سعودی عرب اور حوثی گروہ. جنگ کے پھیلتے ہوئے دائرے، علاقائی رقابت اور عالمی معیشت کے لیے نئے خطرات

سعودی عرب اور حوثی گروہ. جنگ کے پھیلتے ہوئے دائرے، علاقائی رقابت اور عالمی معیشت کے لیے نئے خطرات

سعودی عرب اور حوثی گروہ.
جنگ کے پھیلتے ہوئے دائرے، علاقائی رقابت اور عالمی معیشت کے لیے نئے خطرات

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں کسی ایک ملک میں بھڑکنے والی آگ محض اس کی جغرافیائی سرحدوں تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اس کے شعلے پڑوسی ریاستوں کی سلامتی، عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل، بین الاقوامی تجارت اور انسانی زندگی کے مختلف شعبوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ یمن کی خانہ جنگی، سعودی عرب اور حوثی گروہ کے مابین طویل کشمکش، ایران اور سعودی عرب کی علاقائی رقابت اور بحیرۂ احمر کی تزویراتی اہمیت کو اسی وسیع تر تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

موجودہ منظرنامے میں سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی کی شدّت، سعودی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے، بحری راستوں کو لاحق خطرات اور جنگ کے معاشی اثرات ایک ایسے بحران کی نشان دہی کرتے ہیں جس کے نتائج یمن اور سعودی عرب سے آگے پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان مخصوص تازہ واقعات، ہلاکتوں کی تعداد، ہوائی اڈوں کی بندش اور جزیرہ میون و شہر المخا پر کنٹرول سے متعلق اطلاعات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے؛ اس لیے انہیں اس مضمون میں فراہم کردہ رپورٹوں اور دعوؤں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ ہر جزئیے کو غیر متنازع حقیقت سمجھ لیا جائے۔

اس بحران کا مطالعہ محض یہ جاننے کے لیے کافی نہیں کہ کس نے کس پر حملہ کیا، کس نے کس میزائل کو روکا اور کس نے جوابی کارروائی کی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک مقامی سیاسی گروہ کس طرح علاقائی طاقت کے توازن پر اثرانداز ہوتی ہے، جغرافیہ عسکری قوت میں کیسے تبدیل ہوتا ہے، جنگ معیشت کو کس طرح اپنی گرفت میں لیتی ہے، اور سفارت کاری کی ناکامی انسانی مستقبل کو کس قدر غیر یقینی بنا دیتی ہے۔ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب سعودی عرب اور حوثی گروہ کے تنازع کی تاریخی، سیاسی، عسکری، معاشی اور انسانی جہات کا تفصیلی جائزہ لینے سے سامنے آتے ہیں۔

1۔ حوثی گروہ کا تاریخی پس منظر: مذہبی شناخت سے مسلح سیاسی قوت تک

سعودی عرب اور حوثی گروہ کے موجودہ تصادم کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ یمن کی داخلی تاریخ اور اس کے سیاسی ارتقا کو سمجھا جائے۔ کسی بھی مسلح گروہ ریک کو محض اس کے موجودہ عسکری کردار کی بنیاد پر سمجھنا کافی نہیں ہوتا؛ اس کی فکری تشکیل، سماجی بنیادیں، تاریخی محرومیاں اور اقتدار کے ساتھ اس کے تعلقات بھی اس کی موجودہ صورت گری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ حوثی گروہ کی ابتدا شمالی یمن کے صوبے صعدہ میں ہوئی، جہاں زیدی شیعہ مذہبی روایت صدیوں سے موجود رہی ہے۔ 1990ء کی دہائی میں زیدی شناخت اور مذہبی تعلیم کے احیا سے وابستہ سرگرمیوں نے رفتہ رفتہ سیاسی رنگ اختیار کیا۔ حسین بدرالدین الحوثی اس گروہ کی نمایاں شخصیات میں شامل ہوئے۔ 2004ء میں یمنی حکومت کے ساتھ مسلح تصادم شروع ہوا اور حسین الحوثی کی ہلاکت کے بعد ان کے بھائی عبدالملک الحوثی نے قیادت سنبھال لی۔

یہاں ایک بنیادی نکتہ قابلِ توجہ ہے: حوثی گروہ کو صرف مذہبی اختلاف کا نتیجہ قرار دینا تاریخی حقیقت کو محدود کر دینا ہوگا۔ اس کے عروج میں شمالی یمن کے بعض علاقوں کی محرومی، ریاستی اقتدار سے کشمکش، مقامی شناخت، سیاسی نمائندگی کے مسائل اور علاقائی مداخلتوں نے بھی کردار ادا کیا۔ بعد کے برسوں میں یہ گروہ ایک منظم سیاسی و عسکری قوت میں تبدیل ہوئی، جس نے یمن کے اقتدار کی جدوجہد میں فیصلہ کن حیثیت حاصل کر لی۔ 2011ء میں عرب دنیا میں اٹھنے والی احتجاجی گروہ نے یمن کے سیاسی نظام کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔ طویل عرصے تک صدر رہنے والے علی عبداللّٰہ صالح کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد انتقالِ اقتدار کی کوششیں کی گئیں، لیکن ریاستی اداروں کی کمزوری، سیاسی اختلافات اور مسلح گروہوں کی طاقت کے باعث استحکام پیدا نہ ہو سکا۔

ستمبر 2014ء میں حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا۔ اس پیش رفت نے یمن کے سیاسی بحران کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا۔ مارچ 2015ء میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی فوج نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی، جس کا اعلان کردہ مقصد بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی بحالی اور حوثی پیش قدمی کو روکنا تھا۔ مگر جنگ کا عملی نتیجہ اس مقصد سے کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہوا۔ برسوں کی فضائی بمباری اور زمینی لڑائی کے باوجود حوثی گروہ یمن کے شمال مغربی اور گنجان آباد علاقوں میں اپنی قوت برقرار رکھنے میں کامیاب رہی۔ یمن کی خانہ جنگی نے یہ حقیقت واضح کی کہ محض فضائی برتری کسی ایسے مسلح گروہ کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہوتی جس کی جڑیں مقامی معاشرے، قبائلی روابط اور سیاسی تنازعات میں پیوست ہوں۔

2022ء میں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والی جنگ بندی سے نسبتاً سکون پیدا ہوا، لیکن اقتدار کی تقسیم، ریاستی اداروں کی بحالی اور مستقل سیاسی تصفیے کے بنیادی مسائل حل نہ ہو سکے۔ اکتوبر 2026ء کی تازہ رپورٹوں کے مطابق جولائی میں دوبارہ شدّت اختیار کرنے والی لڑائی نے اس غیر مستحکم توازن کو توڑ دیا ہے۔ اس تاریخی سفر سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یمن کا بحران کسی ایک واقعے، ایک مذہبی اختلاف یا ایک بیرونی طاقت کی مداخلت سے پیدا نہیں ہوا۔ یہ داخلی سیاسی کمزوریوں، مسلح طاقت کے ارتکاز، علاقائی رقابت اور ناکام سیاسی مفاہمتوں کا مجموعی نتیجہ ہے۔

2۔ سعودی عرب اور حوثیوں کی دشمنی: سرحدی سلامتی سے علاقائی طاقت کی کشمکش تک

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کی بنیادی نوعیت کو سمجھنے کے لیے دونوں فریقوں کے مقاصد اور سلامتی کے تصورات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ سعودی عرب کے لیے یمن محض ایک پڑوسی ملک نہیں، بلکہ اس کی جنوبی سرحد کے ساتھ واقع ایسا خطہ ہے جس کا داخلی استحکام براہِ راست سعودی قومی سلامتی سے وابستہ ہے۔ اگر یمن میں کوئی مخالف مسلح قوت مضبوط ہو جائے اور اسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور ڈرونز کی صلاحیت بھی حاصل ہو، تو اس کا خطرہ سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہتا۔ ریاض کے ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات، فوجی اڈے اور شہری مراکز بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔

دوسری طرف حوثی گروہ سعودی فوجی مداخلت کو اپنے خلاف جنگ اور یمن کے داخلی معاملات میں بیرونی مداخلت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ اس کے نزدیک سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی بحالی اس کے سیاسی و عسکری اقتدار کے لیے چیلنج ہے۔ چنانچہ حوثیوں کے لیے سعودی عرب پر دباؤ ڈالنا یمن میں اپنے مخالفین کے خلاف جاری جدوجہد کا بھی ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہاں تنازع ایک خطرناک دائرے میں داخل ہو جاتا ہے: سعودی عرب حوثی حملوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھ کر عسکری کارروائی کرتا ہے؛ حوثی ان کارروائیوں کو اپنی جنگ کا جواز بنا کر جوابی حملے کرتے ہیں؛ اور ہر نئی کارروائی مخالف فریق کے عدمِ اعتماد کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔

اکتوبر 2026ء میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر مہلک حملے، اس کے بعد مزید حملوں اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جوابی کارروائیوں کی اطلاعات اسی بڑھتے ہوئے تصادم کی عکاسی کرتی ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق 10 اکتوبر کے حملے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے؛ بعد کی رپورٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد اور واقعات کی تفصیلات میں فرق سامنے آیا۔ 11 اکتوبر کو ہوائی اڈے کے ایک ٹرمینل پر مزید حملے کی اطلاع بھی دی گئی۔ یہ واقعات ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں: کیا مسلسل عسکری دباؤ مخالف فریق کو سیاسی سمجھوتے پر آمادہ کرتا ہے، یا اسے اپنی بقا کے لیے زیادہ تباہ کن اقدامات کی طرف دھکیل دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب ہر تنازع میں یکساں نہیں ہوتا۔ تاہم یمن کے گزشتہ برسوں کے تجربے سے اتنا ضرور واضح ہے کہ جب جنگ کے سیاسی مقاصد غیر واضح ہوں اور فریقین کے درمیان قابلِ اعتماد مذاکراتی نظام موجود نہ ہو، تو عسکری کامیابی بھی مستقل امن کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

3۔ ایران اور حوثی گروہ: مذہبی وابستگی، تزویراتی تعاون اور علاقائی مفادات

حوثی گروہ اور ایران کے تعلقات سعودی عرب کے ساتھ تنازع کا ایک اہم پہلو ہیں، لیکن اس تعلق کو سمجھنے کے لیے مذہبی شناخت اور سیاسی مفادات کے درمیان فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ایران اور حوثی گروہ کے درمیان سیاسی ہم آہنگی، عسکری تعاون اور ہتھیاروں و تکنیکی صلاحیتوں سے متعلق روابط پر برسوں سے بین الاقوامی توجہ مرکوز رہی ہے۔ امریکا اور اس کے بعض اتحادی ایران پر حوثیوں کو اسلحہ، تربیت اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ حوثیوں کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں میں اضافے کو بھی بیرونی تعاون سے جوڑا جاتا ہے، اگرچہ ہر ہتھیار کی تیاری، ترسیل اور عملی استعمال کے متعلق تفصیلات یکساں طور پر واضح نہیں۔

تاہم حوثیوں کو ایران کا محض ایک بے اختیار نمائندہ سمجھنا بھی یمن کی داخلی سیاست کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ اس گروہ کی اپنی قیادت، مقامی سماجی بنیادیں، سیاسی ترجیحات اور یمن کے اقتدار سے متعلق مخصوص مقاصد ہیں۔ ایران سے تعلقات اسے علاقائی سطح پر سفارتی اور عسکری اہمیت فراہم کرتے ہیں، لیکن اس کی داخلی قوت کی وضاحت صرف بیرونی معاونت سے نہیں کی جا سکتی۔ مذہبی اعتبار سے بھی ایک اہم فرق موجود ہے۔ حوثی گروہ کی زیدی شیعہ روایت ایران میں غالب اثنا عشری شیعہ مذہب سے مختلف ہے۔ اس لیے ایران اور حوثیوں کے تعلقات کو محض مشترکہ مذہبی شناخت کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے مشترکہ مخالفین، علاقائی حکمتِ عملی اور سیاسی مفادات کے تناظر میں سمجھنا زیادہ درست ہے۔

اس تعلق کا سعودی عرب کے لیے بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یمن میں حوثیوں کی مضبوطی کو وہ اپنے جنوبی محاذ پر ایرانی اثر و رسوخ کے ممکنہ پھیلاؤ کے طور پر دیکھتا ہے۔ دوسری طرف ایران کے لیے حوثیوں سے تعلقات خلیج اور بحیرۂ احمر کے خطے میں اس کی سفارتی و تزویراتی اہمیت بڑھانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہ صورتِ حال یمن کے داخلی تنازع کو ایک وسیع تر علاقائی رقابت سے جوڑ دیتی ہے۔ مقامی سیاسی کشمکش میں بیرونی قوتوں کی شمولیت فریقین کی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، لیکن اس کے ساتھ جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے اور سیاسی سمجھوتے کو پیچیدہ بنانے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

ایرانی ثالثی کی پیشکش: سفارتی امکان یا تزویراتی ضرورت؟

اکتوبر 2026ء کی فراہم کردہ رپورٹوں کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے رابطے میں مذاکرات کی بحالی اور سیاسی حل کے لیے ثالثی کی پیشکش کی۔ اس رابطے کی اطلاع بھی بین الاقوامی ذرائع نے دی ہے۔ اس پیشکش کو دو زاویوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ ایران کا حوثیوں پر اثر و رسوخ اسے مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایران اور سعودی عرب دونوں کے اپنے علاقائی مفادات ہیں؛ لہٰذا کسی بھی ثالثی کی افادیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا اس کے نتیجے میں حملوں میں کمی، قابلِ تصدیق ضمانتوں اور یمن کے داخلی سیاسی عمل کے لیے عملی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔ سفارت کاری کا امتحان بیانات سے نہیں، نتائج سے ہوتا ہے۔ اگر رابطے صرف کشیدگی کے دوران سیاسی پیغام رسانی تک محدود رہیں تو ان کی اہمیت عارضی ہوگی؛ لیکن اگر وہ جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے، انسانی امداد کی رسائی، سرحدی سلامتی اور سیاسی مذاکرات کے قابلِ عمل نظام میں تبدیل ہوں تو یہی رابطے ایک بڑے بحران کو محدود کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

4۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب: جغرافیہ جب عالمی طاقت کا ہتھیار بن جائے

یمن کے بحران کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جس نے اسے عالمی سیاست اور معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت عطا کر دی ہے: اس کا جغرافیہ۔ دنیا کے نقشے پر یمن بظاہر جزیرہ نما عرب کے جنوب مغربی کنارے پر واقع ایک ملک ہے، لیکن بحری راستوں کے اعتبار سے اس کا محلِ وقوع اسے عالمی تجارت کے ایک نہایت حساس مرکز کے قریب لا کھڑا کرتا ہے۔ آبنائے باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔ اس کے ذریعے جہاز نہرِ سویز اور بحیرۂ روم کی طرف سفر کرتے ہیں، جو ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت کے اہم ترین راستوں میں سے ایک ہے۔ اس جغرافیائی حقیقت کا مطلب یہ ہے کہ یمن کے ساحلی علاقوں میں عسکری کنٹرول کی تبدیلی محض مقامی سیاسی معاملہ نہیں رہتی۔ اگر اس علاقے میں جہاز رانی کو خطرات لاحق ہوں تو ان کے اثرات ان ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں جن کا یمن کی خانہ جنگی سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔

نومبر 2023ء میں غزہ کی جنگ کے دوران حوثی گروہ نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں اور اسرائیل کی جانب میزائل و ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ حوثیوں نے ان کارروائیوں کو فلسطینیوں کی حمایت سے جوڑا، جب کہ متعدد ممالک اور جہاز ران کمپنیوں نے ان حملوں کو بین الاقوامی بحری سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ اس کے بعد کئی کمپنیوں نے اپنے جہازوں کو طویل متبادل راستوں پر بھیجنے کا فیصلہ کیا، جس سے سفر کا دورانیہ، ایندھن کے اخراجات اور بعض تجارتی سرگرمیوں کی لاگت بڑھ گئی۔ حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی اور المخا و جزیرہ میون کے کنٹرول سے متعلق اطلاعات نے ان خدشات کو مزید بڑھایا ہے۔ تاہم ان مخصوص مقامات پر قبضے اور کنٹرول کی موجودہ صورتِ حال کی الگ سے تصدیق ضروری ہے۔

سعودی عرب کے لیے باب المندب کی اہمیت

سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ اس کی تیل کی برآمدات کا ایک اہم حصّہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے وابستہ ہے، جب کہ مشرقِ مغرب پائپ لائن کے ذریعے تیل کو بحیرۂ احمر کے ساحل تک پہنچانے کی صلاحیت اسے ایک متبادل راستہ فراہم کرتی ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم فرق سمجھنا چاہیے: بحیرۂ احمر تک تیل پہنچا دینا اور وہاں سے اسے محفوظ طریقے سے عالمی منڈیوں تک روانہ کرنا دو الگ معاملات ہیں۔ اگر باب المندب کے قریب بحری آمدورفت خطرے میں پڑ جائے تو متبادل پائپ لائن کی افادیت بھی محدود ہو سکتی ہے۔ یوں سعودی عرب کو بیک وقت دو جغرافیائی چیلنجوں کا سامنا ہو سکتا ہے: مشرق میں آبنائے ہرمز سے وابستہ خطرات اور مغرب میں بحیرۂ احمر و باب المندب کی سلامتی۔ یہی وجہ ہے کہ یمن کی جنگ کو صرف زمینی محاذوں پر ہونے والی لڑائی سمجھنا درست نہیں۔ یہ توانائی کی ترسیل، بحری راستوں کے تحفّظ اور عالمی معیشت کے استحکام سے بھی جڑی ہوئی ہے۔

5۔ میزائل اور ڈرون جنگ: جدید دفاعی نظام کی حدود

جدید جنگ میں طاقت کا تعین صرف فوجیوں کی تعداد، جنگی طیاروں کی برتری یا دفاعی بجٹ کے حجم سے نہیں ہوتا۔ کبھی نسبتاً کم وسائل رکھنے والا فریق بھی ایسے ہتھیاروں کے ذریعے طاقت ور ریاست کے لیے بڑے دفاعی اور معاشی مسائل پیدا کر دیتا ہے جن کی تیاری یا استعمال کی لاگت نسبتاً کم ہوتی ہے۔ حوثی گروہ کی عسکری حکمتِ عملی میں میزائل اور بغیر پائلٹ کے فضائی طیارے، یعنی ڈرون، اسی نوعیت کے اہم ذرائع ہیں۔ ان کی مدد سے دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے، جب کہ پہاڑی جغرافیہ، منتشر ٹھکانے اور متحرک عسکری ڈھانچہ مخالف فوج کے لیے اہداف کی شناخت اور انہیں مستقل طور پر غیر مؤثر بنانا مشکل بنا سکتے ہیں۔ اکتوبر 2026ء میں ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملوں کے بعد سعودی دفاعی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی حکام نے حملوں کی روک تھام میں ناکامی کی تحقیقات شروع کیں، جب کہ بعض حملوں کے دوران میزائل اور ڈرون روکنے کے دعوے بھی کیے گئے۔

اس صورتِ حال سے تین بنیادی حقائق سامنے آتے ہیں۔

اوّل: دفاعی نظام کی موجودگی مکمل تحفّظ کی ضمانت نہیں۔ جدید فضائی دفاعی نظام آنے والے خطرات کو شناخت کرنے، ان کا تعاقب کرنے اور انہیں روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن ہر نظام کی اپنی عملی حدود ہوتی ہیں۔ خطرے کی نوعیت، حملے کا وقت، ہتھیاروں کی تعداد اور دفاعی نظام کی تیاری جیسے عوامل نتائج پر اثرانداز ہوتے ہیں۔

دوّم: مسلسل حملے دفاعی وسائل پر معاشی دباؤ ڈالتے ہیں۔ مہنگے دفاعی میزائلوں کے ذریعے نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز کو روکنا طویل مدّت میں وسائل کے استعمال کا مسئلہ پیدا کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دفاعی نظام بے فائدہ ہے، بلکہ یہ کہ دفاع اور حملے کی لاگت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ضروری ہو جاتا ہے۔

سوّم: شہری تنصیبات پر حملے کا اثر عسکری نقصان سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ ہوائی اڈے، تیل کی تنصیبات، بجلی کے نظام اور بندرگاہیں جدید ریاست کی معاشی زندگی کی شہ رگ ہیں۔ ان کی بندش یا تباہی شہریوں، کاروبار، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔

اس لیے سعودی عرب کے لیے چیلنج صرف آنے والے میزائلوں کو روکنا نہیں، بلکہ شہریوں کے تحفّظ، دفاعی تیاری، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کو بیک وقت یقینی بنانا بھی ہے۔

6۔ سعودی معیشت پر جنگ کے اثرات: تیل سے آگے ایک وسیع بحران

جنگ کی تباہ کاریوں کا ایک پہلو وہ ہوتا ہے جو ملبے، زخمیوں اور تباہ شدہ عمارتوں کی صورت میں دکھائی دیتا ہے؛ دوسرا وہ ہوتا ہے جو بازاروں، کاروباری فیصلوں، سرمایہ کاری اور روزگار کے اعداد و شمار میں ظاہر ہوتا ہے۔ سعودی عرب کے موجودہ بحران میں یہ دوسرا پہلو بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کی معیشت طویل عرصے سے تیل کی برآمدات پر انحصار کرتی رہی ہے، اگرچہ حالیہ برسوں میں سیاحت، تفریح، صنعت، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کو فروغ دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ وژن 2030ء کے تحت معاشی تنوع، غیر ملکی سرمایہ کاری اور عالمی کاروباری سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اہم اہداف میں شامل ہے۔ ایسے میں بڑے ہوائی اڈوں پر حملے، پروازوں کی منسوخی، تیل کی تنصیبات کو خطرات اور بحری راستوں میں عدمِ استحکام ان اہداف کے لیے متعدد مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

معاشی نقصان کے چار بڑے راستے

1۔ تیل کی پیداوار اور ترسیل: اگر تیل کی تنصیبات یا پائپ لائنوں کو نقصان پہنچے تو پیداوار، ترسیل یا برآمدات متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم کسی حملے کی اطلاع کو لازماً مجموعی تیل کی پیداوار میں اتنی ہی کمی کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے؛ اس کے لیے حقیقی پیداواری اعداد و شمار درکار ہوتے ہیں۔

2۔ فضائی نقل و حمل: ہوائی اڈوں کی بندش سے مسافروں، فضائی کمپنیوں، ہوٹلوں، کاروباری اجلاسوں اور سیاحت پر اثر پڑتا ہے۔ اکتوبر 2026ء کی رپورٹوں کے مطابق ریاض کے ہوائی اڈے کی بندش اور متعدد فضائی کمپنیوں کی پروازوں میں تبدیلیوں نے اس خطرے کو عملی صورت دی ہے۔

3۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد: سرمایہ کاری صرف منافع کی شرح پر منحصر نہیں ہوتی؛ سیاسی استحکام، قانونی تحفّظ اور بنیادی ڈھانچے کی سلامتی بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر کسی ملک کے اہم کاروباری مراکز مسلسل حملوں کے خطرے میں رہیں تو سرمایہ کار نئے منصوبوں پر نظر ثانی کر سکتے ہیں۔

4۔ حکومتی اخراجات: مسلسل حملوں کے نتیجے میں دفاع، بنیادی ڈھانچے کی مرمت، شہری تحفّظ اور ہنگامی انتظامات پر زیادہ اخراجات کرنا پڑ سکتے ہیں۔ اگر یہ صورتِ حال طویل ہو تو ترقیاتی منصوبوں اور دیگر سرکاری ترجیحات کے لیے دستیاب وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

جی ڈی پی میں کمی: اعداد و شمار کی درست تعبیر
فراہم کردہ ڈی ڈبلیو رپورٹ میں عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے سعودی عرب کی مجموعی ملکی پیداوار میں 3.3 فیصد کمی کی پیش گوئی کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ایسی پیش گوئی کو اس بات کا قطعی ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہ معیشت میں ہونے والی ہر ممکنہ کمی صرف حوثی حملوں کا نتیجہ ہوگی۔ معاشی نمو پر تیل کی پیداوار، عالمی طلب، قیمتوں، آبنائے ہرمز کی صورتِ حال، خطے کی مجموعی جنگ، سرکاری اخراجات اور نجی سرمایہ کاری سمیت متعدد عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک عامل کو پوری معاشی صورتِ حال کا ذمّہ دار قرار دینا تجزیاتی طور پر درست نہیں ہوگا۔ اس بحران کی اصل معاشی اہمیت یہ ہے کہ اگر سلامتی کے خطرات طویل ہو جائیں تو وہ معاشی تنوع کی کوششوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ تیل کی دولت کسی ملک کو وسائل تو فراہم کرتی ہے، لیکن اس کے شہروں، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور تجارتی راستوں کو جنگ کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں بنا سکتی۔

7۔ امریکا اور اسرائیل، ایران اور یمن: ایک جنگ کے اندر کئی محاذ

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تازہ کشیدگی کو خطے کی وسیع تر جنگ سے الگ کرکے دیکھنا بھی مشکل ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق فروری 2026ء میں شروع ہونے والی امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں اور یمن میں دوبارہ شدّت اختیار کرنے والی لڑائی نے علاقائی سلامتی کے مسائل کو باہم جوڑ دیا ہے۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے: مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات اگرچہ مختلف ممالک، تنظیموں اور مقامی محرکات سے جنم لیتے ہیں، لیکن ان کے عسکری، معاشی اور سفارتی اثرات ایک دوسرے کو تقویت دے سکتے ہیں۔

ایران کے خلاف جنگ سے ایران کی توانائی کی برآمدات، خلیج فارس میں جہاز رانی اور علاقائی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافہ سعودی حکومت کو اپنی دفاعی ترجیحات تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اگر امریکا اس تنازع میں براہِ راست عسکری کردار اختیار کرتا ہے تو یمن کا بحران مزید وسیع علاقائی تصادم کا حصّہ بننے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اکتوبر 2026ء کی رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف سعودی حملوں میں امریکا کی شمولیت پر غور کرنے کا عندیہ دیا، لیکن اس بیان کو مکمل فوجی مداخلت کے حتمی فیصلے کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ امریکی شمولیت کی صورت میں دفاعی تعاون، انٹیلی جنس، فضائی مدد اور عسکری کارروائیوں کی مختلف شکلیں ممکن ہو سکتی ہیں، لیکن ہر صورت کے نتائج الگ ہوں گے۔

براہِ راست جنگ میں شمولیت حوثیوں کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، تاہم اس سے امریکی مفادات اور علاقائی تنصیبات کے خلاف جوابی حملوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اسرائیل کے ساتھ حوثیوں کی کشیدگی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حوثی گروہ نے بحیرۂ احمر میں اپنے حملوں کو فلسطینیوں کی حمایت کے بیانیے سے جوڑا ہے۔ لیکن اس سیاسی مؤقف سے قطع نظر، تجارتی جہازوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کے اثرات عالمی تجارت اور عام انسانوں تک پہنچتے ہیں۔ یوں خطے کا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہر فریق اپنے اقدامات کو دفاع، مزاحمت یا قومی سلامتی کے تناظر میں پیش کر سکتا ہے، لیکن جب مختلف محاذ ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو کسی ایک محاذ پر شروع ہونے والی کارروائی بھی پورے خطے کو وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

8۔ انسانی بحران: جنگ کے اصل متاثرین کون ہیں؟

سیاسی تجزیوں میں میزائلوں کی تعداد، دفاعی نظام کی کارکردگی، تیل کی قیمتوں اور علاقائی طاقت کے توازن پر گفتگو زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن جنگ کی سب سے گہری اور دیرپا قیمت اکثر ان لوگوں کو ادا کرنا پڑتی ہے جن کے پاس نہ جنگ شروع کرنے کا اختیار ہوتا ہے، نہ اسے روکنے کی قوت۔ یمن گزشتہ کئی برسوں سے دنیا کے شدید انسانی بحرانوں میں شامل رہا ہے۔ طویل خانہ جنگی نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو متاثر کیا، بڑی تعداد میں لوگوں کو بے گھر کیا اور خوراک، صحت، پانی اور بنیادی سہولتوں تک رسائی کو مشکل بنایا۔ اقوام متحدہ اور امدادی ادارے مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ سیاسی حل کے بغیر انسانی ضروریات پوری کرنا اور مستقل بحالی ممکن نہیں۔

اکتوبر 2026ء میں یمن کے شہر تعز کے گرد لڑائی اور رسد کے راستوں کی بندش سے متعلق رپورٹوں نے شہریوں کی سلامتی اور خوراک و ایندھن کی فراہمی کے بارے میں نئی تشویش پیدا کی ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب میں ہوائی اڈوں پر حملوں نے بھی شہریوں کو براہِ راست خطرے میں ڈالا ہے۔ فراہم کردہ اطلاعات میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں مختلف ممالک کے شہری شامل ہیں۔ یہ حقیقت یاد دلاتی ہے کہ جدید ہوائی اڈے محض کسی ریاست کی عسکری یا معاشی علامت نہیں ہوتے؛ وہ مسافروں، خاندانوں، کارکنوں اور بین الاقوامی رابطوں کا مرکز بھی ہوتے ہیں۔

جنگ کے انسانی اثرات کئی سطحوں پر ظاہر ہوتے ہیں:
جانی نقصان: شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے ساتھ خاندانوں کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہے۔
بے گھری: لڑائی اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی لوگوں کو اپنے گھروں سے نکلنے پر مجبور کرتی ہے۔
معاشی محرومی: روزگار، تجارت اور آمدنی کے ذرائع متاثر ہونے سے غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صحت و تعلیم: ہسپتالوں، اسکولوں اور نقل و حمل کے نظام پر دباؤ بڑھتا ہے۔
نفسیاتی اثرات: مسلسل خوف، عدمِ تحفّظ اور اپنے عزیزوں کو کھونے کا صدمہ کئی برس تک باقی رہ سکتا ہے۔

انسانی بحران کو محض جنگ کا ضمنی نتیجہ سمجھنا بھی ایک سنگین فکری غلطی ہے۔ شہریوں کا تحفّظ، انسانی امداد کی رسائی اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی ہر فریق کی ذمّہ داری ہے۔ کسی بھی سیاسی مقصد کو شہری آبادی کے خلاف غیر امتیازی یا غیر قانونی حملوں کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ جنگ میں عسکری کامیابی کا دعویٰ کرنے والے فریقوں کو بھی یہ سوال نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ ان کی کارروائیوں کے نتیجے میں کتنے انسان بے گھر ہوئے، کتنے بچّے تعلیم سے محروم ہوئے اور کتنے خاندان بنیادی ضروریات کے لیے دوسروں کے محتاج بن گئے۔

9۔ عالم اسلام کے لیے سوال: مشترکہ مفادات یا باہمی رقابت؟

سعودی عرب اور حوثی گروہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالم اسلام کے لیے بھی ایک اہم فکری اور سیاسی سوال اٹھاتی ہے۔ کیا مسلم دنیا اپنے داخلی اختلافات کو ایسے سیاسی اور سفارتی طریقوں سے حل کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکتی ہے جو بیرونی مداخلت، مسلسل جنگ اور انسانی تباہی کے امکانات کو کم کریں؟ یہ سوال کسی ایک فریق کی حمایت یا مخالفت سے زیادہ وسیع ہے۔ اس میں عرب ریاستوں کے باہمی تعلقات، ایران اور خلیجی ممالک کے اختلافات، یمن کی خودمختاری، فلسطین کا مسئلہ، عالمی تجارت اور انسانی جانوں کے تحفّظ جیسے متعدد پہلو شامل ہیں۔ مسلم دنیا کے ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات ایک حقیقت ہیں، لیکن اختلاف کا وجود لازماً مستقل دشمنی کا تقاضا نہیں کرتا۔ ریاستیں اپنے مفادات کے تحفّظ کے ساتھ ایسے مشترکہ اصول بھی اختیار کر سکتی ہیں جن میں شہریوں کی سلامتی، خودمختاری کا احترام، مذاکرات اور تنازعات کے پُرامن حل کو مرکزی اہمیت حاصل ہو۔

اس ضمن میں چند اقدامات خاص اہمیت رکھتے ہیں:
اوّل: سفارتی رابطوں کو مستقل نظام میں تبدیل کیا جائے۔ ہنگامی رابطوں کے بجائے ایسے مستقل فورم درکار ہیں جو حملوں، سرحدی خطرات، بحری سلامتی اور تنازعات کے حل پر مسلسل کام کر سکیں۔

دوّم: یمن کے داخلی سیاسی عمل کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ یمن کا مستقبل صرف بیرونی طاقتوں کے باہمی معاہدوں سے طے نہیں ہو سکتا۔ یمنی معاشرے کے مختلف سیاسی اور علاقائی فریقوں کی شرکت کے بغیر دیرپا حل کی بنیاد کمزور رہے گی۔

سوّم: مذہبی اختلافات کو سیاسی تصادم کا واحد سبب نہ بنایا جائے۔ زیدی اور اثنا عشری روایات کے اختلافات اپنی جگہ، لیکن موجودہ بحران میں اقتدار، سلامتی، علاقائی اثر و رسوخ اور ریاستی ڈھانچے کے مسائل بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

چہارم: انسانی امداد کو سیاسی سودے بازی سے حتیٰ الامکان محفوظ رکھا جائے۔ خوراک، ادویات، پانی اور شہری ضروریات کی فراہمی کو مذاکرات کی کامیابی تک مؤخر نہیں کیا جانا چاہیے۔

پنجم: بحری راستوں کی سلامتی کو بین الاقوامی تعاون سے مضبوط بنایا جائے۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کے تحفّظ کے لیے علاقائی ممالک، تجارتی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے درمیان تعاون ضروری ہے، لیکن ایسے اقدامات میں کشیدگی کو مزید وسیع کرنے کے خطرات بھی پیشِ نظر رہنے چاہییں۔

عالم اسلام کی حقیقی قوت صرف عسکری وسائل یا معاشی دولت میں نہیں، بلکہ اس صلاحیت میں بھی ہے کہ وہ اختلافات کے باوجود مشترکہ انسانی اور علاقائی مفادات کا تحفّظ کر سکے۔

10۔ مستقبل کے ممکنہ راستے: جنگ کی توسیع یا سیاسی مفاہمت؟

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع کے مستقبل کے بارے میں یقین کے ساتھ کوئی حتمی پیش گوئی کرنا ممکن نہیں۔ تاہم موجودہ حالات کی بنیاد پر چند ممکنہ راستوں کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔

پہلا راستہ: عسکری کارروائیوں میں مزید شدّت-
اگر سعودی عرب حملوں کو روکنے کے لیے فضائی کارروائیوں میں اضافہ کرتا ہے اور حوثی گروہ مزید میزائل و ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دیتی ہے، تو تنازع کے پھیلنے اور شہری نقصان میں اضافے کا خطرہ پیدا ہوگا۔ امریکا کی براہِ راست شمولیت اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

دوسرا راستہ: محدود جنگ بندی اور مذاکرات-
سعودی عرب، ایران، یمنی فریقوں اور دیگر متعلقہ ممالک کے درمیان رابطے کسی محدود جنگ بندی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ اس کے لیے حملوں میں قابلِ تصدیق کمی، سرحدی سلامتی کی ضمانتیں، انسانی امداد کی رسائی اور مذاکرات کے واضح اصول درکار ہوں گے۔

تیسرا راستہ: بحری سلامتی پر محدود اتفاق-
ممکن ہے کہ تمام سیاسی اختلافات ختم کیے بغیر بھی بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کے تحفّظ، انسانی امداد کی نقل و حمل اور اہم بحری راستوں کو کھلا رکھنے کے لیے محدود انتظامات پر اتفاق ہو جائے۔ تاہم ایسے انتظامات تبھی مؤثر ہوں گے جب ان پر عمل درآمد کی نگرانی اور خلاف ورزیوں سے نمٹنے کا قابلِ اعتماد طریقہ موجود ہو۔

چوتھا راستہ: یمن کے سیاسی بحران کا جامع حل-
یہ سب سے وسیع اور پیچیدہ راستہ ہوگا۔ اس میں اقتدار کی تقسیم، ریاستی اداروں کی بحالی، معاشی وسائل کی منصفانہ تقسیم، مقامی آبادی کی نمائندگی اور مسلح گروہوں کے مستقبل جیسے مسائل شامل ہوں گے۔ اس نوعیت کا تصفیہ وقت، مسلسل مذاکرات اور مختلف فریقوں کی سیاسی آمادگی کا تقاضا کرتا ہے۔

ان راستوں میں سے کسی ایک کو یقینی نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ ایک بات واضح ہے: اگر تنازع کے بنیادی سیاسی اسباب حل کیے بغیر صرف عسکری دباؤ پر انحصار کیا جائے تو جنگ کے دوبارہ بھڑکنے کا امکان برقرار رہے گا۔

جنگ کے شور میں امن کی ضرورت

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی محض دو فریقوں کی عسکری رقابت نہیں، بلکہ جدید مشرقِ وسطیٰ کے ان پیچیدہ تضادات کی عکاس ہے جہاں مقامی محرومیاں، سیاسی اقتدار کی کشمکش، علاقائی طاقتوں کے مفادات، جدید ہتھیاروں کی صلاحیت اور عالمی معیشت کی باہمی وابستگی ایک دوسرے میں مدغم ہو چکی ہیں۔ یمن کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کسی گروہ کی عسکری قوت کو محدود کرنا اور اس کے پیچھے موجود سیاسی مسئلے کو حل کرنا دو الگ کام ہیں۔ سعودی عرب کے لیے اپنے شہریوں، ہوائی اڈوں، تیل کی تنصیبات اور سرحدوں کا تحفّظ ناگزیر ہے؛ اسی طرح یمن کے عوام کے لیے امن، ریاستی استحکام، معاشی بحالی اور انسانی وقار بنیادی ضروریات ہیں۔ ان مقاصد کو ایک دوسرے کی ضد بنا دینے کے بجائے ایسا سیاسی راستہ تلاش کرنا ضروری ہے جس میں سلامتی اور مفاہمت دونوں کے لیے جگہ ہو۔

ایران اور سعودی عرب کے تعلقات بھی اس بحران کے مستقبل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک اپنے اختلافات کو علاقائی تصادم کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے محدود کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یمن کے لیے مذاکرات کی گنجائش بڑھ سکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہر علاقائی تنازع کو وسیع تر طاقت کی کشمکش کا ایک نیا محاذ بنا دیا جائے تو مقامی آبادیوں کو اس کی قیمت طویل عرصے تک ادا کرنا پڑے گی۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب کی صورتِ حال ایک اور حقیقت واضح کرتی ہے: آج کے عالم میں جغرافیہ صرف نقشے پر کھینچی ہوئی سرحدوں کا نام نہیں، بلکہ عالمی معیشت، توانائی اور سلامتی کے نظام کا فعال حصّہ ہے۔ کسی ایک حساس بحری راستے میں عدمِ استحکام ہزاروں میل دور واقع ممالک کی تجارت، قیمتوں اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔

لیکن ان تمام تزویراتی (Strategic) اور معاشی مباحث کے درمیان سب سے بنیادی حقیقت انسان ہے۔ میزائلوں کی زد میں آنے والا مسافر، جنگ میں گھر کھونے والا خاندان، تعلیم سے محروم ہونے والا بچہ اور علاج کے منتظر زخمی انسان کسی جغرافیائی حکمتِ عملی کے محض اعداد و شمار نہیں۔ ان کی زندگیوں کا تحفّظ ہی کسی بھی سیاسی یا عسکری فیصلے کی انسانی معنویت کا اصل پیمانہ ہے۔ اس لیے سعودی عرب اور حوثیوں کے تنازع کا حقیقی حل صرف اس سوال میں پوشیدہ نہیں کہ میدانِ جنگ میں کس کو برتری حاصل ہوتی ہے، بلکہ اس سوال میں ہے کہ کیا فریقین ایسا سیاسی بندوبست قائم کر سکتے ہیں جس میں حملوں کا سلسلہ رکے، یمن کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع ملے، علاقائی ریاستوں کی سلامتی محفوظ ہو اور عالمی تجارت کو جنگ کی یرغمالی بننے سے بچایا جا سکے۔

تاریخ کا سبق یہی ہے کہ عسکری قوت (Military Strength) جنگ کا رخ بدل سکتی ہے، مگر پائیدار امن کی بنیاد سیاسی بصیرت، باہمی ضمانتوں، انصاف اور انسانی جان کی حرمت پر ہی استوار ہوتی ہے۔ اگر مشرقِ وسطیٰ کی قیادتیں اس حقیقت کو سمجھ کر عملی اقدامات کریں تو موجودہ بحران مفاہمت کی ایک نئی راہ بھی کھول سکتا ہے؛ بصورتِ دیگر، جنگ کے ایک محاذ پر حاصل ہونے والی برتری بھی پورے خطے کو عدمِ استحکام سے محفوظ رکھنے کے لیے کافی نہیں ہوگی۔
🗓️ (13.10.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے