مغربی بنگال کی سیاست میں خصوصی جامع نظر ثانی جسے عام طور پر ایس آئی آر کہا جا رہا ہے اب محض ووٹر فہرست کی اصلاح کا انتظامی عمل نہیں رہا بلکہ یہ سیاسی، آئینی اور جمہوری تنازع کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ووٹر فہرست کو درست، شفاف اور قابل اعتماد بنانا بلاشبہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے بنیادی ضرورت ہے لیکن اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے کہ فہرست کی اصلاح کے نام پر کہیں کسی اہل شہری کے حق رائے دہی کو غیر محسوس طریقے سے محدود تو نہیں کیا جا رہا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بنگال کا موجودہ تنازع محض ایک انتخابی کارروائی سے بڑھ کر جمہوری نظام کی آزمائش بن جاتا ہے۔
ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کا الزام ہے کہ بی جے پی نے انتخابی عمل کو ہائی جیک کرنے کے لیے ایس آئی آر کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ الزام اپنی جگہ ایک سیاسی دعویٰ ہے اور اس کی صحت کا فیصلہ سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ شواہد، اعداد و شمار اور متعلقہ اداروں کی غیر جانب دارانہ جانچ سے ہونا چاہیے۔ دوسری طرف بی جے پی اور الیکشن کمیشن کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ انتخابی فہرست میں موجود خامیوں کو دور کرنا ضروری ہے تاکہ غیر متعلقہ، فوت شدہ، مستقل طور پر منتقل ہو جانے والے، دوہرے اندراج والے یا کسی بھی اعتبار سے غیر اہل افراد کے نام فہرست میں باقی نہ رہیں۔ اصولی طور پر اس ضرورت سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ناقص ووٹر فہرست بھی آزادانہ انتخابات کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب فہرست کی صفائی کے عمل میں کسی حقیقی اور اہل شہری کے نام پر سوالیہ نشان لگ جائے۔ ووٹ محض ایک نام یا ایک اندراج نہیں بلکہ شہری کی سیاسی شناخت اور آئینی جمہوری حق سے وابستہ معاملہ ہے۔ اس لیے کسی شخص کا نام ووٹر فہرست سے حذف کرنا معمولی دفتری کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے لیے واضح وجہ، مناسب اطلاع، اعتراض کا مؤثر موقع، منصفانہ سماعت اور آسان اپیل کا راستہ موجود ہونا چاہیے۔ اگر کسی شہری کو اپنے نام کے اخراج کا علم ہی دیر سے ہو، یا اسے بروقت اعتراض اور اپیل کا موقع نہ ملے، تو فہرست کی ظاہری درستگی کے باوجود انتخابی عمل کی حقیقی شفافیت پر سوال قائم رہے گا۔
فراہم کردہ اعداد و شمار اس بحث کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔ تقریباً ۲۷ لاکھ ۲۸ ہزار ۵۰۰ ووٹروں کو نا اہل قرار دیے جانے کی بات سامنے آئی ہے، جبکہ ایس آئی آر سے متعلق اپیلی فورم میں ۳۸ لاکھ ۱۰ ہزار ۶۲۰ اپیلیں داخل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اب تک صرف ۸۲ ہزار ۷۸۲ معاملات کا فیصلہ ہوا اور ان میں ۷۵ ہزار ۴۴۳ نام بحال کرنے کا حکم دیا گیا۔ یعنی جن معاملات پر فیصلہ ہوا، ان میں ۹۱ فیصد سے زیادہ میں نام دوبارہ شامل کرنے کی ہدایت سامنے آئی۔ یہ تناسب یقیناً ایک ایسا ابتدائی اشارہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ اس بنیاد پر یہ نتیجہ نکالنا بھی درست نہیں ہوگا کہ حذف کیے گئے تمام نام غلط طور پر خارج کیے گئے تھے۔ ۹۱ فیصد بحالی کا مطلب صرف یہ ہے کہ فیصلہ شدہ اپیلوں میں بڑی تعداد میں شہریوں کے حق میں فیصلہ ہوا، جبکہ تقریباً ۹۷ فیصد اپیلیں ابھی زیر التوا بتائی جا رہی ہیں۔ اس لیے موجودہ اعداد و شمار پورے ایس آئی آر کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ابتدائی اور اہم تصویر پیش کرتے ہیں۔ تاہم یہ ابتدائی تصویر اتنی ضرور کہتی ہے کہ معاملہ معمولی نہیں۔ اگر ایک طرف تقریباً ۲۷ لاکھ افراد کو نا اہل قرار دیا گیا اور دوسری طرف اپیلوں کی تعداد ۳۸ لاکھ سے تجاوز کر گئی تو اس غیر معمولی فرق کی مکمل، قابل فہم اور عوامی وضاحت ضروری ہے۔ آخر اپیلیں کس بنیاد پر داخل ہوئیں؟ کتنے افراد کے نام کس وجہ سے حذف ہوئے؟ کتنے نام ایک سے زیادہ اعتراضات کی زد میں آئے؟ اور کتنے معاملات میں انتظامی غلطی سامنے آئی؟ ان سوالات کا جواب عوام کو ملنا چاہیے۔ کانگریس اسی نکتے کو انتخابی شفافیت کا مسئلہ قرار دے رہی ہے اور ووٹ کے حق سے متعلق سوال اٹھا رہی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے الزامات کو حتمی حقیقت مان لینا مناسب نہیں، لیکن کسی سیاسی جماعت کی جانب سے اٹھائے گئے سوال کو صرف سیاسی الزام کہہ کر نظر انداز کرنا بھی جمہوری اداروں کے مفاد میں نہیں۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ صرف اعداد جاری کر دے۔ اسے ضلع وار، زمرہ وار اور وجہ وار تفصیلات ایسی زبان میں سامنے لانی چاہئیں جنہیں عام شہری بھی سمجھ سکے۔ شفافیت کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ ہر جمہوری ادارے کی بنیادی ضرورت ہے۔ ایس آئی آر کے معاملے میں پولیس کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ممتا بنرجی نے پولیس کے ذریعے خوف پیدا کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور یہ اعلان بھی کیا ہے کہ وہ کارکنوں اور حامیوں کے درمیان جائیں گی۔ ان الزامات کی حقیقت کا تعین بھی غیر جانب دارانہ طور پر ہونا چاہیے، کیونکہ انتخابی فہرست سے متعلق کسی شہری کو اگر پولیس، انتظامیہ یا کسی سیاسی دباؤ کا خوف محسوس ہو تو یہ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے انتخابی نظام کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ قانون کا نفاذ سیاسی وابستگی، مذہب، زبان یا انتخابی ترجیحات سے آزاد ہونا چاہیے۔ حکومت اور پولیس دونوں پر لازم ہے کہ شہریوں کو یہ اعتماد دیں کہ کسی جائز حق کے استعمال پر انہیں کسی دباؤ یا انتقام کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
مغربی بنگال میں شناخت، مذہب، زبان، ہجرت اور شہریت پہلے ہی انتہائی حساس سیاسی موضوعات ہیں۔ ایسے ماحول میں ووٹر فہرست میں کسی نام کی موجودگی یا عدم موجودگی صرف انتظامی مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اس کے سیاسی اثرات بہت دور تک جا سکتے ہیں۔ اگر کسی شہری کو غیر اہل قرار دیا جاتا ہے تو اس کے خاندان، محلے اور برادری میں بھی بے یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ایس آئی آر جیسے عمل میں ہر قدم انتہائی احتیاط، واضح معیار اور غیر جانب دار نگرانی کے ساتھ اٹھایا جانا چاہیے۔ انتخابی فہرست کی صفائی ضروری ہے، لیکن صفائی کا مقصد فہرست کو مختصر کرنا نہیں بلکہ اسے درست بنانا ہونا چاہیے۔ یہ فرق معمولی نہیں، بنیادی ہے۔ انتخابی فہرست میں موجود جعلی یا غیر اہل اندراجات ختم کرنا جمہوری ضرورت ہے، مگر اہل ووٹر کا نام محفوظ رکھنا بھی اتنی ہی بڑی ذمہ داری ہے۔ ایک غلط نام کو حذف کرنے سے انتخابی فہرست کا ایک مسئلہ کم ہو سکتا ہے، لیکن ایک حقیقی ووٹر کا نام غلطی سے حذف ہونے سے جمہوریت کا ایک حق متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے کسی نام کے اخراج کا معیار ایسا ہونا چاہیے جس میں غلطی کا امکان کم سے کم ہو۔ جہاں شناخت یا رہائش سے متعلق کوئی ابہام ہو، وہاں پہلے شہری کو اطلاع دی جائے، اسے مناسب وقت دیا جائے، متعلقہ دستاویزات پیش کرنے کا موقع دیا جائے اور فیصلہ ایک واضح طریقہ کار کے تحت کیا جائے۔ اس معاملے کا اصل امتحان آنے والے انتخابات سے پہلے ہوگا۔ اگر لاکھوں اپیلیں زیر التوا رہیں اور انتخابی تاریخ قریب آگئی تو ایسے شہری جن کے نام پر تنازع موجود ہے، عملی طور پر اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔ بعد میں نام بحال ہو جانا بھی اس نقصان کی مکمل تلافی نہیں کر سکتا، کیونکہ انتخابی حق کا تعلق مخصوص انتخابی دن سے ہوتا ہے۔ اگر ایک شہری کو اسی دن ووٹ ڈالنے کا موقع نہ ملے جس دن حکومت کے قیام کا فیصلہ ہونا ہے تو چند ہفتوں یا مہینوں بعد ہونے والی بحالی اس حق کے ضائع ہونے کو واپس نہیں لا سکتی۔ اسی لیے اپیلوں کے بروقت فیصلے محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ جمہوری فریضہ ہیں۔ حکومت اور الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ اپیلی فورموں کی تعداد بڑھائیں، زیر التوا معاملات کے لیے واضح مدت مقرر کریں اور ہر فیصلے کی بنیادی وجہ عوام کے سامنے رکھیں۔ اگر کسی نام کو بحال کیا گیا ہے تو یہ بھی بتایا جائے کہ کس بنیاد پر بحالی ہوئی، اور اگر کسی اپیل کو مسترد کیا گیا ہے تو شہری کو اس فیصلے کی وجہ اور مزید قانونی راستے سے آگاہ کیا جائے۔ ایک ایسا نظام جس میں شہری کو معلوم ہی نہ ہو کہ اس کا نام کیوں نکلا اور اپیل کہاں کرنی ہے، شفاف نظام نہیں کہا جا سکتا۔ انتظامی سہولت کے لیے شہری کے آئینی حق کو مشکل بنانا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔
بنگال کا تنازع ہندوستانی جمہوریت کے ایک اصول کی یاد دہانی ہے کہ انتخابات صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ ووٹر کی شناخت، فہرست میں موجودگی اور حق رائے دہی تک رسائی بھی انتخابی انصاف کا حصہ ہے۔ اگر فہرست درست ہوگی تو نتیجے پر اعتماد بڑھے گا اور شکوک رہیں گے تو جیتنے والا سوالات سے آزاد نہیں ہوگا۔ جمہوریت میں اقتدار کا فیصلہ ووٹ سے ہوتا ہے مگر ووٹ کی بنیاد فہرست ہے۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں) iftikharahmadquadri@gmail.com