتحال میں پاکستان کی حیثیت بھی کافی اہم ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان ابھرتے ہوئے سکیورٹی تعلقات پاکستان کی اہمیت میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ اسلام آباد ایک بڑا عسکری ادارہ اور سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی روابط رکھتا ہے۔ اگر خلیجی ریاستیں امریکی تحفظ کے متبادل یا اس کے ساتھ ساتھ اضافی سہارے تلاش کرنے لگیں تو پاکستان، خاص طور پر ترکی کے شانہ بشانہ، ایک نئے علاقائی سکیورٹی نیٹ ورک کا اہم ستون بن سکتا ہے، جس سے چین اور خلیجی بادشاہتوں دونوں کی نظر میں اس کی اسٹریٹیجک اہمیت بھی بڑھ جائے گی۔
دوسری طرف اسرائیل کی علاقائی حکمت عملی ایک عجیب تضاد کا شکار ہو چکی ہے۔ اسرائیل بلاشبہ بے پناہ عسکری برتری رکھتا ہے، مگر ایران کے عسکری ڈھانچے کو تباہ کرنا اور اسے سیاسی طور پر جھکانا یا وہاں حکومت بدلنا، دو الگ الگ باتیں ہیں۔ جنگ نے اسرائیل کو ناقابل تلافی نقصان پہونچایا ہے اگر ایران اپنی حکومت برقرار رکھتے ہوئے اس جنگ سے نکل آیا تو اسرائیل کو ایک زیادہ پیچیدہ مشرق وسطیٰ کا سامنا ہو گا ایران بدستور ایک مضبوط ملک رہے گا، خلیجی ریاستیں عسکری اعتبار سے زیادہ خودمختار ہونے کی کوشش کریں گی اور علاقائی طاقتیں آپس میں زیادہ ہم آہنگی پیدا کر لیں گی، یہ سب کچھ بالآخر اسرائیل کی علاقائی بالادستی اور گریٹر اسرائیل کے لیے ایک دھکا ہے ۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسرائیلی اخبارات جنگ کے آغاز میں ترکی کو سبق سکھانے کی باتیں کر رہے تھے، مگر مکہ معاہدے کے بعد سے وہی اخبارات خاموش ہو چکے ہیں۔
جہاں تک بھارت کا تعلق ہے، اس کے لیے نتائج ملے جلے ہیں۔ منفی پہلو سے دیکھیں تو تیل اور ایل این جی کی بڑھتی قیمتیں، جہاز رانی اور انشورنس کے بڑھتے اخراجات، خطے سے گزرنے والے بھارتی تجارتی راستوں پر دباؤ، ممکنہ افراطِ زر، اور خلیج میں مقیم بھارتی کارکنوں اور وہاں کی وسیع بھارتی لوگوں کے لیے مشکلات یہ سب چیلنجز موجود ہیں یعنی جنگ سے کافی نقصان ہوا ہے لیکن مثبت پہلو بھی کم نہیں خلیجی فنڈز کے عالمی تنوع کی بدولت بھارت میں خلیجی سرمایہ کاری جاری رہ سکتی ہے اگر صحیح پالیسی بنائی جاتی ہے تو بھارت ایک بڑی توانائی منڈی اور اقتصادی شراکت دار کے طور پر مزید اہمیت اختیار کر سکتا ہے، اور انفراسٹرکچر، لاجسٹکس، دفاع و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں نئے مواقع بھی جنم لے سکتے ہیں۔ بھارت کی سعودی عرب، ایران، اسرائیل، امریکہ اور روس کے ساتھ بیک وقت تعلقات نبھانے کی صلاحیت نئی دہلی کو ایک نادر اور قیمتی سفارتی مقام عطا کرتی ہے۔
اور آخر میں، بڑی حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ چاہے کسی فیصلہ اختتام پر ختم ہو یا نہ ہو، مگر یہ خاموشی سے مشرق وسطیٰ کے پورے ڈھانچے کو بدل رہی ہے۔ یہ خطہ آہستہ آہستہ امریکی سکیورٹی ضمانتوں پرجو نظام تھا اس سے نکل کر ایک کثیر قطبی Multi Polar مشرق وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے، جس میں امریکہ، چین، بھارت، ترکی، پاکستان، سعودی عرب، ایران اور دیگر علاقائی طاقتیں سب اپنا اپنا کردار ادا کریں گی۔ ایسی صورت میں اتحاد زیادہ لچکدار ہوں گے، دفاعی اخراجات بڑھیں گے، اقتصادی تنوع تیز تر ہوگا، اور ممالک کسی ایک بڑی طاقت پر مکمل انحصار سے گریز کرنے لگیں گے۔ گویا یہ جنگ ایران کے مکمل زوال یا امریکہ-اسرائیل کی واضح فتح پر اختتام پذیر نہ ہو۔ اس کا اصل اور گہرا نتیجہ شاید یہ ہو کہ پرانا مشرق وسطیٰ کا نظام دھیرے دھیرے دم توڑ دے، اور اس کی جگہ ایک زیادہ خودمختار، مسابقتی اور کثیر قطبی علاقائی نظام جنم لے، یعنی جنگ جس مقصد کے لیے شروع کی گئی تھی وہ تو کہیں دور رہ گیا، اور نتائج کچھ کے کچھ نکلے۔ امریکہ اور اسرائیل کمزور ہوئے، ایران مضبوط ہوا، اور علاقائی حکومتوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنا اتحاد بنا لیا ہے اور شاید مشرقِ کی ایک نئی صدی کا آغاز ہو چکا ہے۔