پیوٹن کی یوکرین کا معاملہ طے کرنے کے لیے ٹرمپ اور شی کے ساتھ سربراہی اجلاس کی تجویز

پیوٹن کی یوکرین کا معاملہ طے کرنے کے لیے ٹرمپ اور شی کے ساتھ سربراہی اجلاس کی تجویز

پیوٹن کی یوکرین کا معاملہ طے کرنے کے لیے ٹرمپ اور شی کے ساتھ سربراہی اجلاس کی تجویز

دبئی،19اکٹوبر(ایجنسیز)روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے آئندہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی ہے، جس میں یوکرین جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد ایسا حل تلاش کرنا ہے، جو روس کے مفادات کے مطابق ہو۔

امریکی اخبار ’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے اتوار کو اس معاملے سے آگاہ ذرائع کے حوالے سے ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ پیوٹن نے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ ملاقات کی تجویز پیش کی ہے، جس میں یوکرین کے مستقبل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کوشش کا مقصد تقریباً چار سال سے جاری جنگ کو روس کے لیے سازگار شرائط پر ختم کرنا ہے۔
اخبار کے مطابق یہ تجویز روسی صدر کی ان کوششوں کا حصہ ہے ،جن کے تحت وہ ٹرمپ کے ساتھ بہتر ہوتے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذاکرات کو ایسے نتائج کی جانب لے جانا چاہتے ہیں جو روسی مفادات کے لیے سودمند ہوں۔

روسی تجویز میں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس میں یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کی شرکت شامل نہیں، حالانکہ مجوزہ اجلاس میں یوکرین کے مستقبل اور جنگ کے خاتمے کی شرائط پر بات چیت کی جائے گی۔
اخبار کے مطابق یوکرینی صدر کی شرکت کے بغیر اس نوعیت کا سربراہی اجلاس منعقد ہونا ایک غیر معمولی مثال ہوگی، جس سے یورپی دارالحکومتوں اور دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط پہلے ہی یوکرین اور واشنگٹن و یورپ میں اس کے اتحادیوں کے لیے باعثِ تشویش ہیں، خصوصاً اس خدشے کے پیش نظر کہ کہیں ایسے معاہدے طے نہ پا جائیں جن میں یوکرین کے مطالبات کو نظر انداز کر دیا جائے۔

روسی صدر کی جانب سے سربراہی اجلاس کی تجویز سامنے آنے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا تھا کہ وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتے جس سے روس یوکرین کے معاملے پر مذاکرات کی میز سے دور ہو جائے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر ایک بیان میں کہا کہ وہ امن کی کوششوں میں نمایاں پیش رفت کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ روس کو مذاکرات میں شامل رکھنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر نے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ جنگ ختم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ زیلنسکی دو سال قبل اس سے بہتر معاہدہ کر سکتے تھے۔’’وال اسٹریٹ جرنل‘‘ کی رپورٹ میں مجوزہ سربراہی اجلاس کے مقام کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ ٹرمپ اور شی جن پنگ نے اس میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے یا نہیں۔یوں تینوں رہنماؤں کا مجوزہ اجلاس تاحال روس کی ایک تجویز ہے، جس کے انعقاد پر اتفاق کا اعلان نہیں کیا گیا۔

یوکرین کی قیادت کی عدم شرکت میں اس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے خیال نے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں کیف اور اس کے یورپی اتحادیوں کے کردار کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے