’’انقلاب یونہی نہیں آتے‘‘

’’انقلاب یونہی نہیں آتے‘‘

’’انقلاب یونہی نہیں آتے‘‘

ازقلم:سیماشکور(حیدر آباد)

جس قوم میں ایمان نہ ہو اُس میں کبھی بھی مثبت تبدیلی نہیں آسکتی۔ جو قوم ڈر ڈر کر جیئے کبھی اُسے اپنی جان کا خوف ہو کبھی اپنے مال و دولت کے چلے جانے کا خوف کھائے جاتا ہو، کبھی عیش و آرام کے کھوجانے کا خیال ستاتا ہو تو پھر وہ قوم غلام تو بن سکتی ہے، آزاد ، خوددار اور غیرت مند قوم کبھی نہیں بن سکتی، غلامانہ ذہنیت انسان کو جھُکا تو سکتی ہے ، لیکن غیرت سے سر اُٹھا کر جینا نہیں سکھاسکتی وہ قوم کیڑے مکوڑوں کی طرح زمین پر رینگ کر تو چل سکتی ہے لیکن آزادی اور خودداری سے کبھی نہیں جی سکتی۔ ایسی قوم جو ہمیشہ سوئی ہوئی رہتی ہے وہ اپنا آرام و چین تیاگ دیئے جانے کے خوف سے کسی کے بھی سامنے جھُک سکتی ہے، اپنی غیرت و ایمان کا سودا بہت آسانی سے کرسکتی ہے اور ۔۔۔ کبھی بھی بِک سکتی ہے ایسی قوم میں نہ ہی غیرت و حمیّت ہوتی ہے اور نہ ہی اُنہیں خودی کے مطلب سے آشنائی حاصل ہوتی ہے وہ قوم صرف جھُکنا جانتی ہے بِکنا جانتی ہے ، طاقتور کے سامنے بے بس ہوجاتی ہے، ایسی قوم جہاں بھی ہو وہاں انقلاب نہیں آیا کرتے صرف اللہ تعالیٰ کے عذابِ عظیم ہی آیا کرتے ہیں، اپنے نفس کی غلام قوم کبھی بھی دنیا میں اعلیٰ اور برتر مقام حاصل نہیں کرسکتی ایسی قومیں دوسروں کو ڈرانا جانتی ہیں، خوفزدہ کرنا جانتی ہیں لیکن عزت سے جینا کیا ہوتا ہے اس سے وہ نا آشناہوتی ہیں۔جب بھی کسی کو بُرا بھلا کہنے کی بات ہوتی ہے تو کتے کا ذکر کیا جاتا ہے کہ کتا ایک روٹی کے بدلے میں ساری زندگی اپنے مالک کا وفادار رہتا ہے اپنے دشمن کو کتے سے تشبیہ دی جاتی ہے لیکن کتا تو ہمیشہ اپنے مالک کا وفادار رہتا ہے لیکن انسان۔۔۔ وہ تو بکنے میں بے انتہا مہارت رکھتا ہے وہ تو ہر بار بکتا ہے چند روپوں کے عوض اپنا دین و ایمان بیچ دیتا ہے ۔ کتے کو ایسے انسانوں سے تشبیہ دینا یہ انصاف کا تقاضا نہیں ہے ، وفاداری میں کتے اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتے، لیکن انسان اپنے عیش و آرام کی خاطر اپنے مال و دولت کی خاطر کبھی بھی کسی کے بھی ساتھ غداری کرسکتا ہے ایسی قوموں میں اگر ایسے لوگ ہوں تو وہ کبھی بھی ذہنی آزادی حاصل نہیں کرسکتی۔ ایسی قوم ذرا ذرا سی باتوں پر ایک دوسرے سے بحث کرسکتی ہے، معمولی باتوں پر ہتھیار اُٹھالیتی ہے وہ بھی کس کے خلاف اپنوں کے خلاف، اپنی قوم کے خلاف۔ ایسی قومیں کبھی متحد نہیں رہ سکتیں۔ اپنے اپنے مسلکوں پر ڈٹے رہنے والی قوم کیا جانے کہ متحد ہونا کتنا ضروری ہوتاہے۔ ایسی قومیں اپنے مذہب کے لیے ایک دوسرے سے گُتھم گُتھا تو ہوسکتی ہیں لیکن مذہب پر عمل پیرا نہیں ہوسکتیں۔ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کا خون بہا سکتی ہیں لیکن مذہب کے ا صولوں سے نا آشنا ہوتی ہیں۔ ایک گھر میں رہنے والا خاندان بھی الگ الگ مسلک میں اُلجھا ہوا رہتا ہے۔ ایسی قوم کو بہت آسانی سے غلام بنایا جاسکتا ہے اس لیے کہ وہ غلامانہ ذہنیت رکھتے ہیں اپنی بُزدلی کو مصلحت کا نام دینے والی قوم ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتی رہتی ہے اُس کی کوئی عزت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی اعلیٰ مقام ہوتا ہے۔ ایسی قوم بہت آسانی سے روند دی جاتی ہے، ایسی قوم کو بہت آسانی سے غلام بنایا جاسکتا ہے ۔ اپنے نفس کے غلام لوگوں کو غلام بنانا کیا مشکل ہے جدوجہد اور محنت و مشقت سے دور بھاگنے والی قوم کے لوگ اپنے عیش و آرام کے لیے ہزاروں دلیلیں لے آتے ہیں۔ آزادی یونہی آسانی سے نہیں ملا کرتی کبھی اپنی جان بھی قربان کرنی پڑتی ہے۔ فاقے بھی کرنے پڑتے ہیں جوانسان ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے اُس میں کسی بھی چیز کا خوف نہیں رہتا نہ ہی وہ مرنے سے ڈرتا ہے، نہ ہی اُسے کوئی توڑ سکتا ہے، اُس کے حوصلے اور ہمت جواں ہوتے ہیں ۔ کڑے سے کڑا وقت بھی اُس کی ہمتوں کو مسمار نہیں کرسکتا اس لیے کہ ایمان کی دولت جس کے پاس ہو اُسے پھر کسی کا بھی خوف نہیں رہتا وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ قربانیاں دیئے بناء نہ ہی آزادی حاصل کی جاسکتی ہے اور نہ ہی دنیا میں کوئی اعلیٰ مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔ دنیا میں عزت پانے کے لیے اپنے آرام اور چین کو قربان کرنا پڑتا ہے، پھر کہیں جاکر چراغوں میں روشنی ہوتی ہے۔ اپنے اصولوں پر مستقل مزاجی سے ڈٹے رہنے والی قومیں ہی سُرخرو ہوتی ہیں۔ ایسی قوموں کو کوئی جھُکا نہیں سکتا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹی رہتی ہیں۔ تاریخ انہیں بہادروں کا لقب دیتی ہے اور دنیا اُنہیں ہمیشہ یاد رکھتی ہے۔ خوف کے بتوں کو مسمار کرکے ہی کوئی قوم مضبوط اور طاقتور قوم کہلاتی ہے۔ خوف کے بُت ٹوٹ جائیں تو پھر راستے آسان ہو جاتے ہیں، خوف کے بُت ٹوٹ جائیں تو پھر راستے آسان ہوجاتے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے