ٹرمپ کی پیش قدمی پر انتخابی بریک!

ٹرمپ کی پیش قدمی پر انتخابی بریک!

ٹرمپ کی پیش قدمی پر انتخابی بریک!

✍️ افتخاراحمد قادری

سیاست کی بساط پر کبھی کبھی ایسے مہرے پٹتے ہیں کہ اقتدار کے بلند و بالا ایوانوں میں بیٹھے ہوئے شہنشاہوں کو بھی اپنی بے پناہ قوت، دولت اور مقبولیت کے دعووں پر ازسرنو غور کرنا پڑتا ہے۔ انتخابی نتائج محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ وہ عوامی شعور کی اس خاموش مگر فیصلہ کن یلغار کا مظہر بھی ہوتے ہیں جس کے سامنے اقتدار کے نشے میں سرشار حکمرانوں کی ساری رعونت، سیاسی شعبدہ بازی اور انتخابی جوڑ توڑ دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ امریکا میں ۳ نومبر ۲۰۲۶ء کو منعقد ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے بھی کچھ ایسا ہی منظرنامہ رقم کیا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کی ری پبلکن جماعت کو جس نوعیت کی سیاسی ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا، اس نے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں ڈیموکریٹس کی کامیابی نے ٹرمپ کے اقتدار کے سامنے ایسا سیاسی بند باندھا ہے جس کے اثرات محض واشنگٹن تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ عالمی سیاست کے ایوانوں میں بھی ان کی بازگشت سنائی دے گی۔ ٹرمپ کی سیاست کا بنیادی وصف ہمیشہ سے بلند بانگ دعوے، جارحانہ لب و لہجہ، مخالفین کو نیچا دکھانے کی خواہش اور اپنی ذات کو ہر کامیابی کا مرکز قرار دینے کا طرزِ عمل رہا ہے۔ وہ انتخابی مہم کو بھی اکثر اس انداز سے برتتے رہے ہیں جیسے امریکا کی قسمت کا فیصلہ کسی اجتماعی شعور کے بجائے ان کی شخصی پسند و ناپسند سے وابستہ ہو۔ مگر جمہوریت کا حسن ہی یہ ہے کہ یہاں حکمران کی زبان کتنی ہی دراز کیوں نہ ہو، فیصلہ بالآخر ووٹر کی انگلی کرتی ہے۔

ٹرمپ نے اپنی سیاسی قوت کا جس قدر ڈھنڈورا پیٹا، نتائج نے اسی قدر شدت سے یہ احساس دلایا کہ عوامی اعتماد کسی حکمران کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتا۔ کل تک جو جماعت اقتدار کے بل پر اپنے مخالفین کو سیاسی حاشیے پر دھکیلنے کے خواب دیکھ رہی تھی، آج اسی کے سامنے عوامی فیصلے نے ایک نئی دیوار کھڑی کر دی ہے۔ یہ شکست ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی، حکومتی ترجیحات اور انتخابی اندازِ فکر پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کامیابی حاصل کرکے ری پبلکن جماعت کو دونوں ایوانوں میں اکثریت سے محروم کر دیا۔ امریکی سیاست میں وسط مدتی انتخابات عموماً صدر کی مقبولیت اور حکومتی کارکردگی کا پیمانہ سمجھے جاتے ہیں، اس لیے ان نتائج کی معنویت مزید بڑھ جاتی ہے۔ صدر اپنی مدتِ صدارت کے دوران چاہے جتنے بڑے منصوبوں کا اعلان کرے، اگر عوام کو روزمرہ زندگی میں آسودگی میسر نہ آئے تو اس کی تقریریں انتخابی مہم کے شور میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ ٹرمپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ان کی سیاسی قوت کا اصل امتحان اس وقت ہوا جب عوام کو نعروں اور عملی زندگی کے درمیان انتخاب کرنا تھا، اور ووٹروں نے نعروں کے بجائے اپنے مسائل کو ترجیح دی۔ امریکا جیسے معاشی طور پر طاقت ور ملک میں مہنگائی، رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات، علاج معالجے کی دشواریاں، تجارتی پالیسیوں کے اثرات اور عام شہری کی قوتِ خرید میں کمی ایسے مسائل ہیں جنہیں محض سیاسی بیان بازی سے حل نہیں کیا جا سکتا۔

ایک ایسا شخص جو روزانہ اپنے گھر کا بجٹ بناتے ہوئے پریشان ہو، جو اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں اضافے سے نبرد آزما ہو، جو اپنے بچوں کی تعلیم اور اہلِ خانہ کے علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے اضافی محنت کرتا ہو، وہ انتخابی جلسے میں بلند ہونے والے نعروں سے کب تک مطمئن رہ سکتا ہے؟ عوام کو اپنی زندگی میں بہتری درکار ہوتی ہے، حکمران کی خود ستائی نہیں۔ انہیں ایسے فیصلے چاہییں جن کا اثر ان کے باورچی خانے، مکان کے کرائے، علاج کے بل اور بچوں کے مستقبل پر پڑے، نہ کہ ایسے وعدے جو انتخابی مہم کے اختتام کے ساتھ ہی سیاسی حافظے کا حصہ بن جائیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف عوامی ناراضی میں معاشی بے اطمینانی کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ اور تجارتی کشیدگی کے اثرات نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ جب خارجہ پالیسی کے فیصلے ملک کے اندر معاشی دباؤ میں اضافے کا سبب بننے لگیں تو عوام کے لیے یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ عالمی سطح پر طاقت کا مظاہرہ آخر کس قیمت پر کیا جا رہا ہے؟ جنگی مہم جوئی کا خمیازہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بھگتنا پڑتا، بلکہ اس کے اثرات توانائی کی منڈیوں، اشیائے ضرورت کی قیمتوں، سرکاری اخراجات اور عام شہری کی معاشی زندگی تک پہنچتے ہیں۔ حکمران اگر قومی مفاد کے نام پر ایسے فیصلے کریں جن کا بوجھ بالآخر عوام کے کندھوں پر پڑے تو انتخابی محاسبے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

امریکی ووٹر نے اپنے فیصلے کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ عالمی طاقت ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ داخلی مسائل کو نظرانداز کرنے کی چھوٹ بھی حاصل ہو جائے۔ ٹرمپ کی سیاسی مشکلات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی جماعت کے پاس انتخابی مہم چلانے کے لیے وسائل کی کمی نہیں تھی۔ دولت، تنظیمی قوت، بااثر حامیوں کی پشت پناہی اور صدارتی منصب کی سیاسی اہمیت کے باوجود ری پبلکن جماعت عوامی اعتماد کی مطلوبہ سطح برقرار نہ رکھ سکی۔ یہی جمہوری سیاست کا وہ نکتہ ہے جسے سمجھنا ہر صاحبِ اقتدار کے لیے ضروری ہے۔ سرمایہ انتخابی تشہیر کو وسعت دے سکتا ہے، اشتہارات کے ذریعے کسی امیدوار کی شبیہ بنائی جا سکتی ہے، ذرائع ابلاغ پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جا سکتی ہے، لیکن عوام کے تجربات کو ہمیشہ کے لیے مصنوعی نعروں کے پردے میں نہیں چھپایا جا سکتا۔ ووٹر کی زندگی میں اگر مہنگائی، بے یقینی اور محرومی کے احساسات بڑھ رہے ہوں تو اربوں کی تشہیری مہم بھی اس کے ذہن میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب نہیں بن سکتی۔ اس انتخابی معرکے کا ایک نہایت اہم پہلو نوجوانوں کا رویہ بھی ہے۔

نئی نسل اب محض روایتی سیاسی وابستگیوں کی اسیر نہیں رہی۔ وہ روزگار، تعلیم، معاشی انصاف، سماجی آزادی اور اپنے مستقبل کے بارے میں واضح سوالات اٹھاتی ہے۔ اسے یہ بتانا کافی نہیں کہ ماضی میں کس جماعت نے کیا کیا تھا؛ وہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ آج اس کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے۔ نوجوانوں کی سیاسی ترجیحات میں تبدیلی اس امر کی علامت ہے کہ جدید جمہوریت میں کسی جماعت کے لیے مستقل حمایت کا دعویٰ کرنا آسان نہیں رہا۔ جو جماعت نوجوانوں کے مسائل کو نظرانداز کرے گی، اسے انتخابی میدان میں ان کے عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ اور ری پبلکن جماعت کے لیے یہ نتائج اسی اعتبار سے ایک سنجیدہ تنبیہ ہیں۔ تاہم ان انتخابات کا سب سے روشن اور تاریخی پہلو امریکی سیاست میں مسلم نمائندگی کا غیر معمولی اضافہ ہے۔ ایک ایسے ماحول میں، جہاں مسلمان امیدواروں کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر تنقید، شکوک و شبہات اور بعض اوقات صریح تعصب کا سامنا کرنا پڑا، ان کی کامیابی نے سیاسی منظرنامے میں نئی تاریخ رقم کی ہے۔ مشی گن سے عبد السید کی امریکی سینیٹ کے لیے کامیابی خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بنے ہیں۔ ان کی کامیابی محض ایک فرد کی انتخابی فتح نہیں، بلکہ امریکی سیاسی اداروں میں مسلم شہریوں کی نمائندگی کے ایک نئے باب کا افتتاح بھی ہے۔ جس ملک میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو انتخابی مہم میں متنازع بنانے کی کوششیں کی گئیں، اسی ملک کے ووٹروں نے انہیں ایوانِ بالا تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔

عبد السید کی کامیابی اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ ان کی انتخابی مہم میں صحت کی سہولتوں، عام خاندانوں کے معاشی مسائل اور سیاست میں بڑے سرمایہ داروں کے اثر و رسوخ جیسے موضوعات کو نمایاں مقام حاصل تھا۔ ان کے مخالفین کی جانب سے مذہبی شناخت اور مبینہ انتہا پسندی سے متعلق الزامات بھی سامنے آئے، لیکن انتخابی نتیجے نے واضح کیا کہ ووٹر کسی امیدوار کو صرف اس کے نام، مذہب یا مخالفین کے الزامات کی بنیاد پر پرکھنے کا پابند نہیں۔ امیدوار کی پالیسی، اہلیت، عوامی مسائل سے وابستگی اور اس کے پیش کردہ حل بھی فیصلہ کن اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی جمہوریت کا وہ اصول ہے جس کی پاسداری کسی بھی معاشرے کو مذہبی تعصب سے نکال کر شہری مساوات کی طرف لے جا سکتی ہے۔

مسلم امیدواروں کی کامیابی صرف سینیٹ تک محدود نہیں رہی۔ الہان عمر، راشدہ طلیب، آندرے کارسن اور لطیفہ سائمن جیسے مسلم ارکانِ کانگریس نے اپنی نشستیں برقرار رکھیں، جب کہ آدم حموی اور داریالیزا اویلا شیولیئر کی کامیابیوں نے ایوانِ نمائندگان میں مسلم نمائندگی کو مزید وسعت دی۔ مختلف ریاستوں کے قانون ساز اداروں میں بھی مسلم امیدواروں کی کامیابیوں نے اس رجحان کو تقویت بخشی۔ ابتدائی انتخابی نتائج کے مطابق وفاقی اور ریاستی سطح پر متعدد مسلم امیدواروں نے کامیابی حاصل کی، اگرچہ بعض مقامی مقابلوں کے حتمی اعداد و شمار کی تصدیق کا عمل الگ سے جاری رہ سکتا ہے۔ ان نتائج کو محض مذہبی شناخت کی کامیابی قرار دینا بھی درست نہ ہوگا؛ ان کے پس منظر میں امیدواروں کی سیاسی محنت، مقامی مسائل، عوامی رابطہ مہم اور مختلف برادریوں کی حمایت بھی شامل ہے۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اہم ہے کہ مسلم شہریوں کی سیاسی شرکت اب امریکی جمہوریت کے ایک نمایاں اور ناقابلِ نظرانداز پہلو کی حیثیت اختیار کر رہی ہے۔

یہ کامیابیاں ان لوگوں کے لیے بھی ایک قابلِ غور پیغام رکھتی ہیں جو مسلمانوں کی سیاسی صلاحیتوں کو ان کے مذہب یا شناخت کی بنیاد پر محدود کرنے کے خواہش مند ہیں۔ جمہوری معاشرے میں مذہبی اقلیتوں کی حقیقی قوت اسی وقت نمایاں ہوتی ہے جب وہ تعلیم، سیاسی شعور، تنظیم، قانونی جدوجہد اور شہری حقوق کے استعمال کے ذریعے اپنا مقام حاصل کرتی ہیں۔ محض جذباتی نعروں سے نمائندگی کے دروازے نہیں کھلتے؛ اس کے لیے مسلسل محنت، عوامی مسائل کی تفہیم اور مختلف طبقوں کے ساتھ اعتماد کا رشتہ استوار کرنا پڑتا ہے۔ امریکی انتخابات میں مسلم امیدواروں کی کامیابی اسی حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ جمہوری عمل میں مؤثر شرکت کسی بھی اقلیت کے لیے امکانات کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ ذکر ہے۔ ٹرمپ کی سیاست میں امیگریشن، مذہبی شناخت اور قومی ترجیحات کے موضوعات اکثر سخت گیر انداز میں پیش کیے جاتے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں مسلم امیدواروں کا انتخابی میدان میں کامیاب ہونا امریکی معاشرے کی داخلی پیچیدگیوں کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ امریکا کوئی یک رنگ معاشرہ نہیں؛ وہاں مختلف نسلوں، مذاہب، زبانوں اور تہذیبی پس منظر رکھنے والے شہری آباد ہیں۔ ان کے درمیان اختلافات بھی ہیں اور مشترکہ مفادات بھی۔

انتخابی نتائج یہ بتاتے ہیں کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پر کسی پورے طبقے کو سیاسی طور پر غیر مؤثر سمجھ لینا ایک بڑی غلط فہمی ہو سکتی ہے۔ البتہ ان کامیابیوں سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ امریکا میں مذہبی تعصب یا اسلام مخالف رویے مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔ انتخابی کامیابی ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، مگر سماجی مساوات اور مذہبی رواداری کا سفر اس سے کہیں زیادہ طویل ہے۔ ٹرمپ کے لیے اس شکست کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب ان کی حکومت کو قانون سازی کے میدان میں زیادہ سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مخالف جماعت کی اکثریت صدارتی ترجیحات کو محدود کر سکتی ہے، حکومتی فیصلوں کی نگرانی میں اضافہ ہو سکتا ہے اور مختلف پالیسیوں پر تفصیلی بحث و احتساب کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ صدر کے پاس بعض آئینی اختیارات بدستور موجود رہیں گے لیکن سیاسی طاقت اور قانون سازی کی آزادی کے درمیان جو فرق ہے، وہ اب زیادہ نمایاں ہو جائے گا۔ ٹرمپ کے لیے محض اپنی سابقہ انتخابی کامیابیوں کا حوالہ دینا کافی نہیں ہوگا؛ انہیں یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ وہ بدلتے ہوئے عوامی مزاج اور معاشی حقائق کو سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتےہیں۔ شکست کے بعد دو راستے ہوتے ہیں: ایک یہ کہ آدمی نتائج کو عوامی پیغام سمجھے، اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے، غلطیوں کی اصلاح کرے اور اختلاف کو جمہوری نظام کا لازمی جزو تسلیم کرے؛ دوسرا یہ کہ ہر ناکامی کا الزام مخالفین، ذرائع ابلاغ، امیدواروں یا انتخابی حالات پر ڈال کر اپنی ذات کو ہر تنقید سے بالاتر سمجھتا رہے۔

پہلا راستہ سیاسی بلوغت کی علامت ہے، جب کہ دوسرا راستہ مزید تنہائی اور کمزوری کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ٹرمپ کی آئندہ سیاسی حیثیت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ ان نتائج کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ کیا وہ اسے محض ایک عارضی دھچکا سمجھ کر اپنی پرانی روش جاری رکھیں گے، یا اس حقیقت کو تسلیم کریں گے کہ عوامی اعتماد کے بغیر اقتدار کا ظاہری جاہ و جلال بھی کمزور پڑ جاتا ہے؟ جو شخص اپنی سیاسی قوت کے اظہار میں کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا، اسے اب ایسے کانگریسی ایوانوں کے ساتھ کام کرنا ہوگا جہاں اس کی جماعت کو اپنی سابقہ اکثریت حاصل نہیں رہی۔ گویا ٹرمپ کی ٹرمپائی کو ووٹروں نے ایسا انتخابی آئینہ دکھایا ہے جس میں انہیں اپنی سیاسی مقبولیت کا وہ عکس نظر نہیں آرہا جس کی وہ توقع رکھتے تھے۔ تاہم جمہوریت میں کسی کی تضحیک سے زیادہ اہم سبق یہ ہے کہ اقتدار کے حامل افراد بھی عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں۔ آج ٹرمپ کی جماعت کو شکست ہوئی ہے، کل کسی دوسری جماعت کو بھی اسی صورتِ حال سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ عوامی اعتماد کی حفاظت ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے، کسی ایک رہنما کا خصوصی استحقاق نہیں۔

امریکی انتخابات کے نتائج بھارت سمیت دنیا کے ان تمام ملکوں کے لیے بھی قابلِ مطالعہ ہیں جہاں سیاسی جماعتیں مذہبی شناخت، قوم پرستی، معاشی وعدوں اور جذباتی نعروں کی بنیاد پر عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہ نتائج کسی دوسرے ملک کے انتخابی مستقبل کی قطعی پیش گوئی نہیں کرتے لیکن اتنا ضرور بتاتے ہیں کہ مہنگائی، روزگار، شہری حقوق اور معاشی انصاف جیسے مسائل کو مستقل طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ عوامی جذبات کی قوت سے انکار کرنے والا حکمران بالآخر اسی قوت کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے جسے وہ اپنی سیاسی مہم میں محض تماشائی سمجھ بیٹھتا ہے۔ بالخصوص مسلم معاشرے کے لیے امریکی انتخابات کا سبق یہ ہے کہ سیاسی نمائندگی کے میدان میں منظم شرکت، تعلیمی ترقی، آئینی حقوق کا شعور اور اجتماعی حکمت عملی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی ملک میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہونے سے خودبخود سیاسی قوت پیدا نہیں ہوتی؛ اس کے لیے ووٹ کی اہمیت سمجھنا، شہری ذمہ داریوں کو ادا کرنا، اپنے مسائل کو مؤثر انداز میں پیش کرنا اور اہل امیدواروں کی حمایت کرنا ضروری ہے۔ امریکا میں مسلم امیدواروں کی کامیابی خوش آئند ہے مگر اس کی اصل افادیت اسی وقت سامنے آئے گی جب منتخب نمائندے اپنے حلقوں کے عوامی مسائل حل کرنے، شہری مساوات کو فروغ دینے اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے عملی کردار ادا کریں گے۔

بہرحال، ۲۰۲۶ء کے امریکی وسط مدتی انتخابات نے یہ حقیقت ایک بار پھر نمایاں کر دی ہے کہ سیاست میں کوئی جماعت ہمیشہ فاتح اور کوئی رہنما ہمیشہ ناقابلِ شکست نہیں ہوتا۔ ٹرمپ کی ری پبلکن جماعت کو ملنے والی شکست اور مسلم امیدواروں کی تاریخی کامیابیاں ایک ہی انتخابی عمل کے دو اہم پہلو ہیں: ایک طرف اقتدار کو عوامی احتساب کا سامنا ہے، دوسری طرف جمہوری شرکت کے ذریعے نئی سیاسی آوازیں ایوانوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ٹرمپ کے لیے یہ وقت اپنی سیاسی ترجیحات پر نظرثانی کا ہے، جب کہ مسلم نمائندوں کے لیے یہ کامیابی ذمہ داریوں کے ایک نئے سلسلے کا آغاز ہے۔

بالآخر جمہوریت کا فیصلہ کن اصول یہی ہے کہ اقتدار کی کرسی کسی رہنما کے غرور کی توسیع نہیں، بلکہ عوام کی امانت ہوتی ہے۔ جو حکمران اس امانت کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھنے لگے، اسے کبھی نہ کبھی ووٹروں کے فیصلے کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا پڑتا ہے۔ ٹرمپ کے انتخابی دھچکے نے بھی یہی پیغام دیا ہے کہ سیاسی شہرت، مالی وسائل اور بلند آہنگ دعوے عوامی اعتماد کا متبادل نہیں بن سکتے۔ اور مسلم امیدواروں کی کامیابی نے یہ امید روشن کی ہے کہ جمہوری نظام میں مسلسل جدوجہد، مؤثر نمائندگی اور عوامی حمایت کے ذریعے تاریخ کے بند دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی سیاسی ٹرمپائی اپنی جگہ، مگر اصل کامیابی اس اصول کی ہے کہ جمہوریت میں آخری لفظ کسی حکمران کا نہیں ووٹر کا ہوتا ہے۔

مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے