مہنگائی نے بدلا امریکی سیاست کا رخ:
وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کا اثر و رسوخ کمزور
ازقلم: اسماء جبین فلک
واشنگٹن میں منگل کی رات جو کچھ ہوا، وہ محض ایک معمول کی سیاسی تبدیلی نہیں تھی۔ ڈیموکریٹس نے نہ صرف ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن اکثریت کا خاتمہ کیا بلکہ سینیٹ کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا۔ بیس سال میں پہلی بار کانگریس کے دونوں ایوان ایک ہی انتخاب میں ایک جماعت کے ہاتھ سے دوسری جماعت کے ہاتھ میں چلے گئے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق، ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں 224 نشستیں حاصل کر چکے تھے، جبکہ ریپبلکن کی تعداد گھٹ کر 133 رہ گئی تھی۔ سینیٹ میں بھی ڈیموکریٹس نے کم از کم سات ریپبلکن نشستیں جیت کر اپنی تعداد 54 تک پہنچا دی، جو اکثریت کے لیے درکار چار نشستوں کے خالص اضافے سے کہیں زیادہ تھی۔ ٹیکسس میں 1988 کے بعد پہلی بار ڈیموکریٹک سینیٹر منتخب ہوا، اوہائیو میں شیروڈ براؤن نے واپسی کی اور جارجیا میں کیشا لانس بوٹمز گورنر منتخب ہو گئیں۔ ان نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ یہ محض انتخابی لہر نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے ووٹروں کے معاشی مسائل اور گھریلو بجٹ سے جڑا ایک گہرا سیاسی ردِعمل تھا۔
اس انتخاب کی اصل کہانی معیشت ہے، اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔ این بی سی نیوز کے ایگزٹ پول کے مطابق، صرف 38 فیصد ووٹرز صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن تھے۔ یہ شرح گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران کسی برسرِ اقتدار صدر کے لیے سب سے کم تھی۔ 43 فیصد ووٹروں نے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کی مخالفت کے اظہار کے لیے ووٹ دیا، جبکہ صرف 16 فیصد نے ان کی حمایت میں ووٹ ڈالا۔ تین چوتھائی ووٹروں نے ملکی معیشت کو خراب یا غیر تسلی بخش قرار دیا۔ دس میں سے تقریباً آٹھ ووٹروں کا کہنا تھا کہ مہنگائی ان کے خاندانوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے۔ ایندھن، خوراک اور یوٹیلیٹی بلوں میں اضافے نے ان مشکلات کو مزید بڑھا دیا تھا۔ یہ اعداد و شمار اس معاشی بے چینی کی عکاسی کرتے ہیں جو بالآخر ووٹ کی صورت میں سامنے آئی۔
معاشی مشکلات کی وجوہات بھی خاصی گہری ہیں۔ ییل یونیورسٹی کی بجٹ لیب کے تخمینے کے مطابق، موجودہ ٹیرف پالیسی ایک اوسط امریکی گھرانے کو سالانہ تقریباً 1100 ڈالر کا نقصان پہنچا رہی ہے۔ مؤثر ٹیرف کی شرح 2024 میں تین فیصد سے بڑھ کر تقریباً 18 فیصد تک پہنچ گئی، جو 1930 کی دہائی کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس کے ساتھ ایران کے ساتھ جنگ نے توانائی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا۔ پٹرول کی قومی اوسط قیمت تقریباً 39 سے 45 فیصد بڑھ کر 4.16 سے 4.33 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔ ایک تخمینے کے مطابق، اس جنگ کے باعث عالمی سطح پر ایندھن کے اخراجات میں 468 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا، جس میں امریکہ کا حصہ تقریباً 160 ارب ڈالر تھا۔
