’’ذہنی غلامی کہیں تمہیں غلام نہ بنادے‘

’’ذہنی غلامی کہیں تمہیں غلام نہ بنادے‘

’’ذہنی غلامی کہیں تمہیں غلام نہ بنادے‘‘

ازقلم:سیما شکور حیدر آباد

خوف کا عفریت جب تمہیں نگل لیتا ہے تو تم ذہنی طور پر غلام بن جاتے ہو اور غلام تو پھر غلام ہی ہوا کرتے ہیں، ہمیشہ اپنے آقائوں کی تابعداری ہی کیا کرتے ہیں نہ ہی تمہاری کوئی عزتِ نفس باقی رہ جاتی ہے اور نہ ہی تمہارا کوئی مقام باقی رہ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے لیکن خوف ہمیں پست اور کمزور کردیا کرتا ہے، اگر تم دوسروں سے خوف کھانے لگو تو تم اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں کھو دو گے، تمہیں اگر اللہ تعالیٰ کے سوا بندوں کا خوف ستانے لگے، تم دنیاوی منصب کے لیے کسی کے بھی سامنے جھکنے کے لیے تیار ہو تو تم غلامی کی انتہا تک پہنچ چکے ہو، تم ایک غلام بن چکے ہو، اور … غلامی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ختم کردیتی ہے… یاد رہ جاتی ہے تو صرف غلامی ہاں!صرف غلامی، غلام تو جھکا ہی کرتے ہیں، غلاموں کی اپنی کوئی سوچ اور فکر نہیں ہوا کرتی کیونکہ وہ تو صرف جھک جایا کرتا ہے غلامی تمہیں پستیوں کا راستہ دکھاتی ہے اور وہ راستے ذلت اور رسوائیوں کے راستے ہیں اور تم اگر ان ہی راستوں پر چلتے رہے تو غلامی تمہارا مقدر بن جائے گی اور مقدر تو مقدر ہی ہوتا ہے، مقدر محنتوں اور دعائوں کی بدولت بدل جایا کرتا ہے۔ ایمان کی مضبوطی اور پختگی تمہیں باطل کے سامنے کبھی جھکنے نہیں د ے گی ، تم موت کو قبول کرلوگے لیکن کبھی نہیں جھکو گے۔ایمان کی طاقت او ر رُعب کے سامنے باطل کو ڈھیر ہونا ہی ہے ، تمہارے ہاتھ خالی بھی ہوں تو بھی دولتِ ایمانی تمہیں ضرور فتح یاب کرے گی۔ ایمان کی پختگی ہی سب سے بڑی دولت ہے، تمہارے پاس اگر ایمان کی دولت ہے تو تم کبھی بھی کسی کی شاندار طرز ِ زندگی کو دیکھ کر متاثر نہیں ہوسکتے۔ تم دنیاوی شان و شوکت سے مرعوب نہیں ہوسکتے ۔ جب انسان باطل کے سامنے سر جھُکانے لگتا ہے تو پھر وہ خود غرض اور مفاد پرست ہوجاتا ہے ۔ وہ لوگوں کے حقوق سلب کرنے لگتا ہے صرف اپنی زندگی کو سنوارنے کی فکر کرنے لگتا ہے ۔ حق کے راستے پر چلنے والے لوگ سکونِ قلب کی نعمت سے مالا مال ہوتے ہیں اُن کے چہرے روشن اور پُر رونق ہوتے ہیں۔ حق گو لوگ کٹھن راستوں کے ایسے مسافر ہوتے ہیں جو باطل کو لرزا دیا کرتے ہیں۔ حق کا راستہ کٹھنائیوں سے بھرا پڑا ہے لیکن ایمان کی طاقت ہر مشکل کو آسان کردیا کرتی ہے۔ باطل کا ڈراور خوف اپنے دل میں پالنے والا انسان اپنی حقیقی آزادی کھودیتا ہے۔ خوف کے درخت کی جڑیں تب ہی مضبوط ہوتی ہیں جب تم ذہنی طور پر غلام بن جاتے ہو۔ غلام آزاد نہیں ہوسکتے جب تک وہ ذہنی طور پر غلام ہوں۔ ذہنی طور پر غلام انسان کبھی سچ بات نہیں بول سکتا نہ ہی ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کی ہمت کرسکتا ہے۔ غلامانہ ذہنیت رکھنے والے لوگوں کی وجہ سے ترقی کے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں ، آزادی ٔ اظہار پر قدغن لگادی جاتی ہے ایسے ہی لوگوں کی بزدلی کی وجہ سے ملک غلام بن جاتے ہیں۔قومیں برباد ہوجایا کرتی ہیں، وہ اپنا مقام اور خودداری کھودیا کرتی ہیں، پھر یوں ہونے لگتا ہے کہ اُن کے ملک کے فیصلے دوسرے کرنے لگتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں ویسا نظام لے آتے ہیں اس لیے کہ قومیں جب مُردہ ہوجاتی ہیں تو اُنہیں کسی بھی بات سے فرق نہیں پڑتا پھر وہ بس دو روٹیوں کے لیے ہی جیتی ہیں اُن کی نظر میں خودی اور خودداری کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ اس طرح اُن قوموں پر اغیار قابض ہوجاتے ہیں اور وہ جو چاہیں وہ کرتے ہیں وہ اُنہیں کٹھ پتلیوں کی طرح نچاتے ہیں اور وہ ناچتے ہیں، قومیں اگر بے حسی اور بے غیرتی کی ساری حدیں پار کرلیں تو آزادی کسے کہتے ہیں انہیں یاد نہیں رہتا۔ پھر صلاح الدین ایوبی جیسا کردار رکھنے والے نوجوان کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ غلامانہ ذہنیت کی وجہ سے نہ ہی اپنی زبان باقی رہتی ہے نہ ہی تقافت اور سب سے قیمتی چیز جو تم کھودیتے ہو وہ ہے… ایمان کی دولت ، اور وہ ہم سب کھوچکے ہیں، ہم اب صرف پیسوں کے پیچھے بھاگتے ہیں، ہم وہ زندگی جی رہے ہیں جہاں کہنے کو تو سب کچھ ہے ہمارے پاس ، اگر نہیں ہے تو ایمان نہیں ہے، اس لیے کہ ہم صرف دوسروں کے خوف میں جی رہے ہیں، خوف کے بُت کی پوجا کرنے میںاس طرح مگن ہیں کہ وہ کیا تھے وہ بھول گئے ہیں ، خوف اور غلامانہ ذہنیت انسان کو انسان رہنے نہیں دیتی۔ انسان تو وہ ہوتا ہے جو آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیتا ہے وہ اپنے حقِ خود ارادیت اور سالمیت پر آنچ آنے نہیں دیتا نہ ہی اُسے اپنی جان عزیز ہوتی ہے وہ آزادی کے لیے اپنی جان بھی قربان کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتا ہے… کیا ہم سب واقعی آزاد ہیں؟… کیا ہم سب واقعی آزاد ہیں؟

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے