سماجی مساوات کا فارمولہ کانگریس کو کہاں لے جائے گا؟
✍️ افتخاراحمدقادری
ملک میں انتخابی شفافیت، حقِ رائے دہی کے تحفظ اور مبینہ ووٹ چوری کے خلاف جاری سیاسی و عوامی سرگرمیوں کو اب آئندہ اسمبلی انتخابات کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ 2027 میں جن ریاستوں میں انتخابات ہونے ہیں ان میں اتر پردیش کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اس کی وجہ ریاست کی آبادی، انتخابی حلقوں کی کثرت یا سیاسی وزن نہیں بلکہ یہ حقیقت بھی ہے کہ اتر پردیش کے انتخابی نتائج 2029 کے لوک سبھا انتخابات کے لیے قومی سیاست کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست میں سرگرم سیاسی جماعتیں اپنے تنظیمی ڈھانچے، سماجی اتحادوں اور انتخابی حکمتِ عملی کو نئے سرے سے مرتب کرنے میں مصروف ہیں۔ کانگریس نے اتر پردیش میں آرادھنا مشرا موُنا کو ریاستی صدر مقرر کرکے اپنی سیاسی حکمتِ عملی کے ایک اہم پہلو کو نمایاں کیا ہے۔ برہمن طبقے سے تعلق رکھنے والی خاتون رہنما کو یہ ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ اس سماجی و سیاسی توازن کی بحالی کی کوشش سمجھا جا رہا ہے جس نے ماضی میں اتر پردیش کی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔ کانگریس کی خواہش ہے کہ وہ برہمن، دلت، مسلمان اور پسماندہ طبقات کو ایک ایسے سیاسی اشتراک میں جوڑے جو ریاست میں اس کی تنظیمی موجودگی کو مستحکم کرنے کے ساتھ انتخابی میدان میں بھی اس کے لیے گنجائش پیدا کرے۔ اترپردیش کی سیاست میں ذات پات، سماجی شناخت اور سیاسی وفاداریوں کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ منڈل اور کمنڈل کی سیاست نے گزشتہ کئی دہائیوں میں ریاست کے سیاسی منظرنامے کو متعدد مرتبہ تبدیل کیا ہے۔ ایک طرف پسماندہ طبقات کی سیاسی نمائندگی اور سماجی انصاف کے مطالبات نے نئی صف بندیاں پیدا کیں تو دوسری طرف مذہبی شناخت اور ہندوتوا پر مبنی سیاست نے ایک مختلف سیاسی اتحاد کو تقویت پہنچائی۔ ان دونوں رجحانات کے درمیان کانگریس اپنی سابقہ سیاسی حیثیت بحال کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے لیکن تنظیمی کمزوری، قیادت کے بحران اور سماجی بنیادوں کے انتشار نے اس کے لیے مشکلات پیدا کیں۔ اندرا گاندھی کے عہد میں کانگریس نے مختلف سماجی طبقات کو ایک انتخابی پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ریاست میں اس کی روایتی حمایت کمزور پڑتی گئی۔ برہمن، دلت اور مسلم ووٹروں کے ایک حصے نے مختلف سیاسی جماعتوں کا رخ کیا جبکہ پسماندہ طبقات کی سیاست نے سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کو نمایاں جگہ فراہم کی۔ بی جے پی نے بھی اپنے سیاسی و سماجی اتحاد کو وسعت دے کر ان طبقات میں اپنی حمایت بڑھانے کی کوشش کی جنہیں کبھی کانگریس کی روایتی قوت سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ صورتِ حال میں کانگریس کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا وہ ان منتشر سماجی گروہوں کو دو بارہ ایک مشترکہ سیاسی مقصد کے تحت جمع کر سکتی ہے یا نہیں۔
کانگریس کی موجودہ سیاسی حیثیت کا اندازہ اتر پردیش کے گزشتہ انتخابات کے نتائج سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ 2017 کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو تقریباً 6.25 فیصد ووٹ ملے اور وہ صرف سات نشستیں حاصل کر سکی۔ اس کے بعد 2022 کے اسمبلی انتخابات میں اس کی حالت مزید کمزور ہوئی اور پارٹی دو نشستوں تک محدود رہ گئی، جب کہ اس کا ووٹ تناسب بھی تقریباً 2.33 فیصد رہ گیا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ریاست میں کانگریس کی تنظیمی بنیاد کس قدر سکڑ چکی تھی اور محض سیاسی بیانات سے اسے دو بارہ مستحکم کرنا آسان نہیں تھا۔ تاہم 2024 کے لوک سبھا انتخابات نے اتر پردیش میں اپوزیشن کی سیاسی صورتِ حال کو ایک نئی جہت دی۔ کانگریس اور سماج وادی پارٹی نے اتحاد کے تحت انتخاب لڑا۔ سماج وادی پارٹی نے 37 اور کانگریس نے چھ نشستیں حاصل کیں۔ ان نتائج نے واضح کیا کہ انتخابی حلقوں کی سطح پر مؤثر اشتراک اور ووٹوں کی تقسیم میں کمی اپوزیشن کی پارلیمانی نمائندگی پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ اس انتخاب میں کانگریس کا ووٹ تناسب بھی تقریباً 9.46 فیصد رہا، جو اس کی سابقہ انتخابی کارکردگی کے مقابلے میں بہتری کی علامت تھا۔ لیکن پارلیمانی انتخابات کے نتائج کو اسمبلی انتخابات کی یقینی کامیابی کا پیمانہ قرار دینا سیاسی حقیقتوں کو سادہ بنا دینے کے مترادف ہوگا۔ لوک سبھا انتخابات میں قومی قیادت، مرکزی حکومت کی کارکردگی، وسیع تر اتحاد اور قومی مسائل کا اثر نمایاں ہوتا ہے، جب کہ اسمبلی انتخابات میں مقامی امیدوار، ریاستی حکومت کا ریکارڈ، علاقائی مسائل، ذات پات کی صف بندیاں اور حلقہ جاتی تنظیم زیادہ اہمیت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس لیے 2024 کے نتائج کانگریس کے لیے ایک سیاسی موقع ضرور فراہم کرتے ہیں، لیکن انہیں مستقل عوامی حمایت کا قطعی ثبوت سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ 2027 کے انتخاب میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے تعلقات بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہوں گے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان نشستوں کی تقسیم، امیدواروں کے انتخاب اور انتخابی مہم کی مشترکہ حکمتِ عملی میں توازن پیدا کرنا ضروری ہوگا۔ اگر دونوں جماعتیں اپنے اپنے مفادات کو مشترکہ مقصد پر ترجیح دیتی ہیں تو ووٹوں کی تقسیم کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر اتحاد صرف نشستوں کی تقسیم تک محدود رہنے کے بجائے مشترکہ عوامی مسائل، مقامی قیادت اور تنظیمی تعاون کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے تو اس کی سیاسی معنویت زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔ آج ملک میں مہنگائی، بے روزگاری، خواتین کا تحفظ، قانون کی عمل داری، تعلیمی اداروں کی صورتِ حال اور سرکاری بھرتیوں میں تاخیر جیسے مسائل عوامی مباحثے کا حصہ ہیں۔ مذہبی مقامات، بلڈوزر کارروائیوں، فرقہ وارانہ کشیدگی اور ہجومی تشدد سے متعلق واقعات بھی سیاسی و سماجی گفتگو میں جگہ پاتے ہیں۔ حکومت کے حامی ان معاملات میں اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہیں، جب کہ مخالف جماعتیں ان پر سوال اٹھاتی ہیں۔ تاہم انتخابی سیاست کا اصل امتحان یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں ان مباحث کو محض الزام تراشی تک محدود رکھتی ہیں یا عوام کو ایسے ٹھوس منصوبے بھی فراہم کرتی ہیں جن سے روزمرہ زندگی کے مسائل حل ہونے کی امید پیدا ہو۔ ووٹ چوری اور انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات نے بھی اس سیاسی ماحول میں اہم مقام حاصل کیا ہے۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتیں انتخابی فہرستوں کی تیاری، ووٹروں کے ناموں کے اخراج اور انتخابی عمل کی شفافیت سے متعلق سوالات اٹھا رہی ہیں۔ دوسری طرف، انتخابی اداروں اور حکومت کے موقف کو بھی شواہد اور قانونی طریقہ کار کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔ انتخابی بے ضابطگی کا کوئی بھی الزام اپنی نوعیت کے مطابق قابلِ تحقیق ہونا چاہیے، کیونکہ جمہوریت میں نہ بے دلیل الزام کو حتمی حقیقت قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی شہریوں کے جائز سوالات کو نظر انداز کرنا مناسب ہے۔ خصوصی جامع نظر ثانی یعنی ایس آئی آر، کے ذریعے انتخابی فہرستوں کی جانچ بھی اسی بحث سے وابستہ ہے۔ انتخابی فہرستوں کی درستگی جمہوری عمل کے لیے ضروری ہے لیکن اس عمل میں کسی اہل شہری کا نام غلطی سے خارج نہ ہو اس امر کی ضمانت بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر ووٹر کو اپنے نام کی شمولیت، اخراج کی وجہ اور اعتراض درج کرانے کے طریقے تک آسان رسائی حاصل نہ ہو تو انتخابی عمل پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ شفاف طریقہ کار، قابلِ فہم معلومات، مؤثر شکایتی نظام اور بروقت ازالہ شکایات انتخابی اداروں کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ یہ مسئلہ نوجوانوں کے مستقبل سے بھی غیر معمولی طور پر جڑا ہوا ہے۔ اتر پردیش کی بڑی نوجوان آبادی روزگار، سرکاری بھرتیوں، مسابقتی امتحانات، معیاری تعلیم اور معاشی خود کفالت کے مسائل سے دو چار ہے۔ امتحانات کے پرچے افشا ہونے، بھرتیوں میں تاخیر اور تقرریوں کے طویل انتظار سے متعلق شکایات نوجوانوں میں اضطراب پیدا کرتی ہیں۔ ایسے حالات میں انتخابی سیاست کے لیے نوجوان محض ایک بڑا ووٹ بینک نہیں، بلکہ ایک ایسا طبقہ ہیں جو حکومتی دعووں کو اپنے تجربات کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ تاہم نوجوانوں کی بے چینی کو کسی ایک جماعت کی حمایت یا مخالفت سے خودکار طور پر وابستہ نہیں کیا جا سکتا۔ نوجوان ووٹر یکساں سیاسی ترجیحات نہیں رکھتے۔ ان میں سے بعض روزگار کو بنیادی مسئلہ سمجھتے ہیں، بعض تعلیم اور معاشی مواقع کو جبکہ دیگر کے لیے سماجی تحفظ، مذہبی شناخت اور علاقائی ترقی زیادہ اہم ہو سکتی ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی بڑھائی ہے لیکن اس کے ساتھ غلط اطلاعات اور غیر مصدقہ دعووں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی موجود ہے۔ اس لیے نوجوانوں کی سیاسی ترجیحات کو سمجھنے کے لیے نعروں کے بجائے ان کے حقیقی مسائل اور زمینی حالات کا مطالعہ ضروری ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بھی بے روزگاری کے مسئلے کو سمجھنے میں معاون ہیں، مگر ان کی درست تشریح اہم ہے۔ وزارتِ محنت و روزگار اور پیریاڈک لیبر فورس سروے کے اعداد و شمار میں عمر کے مختلف گروہوں، دیہی و شہری علاقوں اور مختلف پیمانوں کے لحاظ سے بے روزگاری کی شرح میں فرق پایا جاتا ہے۔ محض ایک مجموعی شرح سے نوجوانوں کی مکمل معاشی صورتِ حال کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ کم اجرت، غیر مستقل ملازمت، تعلیم کے مطابق کام نہ ملنا اور روزگار کے لیے طویل انتظار بھی ایسے مسائل ہیں جنہیں انتخابی مباحث میں جگہ ملنی چاہیے۔ کانگریس کے لیے یہاں تنظیم سازی اور پالیسی دونوں کی آزمائش ہے۔ اگر پارٹی نوجوانوں کے سامنے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، سرکاری آسامیوں پر بروقت بھرتی، امتحانی نظام کی شفافیت، چھوٹے کاروباروں کی معاونت اور خواتین کے لیے محفوظ تعلیمی و معاشی ماحول کا قابلِ عمل خاکہ پیش کرتی ہے تو وہ اپنے سیاسی پیغام کو محض مخالفت کے دائرے سے آگے لے جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ انتخابی وعدوں کے ساتھ مالی وسائل، عملی طریقہ کار اور جواب دہی کا واضح تصور بھی پیش کیا جائے۔ بالآخر اتر پردیش کا 2027 کا انتخاب صرف کانگریس کی تنظیمی بحالی یا بی جے پی کی سیاسی کارکردگی کا امتحان نہیں ہوگا، بلکہ یہ بھی طے کرے گا کہ انتخابی سیاست میں عوامی مسائل، سماجی انصاف، جمہوری شفافیت اور سیاسی اتحادوں کی حقیقی اہمیت کس انداز میں سامنے آتی ہے۔ ووٹ چوری کے الزامات پر شفاف تحقیقات، انتخابی فہرستوں کی درستگی، نوجوانوں کے لیے روزگار، خواتین کا تحفظ اور تعلیم کے معیار جیسے معاملات عوامی اعتماد کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ کانگریس کے لیے اصل چیلنج ماضی کی سیاسی عظمت کا حوالہ دینا نہیں بلکہ حال کی زمینی حقیقتوں سے ہم آہنگ ایک قابلِ اعتبار سیاسی متبادل پیش کرنا ہے۔ برہمن، دلت، مسلمان اور پسماندہ طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش اسی وقت دیرپا معنویت اختیار کرے گی جب اسے سماجی انصاف، معاشی ترقی اور شہری حقوق کے عملی پروگرام سے وابستہ کیا جائے۔ محض انتخابی مساوات کے فارمولے، جذباتی نعروں اور وقتی اتحادوں سے مستحکم سیاسی بنیاد قائم نہیں ہوتی۔ اس کے لیے مسلسل عوامی رابطہ، مضبوط تنظیم، واضح پالیسی اور وعدوں کے تئیں جواب دہی ناگزیر ہے۔ 2027 کا انتخاب اس اعتبار سے بھی اہم ہوگا کہ اس کے نتائج سے 2029 کی قومی سیاست کے لیے نئے سوالات اور امکانات جنم لیں گے۔ تاہم کسی بھی سیاسی جماعت کے مستقبل کا فیصلہ پہلے سے صادر کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ انتخابی نتائج، عوامی رجحانات اور زمینی حقائق کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے۔ جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ ووٹر کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا موقع ملے، ہر اہل شہری کا حقِ رائے دہی محفوظ رہے اور سیاسی جماعتیں عوام کے سامنے اپنے دعووں کا عملی حساب پیش کریں۔ یہی اصول انتخابی سیاست کو محض اقتدار کی کشمکش سے نکال کر عوامی خدمت اور جمہوری جواب دہی کے حقیقی دائرے میں لے جا سکتے ہیں۔
مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں
iftikharahmadquadri@gmail.com