وینس: اچھا صلہ دیا تو نے میرے پیار کا

وینس: اچھا صلہ دیا تو نے میرے پیار کا

وینس: اچھا صلہ دیا تو نے میرے پیار کا

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

امریکہ کی محبت میں مودی جی نے ساری دنیا سے لڑائی کر لی ۔ پچھلے سال ٹرمپ کے نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کی ہند نژاد زوجہ اوشا کو ہندوستان بلا کر خوب پذیرائی کی لیکن اس ا حسان فراموش نے کھلے عام امریکہ میں زیر ملازمت ہندوستانی آئی ٹی پروفیشنلز کو ’بندھوا مزدور‘ کہہ دیا جو بھارت ماتا کی توہین تھی ۔ پچھلے دنوں آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت بڑے طمطراق سے امریکہ گئے تھے تاکہ ہندوستان کے حق میں ماحول سازی کرسکیں۔ انہوں ہندوستانی نژاد عوام کو امریکی قوانین پر عمل کرنے کی تلقین کرکے ٹرمپ انتظامیہ کا دل جیتنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کے بارے میں چکنی چپڑی باتیں کرکے اپنے دامن کے داغ دھونے سعی بھی کرڈالی مگر ان ساری کوششوں پر امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نےیہ کہہ کر پانی پھیر دیا کہ H-1B ویزا پر امریکہ میں کام کرنے والے غیر ملکی ملازمین یعنی ’’بندھوا مزدور‘‘کوبعض کمپنیاں کم تنخواہ پر رکھ کر امریکی ملازمین کی حق تلفی کرتی ہیں۔وشو گرو مودی کی زبان سے اس اہانت آمیز تبصرے کی مذمت میں ایک لفظ نہیں نکلا ۔وزارت خارجہ کی جانب سے معمولی احتجاج ہوگیا بس اور ٹائیں ٹائیں فش۔
جے ڈی وینس کے اس بیان سے امریکہ میں زیر ملازمت جن ہندوستانی پروفیشنلز کی توہین ہوئی وہ ٹیکنالوجی، تحقیق اور دیگر شعبوں میں کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف مشہور ہندوستانی اداروں مثلاً ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز، انفوسس، وپرو اور ایچ سی ایل میں کام کرتے ہیں بلکہ مائیکروسافٹ، ایڈوب، کاگنیزنٹ اور کیپ جیمینی جیسی امریکی کمپنیوں میں بھی زیر ملازمت ہیں ۔ یہ معاملہ صرف زبانی بیان بازی تک محدود نہیں تھا بلکہ امریکی وزیر محنت نے بھی اعلان کردیا کہ نامزد اداروں کی نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی اور زیر التوا درخواستوں پر کارروائی روک دی جائے گی۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بعض اداروں پر مقامی ملازمین کی جگہ غیر ملکی کارکن بھرتی کرنے اور ملازمتوں کے ضابطوں سے بیجا فائدہ اٹھانے کے الزامات بھی لگائے۔ اس کے برعکس ہندوستانی ٹیکنالوجی صنعت کی نمائندہ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس کے اداروں نے امریکہ میں مقامی بھرتیاں بڑھائی ہیں۔ ان بیانات نے مودی جی کو پچھلے سال اپریل میں جے ڈی وینس کے ہندوستانی دورہ یاد آگیا ہو گا۔ وینس ، اوشا اور 3 بچوں سمیت پہلےدورے پر آئے تھے۔ ان بچوں کو ہندوستانی لباس میں اکشردھام مندر کے اندر دیکھ کر سے ہندوتوانواز جھوم اٹھے تھے مگر اب اس خوشی پر خاک پڑ گئی ہے۔
جے ڈی وانس کی زوجہ اوشا وینس کے والدین کا تعلق آندھرا پردیش سے تھا مگر وہ خودکیلیفورنیا میں پیدا ہوئیں۔ 2013 میں ان کی ییل لا اسکول میں جے ڈی سے ملاقات ہوئی اور 2014 میں شادی ہوگئی۔ امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ہندوستان کے چار روزہ دورے پر امریکہ کے ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدے پر بھی بات چیت کرکے ٹیرف اور مارکیٹ تک رسائی جیسے متعدد مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی تھی ۔وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے دورے کا مقصد بھارت-امریکہ جامع عالمی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا بتایا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے نائب صدر وینس اور ان کی اہلیہ کے اعزاز میں عشائیہ دیا تھا۔ اس سے قبل دونوں رہنماوں نے وسیع البنیاد مذاکرات بھی کیے۔ امریکہ کےنائب صدر کا وہ پہلا دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تقریباً 60 ممالک بشمول ہندوستان پر سخت ٹیرف عائد کرنے کے بعد ہوا تھا اس لیےوہ خاصی اہمیت کا حامل تھا ۔ دہلی میں دو طرفہ تجارتی معاہدے کو جلد حتمی شکل دے کر دونوں ممالک کے تعلقات کی مجموعی رفتار کو تیز کرنے کے بعد وینس اور ان کے اہل خانہ جے پور و آگرہ کی سیر و تفریح کے لیے نکل گئے۔ ایسا لگتا ہے کہ سنگ دل وینس پر ہندوستانی مہمان نوازی کا کوئی اثر نہیں ہوا ۔
ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ٹیکنالوجی جائنٹ مائیکرو سافٹ سمیت بھارتی آئی ٹی کمپنیوں اور امریکی جامعات کو ایچ ون بی ویزہ پروگرام کے تحت معطل کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کا جواز پیش کرنے کی ذمہ داری نائب صدر جے ڈی وینس کو سونپی گئی ۔ انہوں نے مائیکروسافٹ سمیت آٹھ ٹیکنالوجی کمپنیوں پر غیر ملکی ملازمین کے لیے گرین کارڈ پروگرام کے غلط استعمال کا سنگین الزام لگا دیا۔ امریکی انتظامیہ کے مؤقف کی حمایت میں وہ بولے کہ ان کمپنیوں کی بھرتیوں سے امریکی شہریوں کے روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ مائیکروسافٹ نے امریکی ملازمین کو ملازمتوں سے نکالنے کے بعد بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے ویزے اور گرین کارڈ حاصل کیے۔ان کے مطابق مائیکروسافٹ نے گزشتہ برس تقریباً 6 ہزار امریکی ملازمین کونکالا ، جبکہ اسی عرصے میں کمپنی نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے 6 ہزار 300 ایچ ون بی ویزے حاصل کیے اور تقریباً 3 ہزار گرین کارڈ بھی حاصل کیے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں وہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ مائیکروسافٹ نے ہر ایک امریکی ملازم کو نکالنے کے مقابلے میں ڈیڑھ غیر ملکی کارکن کو ملازمت دینے کا انتظام کیا۔
جے ڈی وینس نےمائیکروسافٹ کی عظمت کااعتراف کرتے ہوئے اسے بہترین امریکی کارکنوں کو ملازمت دینے کی صلاح دی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے سے پہلے کمپنیوں کو امریکی اخبارات میں ملازمتوں کے اشتہارات دینے کی شرط پوری کرنا ہوتی ہےمگربعض کمپنیاں چھوٹے شہروں کے اخبارات میں اشتہار دے کر غیر ملکی کارکنوں کو بھرتی کرنے کی اجازت حاصل کر لیتی ہیں کیونکہ انہیں مقامی افراد کی جانب سے درخواستیں موصول نہیں ہوتیں۔وینس کے مطابق اس طریقے سے امریکی کارکنوں کی جگہ غیر ملکی ملازمین کو لایا جا رہا ہے۔ان الزامات کی تردید میں مائیکروسافٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال میں کمپنی کی جانب سے جمع کرائی گئی تقریباً 6 ہزار ایچ ون بی ویزا درخواستوں میں سے 80 فیصد پہلے سے کام کرنے والے ملازمین کے ویزوں کی مدت میں توسیع یا ان کی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے تھیں۔اس طرح وضاحت کی گئی کہ یہ درخواستیں نئے لوگوں کو بھرتی کرنے کے لیے نہیں تھیں۔مائیکروسافٹ نےیہ بھی بتایا کہ نئے ملازمین پہلے سے قانونی طور پر امریکہ میں موجود تھے۔ یہ افراد امریکہ آنے والے نئے تارکین وطن نہیں تھے اور ایسے لوگ امریکہ کے اندر مائیکروسافٹ کی مجموعی تعدادِملازمین کا صرف ایک فیصد تھے۔
ایچ ون بی ویزا امریکہ میں ایسے غیر ملکی ماہرین کو ملازمت دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کی مہارت ناگزیر ہو۔ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اس ویزے کے تحت منظور ہونے والی تقریباً تین چوتھائی درخواستیں ہندوستانیوں کی ہوتی ہیں۔ امریکی شہریت اور امیگریشن سروسز کے اعداد و شمار کے مطابق، ایچ ون بی ویزے حاصل کرنے والے امریکی اداروں میں مائیکروسافٹ پانچویں نمبر پر ہے، جبکہ ایمیزون پہلے نمبر پر ہے۔ جے ڈی وینس نے غیر ملکی ملازمین کی بھرتی پر اعتراض کرتے ہوئے امیگریشن پروگراموں کا غلط استعمال کا سنگین الزام بھی لگادیا۔ سابق امریکی انتظامیہ میں شہریت اور امیگریشن سروسز کے سینئر مشیر ڈگ رینڈ نے جے ڈی وینس کے اعلان کو غیر واضح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت واقعی یہ سمجھتی ہے کہ ایچ ون بی ویزے پر کام کرنے والے افراد کا استحصال ہوتا ہے تو پھر کمپنیوں کو ان ملازمین کے لیے گرین کارڈ حاصل کرنے سے روکنا مناسب اقدام نہیں۔ ڈگ رینڈ کے مطابق گرین کارڈ کے بعد ملازم کا امیگریشن کے لیے اپنے آجر پر انحصار نہیں رہتاکیونکہ وہ مستقل رہائشی بن جاتاہے اور ملازمت تبدیل کر کے بہتر تنخواہ کے لیے بات چیت کر سکتاہے لیکن مقامی لوگوں کی بیروزگاری سےپریشان وینس کو استحصال ختم کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
ٹرمپ انتظامیہ کی کارروائی صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ غیر ملکی طلبہ اور امریکی جامعات بھی اس کے نشانے پر ہیں ۔امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کی تجویز کے مطابق امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے بین الاقوامی طلبہ کو تعلیم کے دوران یا بعد میں متعلقہ شعبے میں کام کرنے کی اجازت دینے والے پروگرام کے لیے فی طالب علم 70 ہزار ڈالر فیس عائد کی جا سکتی ہے۔ اس تجویز کے تحت متعلقہ تعلیمی اداروں کو یہ فیس ادا کرنا ہوگی۔ جے ڈی وینس نے نو امریکی یونیورسٹیوں کے خلاف جے ون ویزا پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کردیا ہے۔ یہ ویزا غیر ملکی شہریوں کو تبادلے کے پروگراموں کے تحت عارضی طور پر امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے یا کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ وینس نے ہارورڈ، ییل، اسٹینفورڈ، براؤن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف پٹسبرگ، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس، کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی اور میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی پر نشانہ سادھا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے ان اقدامات کو ایک طرف امریکی ملازمین کے تحفظ اور امیگریشن نظام میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے مگر اس کے برخلاف ناقدین کو خدشہ ہے کہ غیر ملکی ماہرین اور طلبہ کے لیے مواقع محدود کرنے سے امریکی اداروں کی عالمی صلاحیتوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ یہ تمام اقدامات ہندوستانیوں کے لیے مشکلات کے ساتھ امریکی معاشرے میں زلزلے کے جھٹکوں کی علامات ہیں۔ اس چل چلاو کی بیلا پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے کہ؎
گیا دورِ سرمایہ داری گیا تماشا دکھا کر مداری گیا

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے