کاروانِ شعور: تعلیم کے زخم، سماج کا ضمیر اور مستقبل کی تلاش
ڈاکٹر اسداللہ خان کی کتاب ایک معلم کی گواہی بھی ہے
اور ہمارے تعلیمی و سماجی رویوں کے خلاف ایک سوال نامہ بھی
ازقلم:جاوید جمال الدین
کسی معاشرے کی ترقی کا اندازہ صرف اس کی بلند عمارتوں، معاشی خوش حالی یا جدید تعلیمی اداروں سے نہیں لگایا جاسکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہاں بچوں کو کس طرح کی تعلیم دی جارہی ہے، اساتذہ کو کتنا احترام حاصل ہے، امتحانات میں دیانت داری کس حد تک برقرار ہے اور نئی نسل کو مستقبل کے لیے تیار کرتے ہوئے اس کی ذہنی و جذباتی ضرورتوں کا کتنا خیال رکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر اسداللہ خان کی کتاب ’’کاروانِ شعور‘‘ انہی سوالات کے گرد گھومتی ہے۔ یہ مضامین کا ایسا مجموعہ ہے جس میں ایک تجربہ کار معلم کی بے چینی، سماجی ذمہ داری کا احساس، تعلیمی نظام سے وابستہ شکایات اور بہتر مستقبل کی امید یکجا ہوگئی ہیں۔
ڈاکٹر اسداللہ خان کی چار دہائیوں سے زیادہ پر محیط تدریسی زندگی ان تحریروں کا اہم پس منظر ہے۔ ان کے نزدیک تعلیم محض نصاب کی تکمیل، امتحانات میں کامیابی یا اسناد کے حصول کا نام نہیں، بلکہ انسان کی شخصیت، کردار اور شعور کی تعمیر کا وسیلہ ہے۔ یہی تصور کتاب کے مختلف موضوعات کو ایک مشترکہ فکری رشتے میں باندھتا ہے۔ اس اعتبار سے ’’کاروانِ شعور‘‘ کو صرف تعلیمی مسائل کی نشان دہی کرنے والی کتاب نہیں، بلکہ تعلیم، خاندان، سماج اور انسانی مستقبل کے باہمی تعلق کو سمجھنے کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
انتساب میں چھپی فکری بنیاد
کتاب کا انتساب مصنف کے ذاتی احساس اور فکری پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ ڈاکٹر اسداللہ خان اپنے والدین کے نام لکھتے ہیں کہ انہوں نے انہیں زندگی ہی نہیں دی، بلکہ زندگی کا شعور بھی عطا کیا۔ ان کی دعائیں ہر منزل کا سرمایہ رہیں اور ان کی تربیت آج بھی قلم کی روشنی ہے۔ مصنف اپنی تصنیف کو والدین کی محبتوں، دعاؤں، تربیتوں اور اعتماد کی مشترکہ امانت قرار دیتے ہیں۔
یہ اعتراف کتاب کے موضوعات سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ مصنف کے نزدیک شخصیت کی تعمیر میں والدین کی تربیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے؛ اسی لیے وہ بچوں کی تعلیم کو گھر، خاندان اور معاشرے سے الگ کرکے نہیں دیکھتے۔ انتساب میں والدین کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا اس تحریر کو روحانی اور جذباتی جہت بھی عطا کرتی ہے۔ یوں کتاب کا آغاز ہی اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ شعور کی تعمیر صرف تعلیمی اداروں میں نہیں ہوتی، بلکہ اس کی بنیاد گھر میں پڑتی ہے۔
’’حرفِ آغاز‘‘ میں مصنف واضح کرتے ہیں کہ یہ مضامین کسی ایک نشست یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت نہیں لکھے گئے۔ کلاس روم کے تجربات، امتحان گاہوں کی بے بسی اور معاشرے کے بدلتے رویوں نے ان کے اندر جو بے چینی پیدا کی، وہ وقتاً فوقتاً تحریروں میں ڈھلتی رہی۔ ان کے نزدیک تعلیم کا بنیادی مقصد انسان سازی ہے۔ جب یہ مقصد پس منظر میں چلا جائے تو تعلیمی ادارے محض کارخانے اور بچے ان کے پرزے بننے لگتے ہیں۔ یہ خیال کتاب کے مرکزی پیغام کی ترجمانی کرتا ہے۔
’’داغ داغ اُجالا‘‘: پرچوں کی نیلامی، دیانت کا جنازہ
کتاب کے نمایاں مضامین میں ’’داغ داغ اُجالا: پرچوں کی نیلامی، دیانت کا جنازہ‘‘ خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ اس کا ابتدائیہ ہی قاری کو ایک بنیادی سوال کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے: ’’یہ تحریر اس معاشرے کے نام ہے جو اپنے بچوں سے مستقبل تو مانگتا ہے، مگر انہیں انصاف نہیں دیتا۔‘‘
اس کے بعد مصنف ایک امتحانی کمرے کا منظر پیش کرتے ہیں: ایک میز، ایک ایڈمٹ کارڈ، پانی کی بوتل کے ساتھ رکھا ہوا خواب اور سامنے بیٹھا اٹھارہ سالہ نوجوان، جس کی آنکھوں میں ڈاکٹر بننے کی ضد، ماں کی امید، باپ کے قرض کی نمی اور معاشرتی طعنوں کا خوف ہے۔ پھر اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی دو سالہ محنت سے وابستہ امتحانی پرچہ کسی واٹس ایپ گروپ میں آگے بھیج دیا گیا تھا، جبکہ ریاستی بیان میں کہا جاتا ہے کہ ’’سسٹم آلودہ پایا گیا‘‘۔
یہاں لفظ ’’آلودہ‘‘ پر مصنف کی طنزیہ توجہ اہم ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا کسی نظام کی خرابی کو ایک غیر شخصی اصطلاح میں سمیٹ دینے سے اس کے ذمہ داروں اور متاثرین کے سوالات ختم ہوجاتے ہیں؟ اس منظرکشی کی قوت یہ ہے کہ امتحانی بدعنوانی کو محض انتظامی بے ضابطگی نہیں رہنے دیا گیا، بلکہ اس کے پیچھے موجود انسانی قیمت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ماں کی امید، باپ کے قرض اور نوجوان کے مستقبل کا ذکر ایک وسیع مسئلے کو انسانی تجربے میں تبدیل کردیتا ہے۔
امتحانی پرچوں کا افشا محض امتحانی ضابطوں کی خلاف ورزی نہیں؛ یہ محنت کرنے والے طلبہ کے اعتماد، میرٹ اور تعلیمی اسناد کی ساکھ کے لیے بھی خطرہ ہے۔ تاہم، اس موضوع پر ادبی احتجاج کے ساتھ مستند شواہد، تحقیقات کے نتائج اور ذمہ دار اداروں کی جواب دہی کی تفصیلات بھی ضروری ہیں۔ جذباتی تاثیر اپنی جگہ اہم ہے، لیکن تحقیقی صحت ہی تحریر کو دیرپا اعتبار عطا کرتی ہے۔
’’یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر‘‘، ’’جب سوالیہ پرچے نہیں، قوموں کے مستقبل لیک ہونے لگیں!‘‘، ’’پوشیدہ نصاب‘‘ اور ’’تعلیم کے ذریعے تعمیر یا تخریب؟‘‘ جیسے عنوانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف کی تشویش صرف پرچوں کے افشا تک محدود نہیں، بلکہ وہ تعلیم کے مقاصد اور نظام کی اخلاقی بنیادوں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔
نمبروں کا دباؤ اور بجھتے چراغ
کتاب کے دوسرے حصے میں بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی کیفیت، امتحانی دباؤ اور خودکشی جیسے حساس موضوعات شامل ہیں۔ ’’روکو سورج کو خودکشی سے‘‘، ’’نوجوان، خودکشی اور ہماری اجتماعی بے حسی کا المیہ‘‘، ’’سہما ہوا سوال‘‘، ’’آپ کا بچہ آپ کی دوسری اننگز نہیں ہے‘‘ اور ’’چلو اسکول، ناکامی سیکھیں!‘‘ جیسے عنوانات والدین، اساتذہ اور معاشرے کو اپنے رویوں کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہیں۔
بعض خاندانوں میں امتحانی نتائج کو بچے کی قابلیت اور مستقبل کا حتمی پیمانہ سمجھ لیا جاتا ہے۔ دوسروں سے موازنہ، غیر معمولی توقعات اور ناکامی پر تضحیک نوجوانوں کے لیے ذہنی دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ مصنف کی یہ فکر قابلِ توجہ ہے کہ بچے کو یہ احساس ملنا چاہیے کہ ایک امتحان زندگی کا اختتام نہیں اور رپورٹ کارڈ انسان کی مکمل قدر متعین نہیں کرتا۔
البتہ خودکشی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے اسباب ہر فرد کے معاملے میں مختلف ہوسکتے ہیں۔ اسے صرف امتحانی دباؤ کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے ذہنی صحت، خاندانی حالات، تنہائی اور بروقت مدد کی دستیابی جیسے پہلوؤں کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ والدین اور اساتذہ کی ہمدردی کے ساتھ ضرورت پڑنے پر ماہرین سے مدد حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس موضوع پر کتاب کی معنویت اسی وقت مزید بڑھے گی جب امید کی تلقین کے ساتھ عملی رہنمائی کو بھی اہم مقام دیا جائے۔
نظام کی جانچ اور استاد کی جواب دہی
’’کیا ہندوستان کا تعلیمی نظام واقعی بہتر ہورہا ہے؟‘‘، ’’جب اسکول ہی ہونا کام، تو بچے کیسے ہوں گے کامیاب؟‘‘ اور ’’روز پچیس چراغ بجھتے ہیں!‘‘ جیسے عنوانات تعلیمی کارکردگی اور اس کے نتائج پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ تعلیمی ترقی کا اندازہ صرف اسکولوں کی تعداد یا امتحانی نتائج سے نہیں لگایا جاسکتا؛ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ طلبہ حقیقتاً کیا سیکھ رہے ہیں اور انہیں کس معیار کی تدریس میسر ہے۔
ان سوالات کے جواب کے لیے مصدقہ اعداد و شمار، متعلقہ مدت، تقابلی شواہد اور پالیسی کے عملی اثرات اہم ہیں۔ کتاب کے اس حصے کی افادیت اس میں ہے کہ وہ نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھاتا ہے؛ اس بحث کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تحقیقی شواہد اور قابلِ عمل تجاویز بھی ضروری ہیں۔
استاد کے بارے میں کتاب کا چوتھا حصہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ ’’استاد: مصلوب فرشتہ‘‘، ’’قحطِ معلم‘‘، ’’اساتذہ کو حقیر مت جانو!‘‘ اور ’’استاد قوم کی روح، نسلوں کا معمار‘‘ جیسے عنوانات استاد کے مقام اور مسائل کو نمایاں کرتے ہیں۔ ایک استاد صرف نصاب پڑھانے والا فرد نہیں، بلکہ بچوں میں غور و فکر اور سوال کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے والا رہنما بھی ہے۔
مصنف استاد کے وقار کی حمایت کرتے ہیں، لیکن اس موضوع کا دوسرا پہلو بھی اہم ہے: احترام کا مطلب جواب دہی سے گریز نہیں۔ استاد کی عزت اس کی علمی قابلیت، دیانت، محنت اور طلبہ کے ساتھ انصاف سے بھی وابستہ ہے۔ استاد کو بہتر وسائل اور سازگار ماحول فراہم کرنا اور اس کے پیشہ ورانہ کردار کو جواب دہ بنانا، دونوں تعلیمی بہتری کے لیے ضروری ہیں۔
گھر، آنگن اور ڈیجیٹل سراب
’’گھر کا آنگن شخصیت کی پہلی درس گاہ‘‘، ’’سمٹتا ہوا آنگن‘‘، ’’ایک چھت، کئی جزیرے‘‘ اور ’’ڈیجیٹل سراب اور نسل نو کا مستقبل‘‘ جیسے مضامین کے عنوانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مصنف بچوں کی تشکیل میں گھر اور جدید ٹیکنالوجی کے کردار کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔
گھر میں بچے احترام، برداشت، اعتماد اور اختلاف کے ساتھ رہنے کا سلیقہ سیکھتے ہیں۔ اگر مکالمے کی جگہ خاموشی اور باہمی توجہ کی جگہ مسلسل مصروفیت لے لے تو بچوں کی شخصیت متاثر ہوسکتی ہے۔ اسی طرح ڈیجیٹل ذرائع علم اور رابطے کے مواقع فراہم کرتے ہیں، لیکن ان کا غیر متوازن استعمال توجہ اور سماجی تعلقات کے لیے مسائل بھی پیدا کرسکتا ہے۔ اس کا حل محض پابندی نہیں، بلکہ ذمہ دارانہ استعمال، ڈیجیٹل فہم اور والدین و بچوں کے درمیان کھلا مکالمہ ہے۔
بلوغت، حیا، جامع جنسی تعلیم اور نسل نو کی تربیت سے متعلق عنوانات بھی کتاب کے موضوعاتی دائرے کو وسعت دیتے ہیں۔ ان حساس معاملات میں علمی صحت، عمر کے مطابق رہنمائی اور احترام ضروری ہیں، تاکہ تربیت کا مقصد خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ علم، تحفظ اور ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا ہو۔
سماجی اقدار اور امید کے روشن کردار
کتاب میں ’’خاموش معاشرہ اور مرتی ہوئی انسانیت: ممبئی لوکل ٹرین کا ایک المیہ‘‘ اور ’’زمین کی آہ اور انسان کی بے خبری‘‘ جیسے عنوانات سماجی بے حسی اور ماحول سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں۔ اس سے کتاب کا دائرہ تعلیمی اداروں سے نکل کر اجتماعی زندگی تک پھیل جاتا ہے۔ تعلیم کا حقیقی امتحان بھی یہی ہے کہ وہ انسان میں دوسروں کے دکھ، ناانصافی اور سماجی مسائل کا احساس کس حد تک پیدا کرتی ہے۔
کتاب کے آخری حصے میں معذوری کو شکست دینے والے افراد، جسٹس مادھو بے جامدار، نفرتوں کے اندھیرے میں محبت کا چراغ اور محنت کے ذریعے آئی آئی ٹی تک پہنچنے والے طالب علم جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ عنوانات مسائل کے بیان کے ساتھ امید اور انسانی عزم کی اہمیت بھی اجاگر کرتے ہیں۔ ان داستانوں کی قوت اس وقت مزید بڑھتی ہے جب کرداروں کے حالات، جدوجہد اور کامیابی کے اسباب کو ٹھوس تفصیلات کے ساتھ بیان کیا جائے۔
اسلوب کی خوبی اور تنقیدی حدود
فراہم کردہ اقتباسات سے مصنف کے اسلوب کی نمایاں خصوصیات سامنے آتی ہیں۔ علامتی عنوانات، جذباتی منظرکشی، سوالیہ جملے اور اخلاقی استدلال ان کی تحریروں کو عام قاری کے لیے قابلِ فہم بناتے ہیں۔ امتحانی کمرے میں بیٹھے نوجوان کا منظر اس کی اچھی مثال ہے، جہاں ایک فرد کی کہانی کے ذریعے پورے نظام پر سوال اٹھایا گیا ہے۔
چونکہ بیشتر مضامین مختلف اوقات میں اخبارات و رسائل کے لیے لکھے گئے، اس لیے ان میں استاد کا وقار، امتحانی دباؤ، گھر کی تربیت اور امید جیسے خیالات کی تکرار کا امکان بھی ہے۔ مصنف خود ’’حرفِ آغاز‘‘ میں اس تکرار کا اعتراف کرتے ہیں اور اسے بنیادی سچائیوں پر اصرار قرار دیتے ہیں۔ یہ وضاحت قابلِ فہم ہے، لیکن کتابی صورت میں یکساں نکات کا اختصار اور مضامین کے باہمی ربط پر توجہ مجموعے کو مزید مربوط بنا سکتی تھی۔
اسی طرح جذباتی استدلال کے ساتھ مستند حوالوں، اعداد و شمار اور عملی تجاویز کی شمولیت کتاب کی تحقیقی و تجزیاتی قوت بڑھا سکتی تھی۔ یہ تنقیدی نکات کتاب کی اہمیت کو رد نہیں کرتے، بلکہ اس کے موضوعات میں موجود امکانات کو واضح کرتے ہیں۔
ایک معلم کی آواز، معاشرے کے نام
’’کاروانِ شعور‘‘ کی اہمیت اس میں ہے کہ یہ تعلیم کو امتحان اور اسناد کی حدود سے نکال کر انسانی کردار، سماجی انصاف اور ذمہ دارانہ زندگی سے جوڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس میں احتجاج بھی ہے، درد بھی، خود احتسابی کی گنجائش بھی اور امید کے چراغ بھی۔ یہ کتاب ہر مسئلے کا مکمل حل پیش کرنے کا دعویٰ نہیں کرتی، لیکن قاری کو ان سوالات کے سامنے ضرور لا کھڑا کرتی ہے جن سے گریز کرنا آسان، مگر جن کا سامنا کرنا ضروری ہے۔
کیا ہم بچوں کی کامیابی کو صرف نمبروں سے ناپتے ہیں؟ کیا تعلیمی نظام محنت اور دیانت کو حقیقی معنوں میں تحفظ دیتا ہے؟ کیا اساتذہ کو بہتر تدریس کے لیے درکار وسائل اور معاونت حاصل ہے؟ اور کیا ہمارے گھر بچوں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع دیتے ہیں؟
ان سوالات کے جواب صرف کتابوں میں نہیں، عملی زندگی میں تلاش کرنا ہوں گے۔ ڈاکٹر اسداللہ خان کی ’’کاروانِ شعور‘‘ اسی مکالمے کی دعوت دیتی ہے۔ اس کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ اس کے خیالات کتنے قارئین کو اپنے رویوں کا جائزہ لینے اور تعلیم کو اس کے بنیادی انسانی مقصد سے جوڑنے پر آمادہ کرتے ہیں۔ کیونکہ قوموں کا مستقبل صرف تعلیم یافتہ افراد سے نہیں، بلکہ باشعور، حساس اور ذمہ دار انسانوں سے تعمیر ہوتا ہے۔