ٹرمپ کی شکست: نُورِ حق شمعِ الٰہی کو بجھا سکتا ہے کون

ٹرمپ  کی شکست: نُورِ حق شمعِ الٰہی کو بجھا سکتا ہے کون

ٹرمپ کی شکست:

نُورِ حق شمعِ الٰہی کو بجھا سکتا ہے کون

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

 

امریکہ کے وسط مدتی انتخاب میں سینیٹ، ایوان نمائندگان ، گورنرس اور دیگرکئی عہدوں کے انتخابات ہوئے ۔ بات سینیٹ سے شروع کی جائے تو انتخاب سے قبل وہاں ریپبلکنز کے 53 اور 47 ڈیموکریٹس ارکان تھے ۔ اب یہ حالت ہے کہ ڈیموکریٹس نے سینیٹ پر کنٹرول حاصل کرتے ہوئے 53 نشستیں حاصل کر چکے ہیں اور بیچارے ریپبلکنز کی کی تعداد کم ہو کر 41پرپہنچ گئی ہے۔ اب آئیے ایوان نمائندگان کی طرف تو وہاں 220 ریپبلکن اور ڈیموکریٹک ارکان صرف 215 تھے تاہم، حالیہ انتخابی نتائج نے طاقت کی حرکیات کو ایسے بدلا کہ ڈیموکریٹس بڑھ کر252 پر پہنچ چ گئے اور ریپبلکن کی تعداد گھٹ کر 155 پر آگئی ۔ ویسے 28 نتائج کا ہنوزانتظار ہے مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ؟ ان نتائج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 56؍ انچ سے بھی چھوٹا گھوڑا (ریپبلکن پارٹی کا نشان) بنادیا ہے۔ یہ حسنِ اتفاق ہے کہ ایک ساتھ گھوڑا، بندر اور سوّر تینوں کے ستارے گردش میں آگئے ۔ امریکی رائے دہندگان نے نہایت فیصلہ کن انداز میں وسط مدتی انتخابات کے اندر سینیٹ اور ایوان نمائندگان کے علاوہ کئی اہم ریاستوں میں گورنر شپ بھی ڈیموکریٹک پارٹی کے حوالے کر کے بتا دیا کہ ؎
خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے

صدر ٹرمپ نے ان انتخابات کو اپنے وقار کا مسئلہ بنالیا تھا ۔وہ ووٹروں سے اس طرح اپیل کررہے تھے گویا خود انتخابی میدان میں ہوں لیکن اس کے باوجود ریپبلکن پارٹی کواپنے مضبوط گڑھ ٹیکساس، جارجیا اور آئیووا جیسی ریاستوں میں کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی نے وہاں کی گورنر شپ چھین لی۔اس کے علاوہ ٹیکساس، مین، جنوبی کیرولائنا، شمالی کیرولینا، کنساس اور آئیووا میں ریپبلکنز نے سینیٹ کی نشستیں بھی کھو دیں۔ رجیم چینج وہ نہیں تھا جو ایران میں ہوا ۔ وہاں رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی جگہ ان کا بیٹا روحانی پیشوا کے ذمہ داری پر فائز کردیا گیا اور نئی فوجی قیادت نے امریکی حملوں کا منہ توڑ جواب دے کر اس کے عالمی طلسم کو پاش پاش کردیا بلکہ یہ ہے کہ جس نے ایک شیر کی مانند دہاڑنے والے بڑبولے صدر کو بھیگی بلی بنادیا ۔ یہ ایک ایسا مغرور حکمراں ہے جو کبھی گرین لینڈ کو اپنے قبضے میں لے لینے کا اعلان کرکے سوشیل میڈیا پر وہاں پرچم لہرانے کی تصویر شائع کردیتا ہے تو کبھی کولمبیا کو غلام بنانے کے لیے آزاد کرانے ڈھونگ رچاتا ہے۔ وینزویلا کے صدر مدورو کو تو زوجہ سمیت اغوا کروا کے اپنے ملک میں لے آتا ہے لیکن کوئی اس کا بال بیکا نہیں کرپاتا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے تو اس وقت سبھی حدیں پھلانگ دیں جب اس نے کینیڈا کے وزیر اعظم کو گورنر کہہ کر مخاطب کیا۔ کسی خود مختار ملک کے سربراہ کو اس طرح پکارنا ایک زبردست توہین تھی۔ اس نے گویا کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کا ایک صوبہ قرار دے دیا تھا۔ اس کے بعد اپنے ہم سایہ ملک سے ٹمپ کے تعلقات بہت خراب ہوگئے مگر اس نے اس کی پروا کبھی نہیں کی مگر اب کہہ رہا ہے ’’اگر امریکی عوام اس سے تنگ آ گئے تو وہ اسرائیل منتقل ہو کر وہاں وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال سکتے ہیں، کیونکہ وہاں اس کی مقبولیت 99 فیصد ہے‘‘۔اس دعویٰ میں اگر حقیقت کا شائبہ بھی ہوتا تو اسرائیل میں ٹرمپ کا حمایت یافتہ بینجمن نیتن یاہو ذلت آمیز شکست فاش سے دوچار نہیں ہوتا؟امریکہ و کینیڈا کے مقابلے اسرائیل کی حیثیت مچھر کے برابر بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ کے ذہن میں اسرائیل کی وزارت عظمیٰ کے خیال کا آ جانا یہ بتاتا ہے کہ وہ حزن و یاس کی اتھاہ کھائی میں ہاتھ پیر مار رہاہے۔ دنیا میں فی الحال تین طرح کی جمہوریت کا بول بالا ہے۔ امریکہ کو عظیم ترین جمہوریت ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ ہندوستان کو وسیع ترین جمہوریت کے خطاب سے نوازہ گیا ہے اور اسرائیل کو ’اسمارٹ‘ ترین جمہوریت کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ اتفاق سے ان تینوں ممالک کے سربراہان باہم گہرے رفیق و دمساز ہیں اور اس تریمورتی کے ستارے ایک ساتھ گردش میں آگئے ہیں۔

اسرائیلی انتخاب میں ناکامی کے بعد بینجمن نیتن یاہو پر خود اسرائیل کے اندر لعن طعن کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ حزب اختلاف کے رہنماوں سمیت ملک کے معروف اسرائیلی صحافی اور معاشی تجزیہ نگار نحیمیا شتراسلر نے اخبار "ہارٹز” میں 44 سال پر محیط اپنے پیشہ ورانہ سفر کے اختتام پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتن یاہو کو’ یہودی تاریخ کا کمینہ ترین شخص‘ قرار دیا۔ اپنے دعویٰ کی دلیل کے طور پر انہوں نے لکھا ’’ نیتن یاہو کو اسرائیل کی تاریخ کا سب سے ناکام اور تباہ کن وزیرِ اعظم تھا‘‘ کیونکہ اس نے ہمیشہ ملک کے مفاد پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی۔ کل کو جب مودی جی اور ٹرمپ صاحب کا دورِ اقتدار ختم ہوجائے گا تو کیا ان کے بارے میں بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار نہیں ہوگا ؟ شتراسلر نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ سیاسی روش تبدیل نہ ہوئی تو ملک شدید ترین وجودی خطرات سے دوچار رہے گا۔ یہی صورتحال ہندوستان اور امریکہ کی بھی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تو ناکامی سے اپنا پلہ جھاڑتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ انتخاب میں یعنی مہم میں موجود نہیں تھے مگر پولنگ سٹیشنوں پر جب رائے دہندگان سے پوچھا گیا تو انہوں نے ٹرمپ کے بیانات، شاندار دعووں اور ان کے کام کی اخلاقیات سے عدم اطمینان کو ریپبلکن پارٹی کے تئیں مایوسی کوناکامی کی بنیادی وجوہات قرار دیا۔

امریکہ کے اندر روایتی طور پر ریپبلکن ریاست جارجیا میں ایک ڈیموکریٹک حامی نے کہا، "ٹرمپ ناکام ہو چکے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے بچوں کے لیے رول ماڈل بنے۔ وہ جتنی جلدی عہدہ چھوڑ دیں، اتنا ہی بہتر ہے۔” اس انتخاب میں جہاں مشی گن سے عبدالرحمٰن السید نے کامیابی کا پرچم لہرا کر ٹرمپ کے دانت کھٹے کردئیے وہیں اوہائیو کے گورنری انتخابات میں، ٹرمپ کے پسندیدہ ہندوستانی نژاد امریکی امیدوار، وویک رام سوامی بھی ڈیموکریٹک ایمی ایکٹن سے ہار گئے۔ ایوان نمائندگان میں اپنی پارٹی کو اکثریت سے محروم ہوتا ہوا دیکھ کر ریپبلکن رہنما کرس کرسٹی نےاعلان کردیا کہ ’ٹرمپ کا دور ختم ہو گیا ہے‘۔ ان نتائج نے خود ٹرمپ کا دماغ بہت حد تک درست کردیا ہے اسی لیےوہ ایک انٹرویو میں اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے بولے "میں ڈیموکریٹس کو مبارکباد دیتا ہوں، اور میں اپنے ملک کی بھلائی کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کا منتظر ہوں۔” اس طرح گویا اونٹ نے اپنا پہاڑ کے نیچے آنا تسلیم کرلیا ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 10 میں سے تقریباً 6 ووٹرز ٹرمپ کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں۔لگ بھگ 70 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ کانگریس(لوک سبھا) صدر کے اختیارات پر مزید چیک اینڈ بیلنس نافذ کرےنیز ہر 10 میں سے چھ ووٹروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اپنے ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے سیاسی مبصرین ریپبلکن پارٹی کی اس شکست کا سبب ٹرمپ کی پالیسیوں سے بڑے پیمانے پر عوامی عدم اطمینان بتا رہے ہیں ۔ رائے دہندگان کا غصہ ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے بڑھ گیا تھا جس نےروزمرہ کی زندگی میں استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتوں اور خاص طور ڈیزل کے نمایاں اضافہ سے ناراضی کا اظہارکیا مگر خود ٹرمپ کسی اور ہی دنیا میں کھوئے ہوے ہیں ۔ان کے مطابق ریپبلکن پارٹی کی شکست کا اصلی سبب انتخابی میدان میں ان کی عدم موجودگی تھی ۔ اول تو یہ بات حقیقت کے خلاف ہے کیونکہ مودی جی طرح ٹرمپ نے بڑے زور و شور سے حالیہ انتخابی مہم میں اپنی ساری توانائی جھونک دی تھی لیکن اب ناکامی ٹھیکرا دوسروں پر پھوڑ رہے ہیں۔

امریکہ کے اندر ظہران ممدانی کی فتح سے جس سنہری دور کا آغاز ہوا تھا اسے اس انتخاب نے آگے بڑھایا ہے ۔ ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالرحمان السیدنے امریکی سینیٹ کا انتخاب جیت کر ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار اور سابق رکنِ کانگریس مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاسی نظام میں مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کا اہم سنگِ میل قرار دیا جارہاہے۔ السید اپنے انتخابی سفر کو ’’ان شاء اللہ سے الحمد للہ تک‘‘ کا نام دیتے ہیں ۔ یہ جملہ ان کی طویل سیاسی جدوجہد، امید اور کامیابی کے جذبات کا ترجمان ہے۔42 سالہ عبدالرحمٰن السید مصری تارکینِ وطن کے گھرانے سے نکل کر صحتِ عامہ کے سرکاری عہدے پر فائز ہوئے ۔ انہوں نےاپنی انتخابی مہم میں عام شہریوں کے لیے سستی طبی سہولتوں، صحت کی عالمگیر کوریج، معاشی عدم مساوات میں کمی اور سیاست میں بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنےپر زور دیا۔ انہیں انتخابی مہم کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر ریپبلکن رہنماوں کے ذریعہ سیاسی نظریات، اسرائیل سے متعلق پالیسی اور مسلم شناخت کے حوالے سے شدید تنقید اور الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود انہوں نے سابق رکن کانگریس اور ایف بی آئی کے سابق عہدیدار کو شکست دے کر ثابت کردیا کہ ؎
نُورِ حق شمعِ الٰہی کو بجھا سکتا ہے کون
جس کا حامی ہو خدا، اس کو مٹا سکتا ہے کون

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے