انڈیا اتحاد اور راہل گاندھی کی شاندار ریلی، ملک ایک فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکا ہے.

انڈیا اتحاد اور راہل گاندھی کی شاندار ریلی، ملک ایک فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکا ہے.
magnificent rally by the INDIA alliance and Rahul Gandhi; the country has entered a decisive phase

 انڈیا اتحاد اور راہل گاندھی کی شاندار ریلی، ملک ایک فیصلہ کن دور میں داخل ہو چکا ہے

 

ازقلم: شیخ سلیم،ممبئی

 

12 اکتوبر کو لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے سپریم کورٹ کی طرف ایک عظیم الشان ریلی کی قیادت کی، جس میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنما ان کے ساتھ شریک تھے۔ یہ حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی ریلیوں میں سے ایک تھی۔ مارچ کرنے والوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد انڈیا اتحاد نے عدالت میں ایک عرضی دائر کی، جس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے کام کاج میں زیادہ شفافیت، ایس آئی آر کی جانچ پڑتال اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) سے متعلق طریقۂ کار کے جائزے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پچھلے ڈیڑھ دو سال سے راہل گاندھی لگاتار "ووٹ چوری” کے خلاف جگہ جگہ پروگرام کر رہے ہیں اور عوام کو بتا رہے ہیں کہ ووٹ چوری کس طرح ہوئی، جس کے نتیجے میں حزبِ اختلاف کو شکست ہوئی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو ان انتخابات میں کامیابی ملی جہاں ایس آئی آر کیا گیا۔ ان تمام پروگراموں کی وجہ سے عوام میں بے چینی پیدا ہو چکی ہے اور لوگ بڑی تعداد میں ایس آئی آر کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ کل کا دہلی کا مظاہرہ اس سلسلے کا اب تک کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔
عرضی میں ووٹروں کے ناموں کی حذف کاری (نام کاٹے جانے)، کمیشن کے فیصلہ سازی کے طریقے اور انتخابی ڈیٹا بیس کے تحفظ کے انتظامات پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ عدالت سے کہا گیا ہے کہ وہ جانچے کہ کمیشن کے اقدامات آئین اور انتخابی قوانین کے مطابق ہیں یا نہیں۔ عرضی میں گیانیش کمار کے اختیارات پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے، اور یہ بھی کہ آیا اہم فیصلے متعلقہ قواعد کے مطابق کیے گئے اور ان کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا گیا۔
ایس آئی آر کا مکمل ریکارڈ
اتحاد کے بنیادی مطالبات میں سے ایک یہ ہے کہ الیکشن کمیشن ایس آئی آر سے متعلق اپنی تمام فائلیں پیش کرے۔ ان میں سرکاری احکامات، فائلوں پر درج اندرونی نوٹس، اعتراضات کا ریکارڈ، میٹنگوں کی کارروائی اور وہ تمام دستاویزات شامل ہوں گی جن سے معلوم ہو کہ اہم فیصلے کیسے کیے گئے۔
عرضی میں متعلقہ ای سی آئی نیٹ اور ای آر او نیٹ کے ایکسیس لاگز بھی طلب کیے گئے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل نظام انتخابی انتظامیہ اور ووٹر لسٹوں کے انتظام سے وابستہ ہیں۔ ان کے ریکارڈ سے یہ پتا چل سکتا ہے کہ تبدیلیاں کب کی گئیں، ڈیٹا بیس تک کس طرح رسائی حاصل کی گئی، اور مقررہ طریقۂ کار کی پابندی کی گئی یا نہیں۔
اپوزیشن چاہتی ہے کہ کمیشن کی فیصلہ سازی کو جانچ کے لیے کھولا جائے، نہ کہ صرف ان عمومی یقین دہانیوں پر بھروسا کیا جائے کہ نظرثانی درست طریقے سے کی گئی ہے۔

ووٹروں کے نام حذف ہونا بڑی تشویش کیوں ہے؟
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ فہرستوں کی نظرثانی اس لیے ضروری ہے کہ فوت شدہ ووٹروں، دہرائے گئے اندراجات، مستقل طور پر رہائش بدل لینے والوں اور دیگر نااہل رائے دہندگان کی نشاندہی کی جا سکے۔
تاہم اپوزیشن سوال اٹھاتی ہے کہ کیا ایس آئی آر کے دوران اپنائے گئے طریقوں نے اہل شہریوں کو غلط طور پر خارج ہونے سے مناسب حد تک بچایا ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ یہ بات زیادہ شفاف ہو کہ کن ناموں کو حذف کیا گیا، حذف کرنے کی وجوہات کیا تھیں، اعتراضات کو کیسے نمٹایا گیا، اور ووٹر اپنا نام دوبارہ کیسے درج کرا سکتے ہیں۔
یہ فرق اہم ہے۔ بڑی تعداد میں ناموں کا حذف ہونا خود بخود کسی غلط کاری کو ثابت نہیں کرتا، لیکن فہرستوں کی صفائی کا بیان کردہ مقصد بھی اس بات کا ثبوت نہیں کہ ہر انفرادی حذف درست تھا۔ شواہد کو ایک ایک کیس کے حساب سے پرکھنا ہوگا۔ کروڑوں نام کاٹنا آسان ہے دوبارہ جوڑنا لوہے کے چنے چبانے جیسا ہے ۔

چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں سوالات
عرضی میں مبینہ طور پر یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا گیانیش کمار نے اہم فیصلے یک طرفہ طور پر کیے، یعنی دیگر الیکشن کمشنروں کے علم یا منظوری کے بغیر۔
اس میں متعلقہ آئینی اور قانونی ڈھانچے کی جانچ کا مطالبہ کیا گیا ہے، جن میں آئین کا آرٹیکل 324 اور چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنر ایکٹ 2023 کی دفعہ 18 شامل ہیں۔
یہاں مسئلہ ادارہ جاتی جواب دہی کا ہے: فیصلے کیسے کیے جاتے ہیں، مطلوبہ طریقۂ کار کی پابندی ہوتی ہے یا نہیں، اور کیا کمیشن یہ ثابت کر سکتا ہے کہ اس کے اقدامات قانونی تھے۔

انتخابی ڈیٹا بیس اور ای وی ایم کی آزادانہ جانچ
انڈیا اتحاد نے انتخابی ڈیٹا بیس اور ای وی ایم کو کنٹرول کرنے والے تکنیکی انتظامات کی آزادانہ جانچ کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
اس کے مطالبات میں ای وی ایم کے استعمال اور تعیناتی کو چلانے والے طریقوں، پروٹوکولز، تکنیکی ساخت اور حفاظتی انتظامات کی جانچ شامل ہے۔ عرضی میں مبینہ طور پر ایک ایسی کمیٹی کی درخواست کی گئی ہے جس کی سربراہی سپریم کورٹ کا کوئی سبکدوش جج کرے، اور جس کی مدد تکنیکی ماہرین اور دیگر ممتاز شخصیات کریں، تاکہ ان نظاموں اور طریقۂ کار کا جائزہ لیا جا سکے۔
ایسی جانچ سے بذاتِ خود یہ ثابت نہیں ہوگا کہ ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ اس کا مقصد یہ دیکھنا ہوگا کہ تکنیکی اور انتظامی حفاظتی انتظامات کافی ہیں یا نہیں اور کیا ان کی آزادانہ تصدیق ممکن ہے۔ اگر دھاندلی کی گئی ہے تو پتہ چل جائے گا ۔
اتحاد نے آن لائن فارم 6 کے عمل پر بھی تشویش ظاہر کی ہے، جسے اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام شامل کرانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کا موقف ہے کہ کوئی بھی اضافی شرط متعلقہ انتخابی قواعد کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس فارم میں تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ سے منظوری ضروری ہے ۔

سپریم کورٹ کیا کر سکتی ہے؟
اگر عدالت یہ مطالبات قبول کر لیتی ہے تو وہ ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے سکتی ہے، مخصوص فیصلوں کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے سکتی ہے، مزید تصدیق کا حکم دے سکتی ہے، یا متعلقہ نظاموں کی آزادانہ جانچ پر غور کر سکتی ہے۔ ایس آئی آر رد کر سکتی ہے حتمی ریلیف عدالت کے نتائج اور قابلِ اطلاق قانون پر منحصر ہوگا۔
یہ معاملہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی مقابلے سے کہیں آگے کا ہے۔ انتخابی فہرستوں کا درست ہونا ضروری ہے، لیکن انہیں درست کرنے کے عمل میں بھی اہل ووٹروں کو من مانی یا غلطی سے خارج ہونے سے بچانا لازمی ہے۔
بہار، مغربی بنگال، آسام اور مہاراشٹر کے تجربات نے ان سوالات کو اور زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ تبدیلیوں کا پیمانہ، متنازع معاملات سے نمٹنے کا طریقہ اور اپیلوں کی افادیت، یہ سب باریک بینی سے جانچ کے مستحق ہیں۔ان سبھی جگہوں پر حزب اختلاف کو شکست ہوئی اور بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوئی ۔
بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہر اہل ہندوستانی شہری بغیر کسی غلط اخراج کے اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکتا ہے، اور کیا انتخابی فہرستوں کی تیاری شفاف، جواب دہ اور آزادانہ تصدیق کے قابل ہے۔ عوام کے شکوک وشبہات کیسے دور ہوں
انڈیا اتحاد نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ وہ ان خدشات کا جائزہ لے۔ الزامات کو ثابت شدہ نتائج سے الگ رکھنا ضروری ہے، اور الیکشن کمیشن کی وضاحتوں اور انفرادی معاملات کے شواہد کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ آخرکار عوامی اعتماد ایک ایسے عمل پر منحصر ہے جو درستگی اور انصاف، دونوں کا مظاہرہ کر سکے۔
اگر سپریم کورٹ سے فوری انصاف نہیں ملا اور راہل گاندھی کے خدشات دور نہیں ہوئے تو احتجاج مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ عوام کی اکثریت کا اعتماد الیکشن کمیشن اور اس کے طریقۂ کار سے اٹھ چکا ہے، اور دہلی کی سرکار کا ڈر بھی ختم ہوتا نظر آ رہا ہے۔ کل ہزاروں رکاوٹوں کے باوجود لاکھوں افراد راہل گاندھی کی ایک کال پر، ایک آواز پر، دہلی کی سڑکوں پر نکل آئے۔ ظاہر ہے یہ سبھی کانگریس کے رکن نہیں تھے۔ یہ وہ عوام تھی جسے یقین تھا کہ اگر مسلسل ہو رہی ووٹ چوری کو نہیں روکا گیا تو جمہوریت ختم ہو جائے گی، اور عوام کا حال کسی ایسی ریاست یا راجواڑے کے باشندوں جیسا ہو جائے گا جن کا کام ہر وقت اپنے راجہ کے گن گانا ہے اور جنہیں کسی احتجاج یا سوال کا کوئی حق حاصل نہیں۔
میں 12 اکتوبر کے احتجاج کو اس معنی میں دیکھتا ہوں کہ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اب تاریخ 12 اکتوبر سے پہلے کے دور اور 12 اکتوبر کے بعد کے دور میں بٹ گئی ہے، ایسا دور جس میں حکومت نے عوام کا بھروسا کھو دیا ہے، نوجوانوں کا بھروسا کھو دیا ہے۔ عوام کے اندر سے مودی شاہ کا، مودی شاہ کی پولیس کا اور جیل کا ڈر بھی نکل گیا ہے۔ راہل گاندھی آگے آگے ہیں اور کہہ رہے ہیں "ڈرو مت”، اور نوجوان نسل اور عوام ان کے پیچھے ہیں۔ ڈر کا نظام ختم ہو رہا ہے، اور ساتھ ساتھ جمہوریت کو ڈکٹیٹر شپ میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی خاک میں ملتا نظر آ رہا ہے۔ لوگ 12 اکتوبر کو 1942 کی بھارت چھوڑو تحریک کی طرح دیکھ رہے ہیں۔اس بھیڑ کو دیکھ کر نارتھ بلاک کیا سوچ رہا ہوگا ناگپور میں بیٹھے سنگھ والے کیا سوچ رہے ہونگے بھاجپا کے پالیسی بنانے والے کیا سوچ رہے ہونگے گودی میڈیا والے کیا سوچ رہے ہونگے۔ بحر حال تبدیلی کا آغاز ہو چکا ہے ۔

آفتاب تازہ پیدا بطنِ گیتی سے ہوا
آسماں ڈوبے ہوئے تاروں کا ماتم کب تلک

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے