عبدل امریکا میں سینیٹر بن گیا

عبدل امریکا میں سینیٹر بن گیا

عبدل امریکا میں سینیٹر بن گیا

ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی

حقیقی جمہوریت میں جب تمام طبقات کو برابری کا موقع ملتا ہے تو کامیابی کی سیڑھی کوئی بھی چڑھ سکتا ہے، اور امریکا اس کی بہترین مثال ہے۔ وہاں افریقی اور بھارتی نژاد لوگوں نے بھی انتخابات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس بار کامیاب ہونے والے مسلم امیدواروں کی تفصیل کچھ یوں ہے
ایک گنتی کے مطابق کم از کم 36 مسلم امریکی یا تو جیت چکے ہیں یا آگے چل رہے ہیں۔ ان میں سے آٹھ کی جیت پکی ہو چکی ہے: ایک سینیٹ میں اور سات ایوانِ نمائندگان میں۔ مزید 26 ریاستی اسمبلیوں کی دوڑ میں جیتے ہیں یا سبقت لیے ہوئے ہیں (بحوالہ اُمید)۔
ایوانِ نمائندگان کے فاتحین میں الہان عمر، رشیدہ طلیب، لطیفہ سائمن اور آندرے کارسن شامل ہیں، جو اپنی نشستیں بچانے میں کامیاب رہے۔ سینیٹ کی واحد مسلم فاتح عبدالسید ہیں، جو امریکی سینیٹ کے پہلے منتخب مسلم رکن ہیں۔ حیدرآباد نژاد نبیلہ سید نے بھی ایلی نوائے کی ریاستی سینیٹ کی نشست جیت لی ہے۔
ڈیموکریٹ امیدوار عبدالسید نے مشی گن کے سینیٹ انتخاب میں ریپبلکن حریف مائیک راجرز کو شکست دے دی ہے۔ وہ مشی گن کی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بننے جا رہے ہیں۔ یہ نشست گیری پیٹرز کی ریٹائرمنٹ سے خالی ہوئی تھی۔ ریپبلکنز کے لیے یہ اپنی اکثریت بڑھانے کا موقع تھا، جبکہ ڈیموکریٹس کے لیے اسے بچانا ناگزیر تھا۔
عبدالسید کا سیاسی سفر کانٹوں بھرا رہا۔ اگست کی پرائمری میں انہوں نے چار بار کی رکنِ کانگریس ہیلی اسٹیونز کو تقریباً پندرہ ہزار ووٹوں سے ہرایا۔ ان کی مہم تین بنیادی باتوں پر کھڑی تھی: سیاست سے پیسے کا اثر ختم کرنا، معاشی ریلیف، اور سب کے لیے سرکاری طبی (ہیلتھ) بیمہ۔ سیاسی مخالفین کی طرف سے 7 کروڑ ڈالر خرچ کیے جانے کے باوجود عوام کی طاقت پیسے پر غالب آئی۔
ان کی شخصیت کی سب سے نمایاں خوبی ان کی اعلیٰ تعلیم ہے۔ مصری نژاد والدین کے بیٹے عبدالسید نے 2007 میں یونیورسٹی آف مشی گن سے حیاتیات (Biology) اور سیاسیات میں گریجویشن کیا۔ میڈیکل کے دوسرے سال میں انہیں رہوڈز اسکالرشپ ملی اور انہوں نے آکسفورڈ کے اوریل کالج سے 2011 میں پبلک ہیلتھ میں ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ پھر 2014 میں کولمبیا یونیورسٹی سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اسی سال وہ کولمبیا کے میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ میں اسسٹنٹ پروفیسر بنے، اور بعد میں ڈیٹرائٹ کے ہیلتھ ڈائریکٹر کی حیثیت سے عوامی خدمت انجام دی۔ ڈاکٹر سے سینیٹر بننے کا یہ سفر امریکا اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے سیاسی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم سنگِ میل اور باعثِ فخر ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے