عمر خالد اور دُھرو راٹھی کی وجہ سے یوروپ کے شہر ڈبلن اور ڈربن میڈیا میں زیر بحث ہیں۔ جرمنی سے دھرو راٹھی بنگلورو سے ہوتے ہوئے ہریانہ پہنچے تو ان کو احتجاج میں شامل ہونے سے روکنے کے لیے سرکار نے حراست میں لیا گیا ۔ ڈاکٹر عمر خالد تو پہلے ہی جیل میں ہیں پھر بھی ان کو آئرلینڈکے انسانی حقوق کی تنظیم نے عالمی اعزاز سے نوازدیا ۔ 2020 سے جیل میں قید سماجی کارکن اور محقق عمر خالد کا 2026 کے ’’ایوارڈ فار ہیومن رائٹس ڈیفنڈرز ایٹ رسک‘‘ سے سرفراز ہونا ایک غیر معمولی اعزاز ہے۔ مودی جی نے اپنے دورِ اقتدار میں تو اعزازات حاصل کرنے کا عالمی ریکارڈ بنالیا مگر انہیں کوئی بھی اعزاز عہدے سے پہلے نہیں ملا جبکہ عمر خالد نے بغیر جاہ و سلطنت کےعالمی سطح پر اپنی سرخروئی کا پرچم گاڑ دیا۔ اس میں شک نہیں کہ دھرو راٹھی کے لیے بین الاقوامی سطح پر ٹائم میگزین کا ‘نیکسٹ جنریشن لیڈرز (2023) کی فہرست میں شامل کیاجانا بہت بڑا اعزاز تھا لیکن ڈاکٹر عمر خالد کا 2026ء ایوارڈ فار ہیومن رائٹس ڈیفینڈرز ایٹ رسک (خطرہ زدہ انسانی حقوق کے محافظین) کیلئےمنتخب ہونا بھی کوئی معمولی بات نہیں ہے کیونکہ یہ آئرلینڈکے انسانی حقوق کی تنظیم فرنٹ لائن ڈیفینڈرز کی جانب سے دیا جاتا ہے۔
عمر خالد کو اگر ایوارڈ کے بعد پریس کانفرنس کا موقع ملتا تو اس میں شرکاء کی تعداد دھرو راٹھی کی اخباری کانفرنس سے کم نہیں ہوتی ۔ تہاڑ جیل میں مقید ہونے کی وجہ سے عمر خالد ڈبلن میں منعقدہ تقریب میں شرکت نہیں کرسکے، اس لیے ان کے والد ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ان کی جانب سے ایوارڈ وصول کیا۔مذکورہ تنظیم نے یہ اعزاز انسانی حقوق کے لیے عمر خالد کی خدمات کے اعتراف میں دیا ہے۔ تنظیم نے ان کی مسلسل قید پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسے ہندوستان میں اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے بڑھتے استعمال کی علامت قرار دیا۔ ڈاکٹرعمر خالد کو 13 ستمبر 2020 کے دن دہلی فسادات سے متعلق سازش کے مقدمے میں زیرِ حراست لیا گیا اور وہ ہنوز پابند سلاسل ہیں جبکہ فسادات کے دوران دہلی میں موجود ہی نہیں تھے۔ اس کے برعکس جو کپل مشرا فسادات کروا رہا تھا فی الحال دہلی کا وزیر انصاف بناہوا ہے لیکن اس پر ساری دنیا کے انصاف پسند دانشور لعنت بھیجتے ہیں۔
دہلی کے فسادات کو چھ سال سے زائدکا عرصہ گزرگیا مگر اس بیچ نہ تو عمر خالد کو رہائی ملی اور نہ سزا بلکہ مقدمہ ہی باقائدہ شروع نہیں ہوسکا۔ حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ دہلی فسادات کا اصلی ذمہ دار کپل مشرا ہے لیکن اس کی نظر میں عمر خالد کا اصلی قصور متنازع شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) کی مخالفت ہے۔ اسی پر امن تحریک کو دبانے کے لیے فرقہ وارانہ فساد برپا گیا جس میں 53؍ افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ آخر عمر خالد، شرجیل امام اور ان کے دیگر ساتھی اپنی ہی قوم کے خلاف سازش کیوں کریں گے؟اس لیے ان پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون (یو اے پی اے)، پریوینشن آف ڈیمیج ٹو پبلک پراپرٹی ایکٹ، آرمز ایکٹ اور انڈین پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمے درج کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے۔ یہ تو فسادیوں کو بچانے اور نوازنے کی ایک مذموم سازش تھی جس پر فیض احمد فیض کی نظم کا یہ بند صادق آتا ہے؎
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
ہے اہل دل کے لیے اب یہ نظم بست و کشاد
کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد
ڈاکٹرعمر خالد کے خلاف پولیس کا دعویٰ ہے کہ دہلی کے فسادات مودی حکومت کو بدنام کرنے کی ایک بڑی سازش کا حصہ تھا اور اسے ترمیم شدہ شہریت قانون کے خلاف احتجاج منظم کرنے والوں نے طے کیا تھا۔ سوال یہ ہے مودی سرکار نیک نام کب تھی؟ وزیر اعظم کے دامن پر گودھرا فساد کا بدنما داغ ہے۔ اس دھونے کے بجائے بلقیس بانو کے اہل خانہ کو رہا کرکے اس نے اور گہرا کردیا۔ منی پور کے فساد سے خود اپنے منہ پر کالک پوت لی ۔ہجومی تشدد ( ماب لنچنگ ) کو فروغ دے کر ساری دنیا میں ملک کی ناک کٹوادی۔ ابھی ایس آئی آر پر اقوام متحدہ نے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور اس کے بعد جنتر منتر پر ہونے والے سرکاری تشدد کی بھی جم کر تنقید کی۔ بین الاقوامی سطح پر عالمی عدالت میں نسل کشی کے مجرم ٹھہرائے جانے والے نیتن یاہو سے جاکر لپٹ گئے اور اس کو اپنا بھائی بنالیا۔ ٹرمپ کی جی حضوری میں عزت نفس کا سودہ کرلیا گیا مگر پھر بھی اس نے ہندوستان کو جہنم کا دروازہ کہہ دیا۔ ہمارے باشندوں کو بیڑیاں ڈال کر روانہ کیا۔ اب تو یہ حالت ہے کہ ٹرمپ کا نائب وینس بھی ہندوستانی پیشہ ور ماہرین کو کھلے عام بندھوا مزدور کہہ کران کی توہین کررہا ہے۔ ایسے میں مودی سرکار اپنی بدنامی کے لیے کسی عمر خالد یا شرجیل امام کی محتاج ہی کہاں ہے؟
آئر لینڈ کی تنظیم فرنٹ لائن ڈیفینڈرز نے اسی لیے کہا ہے کہ عمر خالد کی مسلسل قید ’’ہندوستان میں ایک وسیع تر صورتحال کا ثبوت ہے‘‘، جس کی نشاندہی ’’اختلافِ رائے کو دبانے کیلئے انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے بڑھتے ہوئے استعمال، عوام کی سوچ کو متاثر کرنے میں ہم نوا (گودی) میڈیا کے کرداراور کسی سزا کے بغیر یا اس سے پہلے ضمانت کی سخت شقوں کو بطورِ سزا استعمال کرنے کے پیٹرن‘‘ سے ہوتی ہے۔ تنظیم نے مزید کہا کہ اس پالیسی سے انسانی حقوق کے محافظ، صحافی اور طلباء غیر متناسب طور پر متاثر ہو رہے ہیں جو پرامن اجتماع اور آزادیِ اظہار کے اپنے حق کا استعمال کرتے ہیں۔ تنظیم کے مطابق فروری 2020ء میں امراوتی میں عمر خالد کی دی گئی تقریر، جسے ایک ’’پیشگی منصوبہ بند‘‘ سازش کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، کسی صورت بھی اشتعال انگیزی کے زمرے میں نہیں آتی۔ اپنی اس تقریر میں عمر خالد نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرامن احتجاج کرنے پر بھیڑ کی تعریف کرتے ہوئے ’’انقلابی سلام‘‘ جیسے الفاظ استعمال کئے تھے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کا حوالہ بھی دیا تھا اور اسی سال فروری میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر پرامن اور عدم تشدد پر مبنی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔ اپنے ملک سے ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں کو یہ حقائق نظر آتے ہیں مگر ہماری حکومت دھرتراشٹر بنی ہوئی ہے۔
عمر خالد کے ساتھ جو کل ہوا تھااس کا ہلکا سا نظارہ ہندوستان کے سب سے بڑے آزاد ڈیجیٹل تخلیق کار دُھرو راٹھی کے ساتھ بھی ہوا جن کے تمام چینلز پر4 کروڑ سےزیادہ مجموعی سبسکرائبرز ہیں ۔ وہ خوش قسمت ہیں کہ ان پر سرکار نے ایک ایسے وقت میں ہاتھ ڈالا جب وہ بیک فُٹ پر ہے اور حزب اختلاف سمیت نوجوان و سیول سوسائٹی گیانیش کمار کے خلاف میدان میں اتری ہوئی ہے۔ دھرو راٹھی 10 اکتوبر 2026 کو گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیے گئے۔انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں قانونی طور پر حراست میں لینے کے بجائے ایک مجرم کی طرح "اغوا‘‘ کیا گیا تھا۔علی الصبح تقریباً 50 پولیس اہلکاروں نے ان کے گھر کو گھیر لیا اور 20 کے قریب سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے گھر کے اندر داخل ہوکر انہیں دھر دبوچا۔خوابگاہ سے گھسیٹ کر باہرلاتے ہوئے چپل تک پہننے کا موقع نہیں دیا گیا۔اس کارروائی کے دوران پولیس اہلکاروں نےان کے والد جکڑے رکھا اور والدہ کو دھکا دیا۔ ایسی بدسلوکی عمر خالد کے ساتھ نہیں ہوئی مگر دھرو راٹھی پر کسی سخت قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے کے بجائے دوسرے دن رہا کردیا گیا۔
دھرو راٹھی نےرہائی کے بعد اپنی پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نریندر مودی پر براہِ راست طنز کرتے ہوئے لکھاکہ مودی جوکام (یعنی پریس کانفرنس) بارہ سال میں نہیں کرسکے وہ انہوں نے کردیا۔ دہلی اور ملک کی موجودہ صورتحال کو غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے تشبیہ دیتے ہوئے وہ بولے کہ اندرا گاندھی کے دور میں کم از کم ایمرجنسی کا باقاعدہ اعلان تو کیا گیا تھا، لیکن آج بغیر کسی اعلان کے ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں۔ یوٹیوبر نے دعویٰ کیا کہ انہیں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس قانونی بنیاد پر انہیں لے جایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دوران ان کے والدین کے فون بھی لے لیے گئے اور انہیں نہ اپنے فون تک رسائی دی گئی اور نہ ہی وکیل سے بات کرنے یا ملاقات کرنے کی اجازت ملی۔ ارنب جیسے پالتو صحافیوں نے اس زیادتی کے بعد دھرو راٹھی کو جرمن باشندہ بتا کر اسے جائز ٹھہرایاتو انہوں نےاپنا پاسپورٹ دکھاتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں اور انہیں بھی ملک کے دوسرے باشندوں کی طرح قانونی حقوق حاصل ہیں۔ اس طرح ان کی شہریت کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہیں بے بنیاد قرارپائیں ۔دھرو نے اپنی حراست پر تنقید کرتے ہوئے اسے جمہوری آزادیوں کے لیے خطرہ قرار دیا اور الزام لگایا کہ حکومت اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ملک میں جبر کا حصار کمزور ہورہا ہے اس لیے راٹھی چھوٹ گئے اورخالد بھی چھوٹیں گے کیونکہ’اچھے دن آنے والے ہیں‘۔