Breaking

دہلی پولیس: محافظِ آئین یا اقتدار کی لاٹھی؟ (قانون کی پاسداری یا ہجوم کی سرپرستی: دہلی پولیس کا ادارہ جاتی زوال)

دہلی پولیس: محافظِ آئین یا اقتدار کی لاٹھی؟ (قانون کی پاسداری یا ہجوم کی سرپرستی: دہلی پولیس کا ادارہ جاتی زوال)

دہلی پولیس: محافظِ آئین یا اقتدار کی لاٹھی؟
(قانون کی پاسداری یا ہجوم کی سرپرستی: دہلی پولیس کا ادارہ جاتی زوال)

ازقلم: اسماء جبین فلک

جمہوری نظام کا توازن اس مسلمہ اصول پر قائم ہوتا ہے کہ وردی کسی سیاسی نظریے، بااثر حکمران یا سڑکوں پر موجود مشتعل ہجوم کے تابع نہیں ہوگی، بلکہ صرف آئین اور قانون کی محافظ رہے گی۔ جدید ریاستی ڈھانچے میں جب پولیس کا ادارہ غیر جانبداری کے اس حلف سے دستبردار ہو جاتا ہے تو ریاست اور لاقانونیت کے درمیان حدِ فاصل مٹ جاتی ہے۔ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں حالیہ ایام کے دوران جنم لینے والے پرآشوب مناظر نے دہلی پولیس کی ادارہ جاتی خود مختاری اور پیشہ ورانہ وقار پر ایسے سوالات اٹھا دیے ہیں جن کی گونج اب بین الاقوامی سطح پر سنی جا رہی ہے۔ جب کسی ملک کا دارالحکومت پرامن شہریوں اور طلبہ کے لیے تادیبی خوف کی علامت بن جائے اور وہی گلی کوچے قانون ہاتھ میں لینے والے خودسر جتھوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ثابت ہوں، تو یہ صورتِ حال کسی بھی جمہوریت کے اندرونی زوال کا سب سے واضح ثبوت بن جاتی ہے۔
تاریخی اعتبار سے کسی بھی آمریت کا پہلا قدم عوامی مخالفت کے روایتی مراکز کو چھیننا ہوتا ہے۔ جنتر منتر محض اینٹ اور پتھر کا جغرافیائی ٹکڑا نہیں رہا، بلکہ یہ آزاد بھارت کی جمہوریت کی دھڑکن اور عام آدمی کے آئینی حقِ اظہار کی سب سے معتبر علامت رہا ہے۔ دہائیوں قبل جب عوامی دباؤ کے بعد انڈیا گیٹ پر مظاہروں کو روکا گیا تھا، تو جنتر منتر کو آئینی اختلاف کے لیے ایک مختص جائے پناہ تسلیم کیا گیا تھا۔ اب اس تاریخی مقام کو خاموشی سے ڈی نوٹیفائی (Denotify) کر کے عوام کو رام لیلا میدان کے مبہم اور اجازت سے مشروط چکروں میں الجھانا دراصل اختلافِ رائے کو شہر کے حاشیے پر دھکیلنے کی شعوری کوشش ہے۔ جب حکومتیں شہر کے قلب میں شہریوں کی موجودگی اور ان کے پرامن نعروں سے خوفزدہ ہونے لگیں تو وہ پولیس کو عوام کی محافظ بنانے کے بجائے ایک انتظامی رکاوٹ میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 19 شہریوں کو پرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کا بنیادی حق عطا کرتا ہے، مگر انتظامی احکامات کے تازیانوں نے اس حق کو محض کاغذ پر لکھا ایک بے اثر خواب بنا کر رکھ دیا ہے۔
اس پورے بحران کا سب سے شرمناک اور تشویش ناک پہلو وہ گٹھ جوڑ ہے جو وردی پوش اہلکاروں اور کھلے عام گھومتے پرتشدد عناصر کے درمیان سڑکوں پر دیکھا گیا۔ یہ کوئی وقتی انتظامی لغزش نہیں بلکہ ایک منظم طریقہ کار معلوم ہوتا ہے جس کی جڑیں ماضی کے تلخ واقعات تک پھیلی ہوئی ہیں۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے کیمپس پر نقاب پوشوں کا حملہ ہو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی لائبریری میں آنسو گیس کے گولے داغنے کا معاملہ ہو، یا شمال مشرقی دہلی کے بھیانک فسادات کے دوران زخمی نوجوانوں کے ساتھ ناروا سلوک کی ویڈیوز ہوں، دہلی پولیس کا طرزِ عمل ایک تسلسل کی کہانی بیان کرتا ہے۔ کناٹ پلیس اور اس کے گرد و نواح میں ڈنڈوں اور ہتھیاروں سے لیس گاڑیوں کی موجودگی پر آنکھیں بند کر لینا، بلکہ کیمروں کے سامنے ان شرپسند عناصر کو محفوظ راستہ فراہم کرنا قانون نافذ کرنے والے ادارے کے ماتھے پر ایسا کلنک ہے جسے سرکاری پریس ریلیز کے ذریعے نہیں دھویا جا سکتا۔
جب قانون کے رکھوالے لاٹھیاں لہرانے والوں سے چشم پوشی کرتے ہیں اور دوسری طرف اپنے فرائض انجام دیتے صحافیوں پر جھپٹ پڑتے ہیں، تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ ادارے کا مقصد نظم و ضبط برقرار رکھنا نہیں بلکہ سچائی کا گلا گھونٹنا ہے۔ پریس کی آزادی کسی بھی فعال جمہوریت کا چوتھا ستون کہلاتی ہے، مگر دارالحکومت کی سڑکوں پر صحافیوں کے ساتھ ہونے والا ناروا سلوک ایک تاریک حقیقت کا پتا دیتا ہے۔ رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز (Reporters Without Borders) کے پریس فریڈم انڈیکس (Press Freedom Index) میں ملک کا نچلے پائیدان پر مسلسل گرنا کوئی اتفاقیہ امر نہیں ہے۔ جب آزاد نامہ نگاروں کے کیمرے چھین لیے جائیں، ان کے اسمارٹ فونز زبردستی ضبط کر لیے جائیں اور آن لائن تجزیہ نگاروں کو دارالحکومت سے میلوں دور لے جا کر غیر قانونی طور پر ویرانوں میں چھوڑ دیا جائے، تو یہ واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ زمینی حقائق کو ریکارڈ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔
ریاستی کنٹرول کے روایتی مین اسٹریم میڈیا (Mainstream Media) کے متبادل کے طور پر ابھرنے والے آزاد ڈیجیٹل صحافیوں کو اب براہِ راست ریاستی قہر کا سامنا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے اس دور میں عوامی جذبات اور پولیس کی کارروائیوں کا سچ بغیر کسی سنسرشپ کے عوام تک پہنچ رہا ہے۔ جب خبر اور تصویر کو روکنا ممکن نہ رہے تو حکومتیں اکثر دو حکمتِ عملیاں اپناتی ہیں: پہلے کیمرے پر قدغن اور دوسری طرف جھوٹے مقدمات کا انبار۔ صحافت پر یہ کریک ڈاؤن صرف ایک پیشہ ور طبقے پر حملہ نہیں بلکہ یہ عام شہری کے حقِ آگاہی کو سبوتاژ کرنے کی منظم کوشش ہے۔ جب ایک ویڈیو جرنلسٹ خوف سے آنسو بہاتی نظر آئے اور ایک تجربہ کار رپورٹر کو رات کی تاریکی میں غائب کر دیا جائے، تو یہ مناظر دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہیں کہ ملک میں قانون کی حکمرانی کا جنازہ نکل چکا ہے۔
اس ریاستی حکمتِ عملی کا دوسرا رُخ عوامی تحریکوں کو دانستہ طور پر مذہبی اور تفرقہ انگیز رنگ دینا ہے۔ جب عوام انتخابی اداروں کی خود مختاری، بے روزگاری یا پیپر لیک (Paper Leak) جیسے بنیادی انتظامی بحرانوں پر سوال اٹھاتے ہیں تو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حلقے ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے سارا رخ مذہبی جذبات اور نعروں کی طرف موڑ دیتے ہیں۔ سڑکوں پر اتارے گئے شرپسند عناصر پرامن مظاہرین کو ملک دشمن یا مذہب مخالف قرار دے کر ایک ایسا ماحول تخلیق کرتے ہیں جس میں تشدد کو جواز مل سکے۔ یہ حربہ اس لیے آزمایا جاتا ہے تاکہ کسی بھی پرامن مظاہرے میں تصادم کی صورت پیدا کی جا سکے، اور پھر پولیس امن و امان کے نام پر بے دریغ طاقت اور لاٹھی چارج کا استعمال کرے۔ یہ ہتھکنڈہ دنیا بھر کی ان تمام انتخابی آمریتوں میں عام ہے جہاں عوامی ناراضگی کو سچائی اور مکالمے کے بجائے جھوٹ اور فساد کے پردے میں چھپایا جاتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر دہلی پولیس کے اس طرزِ عمل نے بھارت کے آئینی وقار کو شدید زک پہنچائی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل (Amnesty International) سے لے کر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین تک، متعدد بین الاقوامی فورمز پر دہلی میں ہونے والی غیر قانونی حراستوں، پرامن شہریوں پر لاٹھی چارج اور آزادیِ اظہار پر عائد پابندیوں پر گہری تشویش ظاہر کی جا چکی ہے۔ دہلی پولیس مرکزی وزارتِ داخلہ کے ماتحت کام کرتی ہے، اس لیے اس کی ہر کوتاہی، اس کی ہر جانبداری اور اس کا ہر متنازع قدم براہِ راست ملک کے اعلیٰ ترین اقتدار کے کھاتے میں درج ہوتا ہے۔ جب ریاست کی اپنی پولیس فورس پر یہ الزام عائد ہو کہ وہ عدالتوں کے فیصلوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے تو عالمی برادری کے سامنے جمہوری دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگتے ہیں۔
ملک کی عدالتِ عظمیٰ نے 2006 کے تاریخی پرکاش سنگھ کیس میں پولیس اصلاحات کا ایک واضح خاکہ پیش کیا تھا جس کا مقصد پولیس کو سیاسی آقاؤں کے غیر قانونی اثر و رسوخ سے آزاد کر کے ایک خود مختار اور آئین کے تابع ادارہ بنانا تھا۔ دو دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی وہ تمام عدالتی احکامات فائلوں کی گرد میں دبے ہوئے ہیں۔ پولیس کو خود مختار اس لیے نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ بااثر سیاسی طبقہ اسے اپنی بقا اور عوامی آواز کو دبانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ جب تک پولیس افسران کی تعیناتیاں، ان کی ترقیاں اور ان کے اختیارات سیاسی وفاداریوں سے مشروط رہیں گے، تب تک عام شہری کو سڑکوں پر انصاف ملنے کی کوئی امید نہیں کی جا سکتی۔
لیکن اس تمام تر تاریکی اور ریاستی جبر کے باوجود ایک پہلو امید افزا ہے۔ تاریخ کا یہ اٹل قانون ہے کہ جتنا دباؤ بڑھایا جاتا ہے، عوامی شعور اتنا ہی بیدار ہوتا ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر اترنے والی نئی نسل، جن میں اسکولوں اور کالجوں کے نوجوان اور طالبات شامل ہیں، اب خوف کے اس بت کو توڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ جب طالبات مسکراتے ہوئے پولیس وین میں بیٹھ کر پرامن مزاحمت کا اعلان کرتی ہیں تو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہوتا ہے کہ جبر اپنی تاثیر کھو چکا ہے۔ پونے میں طلبہ کی انتھک جدوجہد کے نتیجے میں ہونے والے انتظامی استعفے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جب عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں اور آئینی حقوق کے لیے ڈٹ جاتے ہیں تو طاقت کے ایوانوں کو جھکنا ہی پڑتا ہے۔
دہلی پولیس کو اب خود اپنے وجود اور اپنے مستقبل کے بارے میں ایک بنیادی فیصلہ کرنا ہوگا۔ کیا وہ خود کو نوآبادیاتی دور کی اس بے رحم فورس کے روپ میں دیکھنا چاہتی ہے جس کا واحد مقصد عوامی آواز کو کچلنا تھا، یا وہ ایک خود مختار اور آزاد جمہوریہ کی معتبر محافظ بننا چاہتی ہے جس کے سینے پر لگا نشان ہر شہری کے لیے تحفظ اور فخر کا باعث ہو؟ تاریخ اپنے فیصلوں میں کبھی نرمی نہیں برتتی۔ اگر پولیس قیادت نے فوری طور پر اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی نہ کی اور سیاسی مفادات کے لیے قانون کو روندا جاتا رہا، تو آئندہ نسلیں اس دور کو ایک ایسے سیاہ باب کے طور پر یاد رکھیں گی جب قانون کے پاسبانوں نے خود ہی انصاف کا گلا گھونٹ دیا تھا۔ جمہوریت سڑکوں پر جاری اس جدوجہد میں وقتی طور پر تھک ضرور سکتی ہے، لیکن جھکنے کے لیے قطعی تیار نہیں ہے۔

#DelhiPolice
#DelhiProtest,
#JantarMantar,
#JantarMantarProtest,
#CJPProtest,
#CockroachJantaParty,
#GyaneshKumar,
#AISAPROTEST,
#StudentProtest,

 

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے