جمعہ نامہ :امریکہ سے اسرائیل تک ، سونے پہ سہاگہ

جمعہ نامہ :امریکہ سے اسرائیل تک ، سونے پہ سہاگہ

جمعہ نامہ :امریکہ سے اسرائیل تک ، سونے پہ سہاگہ

—–

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

—–

ارشاد ربانی ہے:’’رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں اور اپنی اِس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے ۔اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور وہ دن وہ ہو گا جبکہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ ‘‘۔ یہ پیشنگوئی جب پوری ہوئی تو مسلمانوں نے بھی میدانِ بدر میں کفار مکہ کو شکست فاش سے دوچار کردیا ۔ یہی تاریخ پھر سے دوہرائی گئی ۔ امریکہ میں ڈیموکریٹس نے ریپبلکن کو اورفلسطین کی عرب جماعتوں نے بینجمن نیتن یاہو کو ہرادیا اور مسلمانوں کودوخوشیاں نصیب ہوگئیں۔ فلسطین کی فتح کے بعد اسرائیلی ایوان پارلیمان میں مسلم ارکان نے باجماعت نماز ادا کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ سالانہ ۴؍ارب ڈالر کی مدد کا پیکیج منسوخ کردیا ۔ اس لیے اسرائیل بلبلا اٹھا اور فلسطینی شادمان ہوگئے۔یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ آگے فرمانِ قرآنی ہے:’’ اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے، اور وہ زبردست اور رحیم ہے‘‘۔ عہد رسالت میں سُپر پاورس ایران و روم کے درمیان جنگ ہوئی تو ایرانی اسے ملک گیری سے بڑھا کر مجوسیت کے فروغ تک لے گئے ۔ بیت المقدس کی فتح کے بعد خسرو پرویز نے قیصر روم کوخط لکھ کر اپنی فتح کو مجوسیت کے برحق ہونے کی دلیل قرار دے دیا۔
مسیحیوں میں توحید،آخرت اور وحی و رسالت کی مشابہت کے سبب مسلمانوں کو ان پر مشرکوں کا غلبہ ناگوارگزرا ۔ عیسائیوں کے حوالے سے ارشادِ فرقانی ہے:’’تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر اُن لوگوں کو پا ؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اِس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور اُن میں غرور نفس نہیں ہے ‘‘مسلمان عیسائیوں کے اس لیے بھی خیر خواہ تھے کیونکہ ہجرت حبشہ کے موقع پر وہاں کے بادشاہ نے مسلمانوں کو پناہ دی اوکفار مکہ کے مطالبے کو ٹھکرا دیا تھا۔ اس لیےعیسائیوں کی شکست سے مشرک خوش اور مسلمانوں اسی طرح رنجیدہ ہوگئے جیسے مودی یا ٹرمپ کی فتح پر اسرائیل میں چراغاں کیا جاتا ہے۔ ایسے میں ت قرآنی پیش گوئی بظاہر ناممکن العمل نظر آتی تھی لیکن مسلمانوں نے فرمان الٰہی پر یقین کرلیا ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓنے ابو جہل سے یہ شرط باندھی کہ رومی پانچ سال کے اندر دوبارہ غالب آجائیں گے۔ نبیﷺ نے مدت میں اضافہ کرکے شرط بڑھوا دی ۔ اس کے۷سال بعد رومی پھر سے غالب آگئےاور اسی سال بدر میں مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ مل گیا تو مسلمانوں نے دوہری خوشی منائی اور تاریخ نےپھر خود کو دوہرادیا۔

امریکہ کے وسط مدتی انتخاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شکست کے غیر معمولی اثرات رونما ہورہے ہیں ۔امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک مسلمان عبدالرحمٰن السید سینیٹ انتخاب میں کامیاب ہوئے۔ ظہران ممدانی کی نیویارک کے میئر انتخاب میں فتح کے بعد یہ کامیابی شاہدہے کہ امریکہ نے اسلاموفوبیا کا جو غبارہ پھلایا تھاوہ ٹرمپ کے ہوا بھرنے سے پھوٹ گیا۔ اس شکست سے سر پھرے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دماغ درست ہو تو انہوں نے اچانک وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ کئے جانے والے اس معاہدے کو منسوخ کردیا جس کے تحت اسرائیل کو سالانہ چار ارب ڈالر کی مدد دی جاتی تھی ۔ٹرمپ کے مطابق وہ پہلے ہی اس بات پر اتفاق کر چکے ہیں کہ اس سال کے آخر تک اسرائیل کو ادائیگیاں نہیں ہوں گی ۔ اب اسرائیل کو حسبِ ضرورت ہی مدد کی جائےگی ۔ ٹرمپ کے بقول اسرائیل کو امداد کی ضرورت نہیں ہے حالانکہ سچائی یہ ہے کہ صہیونی ریاست کی مدد امریکی حکمرانوں کو مہنگی پڑنے لگی ہے ۔ یہ اعلان اگر انتخاب سے قبل ہوتا تو نیتن یاہو کی حالت تو پتلی ہوجاتی مگر ٹرمپ کا فائدہ ہوسکتا تھا مگر وہ اس سے چوک گئےاور خود ان کے بقول ڈیموکریٹس نےاسرائیل کی امریکی امداد کو ریپبلکنز پر تنقید کے لیے ایک ’سیاسی نکتے‘ کے طور پر استعمال کرلیا۔امریکہ کے نائب صدر جی ڈی وینس نے اپنی پارٹی کی کراری ہار کے لیے ببانگِ دہل ایران کے ساتھ جنگ کو ذمہ دار ٹھہرا کر کمال حقیقت پسندی کا مظاہرہ کیا ہے۔

اسرائیل کے اندر نیتن یاہو کی شکست کے بعد کنگ میکر مسلم ارکان پارلیمان ایوان کے مرکزی ہال میں باجماعت نماز ادا کرنا ایک فتح مندی علامت ہے۔ اس سے قبل 2016 میں مساجدسےلاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے پر پابندی کے بل کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاجاً ایک عرب رکنِ پارلیمنٹ طلب ابو عرار نے ایوان کے ڈائس پر کھڑے ہو کر باقاعدہ اذان دی تھی۔ یہ وہی مسلمان ارکان پارلیمان ہیں جن کو منتخب ہونے سے روکنے کے لیے نیتن یاہو نے اپنے گیانیش کمار سے ان کی جماعتوں پر پابندی لگوا دی تھی۔ اس کوشش میں ناکامی کے بعد جب انہوں نے اپنی زبردست کامیابی درج کروائی تو دل جلے نیتن یاہو نے بیرونی طاقتوں (قطر و ترکی) کی مدد سے ان کے جیتنے کا الزام لگایا تھا تاہم اسرائیل کا الیکشن کمیشن اب نیتن یاہو کے چنگل سے نکل چکا ہے۔ اس نے اپنی تفتیش کے بعد یہ اعلان کرکے وزیر اعظم نتن یاہو کے منہ پر کالک پوت دی کہ کہ گزشتہ ہفتہ کی ووٹنگ میں فراڈ کا کوئی ثبوت نہیں ملا ۔اس طرح گویا اللہ تبارک و تعالیٰ مسلمانانِ عالم کو چھپر پھاڑ کر خوشیوں سے نواز دیا اور ہندوستان کے اندر بھی فسطائی خیمے میں صفِ ماتم بچھ گئی ۔ اس لیے بعید نہیں کہ شیخ حسینہ کے نوئیڈا میں واقع کوٹھی کے اندر کوئی کمرہ خالی کروا کر فادر لینڈ کے جگر گوشے نیتن یاہو کو مودی جی پناہ دے دیں تاکہ وہ جیل کی ہوا کھانے سے بچ جائے ۔امت مسلمہ کو اس مقامِ شکر سے طوفان الاقصیٰ اور ایرانی صبر و استقامت کی بدولت نوازہ گیا ہے ۔ اس موقع پر رب کائنات آگاہ فرماتا ہے:’’ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تم پر (نعمتوں میں) ضرور اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب یقیناً سخت ہے‘‘ ۔ ان شکر و احسان کے لمحات پر واصف علی واصف کے یہ اشعار صادق آتے ہیں ؎
یہ تیری نوازش ہے عنایت ہے کرم ہے
شکوہ تو نہیں ہستی اگر وقف الم ہے
خود دار ہوں خود سر ہوں میں خود مست ہوں لیکن
تو سامنے آ جائے تو سر آج بھی خم ہے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے