رام لیلامیدان کے بعداپوزیشن کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

رام لیلامیدان کے بعداپوزیشن کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

رام لیلامیدان کے بعداپوزیشن کا اگلا قدم کیا ہوگا؟

سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186

یکم نومبر کودہلی کے رام لیلا گراؤنڈ میں قائد اپوزیشن لوک سبھا راہل گاندھی نے کہا کہ گیانیش کمار کوچیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سے علیحدہ کردیا جائے گااور انہیں جیل بھیجا جائے گا،انھوں نے الزام عائد کیا کہ 2024 کے لوگ سبھا انتخابات میں ووٹوں کی چوری ہوئی ہے،یہ کام الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور ووٹرلسٹ میں الٹ پھیر کےذریعے کیا گیا ہے،دہلی کے رام لیلا میدان پر انڈیا اتحاد کی تاریخی ریلی کے بعدمنعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ووٹوں کی چوری معمولی چوری نہیں ہے،یہ ہندوستان کی ہرآواز کی چوری ہے اور اسی کو غداری کہاجاتا ہے،انہوں نے کہا کہ گیانیش کمار کے بغیرنریندرمودی وزیراعظم نہیں بن سکتے تھے اور نہ ہی امت شاہ وزیر داخلہ بن سکتے تھے،گزشتہ لوک سبھا انتخابات غیر قانونی تھے،2024 میں ووٹ چوری ہوئی،ای وی ایمس کے ذریعے اور ووٹر لسٹ میں الٹ پھیر کے ذریعے یہ چوری کی گئی۔2024 کے پارلیمانی انتخابات کے بعد 15فیصد ووٹوں کو حذف کردیا گیا،2024 میں انڈیا اتحاد اور این ڈی اے کے درمیان ووٹوں کا فرق صرف تین فیصد رہ گیا تھا۔2024 انتخابات غیر قانونی تھے،انہوں نے کہا کہ خود الیکشن کمیشن کا ڈاٹا یہ بات بتارہا ہے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ آئندہ وقتوں میں درست ثابت ہوتا ہے،اس سلسلے میں انہوں نے کرونا وائرس وباء کی مثال بھی دی،انہوں نے کہا کہ وہ آج ملک کے ہرشہری اورہر نوجوان سے کہہ رہے ہیں کہ گیانیش کمار کوچیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا اور انہیں جیل بھیجا جائے گا۔انہوں نے بی جے پی کی نظریہ ساز آر ایس ایس پرشدیدتنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک کے سارے اداروں پر قبضہ کررہی ہے،چاہے وہ تعلیم ہو یا پھر تحقیقاتی ایجنسیاں ہوں،اسی وجہ سے کسان مزدور اورنوجوانوں کو ان کا حق نہیں مل رہا ہے،انہوں نے ہندو مذہبی عقائد کے مطابق ہندوستان کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ شیواجی کی بارات میں ہر کوئی شامل ہوسکتا ہے کسی کو روکا نہیں جائے گا،ہم ایسا ہی ہندوستان چاہتے ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم جمہوریت کوختم ہونے نہیں دیں گے،ہم دستور کو تباہ وبرباد ہونے نہیں دیں گے،آپ کے پاس چاہے جتنا بھی پیسہ ہو،آپ دستور سے بڑے ہرگزنہیں ہیں،دستور آپ سے بہت بڑا ہے،انہوں نے بی جے پی پر انتخابی عمل اور اداروں پر غلبہ رکھنے کے لیے پیسے کے استعمال کا بھی الزام عائد کیا۔اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مودی،امیت شاہ اورمسٹر گیانیش کمار پر ووٹ چوری کر کے جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ ووٹ چوری کرنے والے کسی حال میں بچ نہیں سکتے اور ان کے خلاف سخت کاروائی ہوگی نیز انہیں سزا ملے گی،انہوں نے الزام لگایا کہ مدھیہ پردیش،ہریانہ،چھتیس گڑھ اور مہاراشٹر سمیت کئی ریاستوں کے انتخابات میں ووٹ چوری ہوئی ہے،قائد اپوزیشن نے کہا کہ مودی حکومت نے سی بی آئی،ای ڈی،عدلیہ اور بیوروکریسی جیسے اداروں پر قبضہ کرلیا ہے،جس سے غریبوں، کسانوں،مزدوروں اورنوجوانوں کو ان کا حق نہیں مل رہا ہے جبکہ صنعت کاروں کو پورا پورا فائدہ پہنچایا جارہا ہے۔
اپوزیشن انڈیا اتحاد کے دیگر قائدین نے ووٹ بچاؤ دیش بچاؤ ریلی میں وزیراعظم نریندرمودی پر ووٹ چوری کے ذریعے جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بی جے پی حکومت کو اقتدار سے ہٹائے بغیر جمہوریت کی حفاظت نہیں کی جا سکتی،اتحاد کے قائدین نے الزام لگایا کہ ووٹ چوری کے لیے نریندرمودی،وزیر داخلہ امت شاہ اورچیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار ذمہ دار ہیں،ملک کی جمہوریت کو ووٹ چوری کر کے برباد کرنے کے ذمہ دار لوگوں کو بخشا نہیں جائے گا اور ان کے خلاف کاروائی کر کے سخت سزا دی جائے گی،انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا خاتمہ طے ہے اور رام لیلا میدان میں جمع بھیر بی جے پی حکومت کے زوال کا واضح اشارہ دے رہی ہے،ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے وزیراعظم پر دلتوں،خواتین اورقبائلیوں کے ووٹ کٹوانے کا الزام لگایا اور کہا کہ وزیراعظم نے اپنے ایک پیادے کوچیف الیکشن کمشنر کی کرسی پربٹھا کرعوام کے ووٹ کٹوائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انڈیا اتحاد گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے متحد ہوا ہے اور جب تک انہیں ہٹایا نہیں جاتا تب تک یہ جدوجہد جاری رہے گی،انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت پانچ ایجنسیوں کا استعمال کرکے اپوزیشن کو ڈرانے اور اس میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں ڈرنے والی نہیں ہیں،انہوں نے کہا کہ مودی کوجانا ہوگا تبھی جمہوریت بچے گی اور بی جے پی حکومتوں کو ہٹانے کےلئے ہم سبھی کو متحد ہو کرلڑنا ہوگا۔سماجوادی پارٹی صدر اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ اتر پردیش میں ایک کروڑ 27 لاکھ ووٹر کے نام کاٹے گئے اورسماج وادی حامی ووٹروں کے نام چن چن کر ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن سے شکایت کی گئی لیکن کوئی کاروائی نہیں ہوئی،ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی کو معلوم ہے کہ عوام اسے ووٹ نہیں دیں گے اس لیے اس نے ووٹ چوری کے لیے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہتھیار بنایا ہے،انہوں نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھی دھاندلی کا الزام لگایا،مسٹر یادو نے کہا کہ رام لیلا میدان میں جمع آج کی بھیڑ تبدیلی کا اشارہ ہے اور یہ میدان سیاسی تبدیلی کی ہلدی گھاٹی بنے گا،انہوں نے کہا کہ بی جے پی اتر پردیش سے ہی اقتدار میں آئی تھی اور اب جلد ہی اتر پردیش سے ہی اس کے اقتدار کا خاتمہ ہونے جارہا ہے،ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے کہا کہ ان کی پارٹی ایس آئی آر سے متاثر ہے لیکن وہ ڈرنے والی نہیں ہے اور اپنی لڑائی جاری رکھیں گی،انہوں نے چیف الیکشن کمشنر پر ووٹوں کے مینجمنٹ کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ الیکشن میں ہاری نہیں تھی بلکہ انہیں ہرایا گیا تھا انہوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے بھی جمہوریت کو لوٹنے کا الزام لگایا،انہوں نے تمام طبقات کے عوام سے بی جے پی کو ہٹانے اورمتحد ہونے کی اپیل کی،راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر تجسوی یادو نے مہا بھارت کے شکونی کے پاسوں کی مثال دے کر انتخابی عمل پر سوال اٹھائے،انہوں نے کہا کہ شکونی کے پاس اسی سمت میں گرتے تھے جہاں وہ چاہتا تھا،انہوں نے اس مثال کے ذریعے انتخابی عمل میں گڑبڑی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اقتدار میں برقرار رہنے أئینی اداروں کو ختم کیا جارہا ہے،نیشنل کانفرنس کے لیڈر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بی جے پی اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے لوگ مسلمانوں پر انگلی اٹھاتے ہیں جبکہ ملک کے مسلمان اسی مٹی کا حصہ ہیں اور اسی ملک کے لیے ہیں،انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایس آئی آر کے ذریعے کروڑوں ہندوؤں کے نام بھی ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ہیں تو کیا وہ بھی پاکستانی ہیں؟انہوں نے کہا کہ آئین ہندتمام شہریوں کو برابر مانتا ہے۔عوام کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر کے بی جے پی کو ہٹانے اور ملک کو بچانے کےلئے آگے آنا چاہئے،پی ڈی پی کی لیڈر محبوبہ مفتی نے چندے سے جڑے مسائل اٹھا کر بی جے پی پرسخت تنقید کی،انہوں نے کہا کہ جن لوگوں پر چندے کی چوری کے الزامات ہیں ان کی نیت پرسوال اٹھنا فطری ہے،انڈیا اتحاد کے لیڈروں نے ووٹر لسٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کو جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ یہاں کی سیاست ان دنوں دو سیاسی گروپ میں تقسیم ہو چکی ہے،ایک گروپ بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے اتحاد کا حصہ ہے جبکہ دوسرا گروپ کانگریس کے ساتھ انڈیا اتحاد کا حصہ بنا ہوا ہے،اگلے سال یعنی 2027 میں پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں جن میں ملک کی سیاسی سمت طے کرنے والی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش بھی شامل ہے،اس لیے یہ کہنا بے جا نہیں ہے کہ اپوزیشن پارٹیاں اسوقت اپنی بقا کی جنگ لڑرہی ہیں۔انڈیا اتحاد اپنے قیام کے بعد سے ہی مسلسل دھکے کھارہا ہے یا حکومت نے اپنے تمام حربے استعمال کرکے اسےکمزور بنادیا ہے اورشاید اسی لئے وہ مسلسل شکست کا سامناکررہاہے،پہلے نتیش کمار نے انڈیا اتحاد کا ساتھ چھوڑا پھرچندرا بابو نائیڈو این ڈی اے کے ساتھ ہو گئے،بنگال میں ممتا بنرجی کی شکست نے اس اتحاد کو مزید کمزور کردیا،ایسے میں انڈین ایکسپریس میں آنے والی ایک خبر نے اس اتحاد کو نہ صرف عوام کے درمیان جانے کا ایک اہم موقع فراہم کیا بلکہ اس کی بنیادیں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور دکھائی دینے لگی ہیں،عام آدمی پارٹی کی شکل میں ایسی پارٹیاں بھی ہیں جن کا کسی گروپ سے کوئی تعلق نہیں ہے تاہم ان کا ملک کی سطح پر اتنا اثر و رسوخ بھی نہیں ہے،دارالحکومت دہلی کے رام لیلا میدان میں کانگریس پارٹی کی قیادت میں اپوزیشن کی تمام جماعتوں نے ایک بڑی اور تاریخی ریلی منعقد کرنے میں کامیاب ہوگئی،چیف الیکشن کمیشن گیانیش کمار کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے مطالبے کے ساتھ کی جارہی ہے یہ احتجاجی ریلی،اس میں سبھی اپوزیشن جماعتوں کے قائدین اور ملک کی مختلف ریاستوں سے یہاں بڑی تعداد میں آنے والے ان کے حامیوں نے شرکت کی،یہ ریلی صرف ایک احتجاجی اجتماع نہیں تھا بلکہ اسے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھا جارہا ہے،اس ریلی سے اپوزیشن کی صفوں میں جو جوش وخروش اور اتحاد نظرآیا اور عوامی سطح پرحکومت کے خلاف اس کے تمام حربوں کے باوجود جو عوامی رائے محسوس کی گئی،اس نے حکمراں خیمے میں کھلبلی مچادی ہے،یہی وجہ ہے کہ رام لیلا میدان کے احتجاجی ریالی سے بی جے پی بوکھلاہٹ کا شکار ہونے لگی ہے،بی جے پی خود دو تہائی اکثریت کے دعوے کر رہی ہے لیکن ایک چھوٹی سی چھوٹی جماعت اور چھوٹے سے چھوٹے لیڈر کو بھی اپنے ساتھ ملاتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی ہے۔ملک میں ووٹرفہرست کی نظر ثانی کا عمل جون میں بہار سے شروع ہوا تھا،جیسے جیسے یہ عمل شروع ہوا حزب اختلاف کی جماعتوں اور کئی سرکردہ ماہرین نے اس عمل میں سنگین بے ضابطگیوں اور کروڑوں ووٹروں کے نام ووٹرلسٹ سے خارج کرنے کا الزام عائد کیا تھا،حکمراں بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے عمل کا دفاع کیا،الیکشن کمیشن کے استعفی کا مطالبہ کیا گیا،اس کے خلاف تحریک چلی، کاکروچ پارٹی اورطلبہ تنظیموں کی شرکت سے یہ تحریک مزید شدت اختیار کر گئی،راہل گاندھی کے سڑک پر اترنے اور احتجاج کی قیادت کرنے سے کانگریس کے کارکنوں میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا ہو گیا ہے،انہوں نے ایک طویل عرصے سے سڑک پر اپنے رہنماؤں کومظاہرے،احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے اورپولیس کے بیریکیڈ پارکرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا،تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس تحریک کو طاقت جنتر منتر پر کاکروچ پارٹی کے مظاہرے سے ملی ہے اور سی جے پی نے تحریک کی نوعیت ہی بدل دی ہے،بنگال میں شکست کے بعدممتا بنرجی کمزور پڑ چکی ہیں اور اب وہ بھی راہل گاندھی کی قیادت کو تسلیم کررہی ہیں،یہ حقیقت ہے کہ تحریک ایک خاص وقت تک چل سکتی ہے لیکن راہل گاندھی اس تحریک سے آگے کی حکمت عملی پر کام کررہے ہیں،انہوں نے رام لیلا میدان کی ریلی کو طاقت کا مظاہرے میں بدل دیا ہے،اس سے راہل کی قیادت میں اپوزیشن کے اتحاد کا مظاہرہ تو ہو ہی رہا ہے،آگے کی سیاسی لڑائی کی تیاری بھی ہو رہی ہے،اب اپوزیشن صرف گیانیش کمار کے استعفے کا ہی مطالبہ نہیں کررہی ہے بلکہ اب وہ ایس آئی آر رد کرنے،گیانیش کمار کے خلاف مقدمہ دائر کرنے اور 2023 کے آئینی ترمیم کو مسترد کرنے کی بھی مانگ کررہی ہیں جس کے تحت چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی اور جس کے تحت انہیں تمام قانونی کاروائیوں سے مستثنی کردیا گیا تھا،تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رام لیلا میدان کے پروگرام سے ایک دن پہلے سڑک پر ماک پارلیمنٹ کا انعقاد اورفرضی مواخذے کے بعد اس ریلی سے اپوزیشن کے حوصلے اورمضبوط ہوں گے اور مودی حکومت کی پریشانی مزید بڑھیں گی لیکن اپوزیشن اتحاد بی جے پی کی حکومت کو سیاسی طور پرنقصان پہنچانے میں صرف اس حالت میں کامیاب ہوسکتا ہے جب وہ نظر ثانی شدہ ووٹرفہرست کو مستندحد تک صحیح کرانے میں کامیاب ہوجائے،آئندہ جنوری اور مارچ میں پنجاب،اتراکھنڈ اور یو پی جیسی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائے،ماہرین کے مطابق یہ ریاستی انتخابات اپوزیشن اور بی جے پی دونوں کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے،اس مرحلے پرفی الحال بی جے پی دباؤ میں نظر آرہی ہے،تمام تر حربوں اور ہتکنڈوں کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی کے داخلی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے،وہ بلند بانگ دعوے تو کررہی ہے تاکہ عوام میں ساکھ برقرار رکھ سکے لیکن بھگوا پارٹی بوکھلاہٹ کا شکاربھی ہوتی نظر آرہی ہے،2018 میں گجرات میں جس طرح اب کی بار 150 پار کا نعرہ دیا گیا تھا لیکن پارٹی سو کا ہندسہ بھی پارنہیں سکی تھی،یہی صورتحال پارلیمانی انتخابات میں بھی ہو سکتی ہے،بی جے پی اسی صورتحال سے بچنے کے لیے بوکھلاہٹ میں اپوزیشن لیڈروں کے خلاف کارروائیوں پر انحصار کررہی ہے لیکن اس کے باوجود جو قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ان کے مطابق پارٹی اپنے دعوؤں کے کھوکھلے پن سے خود واقف ہے۔
13 کروڑ سے زائد لوگوں کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کرکے انھیں ووٹنگ کے حق سے محروم کردیاگیاہے ایسے میں سوال یہ ہے کہ اپوزیشن بلاک نے سڑک پرماک پارلیمنٹ اورعوامی مواخذے کی تحریک چلاکر،2024 کے عام انتخابات کو غیرقانونی کہہ کر جمہوریت اور دستور بچانے کی اپیل کردی ہے تو پھر آگے کا راستہ کیا ہوگا؟ کیا اپوزیشن پارٹیاں آنے والے دنوں میں ریاستی الیکشن میں عوام سے ووٹ نہ دینے،ووٹنگ کا بائیکاٹ کرنے اور خود پارلیمنٹ سیشن کا بائیکاٹ کرے گی؟ کیا مہاتما گاندھی کی طرح سول نافرمانی کی تحریک چلائے گی؟ گاندھی جی نے نمک ستیہ گرہ (Salt Satyagraha) اور مشہور ڈانڈی مارچ (Dandi March) کے ذریعے کیا،مارچ 1930 میں گاندھی جی نے گجرات کے سابرمتی آشرم سے 78 ساتھیوں کے ساتھ ڈانڈی مارچ شروع کیا۔یہ سفرتقریباً 241 میل (390 کلومیٹر) کا تھا۔اپریل 1930 میں ڈانڈی کے ساحل پر سمندر کے پانی سے نمک تیار کرکے انگریز حکومت کے نمک قانون کی خلاف ورزی کی،اس واقعے کے بعد ملک بھر میں سول نافرمانی کی تحریک پھیل گئی،اس تحریک کی بنیادی نوعیت عدم تشدد،عوامی مزاحمت اور انگریز حکومت کے غیرمنصفانہ قوانین کی خلاف ورزی تھی،اس تحریک کے اہم پہلو درج ذیل تھے:نمک کے قانون کی خلاف ورزی: عوام کو اپنا نمک خود تیار کرنے کی ترغیب دی گئی۔سرکاری ٹیکسوں سے انکار: بعض علاقوں میں زمین کے محصولات اور دیگر ٹیکس ادا نہ کرنے کی مہم چلائی گئی۔غیرملکی اشیاء کا بائیکاٹ: برطانوی کپڑوں اور دوسری درآمدی اشیاء کا بائیکاٹ کیا گیا۔سرکاری اداروں سے عدم تعاون: بعض سرکاری اداروں اور انتظامی سرگرمیوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی تھی۔
عوامی احتجاج:جلسے،جلوس،مظاہرے اور پرامن دھرنے منعقد کیے گئے،گرفتاریوں کی پیشکش:ہزاروں افراد نے گرفتاری دی اورجیلیں بھریں،تحریک نے آزادی کی جدوجہد کو ملک گیرعوامی تحریک میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔جسکے نتیجے میں انگریز حکومت نے بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں تھیں۔1930ء کی یہ تحریک محض نمک کے ٹیکس کے خلاف احتجاج نہیں تھی، بلکہ نمک کو ایک علامت بناکر برطانوی اقتدار اور اس کے قوانین کے خلاف وسیع تر سیاسی مزاحمت کی گئی تھی۔1930ء میں گاندھی جی کی تحریک کا نام سول نافرمانی کی تحریک تھا، جس کا آغاز نمک ستیہ گرہ اور ڈانڈی مارچ سے ہوا۔اس کی بنیادی نوعیت عدم تشدد،عدم تعاون،قانون شکنی اورعوامی مزاحمت پر مبنی تھی۔رام لیلا میدان سے ووٹ چوری کے خلاف ملک گیر تحریک جاری رکھنے کے عزم کا اظہار تو کردیاہے تو کیا اگلا قدم اسی جانب بڑھے گا؟ انتظار کیجئے۔
(مضمون نگار معروف صحافی،کالم نویس اورسیاسی تجزیہ نگار ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے