موہن بھاگوت: الٹی ہوگئی سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

موہن بھاگوت: الٹی ہوگئی سب تدبیریں  کچھ نہ دوا نے کام کیا

موہن بھاگوت:
الٹی ہوگئی سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

اپریل 2024 میں انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی ہندو عوام کو منگل سوتر سے لے بھینس اور پانی کی ٹونٹی تک کے چھِن جانے سے ڈرا رہے تھے اوربی جے پی کے صدر جے پی نڈا نے انڈین ایکسپریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کھلے عام کہہ دیا تھا کہ ’اب ہم بالغ ہوگئے ہیں اس لیے ہمیں سنگھ کی حمایت درکار نہیں ہے‘۔ اس وقت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو احساس ہوگیا کہ اب ان کا بیڑہ غرق ہونے والا ہے اور بہت جلداپنے ’اچھے دن جانے والے ہیں‘ ۔ اس لیےآر ایس ایس کے سر براہ موہن بھاگوت نے یہ اعلان کردیا کہ تنظیم کے صد سالہ سال (1925-2025/2026) کے آغاز پر 100 سال مکمل ہونےکا کوئی بڑا جشن نہیں منایا جائے گا۔ ڈاکٹر موہن بھاگوت کے مطابق چونکہ ’’ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اس لیے اس کی ضرورت نہیں‘‘۔انہوں نے اپنےرضاکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ صد سالہ سال کو ایک تہوار یا جشن کی طرح نہیں منایا جانا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ تنظیم کا مقصد محض وقت یا سنگ میل کو یادگار بنانا نہیں، بلکہ اپنے طے شدہ مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔ڈاکٹر بھاگوت نے اعتراف کیا تھا کہ تنظیم کا بنیادی مقصد ایک متحد، مضبوط اور نظم و ضبط کا پابند معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ جب تک معاشرے میں تفریق، اونچ نیچ اور کمزوریاں موجود ہیں، تب تک سنگھ کا کام ادھورا ہے۔ اس لیے کامیابی کا موازنہ سالوں سے کرنے کے بجائے زمینی تبدیلیوں سے کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر موہن بھاگوت کمال حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معروضی بات کہی تھی۔ لاکھ چشم پوشی کے باوجودہندوستانی سماج میں تفریق امتیاز کی کھائی بہت گہری ہے۔ مسلمانوں، عیسائیوں اور اشتراکیوں کو ذلیل و رسوا کرنا تو خیر سنگھ کے بنیادی عقیدے کا تقاضہ ہے ۔ اسی لیے کرنل صوفیہ قریشی کی تضحیک کرنے والے وجئے شاہ کو بچانے کے لیے ان کے خلاف فیصلہ کرنے والے ہائی کورٹ کے جج اتُل سریدھرن کا تبادلہ کروادیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد جب سپریم کورٹ تفتیش کے لیے ایس آئی ٹی قائم کرنےکا حکم دیتا ہے تو بی جے پی کی صوبائی حکومت اس کی نافرمانی کرتے ہوئے تشکیل کی اجازت نہیں دیتی ۔ یہ بھید بھاو کی ایک انتہا ہے مگر ہندو معاشرے کے اندر بھی دلت دولہے کو گھوڑے سے اتار دینا،قبائلی کے سر پر پیشاب کرکے ویڈیو بنانا اور پھیلانا، دلت لڑکی کی عصمت دری کے خلاف احتجاج کرنے والے کسان رہنماوں کو میرٹھ میں پولیس تھانے کے اندر مارپیٹ کا ننگا نچانا، اپنے طلبا اور نوجوانوں پر جنتر منتر میں لاٹھی برسانا، بہار میں اے کے 47سے ڈرانا دھمکانا، اولین شہری دروپدی مرمو تک کو نہ صرف رام مندر سے دور رکھنا بلکہ دہلی میں جگناتھ مندر کے اندرونی حصےمیں داخل ہونے سے روک دینا اور ہلدوانی میں کانگریس کے صدر ملک ارجن کھرگے کے اسٹیج کا شدھی کرن(پاک صاف) کرنے کو اتراکھنڈ بی جے پی صدر کا جائز ٹھہرانا بتاتا ہےنسلی امتیازبام عروج پر ہے مگر موہن بھاگوت یا آر ایس ایس اس کے خلاف کچھ کرنا تو دور چونچ تک نہیں کھولتے۔ ان کا کام صرف پروچن(نصیحت) کرنا ہے لیکن چونکہ عمل اس کے خلاف ہے اس لیے کوئی اثر نہیں ہوتا ۔
مودی سرکار کے مخالفین اکثر یہ سوچ کر پریشان ہوجاتے ہیں کہ آخر یہ لوگ اس قدر فراٹے سے جھوٹ کیسے بول لیتے ہیں ؟وہ تمام تر شواہد کے باوجود دھڑلےکہہ دیتے ہیں کہ دہلی میں پیلیٹ گن چلی ہی نہیں لیکن ان مخالفین کو معلوم ہونا چاہیے کہ جب ان کی مادرِ تنظیم کا سربراہ موہن بھاگوت یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ آر ایس ایس کا رخ سیاست یا اقتدار کی طرف نہیں بلکہ کردار سازی پر رہا ہے تو اس کے سامنے ساری کذب گوئی ہلکی ہوجاتی ہے۔ آر ایس ایس نے وہ کردار سازی کی کہ وزیر اعلیٰ بننے کے بعد یوگی ادیتیہ ناتھ نے اپنے خلاف سارے مقدمات ازخودواپس لے لیے اور اعظم خان کو پھنسانے کی خاطر ان پرسو زیادہ جھوٹے مقدمات جڑ دئیے۔ یوگی جن کانوڈیوں پر پھول برسانے کے لیے گئے ان کے ویڈیوز نے پوری دنیا میں سناتن دھرم کا نام روشن کردیا۔ اس میں جس فحاشی و عریانیت کا مظاہرہ ہوا ہے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ منی پور میں پولیس کی گاڑی سے نکال کر اغوا کی جانے والی خواتین کی عصمت دری کے بعد دھڑلے سے برہنہ پریڈ کی ویڈیو کو پھیلایا جاتا ہے۔ بی جے پی وزیر اعلیٰ بیرین سنگھ ان ہندوتوا نوازغنڈوں کو سزا دلوانے کے بجائے بچاتاہے۔کیا اسی کردار سازی کی موہن بھاگوت نے تاکید کی تھی اور اس کے 100 سال مکمل ہونے پر فخر کرنے کے بجائے مزید عاجزی اور ذمہ داری کے ساتھ سماجی اصلاحات اور یکجہتی کے کام کو آگے بڑھانے کی ترغیب دی گئی تھی۔
آر ایس ایس کو جب تک اقتدار میں نہیں آئی تھی ان کرتوت و عزائم پر پردہ پڑا ہوا تھا مگر جب انہیں ہاتھ پیر پھیلانے کا موقع ملا تو اس کی حقیقت سامنے آگئی اور ساری دنیا میں بشمول امریکہ ان پر تنقید ہونے لگی ۔ امریکی مذہبی آزادی کمیشن کا کام دنیا بھر میں مذہب کی آزادی پر نظر رکھنا ہے۔ وہ ماضی میں بھی ہندوستان کی حالتِ زار پر تشویش کا اظہار کرکےراشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر تنقید کرتا رہا ہے ۔ آر ایس ایس سربراہ کے دورۂ امریکہ پر تو اس نے تنظیم کے ارکان پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔آر ایس ایس نے اپنے بیرونِ ملک دوروں کا اہتمام کا مقصد اس تاثر کو زائل کرنا بتایا کہ وہ ایک ایسی نیم فوجی تنظیم ہے جو اقلیتوں پر حملوں میں ملوث رہی ہے۔موجودہ دور میں جب کہ پوری دنیا ایک گاوں بن چکی ہے اور انٹرنیٹ نے خبروں کی پہنچ کو کمال کی رفتار عطا کردی ہے حقائق کو چھپانا ناممکن ہے۔ ہندوستان کے گرجاگھر یا مساجد پر ہونے والا ہر حملہ منٹوں میں ساری دنیا میں پھیل جاتا ہے اس لیےامریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کے چیئرمین آصف محمود نے ان مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں میں ملوث آر ایس ایس کے ارکان اور ہندوستانی حکام کے خلاف پابندیاں عائد کرکے موہن بھاگوت کا ویزا منسوخ کرنے تک کا مطالبہ کردیا ہے۔