سی بی ایس نیوز کے ایگزٹ پول سے بھی یہی رجحان سامنے آیا۔ بیشتر ووٹروں نے ٹرمپ کے ٹیرف کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ ان کی امیگریشن پالیسی کو حد سے بڑھی ہوئی اور ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے کو غلط سمجھا۔ یہ الگ الگ مسائل نہیں تھے۔ ان سب کا تعلق ایک ہی بنیادی شکایت سے تھا: عام امریکی کی زندگی مسلسل مہنگی ہو رہی تھی، اور اس کے لیے وہ اقتدار میں بیٹھے صدر کو ذمہ دار سمجھ رہا تھا۔
ٹرمپ کا ردِعمل بھی اس شکست کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے نتائج کو اپنی ذات پر حملہ قرار دینے کے بجائے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ڈیموکریٹس نے اچھی انتخابی مہم چلائی۔ تاہم، ریپبلکن امیدواروں کی ناکامی کی ذمہ داری بھی انہی پر ڈال دی۔ اس کے باوجود انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے صدارتی ویٹو کا بھرپور استعمال کریں گے۔ منگل کی رات انہوں نے اپنی مخصوص سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی، جس پر لفظ ’’ویٹو‘‘ درج تھا۔
کانگریس میں اب ڈیموکریٹس کو تحقیقاتی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، حکومتی اہلکاروں کے طرزِ عمل، ٹرمپ خاندان کے کاروباری معاملات اور ایپسٹین کیس کی تحقیقات کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا ہے۔ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت میں بھی یہی صورتِ حال پیدا ہوئی تھی۔ اس وقت ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے بعد مواخذے کی کارروائی شروع کی تھی۔ تاہم، اس بار صورتِ حال مختلف ہے، کیونکہ سینیٹ بھی ڈیموکریٹس کے کنٹرول میں آ گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ وفاقی ججوں سمیت صدارتی نامزدگیوں کی توثیق روک سکتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس قانونی دستاویزات اور گواہوں کے معاملے میں پہلی مدت کی طرح تاخیری حربے اختیار کر سکتا ہے، لیکن اب اسے اپنی سیاسی توانائی کا بڑا حصہ دفاعی محاذ پر صرف کرنا پڑے گا۔ قانون سازی کے لیے گنجائش پہلے ہی محدود ہو چکی ہے۔
خارجہ محاذ پر بھی یورپی اتحادیوں کی تشویش بڑھ گئی ہے۔ پولیٹیکو (Politico) کے مطابق، نیٹو کے رکن ممالک کو خدشہ ہے کہ اندرونِ ملک سیاسی طور پر کمزور ہونے کے بعد ٹرمپ یورپ سے مزید ہزاروں امریکی فوجی واپس بلا سکتے ہیں، نیٹو کی مشترکہ فنڈنگ کم کر سکتے ہیں یا یوکرین کے لیے اسلحے کی خریداری کے پروگرام پر پابندیاں لگا سکتے ہیں۔ اس تشویش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کانگریس ٹرمپ کے داخلی ایجنڈے پر کسی حد تک قابو پا سکتی ہے، لیکن مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کی حیثیت سے خارجہ پالیسی کے معاملات میں ان کے اختیارات کہیں زیادہ ہیں۔ یہی آزادی یورپی اتحادیوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
ٹیرف کے معاملے میں بھی ڈیموکریٹک کانگریس کے اختیارات محدود رہیں گے، کیونکہ ٹرمپ کی موجودہ ٹیرف پالیسی کے لیے ہر معاملے میں کانگریس کی منظوری ضروری نہیں۔ بین الاقوامی سطح پر انتخابی نتائج پر ردِعمل بھی محتاط رہا۔ ٹرمپ کے حریف ممالک، ایران، چین اور اسپین نے نتائج کا خیرمقدم کیا، جبکہ برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کی اعلیٰ قیادت نے خاموشی اختیار کی۔ نیویارک ٹائمز کے تجزیے کے مطابق، اس خاموشی کے پیچھے شکست کی سنگینی کو سمجھنے اور ٹرمپ کو مزید ناراض کرنے سے بچنے کی خواہش کارفرما تھی۔
ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی اس شکست نے ایک نئی دراڑ پیدا کر دی ہے۔ ٹرمپ کے سابق سیاسی حکمتِ عملی ساز اسٹیو بینن پہلے ہی اس صورتِ حال کو ’’خانہ جنگی‘‘ قرار دے چکے تھے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کی ناقابلِ شکست سیاسی شخصیت کا تاثر اب ٹوٹنے لگا ہے۔ پارٹی کے اندر یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ 2028 کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن کس کو اپنا امیدوار بنائیں گے؟ کیا وہ ٹرمپ کے سیاسی جانشین جے ڈی وینس کو آگے بڑھائیں گے یا مارکو روبیو جیسے روایتی سیاسی چہرے کی طرف واپس جائیں گے؟
ہانگ کانگ کے تحقیقی ادارے ہٹونگ ریسرچ سے وابستہ فینگ چوچینگ کے مطابق، پارٹی کے اندر شدید اختلافات اور تصادم کا امکان ہے۔ یہی کشمکش 2028 کے صدارتی انتخابات میں اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ریپبلکن ٹرمپ کے متبادل کی تلاش کرتے ہیں یا ان کی سیاسی میراث کو آگے بڑھاتے ہیں۔
تاہم، اس صورتِ حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ ڈیموکریٹس کی اپنی مقبولیت بھی کوئی غیر معمولی نہیں۔ این بی سی کے ایگزٹ پول کے مطابق، 53 فیصد ووٹروں کی ڈیموکریٹک پارٹی کے بارے میں رائے منفی تھی۔ تقریباً ہر پانچ میں سے ایک ووٹر ایسا تھا جس کی کسی بھی سیاسی جماعت کے بارے میں مثبت رائے نہیں تھی۔ ڈیموکریٹس نے اپنے انتخابی ایجنڈے میں عام آدمی کے لیے زندگی کو قابلِ برداشت بنانے پر زور دیا ہے۔ اس میں کم از کم اجرت میں اضافہ، صحت کی سہولتوں کے لیے سستیئر کیئر ایکٹ کی سبسڈی کی بحالی اور ٹیرف میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ تاہم، یہ تجاویز ابھی قانون سازی کے مرحلے تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ سینیٹ میں کسی بھی اہم قانون کی منظوری کے لیے 60 ووٹوں کی شرط پوری کرنا بھی آسان نہیں ہو گا۔
اس انتخاب کا سب سے واضح پیغام یہ ہے کہ امریکی ووٹر نے ثقافتی جنگ کے نعروں کے مقابلے میں اپنے روزمرہ مسائل کو زیادہ اہمیت دی۔ ٹرمپ نے اگرچہ اقتدار نہیں کھویا، لیکن ان کی سیاسی طاقت کا ایک اہم ستون ضرور کمزور پڑ گیا ہے۔ وہ ستون جس پر ان کی سیاست بڑی حد تک کھڑی تھی، یعنی ہر حال میں انتخاب جیتنے کی صلاحیت کا تاثر۔ اب کانگریس میں ڈیموکریٹس کی مضبوط مزاحمت، ریپبلکن پارٹی کے اندر بڑھتے اختلافات اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال نے وائٹ ہاؤس کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔ آئندہ دنوں میں ٹرمپ کو قانون سازی سے زیادہ سیاسی محاذ آرائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کے لیے حکمرانی سے زیادہ اپنی سیاسی پوزیشن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
جمہوریت کا ایک بنیادی سبق یہی ہے کہ ووٹر کے لیے سیاسی نعروں سے زیادہ اس کی روزمرہ زندگی اہم ہوتی ہے۔ جب اقتدار میں بیٹھے لوگ عوام کے معاشی مسائل کو نظر انداز کرتے ہیں تو عوام انتخابات میں اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ اس بار امریکی ووٹر نے بھی اپنے بڑھتے ہوئے بلوں کا جواب ووٹ کے ذریعے دیا ہے۔