آر ایس ایس کی شریعت میں اختلاف گناہ عظیم اور تائید و حمایت کارِثواب ہے۔ اسی لیے مذہبی اعتبار سے پہلی صف میں براجمان شنکراچاریہ سوامی اوی مکتیشورانند پر بی جے پی کی تنقید کے جواب میں آشرم کے بچوں سے جنسی بدسلوکی کا الزام لگا دیا جاتاہے ۔ اس کے برعکس سرکار کی تائید کرنے والا باگیشور دھام کےدھریندر کرشن شاستری کے ذریعہ ہندو دیوتاوں کی توہین کرکے سماج کو منقسم کرنے کی سعی کو نظر انداز کردیا جاتاہے ۔ مدھیہ پردیش میں رام کتھا کے دوران شری کرشنا اور رام کا موازنہ کرتے ہوئے باگیشور بابا کے متنازر تبصرےسے ڈبل انجن سرکار کی ناک کے نیچے بھی ہندووں کے جذبات کوایسی ٹھیس نہیں پہنچتی کہ وہ سڑکوں پر اتریں کیونکہ یہ حرکت ان کے اپنے آدمی کی ہے ۔ اس تنازع کا خاص پہلو یہ ہے کہ ایودھیا کی چندہ چوری کے بعد جس کرشنا جنم بھومی کا مسئلہ اٹھا کر یوگی بابا عوام کی توجہ اپنی لوٹ مار سے ہٹانا چاہتے تھے اسی کرشنا کی یوگیشور بابا نے کھلم کھلا توہین کردی ۔ یوگی جس ہندو سماج کو بنٹوگے تو کٹو گے کا درس دے رہے تھے اسی کو باگیشور نے تقسیم کردیا اور سارا کھیل ہندو بنام مسلم سے رام بنام کرشن ہوگیا۔ شیوپوری میں رام کتھا کے دوران دھریندر شاستری نے شری رام کی تعریف کرتے ہوئے کرشنا کے بارے میں طنزیہ اور مزاحیہ انداز میں کہہ دیا "ہمارے رام سیدھے ہیں، تمہارے کرشنا ٹیڑھے ہیں”۔ یہ’ ہمارے اور تمہارے ‘ کی تفریق سماج کو تقسیم کرنا نہیں ہے تو کیا ہے؟
دھریندر شاستری نے کرشنا کی روایتی مورتیاں اور تصاویر کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ "تمہارے ٹھاکر جی (کرشنا) کا سر بھی ٹیڑھا ہے، نام بھی ٹیڑھا ہے، اور وہ کھڑے بھی ٹیڑھے ہوتے ہیں”۔ یہ بانسری بجاتے ہوئے تین جگہ سے جھکی ہوئی پوزیشن ‘تری بھنگا مدرا’ میں کرشنا کی روایتی کیفیت کا اشارہ تو ہے مگر اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ اس پر تمسخر کیا جائے۔دھیریندر نےرام کی ایودھیا کو سیدھا اورکرشن کے ورداون کو بھی ٹیڑھا کہہ دیا۔ یہاں تک کہ اسٹیج پر موجود ایک بانسری نواز کی طرف اشارہ کرکے گاتے ہوئے کہاکہ "بانسری بجانا تو ایک کھیل (معمولی بات) ہے، دھنش (کمان) چلانا کھیل نہیں ہے۔ بانسری بجانا کوئی بڑی بات نہیں، یہاں اسٹیج پر بھی ایک شخص بانسری بجا رہا ہے”۔ دھریندر شاستری کے مطابق کرشنا کی طرح گائے تو کوئی بھی چرا سکتا ہے مگررام نے بندروں کو نچایا جو مشکل کام تھا۔ وہ آگے بڑھ کر کرشنا کے گووردھن پہاڑ اٹھانے کا موازنہ رام کے بھکت ہنومان سے کرکے کہتے ہیں کہ (رام کے بھگت) ہنومان کا پورا پہاڑ اٹھا لانا افضل و ارفع کارنامہ تھا ۔ اس طرح گویا کرشن کو رام کے بھگت سے بھی ہلکا کرکے پیش کردیا گیا۔
ہندو مذہب کے معروف صحیفوں مثلاً رامائن اور مہابھارت میں گوشت خوری کے حوالےملتے ہیں۔ مہابھارت کے وانا پروا میں راجہ رنتی دیو کے باورچی خانے میں روزانہ دو ہزار گایوں کا ذبح کا ذکر ملتاہے۔انہوں نے براہمنوں کو اناج کے ساتھ بیف تقسیم کرکے بے مثال شہرت حاصل کی۔(مہابھارت باب 3؍اشلوک 207)۔ رامائن میں بھی جمنا پار کرتے ہوئے سیتا کہتی ہیں کہ جب ان کے شوہر اپنا عہد پورا کریں گے تو وہ دریا کو ہزار گایوں اور سو شراب کے مرتبانوں سے پوجے گی۔ (رامائن، کتاب 2 کینٹو 55) لیکن آج کل گائے کے نام بے قصور لوگوں کا ہجومی تشدد میں قتل کردیا جاتا ہے۔ مذکورہ بالاویڈیو پر ہندوتوا نواز تو خاموش رہے مگر ان کے مخالفین کی جانب سے شدید عوامی اور سیاسی ردِعمل ظاہر ہوا ۔ اس پہلی مخالفت تو متھرا، ورنداون بلکہ ایودھیا کے کرشنا کے عقیدت مند ہندو سنتوں نے بھی کیا کیونکہ ان میں شدید غصہ پھیل گیا۔ ان سنتوں کا کہنا تھا کہ رام اور کرشنا کے درمیان اس طرح کا منفی موازنہ کرنا اور کرشنا کا مذاق اڑانا کروڑوں عقیدت مندوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
کرشنا جنم بھومی پر اچھل کود کرنے والی بی جے پی کے اندر تو سناٹا چھا یا رہا مگر سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے سخت اعتراض کیا کیونکہ پورا یادو سماج بنیادی طور پر کرشناکا بھگت اور بنیادی طور پر مویشی چرانے والا ہے۔ اکھلیش نے دھریندر شاستری کے پروگراموں پر پابندی عائد کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرکے سنگھ پریوار کی خاطر دھرم سنکٹ کھڑا کردیا کیونکہ اب وہ نہ تائید کرسکتا ہے اور نہ مخالفت۔ اکھلیش یادو نے اسے سناتن سماج کو تقسیم کرنے کی سازش قرار دیا اور گوالیار میں تو یادو برادری کی تنظیموں نے شاستری کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر درج کرانے کے لیے درخواست کردی۔ اس طرح سماج کو ہندو اور مسلمانوں میں بانٹ کر سیاسی روٹیاں سینکنے والے خود ایک دوسرے سے دست و گریباں ہوگئے ۔ اس کے بعد دھریندر شاستری نے معذرت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’ان کا مقصد کسی کی توہین کرنا نہیں تھا، بلکہ وہ عقیدت کے ایک روایتی گیت کی تشریح کر رہے تھے۔ اس معذرت نامہ پر غالب کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
کی مرے قتل کے بعد اس نے وفا سے توبہ ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا
زعفرانی تحفظ میں باگیشور دھام کے دھیریندر شاستری شری رام سے متعلق یہ کہہ چکے ہیں کہ ان پانچ باپ تھے اور اس پر سوشل میڈیا پر کافی تنازع ہوا تھا۔ آگے چل کر اپنے بیان کی وضاحت میں انہوں نے کہا تھا کہ راجہ دشرتھ تو حقیقی اور حیاتیاتی والد تھے مگر چونکہ اگنی دیوتاکی دی ہوئی کھیر کھانے کے بعد ہی رانیوں کے ہاں بیٹوں کی پیدائش ہوئی تھی اس لیے ان کو باپ کا درجہ حاصل تھا ۔ ایک جنگ کے دوران چونکہ جٹایو نامی پرندے نے راجہ دشرتھ کی جان بچائی تھی۔ اس پر دشرتھ نے انہیں اپنے بڑے بیٹے (رام) پر حق دینے کا وعدہ کیا تھا۔ دشرتھ کی وفات پر رام نے ان کی آخری رسومات ادا نہیں کی تھیں، لیکن جٹایو کی موت پر انہوں نے ایک بیٹے کی طرح ان کا انتم سنسکار کیا تھا۔ راجہ دشرتھ نے رام اور لکشمن کومہا رشی وشوامتر کے ساتھ بھیجتے وقت انہیں والد کے برابر حقوق سونپے تھےاور سیتا کے والد (سسر) ہونے کے ناطے والد کی مانند تسلیم کیے گئے۔ اس منطقی وضاحت کے باوجود اکھلیش یادو سمیت کئی سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے اس بیان کی شدید مذمت کی تھی اور اسے سناتن دھرم کی توہین قرار دیا تھا ۔
سنگھ پریوار کا مسئلہ یہ ہے کہ مغرب سے مرعوب ہو کر وہ یک زوجگی کی وکالت اور اسلامی شریعت کی مخالفت کرتا ہے مگر رامائن کے مطابق، راجہ دشرتھ کی تین مشہور رانیاں تھیں۔ان میں کوشلیا شری رام کی والدہ اور سومترا جڑواں بیٹوں لکشمن اور شتروگھن کی ماں تھی۔ کیکئی نے بھرت کو جنم دیا تھا ۔ تاہم، ہندوستانی روایات اور رامائن کے مطابق راجہ دشرتھ کے محلات میں ان کے علاوہ بھی کئی رانیاں تھیں، لیکن اولاد انہی تین ہوئی تھی۔ ایسے میں خودکو رام بھگت کہہ کر شادی بیاہ سے پرہیز کرنا اور دوسروں پر صرف ایک بیوی رکھنے کی پابندی لگانا بدترین منافقت نہیں تو کیا ہے؟ گزشتہ انتخابی مہم کے دوران جب مودی جی نے خود اپنے آپ کو غیر حیاتیاتی کہا تو ایک تنازع پیدا ہوگیا مگررامائن کے مطابق، ماتا سیتا کی پیدائش ماں کے بطن (پیٹ) سے نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ زمین سے ظاہر ہوئی تھیں۔والمیکی نے رامائن میں لکھا ہے کہ شدید قحط کے زمانے میں راجہ جنک یگیہ کے طور پر کھیت میں ہل چلا رہے تھے کہ ان کا ہل زمین میں گڑے ہوئے ایک صندوق سے ٹکرایا۔ انہوں نے اسے کھولا، تو اس کے اندر ایک انتہائی خوبصورت نوزائیدہ بچی (سیتا)موجود تھی۔
اس تناظر میں جب روبیکا لیاقت کو وزیر اعظم مودی کہتے ہیں کہ ’پہلے جب تک ماں زندہ تھی تو مجھے لگتا تھا کہ شاید بائیولوجیکلی مجھے جنم دیا گیا۔ ماں کے جانے کے بعد ان سارے تجربات کو جوڑ کر میں دیکھتا ہوں تو مجھے یقین ہو چلا ہے، غلط ہو سکتا ہوں، لوگ تنقید کریں، میرے بال نوچ لیں لیکن میں قائل ہو چکا ہوں کہ پرماتما نے مجھے بھیجا ہے، یہ توانائی بائیولوجیکل جسم سے نہیں ملی۔ ایشور نے مجھ سے کوئی کام لینا ہے، اس لیے مجھےصلاحیت، طاقت بھی دی۔‘ تو اندھ بھگت یقین کرلیتے ہیں۔ وہ تو خیر چار سو پار کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا ورنہ تو موصوف خدائی کا دعویٰ کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ وزیر اعظم نےمزید کہا تھا کہ ’اور اس لیے میں جب بھی کچھ کرتا ہوں تو مانتا ہوں کہ شاید ایشور مجھ سے کروانا چاہتا ہے‘۔اس دعویٰ کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ ابتدا میں تو وہ خود کوپردھان سیوک ( خدمت گار) کہتے تھے۔ قوم کے خادم کی حیثیت سے تو ان سے سوال پوچھا جا سکتا ہے لیکن اب اگر وہ کہہ دیں کہ یہ کام ان سے ایشور کرا رہا ہے تو جوابدہی ازخود ختم ہوگئی۔ مودی جی کےاس بیان پر ہنسی آتی ہے کہ ’’میں اس ایشور کو دیکھ نہیں سکتا، سو میں بھی ایک پجاری ہوں۔ میں بھی ایک بھکت ہوں، تو میں 140 کروڑ ملک کے باشندوں کو ایشور کا روپ مان کر چلتا ہوں، وہی میرے بھگوان ہیں‘‘۔ اگر ایسا ہے تو وہ گیانینش کمار کے ذریعہ 140 میں 13 کروڈ کا نام انتخابی فہرست میں سے کیوں نکلوا رہے ہیں؟ کیا اب انہیں اپنے معبودان باطل سے ڈر لگنے لگا ہے؟