جابرانہ محاصرے میں بھی پُر اثر مظاہرہ
ایک شخص کو بچانے کے لئے سب سے دشمنی مول لینا کیا صحیح قدم ہے؟
ازقلم :عبدالعزیز
آخری دور کے مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کے عہدِ زوال کے لئے فارسی کا ایک مشہور ضرب المثل ہے۔ جب مغلوں کی وسیع و عریض سلطنت سکڑ کر دہلی سے لے کر قریبی علاقہ پالم تک محدود رہ گئی تھی تو کہا جاتا تھا کہ ’’سلطنتِ شاہ عالم از دہلی تا پالم‘‘۔ 225 سال پہلے دہلی کی یہی صورت حال تھی۔ گزشتہ روز (10 اکتوبر) دہلی کے وزیر اعظم کے تحفظ کے لئے بارڈر سیکوریٹی فورسز (BSF) تعینات تھی۔ گویا یہ شہر برطانوی دور کے شمال مغربی صوبہ (NWFP) کا کوئی فوجی چھاؤنی والا قصبہ ہو، نہ کہ برصغیر کی ایک جمہوریہ کا دارالحکومت۔
آخری مرتبہ جب دہلی میں کسی ہندستانی حکمران نے خود کو اس قدر محصور اور بے بس محسوس کیا تھا، جیسا کہ بظاہر مودی محسوس کرتے ہیں، تو وہ 225 سال پہلے کا زمانہ تھا۔ اس وقت شاہ عالم، جو زوال پذیر مغلیہ سلطنت کے وارث تھے، ایک محاصرے میں گھرے ہوئے شہر پر حکومت کر رہے تھے۔
مذکورہ فقرے کا مطلب یہ ہے کہ مغلیہ سلطنت اس قدر سکڑ چکی تھی کہ بادشاہ کی حقیقی حکمرانی دہلی اور اس کے آس پاس کے ایک محدود علاقے تک رہ گئی تھی۔اس واقعے سے متاثر ہو کر وزیرِاعظم نے اپنے پولیس اہلکاروں کو ہوائی اڈے بھیجا تاکہ وہ طیارے میں سوار ہوں اور دیپکے، سورَو اور دیگر افراد کو محض دکھاوے کے لیے گرفتار کریں۔
دہلی شہر کا ایسا محاصرہ کیا جو فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوگیا تھا 10 اکتوبر کے دن الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاجی مظاہرے کو روکنے کے لئے۔ 9 اکتوبر کی شام ہی سے پچاس ہزار فورسز کی تعینات کر دی گئی تھی ۔ 57میٹرو اسٹیشنوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ دہلی جانے والی کئی ٹرینوں کی آمد و رفت روک دی گئی تھی۔ یہ سب نوجوان لڑکے لڑکیوں اور دیگر مظاہرین کو روکنے کے لئے ڈراؤنا قسم کا بندوبست تھا۔ حکومت کے اس بندوبست سے شاید اطمینان ہوگیا ہوگا کہ اب دہلی میں 10 اکتوبر کو کوئی مظاہرہ کرنے کے لئے آنے کی ہمت نہیں کرے گا، لیکن صبح ہی سے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے علاوہ متعدد سابق وزرائے اعلیٰ، سیاست داں، ایم ایل اے، ایم پی جنتر منتر پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔
مظاہرے کے دن 10بجے سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے اور پارٹی کے دو ترجمان سورو داس اور اشوک رانکے کو جہاز ہی میں حراست میں لے لیا گیا۔ جہاز نے جیسے ہی لینڈ کیا خواتین پولس جہاز کے اندر داخل ہوئی اور ابھجیت دیپکے کو مخاطب ہوکر کہا کہ ’’جنتر منتر پر مظاہرے کے لئے جو درخواست دی گئی تھی وہ منظور نہیں ہوئی، لہٰذا آپ وہاں نہیں جاسکتے‘‘۔ دیپکے نے کہاکہ ’’یہ بتانے کے لئے جہاز کے اندر داخل ہونے کی کیا ضرورت تھی۔ یہ تو جہاز سے اترنے کے بعد مجھے بتایا جاسکتا تھا۔‘‘ جہاز سے اترنے کے بعد کاکروچ پارٹی کے تینوں لیڈروں کو پولس نے سمجھانے کی کوشش کی کہ جنتر منتر کی طرف وہ لوگ کوچ نہیں کرسکتے۔ ان لوگوں نے جب کہاکہ وہ لوگ جنتر منتر کی طرف جائیں گے، آپ کو جو کرنا ہے کرسکتے ہیں۔ پولس نے انھیں حراست میں لے لیا اور الگ الگ جگہوں پر تینوں لیڈروں کو پہنچا دیا۔
جنتر منتر کو پورے طور پر سیل کر دیا گیا تھا اور شہر کے راستوں پر بیریکیڈ لگا دیئے گئے تھے تاکہ کوئی ایک جگہ سے دوسری جگہ نہ جاسکے۔ آہستہ آہستہ ہزاروں کی بھیڑ ہوگئی جسے پولس کے لئے سنبھالنا مشکل ہوگیا۔ لڑکے لڑکیوں پر جبر و ظلم بے تحاشہ ہونے لگا اور ایک ایک کرکے مظاہرین کو حراست میں لینے کی کوشش ہوتی رہی۔ مظاہرین نے مزاحمت کی تو انھیں مارا پیٹا گیا۔ سو ڈیڑھ سو ایسے لوگ تھے جو سادہ لباس میں تھے مظاہرین کو پکڑ پکڑ کر مار پیٹ کر رہے تھے۔ مظاہرین اور یوٹیوبرز نے پولس سے شکایت کی کہ آر ایس ایس کے غنڈے بڑی تعداد میں احتجاج کو بدنام کرنے اور فتنہ و فساد پھیلانے ، مظاہرین کو زدوکوب کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان سب کے باوجود پولس نے غنڈوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی۔ مظاہرین میں لڑکے لڑکیاں جوش و جذبے سے بھرے ہوئے تھے۔ پولس ان کے حوصلے کو پست کرنے کے لئے لاٹھی چارج کر رہی تھی اور زبردستی چار چار پانچ پانچ پولس ایک ایک لڑکے یا لڑکی کو دبوچ کر بسوں میں سامان کی طرح ٹھونس رہی تھی۔ جو لوگ عمر دراز تھے، سابق وزرائے اعلیٰ تھے، ایم پی یا ایم ایل اے تھے پولس ان کو بھی حراست میں لے رہی تھی۔
مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، سابق وزیر اعلیٰ دہلی اروند کجریوال اور تریپورہ اور کیرالم کے وزرائے اعلیٰ کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ یہاں تک کہ مہاتما گاندھی کے پوتے توشار گاندھی کو بھی بخشا نہیں گیا۔ پولس کی زیادتی، سنگدلی، جبر و ستم کے باوجود مظاہرے میں لوگ جوق درجوق شامل ہوتے رہے۔ مظاہرے میں ایسے ایسے واقعات دکھائی دیئے کہ اگر ان واقعات کو قلمبند کئے جائیں تو ایک کتاب تیار ہوسکتی ہے۔
ایک احتجاجی نوجوان نے پولس سے مخاطب ہوکر کہاکہ ’’سر! میرا ووٹ چوری ہوگیا ہے۔ کیا میرا ایف آئی آر نہیں لکھا جائے گا؟‘‘ ایک خاتون نے پولس سے کہاکہ ’’میں یہاں سے نہیں ہٹوں گی، مجھے یہاں رہنے کا دستور نے حق دیا ہے‘‘۔ ایک خاتون جس کے ساتھ پولس بدزبانی سے پیش آئی اس خاتون نے اسے ڈانٹا اور بتایا کہ ’’تمہیں جو وردی ملی ہے ہمیں پروٹیکشن دینے کے لئے ملی ہے۔ تمہیں خاص طور پر عورتوں کی حفاظت کرنا چاہئے اور تم ہو کہ بدزبانی اور بدسلوکی سے کام لے رہے ہو‘‘۔ خاتون کی چیخ پکار سن کر پولس کو دم دبا کر بھاگنا پڑا۔خواتین کی ایک ٹیم بھی پولس کی گاڑی کے اوپر چڑھ گئی اور وہاں سے زور زور سے نعرے بازی کرتی رہی۔
احتجاجی نوجوانوں کے جذبات بیحد برانگیختہ تھے۔ سب کے سب غصے سے بھرے ہوئے تھے۔ مودی، امیت شاہ اور گیانیش کمار کے خلاف نعرے بلند کئے جارہے تھے۔ ’’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘‘۔ پولس سے کہا جارہا تھا کہ غنڈے ، بدمعاش تو بی جے پی کے دفتر میں ہیں ، تم یہاں کیوں کھڑے ہوئے ہو؟ پولس کو مظاہرین میں سے اکثر ان کے فرائض بتا رہے تھے کہ تم دستور کا حلف لے کر ڈیوٹی کر رہے ہو۔ تم کسی فرد یا حکومت کے غلام نہیں ہو۔ تم کو قانون کے مطابق اپنی ڈیوٹی انجام دینا چاہئے۔ پولس کو یہ بھی بتایا جارہا تھا کہ ہم لوگ جو یہاں لڑ رہے ہیں وہ تمہارے اور تمہارے بچوں کے لئے لڑ رہے ہیں۔ تمہیں ہوش میں آنا چاہئے۔ اس طرح کے بہت سے مناظر اور واقعات قابل ذکر ہیں۔
اسی روز اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی شام کے وقت چنئی پہنچے ہوئے تھے۔ طالب علموں کی گونج کے پروگرام میں وہ خطاب کر رہے تھے ۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ’’مودی، شاہ، اجیت ڈوبھال، موہن بھاگوت اور گیانیش کمار ان سب کی سازشوں کو وہ Demolish (منہدم) کرکے دم لیں گے۔‘‘ راہل گاندھی وہ سارے مناظر ایک ایک کرکے بڑے اسکرین پر دکھا رہے تھے جو پولس طالب علموں ، نوجوانوں اور مظاہرے میں شامل مرد وعورت کے ساتھ ظالمانہ حرکت کر رہی تھی۔
سی جے پی کے سورو داس نے 9 اور 10 اکتوبر کی رات میں ہی کہا تھا کہ ’’اس بار حکومت نے ماحول بنایا ہے اور حکومت گھبراہٹ کی شکار ہے۔ کانپ رہی ہے۔ اپنی کمزوری دکھا رہی ہے۔ ان سب سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کو بچانے میں حکومت ساری طاقت جھونک دے رہی ہے۔ کیا کسی حکومت کے لئے ایک چور کو جو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے ، وہ درست ہوسکتا ہے؟‘‘
حقیقت تو یہ ہے کہ مودی اور شاہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت والا ملک کہے جانے کو بدنام کر رہے ہیں۔ نریندر مودی بیرون ملک جاکر ہندستان کو جمہوریت کی ماں بتاتے ہیں، یہاں وہ جمہوریت کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ لوگوں کو احتجاج و مظاہرہ کرنے کا حق بھی نہیں دے رہے ہیں۔ اس سے ملک کی نہ صرف توہین ہورہی ہے بلکہ ملک بدنام ہو رہا ہے۔ وہ جو اپنے ’وشو گرو‘ کا ڈھنڈورا پیٹ رہے تھے اب وہ کس منہ سے اپنے آپ کوو شو گرو کہیں گے۔ دہلی میں گزشتہ روز (10اکتوبر) ایمرجنسی کا ماحول تھا۔ دہلی بند کا سماں تھا۔ دہلی میں رہنے والا ہر ہوشمند آدمی کہہ رہا تھا کہ ’’دہلی میں ایسی صورت حال کبھی دیکھنے میں نہیں آئی‘‘۔ حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ جو لوگ سڑکوں پراحتجاج کر رہے ہیں وہ چند دنوں میں خاموش ہوجائیں گے، لیکن اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈران اور کارکنان سڑکوں پر اتر چکے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے حمایتی بھی احتجاجیوں کے لئے کمربستہ ہیں۔ بایاں بازو کی تمام پارٹیوں کے لیڈران، کارکن اور طلبہ تنظیم جان ہتھیلی پر لے کر احتجاج کے لئے کمر کس چکی ہے۔ زین -جی کی اکثریت آر ایس ایس، بی جے پی کو اکھاڑنے پھینکنے کے لئے تیار ہے۔مودی اپنے آپ کو بچانے کے لئے دیر یا سویر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ ان کے استعفے سے حکومت کا پول کھل سکتا ہے اور اس کا کچا چٹھا بھی عیاں ہو جائے گا، اس لئے استعفیٰ دینے یا دلانے میں تاخیر ہورہی ہے۔ حالات بی جے پی کے لئے مشکل سے مشکل ہوتے جارہے ہیں۔ آر ایس ایس کا کوئی بڑا لیڈر مودی-شاہ کے لئے منہ نہیں کھول رہا ہے۔
بی جے پی کے بزرگ لیڈر مرلی منوہر جوشی نے جو بیان دیا ہے وہ مودی کے طور طریقے پر سخت تنقید ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کی جو رائے مودی کے خلاف آئی ہے اس میں آر ایس ایس کی رائے بھی شامل حال ہے۔ ایک خبر ایسی بھی ہے جس کی تصدیق پورے طور پر نہیں ہوئی ہے لیکن یہ کہا جارہا ہے کہ امیت شاہ بھی مودی سے ناخوش ہیں۔ این ڈی اے کے بہت سے ارکان بھی سمجھ رہے ہیں کہ دیر یا سویر این ڈی اے کا جہاز ڈوب سکتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مودی حکومت کے دن پورے ہونے والے ہیں۔ صدر جمہوریہ کا بھی جو بیان آیا ہے وہ بھی حکومت کے حق میں نہیں ہے۔ صدر جمہوریہ ہند درو پدی مرمو نے اپوزیشن کے لیڈروں سے کہا ہے کہ ’’ووٹ چوری کا ثبوت پیش کریں‘‘۔ راہل گاندھی نے ثبوت پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ الیکشن کمشنر کو بچانے کے لئے قانون سازی کی گئی ہے ، سپریم کورٹ میں اس کی بھی سماعت ہونے والی ہے۔ ایس آئی آر کا بھی معاملہ سپریم کورٹ میں درپیش ہے۔ حکومت اب سوالات کے گھیرے میں ہے اور خود بھی مودی دہلی میں اپنے آپ کو محصور کرتے ہوئے دکھائی دے رہیں۔ بی جے پی کا کوئی بڑا لیڈر ان کے لئے منہ نہیں کھول رہا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ یہ حکومت کتنے دنوں تک اپنی خیر مناتی ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068