امریکہ کی دیگر تنظیموں کے ساتھ اقوام متحدہ نے بھی حالیہ برسوں میں ہندوستان کے اندر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک میں اضافہ کا انکشاف کیا ہے۔ ان کے مطابق نفرت انگیز تقاریر ، مذہب کی بنیاد پر شہریت کا قانون، مسلمانوں کی ملکیتی املاک کی مسماری، جموں و کشمیر کی خودمختاری کا خاتمہ اور تبدیلیٔ مذہب کے خلاف قانون سازی جیسے اقدامات مذہبی آزادی کے لیے باعثِ تشویش ہیں۔ آر ایس ایس کو جب اپنی بدنامی کا احساس ہوا تو اس نے اپنا چہرا مہر ا چھپانے یا سجانے کے لیے لابنگ کرنے والے پیشہ ور ادارے کی خدمات حاصل کیں ۔ امریکی سینیٹ (پارلیمنٹ) میں جمع شدہ لابنگ سے متعلق دستاویزات اور تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، امریکی لابنگ فرم ‘اسکوائر پیٹن بوگس’ کو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا تعارف کرانے کے لیے سال 2025ء کے پہلے تین سہ ماہیوں میں 3 لاکھ 30 ہزار ڈالر ($330,000) کی ادائیگی کا انکشاف ہوچکا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کی اس معروف قانونی اور لابنگ فرم کو جو پاکستان کے لیے بھی کام کرتی ہے یہ رقم امریکی کانگریس اور سینیٹ کے ارکان کے سامنے آر ایس ایس کا تعارف کرانے اور ہند-امریکہ دوطرفہ تعلقات پر اثر انداز ہونے کی خاطر ادا کی گئی۔آر ایس ایس کے ترجمان سنیل امبیکر نے ان تمام الزامات کو سختی سے مسترد کیا بعد ازاں لابنگ فرم نے وضاحت کی کہ انہیں براہِ راست آر ایس ایس نے نہیں بلکہ ‘وویک شرما’ نامی ایک فرد کی طرف سے مقرر کیاگیا تھا، ظاہر ہے ایک غیر رجسٹرڈ تنظیم تو ایسے ہی چوری چھپےکام کرے گی؟ اگر یہ بہتان ہوتا تو سنگھ اس ادارے کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کردیتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔
اپناناک نقشہ سدھارنے کے بعد آر ایس ایس کے سینئر رہنما رام مادھو اور جنرل سکریٹری دتا تریہ ہوسابلے نے اپریل 2026 میں امریکہ کا ایک دورہ کرکے واشنگٹن ڈی سی میں واقع تھنک ٹینک ‘ہڈسن انسٹی ٹیوٹ’ میں ہند امریکہ تعلقات پر منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کی۔ اس کانفرنس کے دوران رام مادھو نے مان لیا کہ ہندوستان نے امریکہ کے دباؤ میں آکر ایران اور روس سے تیل کی درآمد روک دی ہے اور امریکی ٹیرف کو قبول کر لیا ہے۔ اس پرکانگریس اور راہل گاندھی نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اس کےبعدرام مادھو اپنے بیان سے مکر گئے اور باقاعدہ معذرت نامہ جاری کردیا۔ ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے باہر امریکی صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے رام مادھو کو گھیرکرہندوستان میں اقلیتوں (مسلمانوں اور عیسائیوں) پر مبینہ تشدد، ماب لنچنگ اور آر ایس ایس پر امریکی کمیشن کی جانب سے پابندیوں کی سفارشات سے متعلق سخت سوالات پوچھےتو سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے اندررام مادھو ان سوالات کا جواب دیئے بغیر بھاگتے نظر آئے۔ دتا تریہ ہوسابلے نے امریکی میڈیا نیٹ ورک ‘NPR’ کے سامنے کہا کہ آر ایس ایس ایک ثقافتی تنظیم ہے اور وہ اقلیتوں کے خلاف نہیں ہے۔اس جھوٹ پر توکوئی پاگل بھی یقین نہیں کرے گا۔رام مادھو اور ہوسا بلے کے اس تلخ تجربے کے بعد موہن بھاگوت کو امریکہ جانے کا خیال اپنے ذہن سے نکال دینا چاہیے تھا مگرانہوں نے 29؍ اگست کو نیویارک کے میڈیسن سکوائر گارڈن (ایم ایس جی) میں خطاب کرنے کا پروگرام بناکر اپنی رسوائی کا سامان کرلیا۔ موہن بھاگوت کی امریکہ سے واپسی پر ہرکوئی یہ شعر پڑھےگا؎
نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بڑے بے آبرو ہوکر امریکہ سے ہم بھاگے
(۰۰۰۰۰جاری)

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے