غزہ و ایران کی جنگ کے سائے میں ٹرمپ کی سیاست

غزہ و ایران کی جنگ کے سائے میں ٹرمپ کی سیاست

غزہ و ایران کی جنگ کے سائے میں ٹرمپ کی سیاست

✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040

امریکہ کی عالمی سیاست میں ایک مرتبہ پھر ایسا سیاسی موڑ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف واشنگٹن کے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل پیدا کردی ہے بلکہ عالمی سیاست کے مستقبل، امریکی خارجہ پالیسی کی سمت اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشمکش کے اثرات پر بھی نئے سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جو اپنی سیاسی زندگی میں طاقت کے اظہار، جارحانہ بیانات، غیر معمولی فیصلوں اور عالمی سطح پر امریکی بالادستی کے دعوؤں کے لیے معروف رہے ہیں، اب خود اپنے ملک کے اندر ایک ایسے سیاسی امتحان سے دوچار ہیں جس نے ان کی قیادت، حکمتِ عملی اور سیاسی ترجیحات کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔ 2026ء کے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی نمایاں کامیابی اور کانگریس کے دونوں ایوانوں پر اس کے کنٹرول کو محض ایک انتخابی تبدیلی قرار دینا اس واقعے کی معنویت کو محدود کر دینا ہوگا۔ درحقیقت یہ نتائج ٹرمپ انتظامیہ کی مجموعی کارکردگی، اس کی معاشی پالیسیوں، خارجہ حکمتِ عملی، ایران کے ساتھ جنگ اور غزہ کے معاملے پر اختیار کردہ رویّے کے خلاف امریکی عوام کے بڑھتے ہوئے اضطراب کا ایک اہم سیاسی اظہار ہیں۔

یہ انتخابی نتائج اس حقیقت کی بھی یاد دہانی کراتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت کا سربراہ بھی داخلی جمہوری احتساب سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ جو حکمران بیرونی دنیا میں حکومتوں کی تبدیلی، سیاسی نظاموں کی تشکیلِ نو اور عالمی طاقت کے توازن کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کے خواہاں ہوں، انہیں بھی اپنے ملک کے عوام کی رائے کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ ٹرمپ کی سیاسی حکمتِ عملی کا بنیادی تضاد یہی دکھائی دیتا ہے کہ انہوں نے عالمی سطح پر امریکی قوت کے مظاہرے کو اپنی کامیابی کا پیمانہ سمجھا، لیکن داخلی سطح پر عوامی زندگی کے بنیادی مسائل، معاشی آسودگی، سماجی اتحاد اور سیاسی استحکام کو وہ ترجیح حاصل نہ ہوسکی جس کی توقع ایک جمہوری قیادت سے کی جاتی ہے۔ اقتدار کی اصل مضبوطی محض دھمکیوں، پابندیوں، فوجی کارروائیوں اور سفارتی دباؤ سے پیدا نہیں ہوتی، بلکہ عوامی اعتماد، معاشی انصاف اور قومی اتفاقِ رائے سے جنم لیتی ہے۔

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے ریپبلکن پارٹی کی سیاسی برتری ختم کردی۔ فراہم کردہ انتخابی اعداد و شمار کے مطابق ریپبلکنز کو سینیٹ میں سات اور ایوانِ نمائندگان میں پچیس نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا، جب کہ ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرلی۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے قانون سازی، بجٹ کی منظوری، اہم تقرریوں اور متنازع حکومتی منصوبوں کو آگے بڑھانا پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ اب کانگریس میں ڈیموکریٹس کو نہ صرف حکومتی فیصلوں کی نگرانی کا موقع حاصل ہوگا بلکہ وہ انتظامیہ سے جواب طلبی، پالیسیوں کی تحقیقات اور اختیارات کے استعمال پر مؤثر سیاسی نگرانی بھی کرسکیں گے۔

یہاں ایک اہم آئینی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں حکمران جماعت کی شکست سے صدر کا عہدہ ختم نہیں ہوتا۔ ٹرمپ اپنی مقررہ آئینی مدت تک صدر برقرار رہیں گے، تاہم کانگریس میں مخالف جماعت کی اکثریت ان کی انتظامی آزادی کو محدود کرسکتی ہے۔ یوں اقتدار تو برقرار رہے گا، لیکن اقتدار کے استعمال کی راہیں دشوار ہو جائیں گی۔ یہی وہ سیاسی صورتِ حال ہے جسے امریکی نظام میں اختیارات کے توازن اور احتساب کا ایک اہم مظہر سمجھا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی شکست کو ان کے لیے اس اعتبار سے بھی بڑا دھچکا قرار دیا جارہا ہے کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی کو اپنی سیاسی ساکھ سے جوڑ دیا تھا۔ دنیا کے امیر ترین کاروباری شخص ایلون مسک کی جانب سے ریپبلکن انتخابی مہمات کی بھاری مالی معاونت بھی مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنے میں فیصلہ کن ثابت نہ ہوسکی۔ اس سے ایک مرتبہ پھر واضح ہوا کہ جمہوری معاشروں میں دولت، تشہیر، میڈیا مہمات اور سیاسی سرپرستی انتخابی عمل پر اثرانداز تو ہوسکتی ہیں، لیکن عوامی ناراضی اور معاشرتی بے اطمینانی کو ہمیشہ خرید نہیں سکتیں۔ ووٹ کی طاقت بالآخر اسی وقت فیصلہ کن بنتی ہے جب عوام اپنے روزمرہ مسائل اور مستقبل کے خدشات کو انتخابی فیصلے سے وابستہ کردیتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی مشکلات کا ایک اہم پس منظر غزہ کا انسانی المیہ بھی ہے۔ غزہ میں طویل عرصے سے جاری تباہی، شہری آبادی کی بے بسی، بچوں اور خواتین کی ہلاکتیں، اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی بربادی، بنیادی انسانی ضروریات کی قلت اور لاکھوں فلسطینیوں کی بے دخلی نے عالمی ضمیر کو مسلسل جھنجھوڑا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ اب محض مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی کشمکش نہیں رہا، بلکہ انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون، عالمی انصاف اور مغربی دنیا کے جمہوری و اخلاقی دعوؤں کی صداقت کا ایک بنیادی امتحان بن چکا ہے۔

امریکی حکومت کی جانب سے اسرائیل کی مسلسل سیاسی، سفارتی اور فوجی حمایت نے امریکی معاشرے کے اندر بھی ایک گہری بحث کو جنم دیا ہے۔ بالخصوص نوجوانوں، جامعات کے طلبہ، انسانی حقوق کے کارکنوں، ترقی پسند سیاسی حلقوں اور مسلم و عرب امریکی شہریوں میں یہ سوال شدت سے اٹھا ہے کہ جب امریکہ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور جمہوریت کا علم بردار ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو فلسطینی عوام کے معاملے میں اس کے اصولوں کا اطلاق یکساں کیوں نہیں ہوتا؟ کیا انسانی جان کی حرمت کا معیار جغرافیہ، مذہب، قومیت اور سیاسی اتحاد کے اعتبار سے بدل جاتا ہے؟ کیا بین الاقوامی قانون کی پاسداری صرف کمزور ممالک کے لیے لازم ہے، جبکہ طاقت ور اتحادیوں کو اس سے استثنا حاصل ہے؟

یہ سوالات امریکی انتخابی سیاست میں بھی داخل ہوچکے ہیں۔ اب فلسطین کا مسئلہ صرف مسلم ووٹروں کی ترجیح نہیں رہا، بلکہ امریکی معاشرے کے مختلف طبقات میں اخلاقی، انسانی اور سیاسی بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے مشکل یہ ہے کہ اس نے اسرائیل کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بنایا، لیکن اس حمایت کے انسانی اور معاشی مضمرات سے پیدا ہونے والی عوامی بے چینی کو مؤثر طور پر دور نہیں کرسکی۔ اس تناظر میں غزہ کا المیہ امریکی سیاست کے لیے ایک ایسا اخلاقی آئینہ بن گیا ہے جس میں واشنگٹن کے جمہوری دعوؤں اور عملی پالیسیوں کے درمیان موجود فاصلے نمایاں ہوتے جارہے ہیں۔

یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ غزہ کے مسئلے پر امریکی عوام کی رائے یکساں نہیں۔ اسرائیل کی سلامتی کے حامی حلقے بھی موجود ہیں اور فلسطینی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے طبقات بھی۔ تاہم یہ امر اہم ہے کہ فلسطینی شہریوں کے تحفّظ، انسانی امداد کی فراہمی، جنگ کے خاتمے اور امریکی فوجی امداد کی شرائط پر بحث اب امریکی سیاسی مکالمے کا مستقل حصّہ بن چکی ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں یہی سیاسی ارتقا عوامی شعور کی وسعت کا مظہر ہوتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے لیے دوسرا بڑا چیلنج ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگی صورتِ حال ہے۔ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں، معاشی دباؤ، علاقائی محاذ آرائی اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کیا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی رسد اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی نئے خطرات پیدا کردیے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد تہران کو اپنی شرائط تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہوسکتا ہے، لیکن کسی بھی جنگ کا نتیجہ صرف فوجی کارروائیوں کی کامیابی یا ناکامی سے متعین نہیں ہوتا؛ اس کی اصل قیمت انسانی جانوں، اقتصادی وسائل، علاقائی استحکام اور داخلی سیاسی نتائج کی صورت میں بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔

امریکی عوام کے ایک بڑے حصّے کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ جب ملک کے اندر مہنگائی، رہائش کے اخراجات، صحت کی سہولتوں، روزگار اور معاشی تحفّظ جیسے مسائل موجود ہیں تو حکومت بیرونِ ملک ایک طویل اور مہنگی جنگ میں اپنے وسائل کیوں صرف کررہی ہے؟ کیا ایران کے ساتھ فوجی تصادم امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے، یا یہ ایسی خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہے جس میں سفارت کاری، علاقائی توازن اور طویل مدتی حکمتِ عملی کے مقابلے میں طاقت کے فوری استعمال کو زیادہ اہمیت دی گئی؟

یہ سوالات محض سیاسی مخالفین کے نعروں تک محدود نہیں، بلکہ امریکی جمہوری نظام میں جنگ اور امن سے متعلق بنیادی بحث کا حصّہ ہیں۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے انتخابی شکست کے بعد ایران جنگ کو ریپبلکنز کے نقصان کی اہم وجہ قرار دینے کا بیان بھی اس امر کی علامت ہے کہ حکمران جماعت کے اندر خارجہ پالیسی کے نتائج پر اختلافات موجود ہیں۔ اگر کسی حکومت کی جنگی حکمتِ عملی اس کے اپنے سیاسی حلقوں میں بھی سوالات پیدا کرنے لگے تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ مسئلہ محض حزبِ اختلاف کی تنقید نہیں بلکہ قومی ترجیحات کے تعین سے متعلق ایک وسیع تر بحران ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ کا ایک اہم معاشی پہلو توانائی کی عالمی منڈی بھی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچنے والی توانائی کی رسد میں کسی بڑی رکاوٹ کا اثر صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ایشیا، یورپ اور دنیا کی بڑی معیشتیں بھی اس سے متاثر ہوتی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، بحری تجارت کے بڑھتے ہوئے اخراجات، بیمہ پریمیم میں اضافہ اور سپلائی چین کی غیر یقینی کیفیت بالآخر عام صارف کی زندگی تک پہنچتی ہے۔ اس طرح مشرقِ وسطیٰ کی جنگ واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں سے نکل کر دنیا بھر کے گھروں، بازاروں، کارخانوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام تک اپنے اثرات منتقل کرتی ہے۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کو نمایاں کردیا ہے کہ جدید عالمی سیاست میں فوجی برتری کے باوجود کسی بھی طاقت کے لیے جغرافیائی حقائق کو نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت صرف ایک بحری گزرگاہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ عالمی توانائی کے نظام کی شہ رگ کے طور پر بھی ہے۔ اس خطے میں کسی بھی قسم کی عسکری بے چینی عالمی منڈیوں میں اضطراب پیدا کرسکتی ہے اور بڑے سے بڑے اقتصادی نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ایران کی قیادت اس صورتِ حال کو اپنی دفاعی صلاحیت، جغرافیائی اہمیت اور علاقائی اثر و رسوخ کے تناظر میں پیش کرتی رہی ہے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق امریکہ کئی دہائیوں سے ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت، اقتصادی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور فوجی دھمکیوں کے ذریعے اس کی خودمختاری کو محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ 1953ء میں ایرانی حکومت کی معزولی، شاہِ ایران کی حمایت، عراق ایران جنگ کے دوران امریکی پالیسی اور بعد ازاں طویل اقتصادی پابندیاں ایرانی قومی بیانیے میں امریکی مداخلت کی اہم مثالیں شمار ہوتی ہیں۔

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان میں بھی اسی تاریخی تناظر کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری کا دفاع کیا اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بنیادی مسئلہ صرف کسی ایک صدر یا سیاسی جماعت کی پالیسی نہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان موجود تاریخی عدمِ اعتماد ہے۔ یہ مؤقف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ایران کے نزدیک واشنگٹن میں حکمران جماعت کی تبدیلی بذاتِ خود تہران اور واشنگٹن کے تعلقات میں بنیادی تبدیلی کی ضمانت نہیں۔

تاہم اس معاملے کا دوسرا پہلو بھی اہم ہے۔ ایران کے لیے بھی عسکری قوت کا تحفّظ اسی وقت پائیدار ہوسکتا ہے جب اس کے ساتھ معاشی استحکام، داخلی اتحاد، سائنسی ترقی، عوامی فلاح اور علاقائی سفارت کاری کو فروغ دیا جائے۔ محض مزاحمت یا عسکری صلاحیت کسی قوم کی مکمل ترقی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ قومی خودمختاری کے حقیقی تحفّظ کے لیے دفاعی طاقت کے ساتھ مضبوط معیشت، مؤثر ادارے، عوامی اعتماد اور دانش مندانہ سفارتی حکمتِ عملی بھی ضروری ہیں۔

ان انتخابات کا ایک نہایت اہم اور قابلِ توجہ پہلو امریکی سیاسی نظام میں مسلم نمائندگی کا بڑھتا ہوا کردار ہے۔ مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کی سینیٹ کی نشست پر کامیابی کو امریکی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جارہا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ امریکی سینیٹ کے پہلے مسلمان رکن بننے کا اعزاز حاصل کرنے جارہے ہیں۔ مصری تارکینِ وطن کے خاندان سے تعلق رکھنے والے عبدل السید اس سے قبل عوامی صحت کے شعبے میں اہم ذمّہ داریاں انجام دے چکے ہیں۔ ان کی انتخابی مہم میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی، عوامی اخراجات میں کمی، کارپوریٹ مالیاتی اثر و رسوخ کی تحدید اور عام امریکی شہریوں کے معاشی تحفّظ کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔

ان کی کامیابی اس اعتبار سے بھی قابلِ توجہ ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ان کے نام، مذہبی شناخت اور اسرائیل فلسطین کے معاملے پر ان کے مؤقف کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ انہیں شدّت پسندی سے جوڑنے کی کوششیں بھی ہوئیں، جنہیں انہوں نے مسترد کیا۔ اس کے باوجود ان کی انتخابی کامیابی نے یہ واضح کیا کہ امریکی جمہوریت میں مذہبی و نسلی شناخت سے آگے بڑھ کر عوامی خدمت، سیاسی پروگرام، معاشی ترجیحات اور انتخابی اعتماد بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

عبدل السید کا اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد روکنے کا مطالبہ اور فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے ان کا واضح مؤقف انتخابی بحث کا اہم حصّہ رہا۔ ان کی کامیابی کو محض ایک مسلمان امیدوار کی کامیابی کے طور پر دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اسے امریکی سیاست میں فلسطین کے مسئلے پر بڑھتی ہوئی بحث، مسلم شہریوں کی سیاسی فعالیت اور ترقی پسند حلقوں کے ابھرتے ہوئے اثرات کے تناظر میں بھی سمجھنا چاہیے۔

اسی طرح نیو جرسی سے ڈاکٹر آدم حموی کی کامیابی، پاکستانی نژاد امریکی سیاست دانوں سلمان بھوجانی، سلیمان لالانی اور فاروق مغل کی انتخابی پیش رفت اور دیگر مسلم و تارکینِ وطن امیدواروں کی کامیابیاں امریکی معاشرے میں نمائندگی کے بدلتے ہوئے رجحانات کی نشان دہی کرتی ہیں۔ یہ کامیابیاں اس تصور کو تقویت دیتی ہیں کہ امریکہ کی سیاسی شناخت کسی ایک مذہب، نسل یا نسلی گروہ تک محدود نہیں، بلکہ اس کی جمہوری قوت مختلف معاشرتی طبقات کی شمولیت اور نمائندگی میں مضمر ہے۔

اس تناظر میں مسلم امریکی شہریوں کے لیے بھی یہ ایک اہم پیغام ہے کہ سیاسی عمل سے لاتعلقی اختیار کرنے کے بجائے عوامی اداروں میں مؤثر شرکت، ووٹر رجسٹریشن، مقامی سیاست، عوامی پالیسیوں پر مکالمہ اور نمائندہ قیادت کی تشکیل کے ذریعے اپنی اجتماعی ترجیحات کو سامنے لایا جاسکتا ہے۔ تاہم مسلم سیاسی نمائندگی کا حقیقی معیار صرف کسی مسلمان امیدوار کا منتخب ہو جانا نہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ انصاف، انسانی وقار، مذہبی آزادی، نسلی مساوات اور تمام مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے کس حد تک مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔

امریکی انتخابات میں مسلم ووٹروں کا کردار ایک نئے سیاسی مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ماضی میں مسلم امریکی شہریوں کے انتخابی رجحانات کا تعلق بڑی حد تک مذہبی آزادی، امیگریشن، شہری حقوق، نسلی امتیاز اور معاشی مسائل سے رہا ہے، لیکن غزہ کے بحران نے خارجہ پالیسی کو بھی ان کی انتخابی ترجیحات میں نمایاں مقام دے دیا ہے۔ اب متعدد مسلم ووٹر امیدواروں سے یہ سوال کررہے ہیں کہ وہ فلسطین کے معاملے میں کیا مؤقف رکھتے ہیں، اسرائیل کو فراہم کی جانے والی امریکی فوجی امداد کے بارے میں ان کی پالیسی کیا ہوگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ان کا ردِعمل کس نوعیت کا ہوگا۔

اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ مسلم ووٹرز اب صرف مذہبی شناخت کی بنیاد پر سیاسی فیصلے کرنے کے بجائے امیدواروں کے عملی پروگرام، خارجہ پالیسی، معاشی انصاف اور انسانی حقوق کے مؤقف کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔ یہی سیاسی شعور کسی بھی اقلیتی برادری کو محض انتخابی تعداد سے آگے بڑھا کر ایک مؤثر جمہوری قوت میں تبدیل کرتا ہے۔

تاہم اس ضمن میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مسلم ووٹرز کوئی یکساں سیاسی اکائی نہیں ہیں۔ ان میں عرب، جنوبی ایشیائی، افریقی، ترک، ایرانی اور دیگر پس منظر رکھنے والے شہری شامل ہیں، جن کی معاشی، سماجی اور سیاسی ترجیحات مختلف ہوسکتی ہیں۔ اس لیے ان کے انتخابی رجحانات کو ایک ہی نعرے یا ایک ہی سیاسی جماعت کے ساتھ وابستہ کرکے دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ البتہ فلسطین کا مسئلہ ایک ایسا مشترکہ اخلاقی اور انسانی موضوع بن چکا ہے جس نے مختلف پس منظر رکھنے والے مسلم شہریوں کو ایک وسیع تر سیاسی مکالمے میں شریک کیا ہے۔

انتخابی نتائج میں خواتین ووٹرز کا کردار بھی نمایاں رہا۔ فراہم کردہ سروے کے مطابق خواتین کی بڑی تعداد نے ڈیموکریٹ امیدواروں کی حمایت کی، جب کہ مرد ووٹروں میں دونوں جماعتوں کے درمیان نسبتاً سخت مقابلہ رہا۔ اس رجحان کو امریکی معاشرے میں خواتین کے حقوق، صحت کی سہولتوں، معاشی تحفّظ، تعلیم، سماجی بہبود اور سیاسی نمائندگی سے متعلق مباحث کے تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے۔

امریکی سیاست میں خواتین کا ووٹ محض صنفی بنیاد پر کسی جماعت کی حمایت کا اظہار نہیں، بلکہ اس کے پیچھے متعدد معاشرتی اور اقتصادی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ صحت کی سہولتوں تک رسائی، مہنگائی، بچّوں کی نگہداشت، ملازمتوں کے مواقع، خاندانی تحفّظ اور تولیدی حقوق جیسے معاملات خواتین کے انتخابی فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی طرح نوجوان ووٹرز کے لیے روزگار، تعلیم کے اخراجات، رہائش، ماحولیاتی تبدیلی، نسلی مساوات اور عالمی امن جیسے موضوعات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ امریکی انتخابی سیاست میں روایتی سیاسی وابستگیوں کے ساتھ ساتھ نئی نسل کی ترجیحات بھی اہم ہوتی جارہی ہیں۔ اگر کوئی جماعت ان مسائل کو نظر انداز کرتی ہے تو محض نظریاتی نعروں یا ماضی کی سیاسی کامیابیوں کی بنیاد پر عوامی حمایت برقرار رکھنا اس کے لیے دشوار ہوسکتا ہے۔

ان انتخابات میں ایلون مسک کی مالی معاونت کا معاملہ بھی سیاسی بحث کا اہم موضوع بن کر سامنے آیا۔ جدید امریکی سیاست میں انتخابی مہمات پر اربوں ڈالر کے اخراجات، بڑے کاروباری اداروں کی مالی معاونت، سیاسی ایکشن کمیٹیوں کی سرگرمیاں اور میڈیا تشہیر انتخابی ماحول پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ لیکن کسی امیدوار یا جماعت کی کامیابی کا فیصلہ صرف مالی وسائل نہیں کرتے۔ اگر عوام کسی سیاسی قیادت کی پالیسیوں سے ناخوش ہوں تو مہنگی تشہیری مہم بھی اس ناراضی کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتی۔

یہ صورتِ حال امریکی جمہوریت کے ایک بنیادی تضاد کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ ایک طرف جمہوریت میں ہر شہری کے ووٹ کی قدر یکساں قرار دی جاتی ہے، دوسری طرف انتخابی مہمات میں دولت مند افراد اور بڑے کاروباری مفادات کا غیر معمولی اثر و رسوخ موجود رہتا ہے۔ اس لیے انتخابی نظام میں شفافیت، سیاسی عطیات کی نگرانی اور کارپوریٹ اثرات کی تحدید جیسے مطالبات محض نظریاتی بحث نہیں بلکہ جمہوری نظام کے اعتماد اور اعتبار سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔

انتخابی شکست کے بعد صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل میں اپنی مقبولیت کا حوالہ دیتے ہوئے یہ کہنا کہ اگر امریکی انہیں صدر نہیں دیکھنا چاہتے تو وہ اسرائیل کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں، سیاسی طنز، خود اعتمادی اور داخلی ناکامی کے اعتراف کے امتزاج کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس بیان سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ ٹرمپ اپنی داخلی سیاسی مقبولیت میں کمی اور اسرائیل کے ساتھ اپنی غیر معمولی سیاسی قربت کے درمیان فرق کو خود بھی محسوس کررہے ہیں۔

تاہم کسی امریکی صدر کی سیاسی کامیابی یا ناکامی کو صرف اسرائیل کی حمایت یا مخالفت کے پیمانے سے جانچنا درست نہیں ہوگا۔ امریکی عوام کے فیصلے میں مہنگائی، روزگار، امیگریشن، صحت، تجارتی پالیسی، ٹیکس، جنگی اخراجات اور حکومتی کارکردگی سمیت متعدد عوامل شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے غزہ اور ایران کی جنگ کو انتخابی شکست کا اہم سبب ضرور سمجھا جاسکتا ہے، لیکن اسے واحد سبب قرار دینا سیاسی پیچیدگی کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا۔

سابق صدر بارک اوباما کی جانب سے ڈیموکریٹس کی کامیابی کو تبدیلی، اتحاد اور عوامی مسائل کے عملی حل کی خواہش کا اظہار قرار دینا بھی اسی سیاسی تناظر کا حصہ ہے۔ ان کا پیغام ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ انتخابی کامیابی بذاتِ خود سیاسی منزل نہیں، بلکہ عوامی توقعات پر پورا اترنے کی ذمّہ داری کا آغاز ہے۔ اگر ڈیموکریٹس اقتدار کے نئے توازن کو محض سیاسی انتقام یا جماعتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں تو وہ بھی عوامی اعتماد کھونے کے خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔

امریکی انتخابات پر چین کا محتاط ردِعمل بھی عالمی سیاست کے ایک اہم پہلو کی نشان دہی کرتا ہے۔ بیجنگ نے امریکی انتخابی نتائج کو داخلی معاملہ قرار دیتے ہوئے واشنگٹن کے ساتھ رابطوں اور اتفاقِ رائے پر عمل درآمد کی خواہش ظاہر کی ہے۔ چین کی یہ سفارتی حکمتِ عملی اس حقیقت سے مطابقت رکھتی ہے کہ امریکی داخلی سیاست میں تبدیلی کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی، تکنیکی اور سلامتی کے معاملات میں باہمی انحصار برقرار رہے گا۔

چین، روس، ایران اور دیگر عالمی و علاقائی طاقتیں امریکہ کی داخلی سیاسی تبدیلیوں کا مشاہدہ ضرور کرتی ہیں، لیکن ان کی خارجہ پالیسی کا تعین محض امریکی کانگریس کی جماعتی اکثریت سے نہیں ہوتا۔ عالمی طاقتوں کے تعلقات میں قومی مفادات، اقتصادی انحصار، دفاعی ضروریات اور جغرافیائی ترجیحات بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی سے امریکہ کی خارجہ پالیسی میں بعض تبدیلیوں کی گنجائش تو پیدا ہوسکتی ہے، لیکن کسی بنیادی اور فوری تبدیلی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

امریکی سیاست میں ایک جماعت کے اقتدار میں آنے یا دوسری جماعت کے پیچھے ہٹنے سے پالیسیوں کا لہجہ اور ترجیحات بدل سکتی ہیں، لیکن ریاستی مفادات، دفاعی اداروں، اسٹریٹجک اتحادوں اور عالمی اقتصادی نظام سے متعلق بنیادی تصورات اکثر طویل مدت تک برقرار رہتے ہیں۔ ایران کے سپریم لیڈر کا یہ مؤقف بھی اسی تاریخی عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی حکمران جماعت کی تبدیلی سے ایران کے بارے میں واشنگٹن کی بنیادی حکمتِ عملی لازماً تبدیل نہیں ہوگی۔

امریکی انتخابات اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ صرف تجارتی اعداد و شمار نہیں، بلکہ یہ عالمی سیاسی اعتماد، توانائی کی رسد، جنگی خدشات اور اقتصادی توقعات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی، جب کہ امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ میں بھی نمایاں کمی ہوئی۔

اس تبدیلی کو امریکی انتخابی نتائج اور ایران جنگ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔ تاہم تیل کی قیمتوں میں کمی کے اسباب ہمیشہ یک رخی نہیں ہوتے۔ عالمی طلب، رسد، ذخائر، اوپیک پلس کی پالیسی، امریکی توانائی پیداوار، ڈالر کی قدر اور جغرافیائی سیاسی خطرات سب مل کر قیمتوں کا تعین کرتے ہیں۔ اس لیے انتخابی نتائج کو قیمتوں میں کمی کا واحد سبب قرار دینے کے بجائے اسے عالمی منڈی کے وسیع تر تناظر میں سمجھنا زیادہ درست ہوگا۔

اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ برقرار ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی عالمی معیشت کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اگر توانائی کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات ہندوستان سمیت ترقی پذیر ممالک پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصّہ درآمد کرتا ہے، اس لیے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل، افراطِ زر، روپے کی قدر، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور عام شہریوں کے گھریلو بجٹ کو متاثر کرسکتا ہے۔ یوں واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کا اثر ممبئی، دہلی، ڈھاکہ، کراچی اور دنیا کے دیگر شہروں کے عام شہریوں تک پہنچ سکتا ہے۔

یہ سوال اس وقت عالمی سیاسی مبصرین کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کیا غزہ اور ایران کے معاملے میں امریکی پالیسی کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اس کا جواب محتاط انداز میں دینا ضروری ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول انتظامیہ کے لیے سیاسی مشکلات ضرور پیدا کرسکتا ہے، لیکن امریکہ کی خارجہ پالیسی صدر، کانگریس، قومی سلامتی کے اداروں، دفاعی اسٹیبلشمنٹ، سفارتی نظام اور اسٹریٹجک اتحادیوں کے باہمی تعلقات سے تشکیل پاتی ہے۔

ڈیموکریٹس کے اندر بھی اسرائیل، فلسطین اور ایران کے معاملے پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض ارکان اسرائیل کی سلامتی کو امریکی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو سمجھتے ہیں، جب کہ ترقی پسند ارکان فلسطینی حقوق، انسانی امداد، جنگ بندی اور اسرائیل کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد پر سخت شرائط عائد کرنے کے حامی ہیں۔ اس لیے کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود ڈیموکریٹس کے لیے یکساں اور متفقہ خارجہ پالیسی اختیار کرنا آسان نہیں ہوگا۔

البتہ ایک اہم تبدیلی یہ ہوسکتی ہے کہ اب امریکی کانگریس میں اسرائیل کی پالیسیوں، غزہ میں انسانی حقوق کی صورتِ حال اور ایران کے ساتھ جنگ کے اخراجات پر زیادہ کھلی اور مؤثر بحث ممکن ہوگی۔ انتظامیہ کو اپنے فیصلوں کا جواز پیش کرنا پڑے گا اور عوامی نمائندوں کے ذریعے جنگی پالیسیوں کی نگرانی کا دائرہ وسیع ہوسکتا ہے۔ یہی وہ عوامی دباؤ ہے جو کسی بھی طاقت ور انتظامیہ کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔

ٹرمپ کی موجودہ سیاسی مشکلات کو صرف ایک انتخابی شکست کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ یہ ان کے سیاسی طرزِ حکمرانی، عوامی بیانیے، خارجہ پالیسی اور جمہوری اداروں کے ساتھ تعلقات کا بھی امتحان ہے۔ ان کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ رہا ہے کہ وہ پیچیدہ عالمی مسائل کو اکثر طاقت، دباؤ، دھمکی اور فوری فیصلوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بین الاقوامی سیاست میں ہر مسئلے کا حل عسکری قوت سے ممکن نہیں ہوتا۔ بعض اوقات جنگیں وہ مسائل مزید پیچیدہ کر دیتی ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے شروع کیا جاتا ہے۔

ایک حکمران کی اصل دانش مندی اس میں نہیں کہ وہ کتنے ممالک کو اپنی طاقت کا احساس دلاتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ کتنے تنازعات کو جنگ کے بغیر حل کرسکتا ہے، کتنے انسانی المیوں کو روک سکتا ہے اور اپنی قوم کے وسائل کو کتنی بصیرت کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ اگر کسی حکومت کی خارجہ پالیسی داخلی معاشی مشکلات میں اضافہ کردے، عالمی سطح پر اس کی اخلاقی ساکھ کمزور کردے اور اپنے ہی عوام میں تقسیم پیدا کردے تو اس کی سیاسی کامیابی کے دعوے زیادہ دیر تک مستحکم نہیں رہ سکتے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ وسط مدتی انتخابات کی شکست ٹرمپ کی صدارت کا فوری خاتمہ نہیں، بلکہ ان کے باقی ماندہ دورِ اقتدار کے لیے ایک مشکل سیاسی مرحلے کا آغاز ہے۔ اب انہیں کانگریس میں ایک مضبوط حزبِ اختلاف کا سامنا ہوگا، جس کے باعث قانون سازی، بجٹ، تقرریوں اور خارجہ پالیسی کے بعض معاملات میں مزاحمت بڑھ سکتی ہے۔ اس صورتِ حال میں ٹرمپ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت، یک طرفہ فیصلوں کے بجائے مشاورت اور طاقت کے مظاہرے کے بجائے سیاسی حکمتِ عملی کو ترجیح دیں۔

امریکی انتخابات کے نتائج مسلم دنیا کے لیے بھی غور و فکر کا ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں۔ مسلم ممالک کو یہ سمجھنا چاہیے کہ عالمی سیاست میں محض جذباتی ردِعمل، بیانات اور وقتی سفارتی سرگرمیاں کافی نہیں ہوتیں۔ سیاسی اثر و رسوخ کے لیے مضبوط ادارے، مستحکم معیشت، علمی و سائنسی ترقی، مؤثر سفارت کاری، داخلی اتحاد اور عوامی نمائندگی ضروری ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں مسلم شہریوں کی سیاسی کامیابیاں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ منظم عوامی شرکت، مسلسل جدوجہد اور پالیسی سازی میں مؤثر شمولیت کے ذریعے بھی سیاسی تبدیلی کے امکانات پیدا کیے جاسکتے ہیں۔

مسلم دنیا کو فلسطین کے مسئلے پر اپنے اخلاقی اور اصولی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسی حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے جو انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون، سفارتی جدوجہد اور عالمی رائے عامہ کو مؤثر انداز میں یکجا کرسکے۔ غزہ کے مظلوم عوام کی حمایت صرف جذباتی وابستگی کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ انصاف، انسانی وقار اور عالمی قانون کی بالادستی کا سوال ہے۔ اس لیے مسلم ممالک کو محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے انسانی امداد، تعمیرِ نو، سفارتی دباؤ، قانونی کارروائیوں اور عالمی اداروں میں مؤثر نمائندگی کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ امریکی انتخابات میں مسلم امیدواروں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی شعور، اجتماعی تنظیم اور عوامی شرکت کے ذریعے اقلیتی برادریاں بھی قومی پالیسیوں پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ تاہم اس کے لیے تعلیم، سیاسی بصیرت، سماجی اتحاد اور طویل مدتی منصوبہ بندی بنیادی شرائط ہیں۔

2026ء کے امریکی وسط مدتی انتخابات نے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ جمہوری معاشروں میں اقتدار کی اصل بنیاد عوامی اعتماد ہے۔ کوئی حکمران اپنی عسکری قوت، اقتصادی برتری، عالمی اتحادوں اور سیاسی تشہیر کے باوجود عوامی احتساب سے ہمیشہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔ ٹرمپ کی سیاسی مشکلات اس امر کی نشان دہی کرتی ہیں کہ عالمی سطح پر طاقت کے استعمال اور داخلی سطح پر عوامی ضروریات کو نظر انداز کرنے کے درمیان ایک ایسا فاصلہ پیدا ہوسکتا ہے جو بالآخر انتخابی نتائج میں ظاہر ہوتا ہے۔

غزہ کی تباہی، ایران کے ساتھ جنگ، توانائی کی عالمی منڈی میں بے یقینی، مہنگائی اور عوامی معاشی مسائل نے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اس بحث کا بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنی عالمی قیادت کو صرف فوجی طاقت اور اسٹریٹجک مفادات کے ذریعے برقرار رکھ سکتا ہے، یا اسے انسانی حقوق، بین الاقوامی انصاف، سفارتی دانش مندی اور داخلی فلاح کو بھی اپنی خارجہ پالیسی کا لازمی حصّہ بنانا ہوگا؟ ٹرمپ کے لیے یہ نتائج ایک سیاسی انتباہ ہیں، ڈیموکریٹس کے لیے عوامی اعتماد کی بحالی کا امتحان، مسلم امریکی شہریوں کے لیے سیاسی نمائندگی کے ایک نئے باب کا آغاز اور مسلم دنیا کے لیے منظم سیاسی شرکت و مؤثر سفارت کاری کا ایک اہم سبق ہیں۔

تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ صرف فاتحین کی طاقت سے نہیں ہوتا، بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اقتدار عارضی ہے، سیاسی جماعتیں بدلتی رہتی ہیں، حکومتیں آتی اور جاتی ہیں، لیکن انسانی جان، انصاف، آزادی اور قومی خودمختاری کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔ جو قیادت ان اصولوں کو نظر انداز کرتی ہے، اسے بالآخر اپنے ہی معاشرے کے اندر سوالات اور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ٹرمپ کی سیاست کا موجودہ مرحلہ اسی بنیادی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کو طاقت کے بل پر چلانے کی خواہش رکھنے والے حکمرانوں کے لیے بھی اپنے عوام کی آواز کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ غزہ کے مظلوموں کی آہیں، ایران کے ساتھ جنگ کے معاشی اثرات اور امریکی عوام کی داخلی بے چینی نے مل کر واشنگٹن کی سیاست میں ایک نئی صورتِ حال پیدا کردی ہے۔ یہ صورتِ حال مستقبل میں امریکی خارجہ پالیسی کے لیے کس قدر تبدیلی کا باعث بنے گی، اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا؛ تاہم ایک حقیقت واضح ہے: دنیا میں طاقت کا غرور وقتی ہوسکتا ہے، مگر عوامی احتساب اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔
🗓️ (11.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے