اردو مرکز کو نئی نسل کی علمی و ادبی تربیت کا فعال ادارہ بنایا جائے

اردو مرکز کو نئی نسل کی علمی و ادبی تربیت کا فعال ادارہ بنایا جائے

اردو مرکز کو نئی نسل کی علمی و ادبی تربیت کا فعال ادارہ بنایا جائے
افتتاحِ نو کی تقریب میں پروفیسر زہرہ موڈک، پروفیسر سید اقبال اور ایڈوکیٹ زبیر اعظمی کے خیالات نمایاں؛ تحقیق، مطالعے اور ادبی سرگرمیوں کے فروغ پر زور

ممبئی:15اکٹوبر( ایجنسیز) اردو زبان و ادب کی ترویج اور نئی نسل کو اپنی لسانی و تہذیبی وراثت سے جوڑنے کی کوششوں کے درمیان بھنڈی بازار کے تاریخی اردو مرکز نے ایک بار پھر علمی و ادبی سرگرمیوں کی جانب قدم بڑھایا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے اردو کی خدمت میں مصروف اس ادارے کے افتتاحِ نو کی تقریب منگل کو امام باڑہ میونسپل اردو اسکول میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شہر کی ممتاز علمی، ادبی، تعلیمی اور سماجی شخصیات نے مرکز کی بحالی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ اسے اردو زبان و ادب کے فروغ، تحقیق و مطالعے اور نئی نسل کی علمی و ادبی تربیت کا ایک فعال مرکز بنایا جائے گا۔

تقریب کی صدارت معروف ماہرِ تعلیم پروفیسر زہرہ موڈک نے کی، جبکہ پروفیسر سید اقبال نے کلیدی خطاب پیش کیا۔ رکن اسمبلی امین پٹیل، رئیس شیخ اور سابق میونسپل کارپوریٹر جاوید جنیجا مہمانانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ تقریب میں اردو مرکز کے ڈائریکٹر ایڈوکیٹ زبیر اعظمی سمیت مختلف تعلیمی اداروں کے ذمہ داران، اساتذہ، ادیبوں اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔

اردو مرکز کی بحالی محض عمارت کا افتتاح نہیں: زہرہ موڈک

صدارتی خطاب میں پروفیسر زہرہ موڈک نے اردو مرکز کے ڈائریکٹر ایڈوکیٹ زبیر اعظمی کی اردو زبان و ادب کے لیے طویل خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں ’’سچا مجاہدِ اردو‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو مرکز کی بحالی محض ایک عمارت یا لائبریری کے دوبارہ کھلنے کا معاملہ نہیں، بلکہ اردو کے ایک اہم علمی و ادبی ادارے کی سرگرمیوں کے احیاء کی علامت ہے۔ ایسے ادارے زبان کے ادبی سرمائے اور تہذیبی روایت کو محفوظ رکھنے کے ساتھ نئی نسل تک منتقل کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ان کے خطاب کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ اردو مرکز کی اہمیت اس کی عمارت سے زیادہ ان علمی و ادبی سرگرمیوں میں ہے جو اسے ایک زندہ اور متحرک ادارہ بناتی ہیں۔ اس لیے مرکز کی بحالی کے بعد اس کے مقاصد کو عملی شکل دینا اور سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنا ضروری ہے۔

اردو سے محبت کا عملی ثبوت اسے پڑھنا، لکھنا اور بولنا ہے: سید اقبال

کلیدی خطاب میں پروفیسر سید اقبال نے بالخصوص طالبات اور نوجوان نسل کو اردو سے حقیقی وابستگی پیدا کرنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ اردو سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم اس زبان کو پڑھیں، لکھیں، بولیں اور اس کے فروغ کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

انہوں نے نوجوانوں کو زبان کے مطالعے اور استعمال کی جانب راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے پیغام میں اس بات کو بنیادی اہمیت حاصل تھی کہ اردو سے جذباتی وابستگی اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوسکتی ہے، جب اسے روزمرہ زندگی، تعلیم اور تخلیقی اظہار کا حصہ بنایا جائے۔ اردو مرکز اس مقصد کے حصول کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بن سکتا ہے، جہاں نوجوانوں کو زبان و ادب سے قریب آنے کے مواقع میسر ہوں۔

اردو مرکز کی سرگرمیوں کا احیاء ضروری: زبیر اعظمی

اردو مرکز کے ڈائریکٹر ایڈوکیٹ زبیر اعظمی کی خدمات اور ادارے کی بحالی کا موضوع تقریب میں خصوصی اہمیت کا حامل رہا۔ پروفیسر زہرہ موڈک نے ان کی طویل جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا، جبکہ دیگر مقررین نے بھی مرکز کے علمی و ادبی کردار کو دوبارہ مستحکم بنانے کی ضرورت اجاگر کی۔

مرکز کے مستقبل کے حوالے سے اس امر پر زور دیا گیا کہ اسے محض روایتی تقریبات تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ مطالعے، تحقیق، ادبی نشستوں، مباحثوں اور تعلیمی سرگرمیوں کا مستقل مرکز بنایا جائے۔ اس سے طلبہ و طالبات، اساتذہ، محققین، ادیبوں اور نوجوان قلم کاروں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور علمی تبادلے کے مواقع حاصل ہوسکیں گے۔

سیاسی رہنماؤں نے بھی افتتاحِ نو کا خیرمقدم کیا

رکن اسمبلی امین پٹیل، رئیس شیخ اور سابق میونسپل کارپوریٹر جاوید جنیجا نے اردو مرکز کے افتتاحِ نو کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس کے شاندار ماضی اور اردو زبان و ادب کے فروغ میں اس کے کردار کا ذکر کیا۔ انہوں نے مرکز کو دوبارہ فعال اور مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس کی بحالی کو ممبئی میں اردو کی سرگرمیوں کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

تعلیمی و سماجی شخصیات کی شرکت

تقریب سے فرید احمد خان، صدر اردو کارواں، سعید احمد خان، ٹائمز آف انڈیا سے وابستہ محمد وجیہہ الدین، خلافت بی ایڈ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر نسرین شیخ، آر سی ڈی ایڈ کالج، امام باڑہ کی پرنسپل سائرہ خان، خلافت ڈی ایڈ کالج کی پرنسپل شبانہ ونو، امام باڑہ اسکول کی بلڈنگ انچارج مریم مس اور سماجی کارکن شبانہ خان نے بھی خطاب کیا۔

مقررین نے اردو مرکز کو مستقبل میں زبان و ادب کے فروغ، تحقیق، مطالعے اور نئی نسل کی تربیت کے لیے مؤثر ادارہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق طلبہ و طالبات اور نوجوانوں کو مرکز کی سرگرمیوں میں شامل کرکے اردو کے مطالعے، تحریر اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں، اساتذہ اور ادبی حلقوں کے درمیان تعاون بھی اہمیت رکھتا ہے۔

افتتاحِ نو کے بعد عملی سرگرمیوں کا تسلسل اہم

اردو مرکز کی بحالی ممبئی کی اردو برادری کے لیے ایک امید افزا پیش رفت ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار مستقبل میں ہونے والی سرگرمیوں اور ان کے تسلسل پر ہوگا۔ اگر مرکز میں باقاعدگی سے ادبی نشستوں، کتابوں کے مطالعے، تحقیقی مباحث، طلبہ کے لیے تربیتی پروگراموں اور نوجوان قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کا اہتمام کیا جائے تو یہ ادارہ اردو کے فروغ میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرنے والی شخصیات کے پیغامات کا مرکزی نکتہ بھی یہی تھا کہ اردو کی خدمت صرف اس کے تحفظ کے دعووں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے فعال اداروں، مسلسل علمی سرگرمیوں اور نئی نسل کی شمولیت ضروری ہے۔ اردو مرکز کا افتتاحِ نو اسی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے، بشرطیکہ اس تاریخی ادارے کو ایک متحرک علمی و ادبی پلیٹ فارم بنانے کے عزم کو عملی جامہ پہنایا جائے.
javedjamaluddin@gmail.com
۔9867647741

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے