Breaking

بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ

بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ

بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

 

گاندھی جینتی کے موقع سے امسال گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کا جو سلسلہ شروع ہواتو وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ پہلے نیہا بورا کے ساتھ جین زی نے مسلسل تین دنوں تک مودی سرکار کی نیند اڑائی ۔ مظاہرین کو حکومت حراست میں تو لیتی تھی ۔ ان کے ساتھ دست درازی بھی ہوتی تھی مگر کسی کو نہ تو باقائدہ گرفتار کیا جاتا اور نہ مقدمہ بنتا ۔ ان نوجوانوں کو بس میں بھر کر دور دراز کے مقام پر لے جاکر چھوڑ دیا جاتا ۔ نیہا تھکی تو راہل میدان میں اترے۔ انہوں نے انڈیا محاذ کے سارے ارکان پارلیمان کے ساتھ ایوان سے الیکشن کمیشن کے دفتر جانے کا اعلان کیا ۔ سرکار پھر ڈر گئی اور الیکشن کمیشن کے دفتر پر اس قدر سیکیورٹی بڑھائی گئی کہ گویا کوئی غیر ملکی فوج حملہ کرنے والی ہے۔ تینوں الیکشن کمیشن حزب اختلاف سے ملنے کے بجائے گدھے کے سر سے سینگ کی مانند روپوش ہوگئے۔ مظاہرین کو نرواچن سدن جانے سے روکا گیا تو وہ آکاش وانی یعنی آل انڈیا ریڈیو کے احاطے میں جاکر دھرنے پر بیٹھ گئے ۔ وہاں سے راہل اور پرینکا سمیت لوگوں کو اٹھایا نیز مقدمہ بھی بنایا مگر دوسرے دن راہل جنتر منتر پر پہنچ کر بریکیڈس پر چڑھ گئے اور پرینکا گاندگی زمین پر لیٹ گئیں ۔ وہاں سے بمشکل تمام ہٹایا تو اگلے دن کناٹ پلیس سے گاندھی سمادھی کی جانب زبردست قافلہ چل پڑا ۔ اب سرکار پریشان کے کرے تو کیا کرے ؟ کیونکہ یہ لوگ اجازت لینا تو دور اطلاع دینے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کرتے تھے۔عوام کے جوش کا یہ عالم تھا کہ؎
دربار وطن میں جب اک دن سب جانے والے جائیں گے
کچھ اپنی سزا کو پہنچیں گے، کچھ اپنی جزا لے جائیں گے

راہل گاندھی نے سرکار کے پسینے چھڑوا دئیے اور وہ اسے پونچھ کر چین کا سانس لے ہی رہی تھی کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کا اعلان ہوگیا۔ اس مظاہرے کو ناکام کرنے کے لیے ابھیجیت دیپکے سمیت سی جے پی رہنماوں کو ہوائی جہاز سے نیچے اترنے قبل ہی خواتین پولیس والوں سے گرفتار کروایا گیا کیونکہ سرکار نے چوڑیاں پہن رکھی تھیں۔ یہ عجب تماشا ہے کہ چار ماہ قبل جس ابھیجیت دیپکے بلا درخواست ہوائی اڈے پر جاکر اجازت دی گئی تھی اسے اطلاع و گزارش کے باوجود کم وقت کا بہانہ بناکر جنتر منتر کے قریب پھٹکنے نہیں دیا گیا۔ سرکاری بوکھلاہٹ کا یہ عالم تھا کہ دو سو سے زیادہ ٹرینیں منسوخ کی گئیں ۔ پچاس کے قریب میٹرو اسٹیشن بند کردئیے گئے ۔ انٹر نیٹ بند کروا دیا گیا ۔ دہلی جانے والے مظاہرین کو بھوپال ریلوے اسٹیشن پر اتار دیا گیا۔ بسوں میں گھس گھس کر تلاشی لی گئی۔ احتجاج کرنے والے مظاہرین پر وردی والی پولیس کے علاوہ بجرنگ دل کے بندر اور ہندو سرکشا دل کے غنڈے چھوڑ دئیے گئے ۔ ان سرکاری دامادوں کو چونکہ پولیس کا تحفظ حاصل تھا اس لیے اس نے خواتین سمیت نوجوانوں کو خوب مارا پیٹا مگر احتجاج نہیں رکا ۔ وہ ایک جنتر منتر کے بجائے ۲۲ ؍ مقامات پر پھیل گیا اور یہ مظاہرے تین دنوں تک جاری رہے۔ یہ نوجوان فیض کے اس شعر کی مصداق جھوم کے اٹھے تو اس سیل روان کو روکنا ناممکن ہوگیا؎
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے

آئین کی دفع 370؍کو ختم کرکے جو مودی سرکار کشمیر کو دہلی بنانا چاہتی تھی اسی نے دہلی کو کشمیر بنا دیا ۔ ایسے میں راہل گاندھی سپریم کورٹ میں جاکر سی جی آئی سے ملنے کا اعلان کردیا۔ اس سے قبل بجرنگ دل اور ہندو سرکشا کے لوگوں کی ویڈیوز وائرل ہوچکی تھیں اور عام لوگوں کا غصہ آسمان سے باتیں کررہا تھا کیونکہ پانی سر سے اونچا ہوچکا تھا۔ اس کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دہلی پولیس نے گرفتار بھی کرلیا۔ جو لوگ یہ سوچ رہے تھے یہ زعفرانی غنڈے عبدل کی چوڑی ٹائٹ کرنے کے لیے پالے جارہے ہیں وہ بی جے پی ہندو ووٹرس اور ان کے بچوں پر پل پڑے۔ بس پھر کیا تھا ایسا عوامی سیلاب اٹھا کہ جس کو دیکھ کر سرکار کی سانسیں پھول گئیں۔ یوتھ کانگریس نے اعلان کردیا کہ آج ان غنڈوں کی خیر نہیں ۔ یہ سنتے ہی سارے بزدل چوہے اپنے اپنے بلوں میں گھس گئے۔ حکومت نے پولیس کوبھی نظم و ضبط میں رہنے کا حکم دے دیا اور پھر دہلی کی سڑکوں پر سرینگر کا نعرہ ’لے کے رہیں آزادی ‘ببانگ دہل گونجنے لگا۔ کسی میں ہمت نہیں تھی کہ انہیں ٹکڑے ٹکڑے گینگ کہہ کر ان پر حملہ کرتا ۔ اس جلوس میں راحت اندوری کے اس شعر کی خوب پذیرائی ہوئی کہ ؎
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

اس طرح ہندوستان کو اپنے باپ کا مال سمجھنے والوں کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ بی جے پی کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں اپنے اندھے بھگتوں کو ہوش نہ آجائے اس لیے پورے ہفتے ان کو سُمیت مچھر کا چورن چٹا کر مدہوش رکھا گیا۔اب وہ بیچارےشادیانے بجانے میں جٹ گئے کیونکہ مودی جی کے بقول گجرات کے ایک جانباز پائیلٹ نے 174؍ یہودیوں کو مرنے سے بچا لیا تھا۔اس مچھر کی خاطر پرم ویر چکر کا مطالبہ بھی شروع ہوگیا ۔ اسی کے ساتھ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کا محاذ بھی کھول دیا گیامگر یہ احمق بھول گئے کہ پچھلے سال 22؍ اپریل (2025) کو پہلگام کے بیسارن وادی میں سید عادل شاہ نے بے قصورسیاحوں کو دہشت گردوں سے بچانے کے لیے جان کی بازی لگا دی تھی۔ اس حملے میں 26سیاحوں کو اپنی جان سے ہاتھ تو دھونا پڑا تھا مگر اس وقت وہاں تقریباً 200 سے 250 افراد موجود تھے۔ ایسے میں اگر عادل شاہ نے آگے آکر دہشت گرد کا بندوق پکڑ کر انہیں نہیں روکا ہوتا تو نہ جانے کتنے لوگ لقمۂ اجل بن جاتے کیونکہ امیت شاہ کے حفاظتی دستوں کا دور دور تک اتہ پتہ نہیں تھا۔ وہ اتفاق تھا یا جان بوجھ کر کی جانے والی کوتاہی، یہ ایک تفتیش کا موضوع ہے ۔

اسرائیل پر مبینہ دہشت گردانہ حملے پر بغلیں بجانے والوں کو اپنے گھر کی بھی فکر کرنی چاہیے۔ بی جے پی کی سرکار کے دوران پلوامہ، پہلگام اور دہلی کے حملے ہندوستان کی تاریخ کے وہ اہم ترین اور دل ہلا دینے والے سانحات وقوع پذیر ہوئےہیں۔ بلند بانگ دعویٰ کرنے والی مودی سرکاران کو روکنے میں بری طرح ناکام رہی۔ کشمیر کے اندر دفع 370 ختم کرنے کے بعد بڑی بڑی ڈینگ ہانکی گئی مگر پہلگام ہوا اور اس کے بعد دارالحکومت دہلی کو بھی مودی و شاہ دھماکوں کے قہر سے محفوظ نہیں رکھ سکے۔ گولی کے جواب میں گولے کی بات کرنے والے وزیر اعظم نے تو دہلی حملے کے بعد پاکستان کو موردِ الزام تک نہیں ٹھہرایا کیونکہ آپریشن سندور کے بعد عالمی سطح پر اس قدر بے اعتمادی ہاتھ لگی تھی کہ اگر وہ سچ بھی کہتے تو لوگوں کے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہوجاتا۔ مودی دور میں تحفظ کی ناکامی کےان واقعات کا تعلق براہ راست جموں و کشمیر سے ہے۔

پہلگام سے قبل پلوامہ حملہ پارلیمانی انتخاب کے تقریبا دو ماہ قبل 14؍ فروری( 2019ء ) کو ہوا تھا ۔اس وقت مودی سرکار پر رافیل طیاروں کی خرید میں بدعنوانی کے سنگین الزامات لگے تھے۔ سارے ملک میں ’چوکیدار چور ہے‘ ہے کانعرہ گونج رہا تھا ۔ ایسے میں یہ بدبختانہ حملہ ہوگیا جس میں چالیس سی آر پی ایف کے جوان لقمۂ اجل بن گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ ان جوانوں کو جموں سے ہوائی جہاز میں بھیجنے کے بجائے بس سے روانہ کا فیصلہ کیوں کیا گیا یہ کوئی نہیں جانتا حالانکہ اس کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لیتھ پورہ اور اونتی پورہ کے درمیان سی آر پی ایف کے قافلے پر تقریبا 300 کلوگرام دھماکہ خیز مواد کی مدد سے ایک خودکش کار بم دھماکہ کیا گیا۔ یہ بات ابھی تک صیغۂ راز میں ہے گجرات نمبر پلیٹ کی گاڑی اتنا زیادہ آر ڈی ایکس لے کر وہاں کیسے پہنچی؟ اس طرح کے کئی سوالات کشمیر کے سابق گورنر ست پال ملک کرتے کرتے دنیا سے سدھار گئے مگر مودی سرکار اس پر قرطاسِ ابیض شائع نہیں کرسکی۔ اس کے جواب میں اسی ماہ بالاکوٹ اسٹرائیک (مبینہ سرجیکل اسٹرائیک 2) کرکے گھر میں گھس کرمارا کا نعرہ لگایا گیا اور انتخاب میں کامیابی مل گئی لیکن اب وہ دن لد گئے اس لیے کہ سپریم کورٹ کے سی جے آئی نے ملنے سے تو معذوری ظاہر کی مگر حزب اختلاف کے حقوق کی پامالی پر توجہ دینے کا یقین دلایا اور پی آئی ایل داخل کرنے کا مشورہ دیا۔ مفادِ عامہ کے مقدمہ کو اسی دن رجسٹر کرکے فوراً کارروائی شروع کردی گئی۔ اس طرح ایسا محسوس ہونے لگا کہ گویا عدالتِ عظمیٰ اپنے پرانے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ ساری دنیا نےمحسوس کرلیا کہ مودی سرکار کا اقبال نہ صرف ایوانِ پارلیمان سے سڑک تک بلکہ عدلیہ میں بھی ختم ہوچکا ہے۔ راہل گاندھی کی سپریم کورٹ ریلی پر فیض کا یہ شعرصادق آرہا تھا کہ ؎
کٹتے بھی چلو، بڑھتے بھی چلو، بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت
چلتے بھی چلو کہ اب ڈیرے منزل ہی پہ ڈالے جائیں گے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے