مہاراشٹر کے شہر پونہ چونکہ پیشوائی کا دارالخلافہ تھا اس لیے وہاں منو اسمرتی کا نفاذ خوب زور و شور سے ہوا اور خواتین سمیت شودروں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ اتفاق سے اسی شہر میں مہارشی جیوتی با پھلے نے منو اسمرتی کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا ۔ ان کی زوجہ ساوتری بائی نے فاطمہ بی کے ساتھ مل کر خواتین کے لیے اسکول کھولا تو اس کی خوب مخالفت ہوئی مگر تعلیم کی روشنی پھیلتی چلی گئی ۔ ریاست کی ثقافتی راجدھانی میں چھاتروں(طلبہ) کی گونج کے پروگرام کی ایک نظریاتی معنویت بھی تھی۔ ویسے تو اس سلسلے کی چوتھی کڑی تھا مگر اپنی ندرت، جوش اور ولولہ کے حوالے سے اس نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دئیے ۔ اس کا تنوع خواتین کی جانب مکمل توجہ تھا اور حکومتِ مہاراشٹر کی مخالفت نے زبردست جوش پیدا کردیا تھا ۔ طالبات کی گونج میں راہل گاندھی نے یہ کہہ کر خواتین کا دل جیت لیا کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کی فوج یا کوئی ایک ادارہ نہیں، بلکہ ملک کی 70؍ کروڑ خواتین کے خواب اور ان کے عزائم ہیں۔ اپنی تقریر میں راہل گاندھی طالبات کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بیٹی، بیوی یا ماں کے طور پر شناخت ہونے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے، لیکن کسی خاتون کی بس یہی واحد شناخت نہیں ہو سکتی۔ اسے صرف بیٹی، بیوی یا ماں تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
دین اسلام میں بیٹی کا کنیا دان نہیں کیا جاتا اور شادی کے بعد بھی عورت کی انفرادی شناخت محفوظ رہتی ہے وہ نکاح کے بعد پرینکا گاندھی سے وادرا نہیں بلکہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کہلاتی ہے۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے ان کی نسبت باقی رہتی ہے۔ دین اسلام میں ماں کاحق والد سے تین درجہ زیادہ ہے ۔ نبی ٔ کریم ﷺ سے جب پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ تو فرمایا ماں کا۔ اس کے بعد ؟ تو پھر وہی جواب ماں کا ۔ دوبارہ سوال کیا گیا اس کے بعد؟ تو پھر جواب ملا ماں کا۔ چوتھی بار سوال کرنے پر جواب دیا گیا باپ کا ۔خواتین کی عظمت و توقیر کا معاملہ دنیا تک محدود نہیں بلکہ جنت کے بھی ماں کے قدموں تلے ہونے کی بشارت دی گئی کیونکہ قوم کا مستقبل توماں کی گود میں ہی کھیلتا ، پلتا اور بڑھتا ہے۔ منو سمرتی کے خلاف چھیڑی جانے والی نظریاتی جنگ کا دھارا جب میدانِ عمل میں آیا تو راہل گاندھی نے صاف کہا کہ سماج میں خواتین کو آگے بڑھنے سے روکنے کیلئے تشدد کا سہارا لیا جاتا ہے۔ وطن عزیز میں خواتین پر تشد د عام بات ہے ۔ سرکار کی جانب سے شائع ہونے والی این آر سی بی کی رپورٹ اس کی گواہی دیتی ہے لیکن اس پر قومی سطح پر کوئی بیانیہ تشکیل نہیں دیا جاتا کیونکہ سرکار اور اس کی گود میں بیٹھے میڈیا کو ہندو مسلمان کھیلنے سے فرصت ہی نہیں ملتی ۔
راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں خواتین پر 3؍ طریقوں کے تشدد کا ذکر کیا ۔ اس میں سے جسمانی تشدد پر تو بہت گفتگو ہوتی ہے مگر ، مواقع پر مبنی تشدد جس میں تفریق و امتیاز کا شکار ہوتی ہیں اور معاشی تشدد کی بات عام طور پرنہیں کی جاتی ۔ راہل گاندھی نے جسمانی تشدد کے اعدادو شمار پیش کرتے ہوے کہا کہ سالانہ5.4 لاکھ بیٹیوں کا قتل حمل میں ہی کر دیا جاتا ہے، 80؍ فیصد خواتین کے ساتھ جنسی استحصال ہوتا ہے، 29؍ فیصد خواتین کے ساتھ جسمانی تشدد کیا جاتا ہے اور 6؍ فیصد خواتین کی عصمت دری ہوتی ہے۔ یہ اس ملک کی بھیانک تصویر ہے جہاں مودی سرکار ’ناری وندنا‘ (خواتین کا احترام) نامی قانون بنا کر عورتوں کو بیوقوف بناتی ہے یا لاڈلی بہنا کہہ کر سرکاری خزانے سے رشوت کی آڑ میں ان کا ووٹ جھٹک لیتی ہے۔پونہ شہر میں منعقد ہونے والے چھاتروں کی گونج پروگرام میں ایک لڑکی نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ جب اولمپکس میں ملک کے لیے تمغے جیتنے والی لڑکیوں کے ساتھ غلط سلوک کرنے والے لوگ بری ہوجاتے ہیں تو وہ ایک عام لڑکی ہونے کی حیثیت سے کہاں تک لڑ سکتی ہے؟ یہ سوال عصرِ حاضر میں خواتین کے اندر پائے جانے والے خوف اور بے بسی کی تصویر پیش کرتا ہے۔
اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے برج بھوشن سنگھ کے خلاف ملک کے خواتین کھلاڑیوں کو جنتر منتر پر احتجاج کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مودی سرکار نے ان مظلوم خواتین کا ساتھ دینے کے اپنے رکن پارلیمان کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ عالمی سطح کی کھلاڑیوں کے ساتھ کھلے عام بدسلوکی کی گئی۔ ان کا در د محسوس کرنے کے بجائے برج بھوشن کے بیٹے کو پھر سے الیکشن کا ٹکٹ دیا گیا۔ شکایت کرنے والی لڑکی کے والدین پر دباو ڈال کر پوسکو ہٹوایا گیا اور پھر مقدمہ اس قدر کمزور کردیا گیا کہ وہ بالآخر عدالت سے باعزت بری ہوگیا ۔ راہل گاندھی نے اس پر کہا کہ اس ذہنیت بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات پر بھی تنقید کی جن کے تحت لڑکیوں کو محدود رکھنے اور لڑکوں کو مکمل آزادی دینے کو معمول سمجھا جاتا ہے۔ راہل کا اشارہ وزیر اعظم مودی کی طرف تھا کہ جنھوں نے کہا لڑکیوں بدکلامی سے انہیں بہت تکلیف ہوئی۔ انہوں نے ایسےسیاسی رہنما وں پر تنقید کی کہ جوخواتین کے خلاف ہونے والے جنسی جرائم کے لئے بھی انہیں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ر اہل گاندھی کے مطابق یہ سوچ دراصل اس تصور سے پیدا ہوتی ہے کہ لڑکی کی ایک مقررہ جگہ ہے اور اسے پنجرے میں بند رہنا چاہیے، جبکہ لڑکوں کو گالی دینے، گھومنے پھرنے اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی مکمل آزادی ہونی چا ہئے۔ راہل گاندھی نے کہا، ’’ہمیں ایسا ہندوستان نہیں چا ہئے۔ ‘‘ لیکن بی جے پی کو ایسا ہی ملک چاہیے۔
راہل گاندھی نے وہاں پر وزیر اعظم نریندر مودی ، یوگی ادیتیہ ناتھ اور سرسنگھ چالک کی ویڈیو چلا کر اس ذہنیت کو پیش کیا مگر وہ آر ایس ایس کی فکری سیل کے موہن داس کا نام بھول گئے ۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ جنتر منتر پر عصمت دری ہوگی مگر اس کی شکایت نہیں کی جائے گی کیونکہ وہاں موجود اشتراکی خواتین کو اجتماعی عصمت دری کروانا پسند ہے۔ وہ اس سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ کسی تنظیم کی فکری تربیت کرنے والوں کے اندر اگر خواتین کے حوالے سے اس قدر نفرت کا زہر موجود ہوتو اس کے تربیت یافتگان سے کیا توقع کی جائے ؟ مدھیہ پردیش سنگھ پریوار کی سب سے پہلی تجربہ گاہ ہے۔ گجرات اور اترپردیش سے قبل آر ایس ایس نے وہاں اپنے قدم جمائے ۔ بی جے پی کی اولین نائب صدر وجئے راجے سندھیا کے علاقے گونا سے منتخب ہونے والے رکن اسمبلی پناّ لال شک نے پچھلے دنوں کھلے عام خواتین کے حوالے سے مثالیں دے دے کر اپسے خیالات کا اظہار کیا جو کسی بھی خود دار مرد و خواتین کو شرمندہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ پناّ لال شک نے کہا کہ راون جب سیتا کو اغوا کرکے لے گیا تو اس کے بھائی نے کہا تم موت کا سامان اٹھا لائے ہو۔ راون خود بہت بڑا عالم اور برہمن تھا ۔ اس سے یہ بات وہ بھائی کہتا ہے جس کی مدد سے رام جی نے لنکا کو ڈھا دیا اور یہ مثل مشہور ہوگئی ’’گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے‘۔
پنا ّ لال شک وہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے کہا رامائن سے مہابھارت تک ساری جنگیں عورتوں کی وجہ سے ہوئی ہیں ۔ ان میں عورتیں نہیں ماری گئیں بلکہ مرد ہی مارے گئے۔ پنا ّلال کی ویڈیو یو ٹیوب پر موجود ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ پنچالی کے سبب جو مہابھارت ہوئی اس میں ایک کروڈ لوگ(مرد) جن سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس بیان کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پناّ لال کی نظر میں دروپدی کو برہنہ کرنے والا دشاّسن اس جنگ کے لیے ذمہ دار نہیں ہے ۔ یہی وہ ذہنیت ہے جو برج بھوشن سرن سنگھ بے قصور ٹھہراتا ہے اور رام رحیم جیسے عصمت دری کے مجرم سے سیاسی فائدہ اٹھاتا ہے۔ ان لوگوں کی نظر میں خود پنچالی مہابھارت کی جنگ کےلیے بنیادی طور پر ذمہ دار ہے ۔ گرو درونا چاریہ کےغیر انسانی رویہ کو اس ذہنیت سے سمجھا جاسکتا ہے۔ پناّ لال شک نے تو پرتھوی راج چوہان کو بھی نہیں بخشا اور کہا کہ سنیوگیتا کے چکر میں اس نے کنوج سے دہلی تک اپنے ۵۵ جاگیرداروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جس کی قیمت آج بھی چکائی جارہی ہے۔ وہ جب اپنے ان مذموم خیالات کا اظہار کررہے تھے تو اسٹیج پر موجود چنچوڑ کی رکن اسمبلی پرینکا پینچلی نے انہیں ٹوک کر کہا کہ میں اپنے دم پر اسمبلی ہوں مگر پناّ لال نے اسے سب کے سامنے ڈانٹ دیا ۔ اس واقعہ کے تناظر میں راہل گاندھی کا چھاتروں کی گونج کو صرف خواتین کے لیے مختص کرکے ان کے مسائل کو موضوعِ گفتگو بنانے کی اہمیت اور معنویت کو با آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ آخر میں راہل گاندھی نے خواتین کے نام اپنا پیغام دیا کہ ’’بی لاؤڈ، بی پراؤڈ اینڈ فائٹ فار یور سیلف‘‘ یعنی اپنی آواز بلند کریں، خود پر ناز کریں اور اپنے حق کے لئے لڑیں۔ ‘‘