عام طور پر دیکھا گیا کہ ہر انسان شہرت پسند ہوتا ہے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو شہرت سے کوئی مطلب نہیں ہوتا بس وہ کام کیے جاتے ہیں تاکہ اللہ تعالی کی رضا اور اس کی خوشنودی انہیں حاصل ہوسکے ۔۔۔
ایسے ہی برگزیدہ اور چنندہ لوگوں میں حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کا شمار ہوتا تھا جنہیں دنیا میں مشہور ہونے کی فکر نہیں تھی، لیکن جن کی عظمت کا اعلان خود رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ وہ نہ کسی سلطنت کے مالک تھے، نہ کسی بڑے منصب پر فائز تھے، نہ ان کے پاس مال و دولت کی فراوانی تھی، لیکن ان کے اندر ایمان، تقویٰ، اخلاص اور والدہ محترمہ کی خدمت کا ایسا جذبہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تابعین میں ایک مثالی اور ممتاز مقام عطا فرمایا۔
ان کی زندگی میں ہمارے لیے ایک اہم پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی قدر و منزلت کا معیار دنیوی شہرت نہیں، بلکہ ایمان، اخلاص، تقویٰ اور نیک اعمال ہیں۔
حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کے مقام و مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ان کی فضیلت بیان فرما دی تھی۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا
تابعین میں بہترین شخص ایک آدمی ہے جن کا نام اویس ہے۔ ان کی والدہ ہے اور ان کے جسم پر برص کے نشانات ہیں۔ پس ان سے کہنا کہ وہ تمہارے لیے مغفرت کی دعا کریں ۔(صحیح مسلم، حدیث: 2542)
حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کا تعلق قبیلۂ قرن سے تھا یمن کے علاقے میں اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ رہا کرتے تھے ۔۔۔
ادھر مدینہ منورہ میں رسول اکرم ﷺ کے نبئ برحق ہونے کے چرچے ہونے لگے یہاں تک کہ یہ چرچہ یمن کے علاقے تک بھی پہنچ گیا ۔۔۔یہ طے ہے کہ جس کو اللہ تعالی ہدایت دینا چاہتے ہیں اس کے لیے راستے ہموار کیے جاتے ہیں اور اس کے سینے کو اللہ تعالی ایمان، اسلام اور ہدایت کے لیے کھول دیتے ہیں
اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا
"جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے”(الانعام، آیت 125)
اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ رسالت کی طرح ہدایت و گمراہی بھی اس کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنے نظام عدل کے مطابق جسے ہدایت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ صحیح بات تسلیم کرنے کے لیے کھول دیتا ہے، اس کے لیے ہدایت کے راستے آسان کر دیتا ہے، اسے حق قبول کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی اور وہ آسانی سےاپنے آپ کو اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کے تابع فرمان کر دیتا ہے۔
اسی طرح کا مضمون اللہ تعالی نے ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا
وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا ہے، سو وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر ہے ۔
اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تبارک و تعالی نے ہدایت کو گمراہی کے مقابلے میں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ گمراہ شخص کے مقابلے میں وہ شخص بہتر ہے جس کے سینے کو اللہ تعالی نے اسلام کے لیے کھول دیا (الزمر، الآية 22).
یہ بات طے ہے جس شخص کے لیے اللہ تعالی ہدایت دینا چاہتے ہیں اس شخص کے لیے وسائل مہیا کیے جاتے ہیں اور وہ شخص حق بات کو قبول کرنے کے لیے تیار اور آمادہ ہو جاتا ہے ۔۔۔ایسی ہی اللہ تعالی کی طرف سے مہربانی ہوئی حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ پر چنانچہ حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ نے رسول اکرم ﷺ کو دیکھا نہیں مگر اللہ نے ان کے سینے کو اسلام کے لیے کھول دیا تو انہوں نے فورا فورا اسلام قبول کر لیا یمن کے علاقے میں ہی ۔۔۔۔کتنے ایسے محروم القسمت رہے اس وقت میں جنہوں نے رسول اکرم ﷺ کے نبی برحق ہونے کی اطلاع سنی اور حضور اکرم ﷺ سے بحث کی اور حضور اکرم ﷺ سے معجزات تک طلب کیے مگر ان کے حق میں ہدایت نہیں تھی اس لیے وہ گمراہ کے گمراہ ہی رہے ۔۔۔۔
حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ یمن سے سفر کر کے مدینۂ طیبہ پہنچ کر رسول اکرم ﷺ کی زیارت کر لیتے اور حضور اکرم ﷺ کے دست مبارک پر ایمان لاتے تو صحابیت کے عظیم شرف سے نوازے جاتے ۔۔۔۔مگر حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کے لیے مجبوری یہ تھی کہ ان کی والدہ ضعیف تھیں اور حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کے علاوہ کوئی اور خدمت گزار نہیں تھے اور ماں کے ضعف کی وجہ سے ماں کی خدمت کرنا ضروری تھا ۔۔۔۔دور رہتے ہوئے اسلام قبول کرنا ممکن تھا مگر سفر کر کے آجاتے تو ماں کی خدمت کا جو اعزاز اللہ تعالی نے ان کو عطا فرمایا اس سے وہ محروم رہ جاتے تھے ۔۔۔
عقلمند انسان وہی ہے جو حالات کے اعتبار سے کام کرے ۔۔۔۔حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ یقینا عقلمند، دانا اور سمجھدار شخص تھے کہ اللہ تعالی نے ان کو یہ بات سمجھا دی تھی کہ صحابیت کا شرف حاصل کرنا ضروری نہیں ہے اسلام قبول کرنا ضروری ہے اس لیے دور سے ہی اسلام قبول کر لیا اور اپنی ماں کی خدمت میں لگے رہے یہاں تک کہ رسول اکرم ﷺ نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا "تابعین میں سب سے بہتر انسان وہ ہے جسے اویس کہا جاتا ہے ”
اور یہ بھی فرمایا تھا رسول اکرم ﷺ نے
يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ… لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ”
"تمہارے پاس یمن کے امدادی وفود کے ساتھ اویس بن عامر آئے گا… اس کی والدہ ہے جس کے ساتھ وہ حسنِ سلوک (فرمانبرداری) کرتا ہے۔ اگر وہ اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے گا۔ پس اگر تم سے ہو سکے کہ وہ تمہارے لیے مغفرت کی دعا کرے تو (اس سے) ضرور دعا کروانا”۔ (صحیح مسلم،حدیث نمبر: 6492)
چونکہ رسول اکرم ﷺ نے بہت زیادہ اہمیت سے ارشاد فرمایا تھا حضرت اویس کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ وغیرہ کے سامنے اس اعتبار سے رسول اکرم ﷺ کی وہ بات حضرت عمر کی نظر میں وصیت جیسی تھی چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مسلسل تلاش اور جستجو میں رہے کہ اویس سے کسی طرح ملاقات ہو جائے ۔۔۔۔عام دنوں میں عمومی طور پر اور حج کے ایام میں خصوصی طور پر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ معلوم کرتے رہتے تھے کہ یمن کے علاقے میں اویس کو کوئی جانتا ہے ؟۔۔۔۔
چند سال کے بعد اللہ تعالی کی توفیق سے حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ حج کے ارادے سے مکۂ مکرمہ پہنچے پھر عرفات کے میدان میں پہنچے وہاں پر حضرت عمر کو اطلاع ملی کہ اویس آئے ہیں ۔۔۔۔سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔۔۔۔ اور حضرت عمر پہنچے ملاقات کی اور اپنے لیے دعاؤں کی درخواست کی ۔۔۔۔اور ساتھ میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے رسول اکرم ﷺ کا وہ ارشاد مبارک ان کو سنایا جو رسول اکرم ﷺ نے حضرت اویس کے بارے میں فرمایا تھا ۔۔۔۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات اور نبی کریم ﷺ کا پیغام ملنے پر حضرت اویس قرنیؒ کا ردعمل نہایت انکساری، عاجزی اور تواضع پر مبنی تھا۔
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں پہچانا اور رسول اللہ ﷺ کا بتایا ہوا پیغام (کہ وہ یمن سے آئیں گے اور ان سے دعا کروانا) سنایا، تو حضرت اویس قرنیؒ نے خود دعا کرنے کے بجائے حضرت عمرؓ سے فرمایا:
"آپ ابھی ایک نیک سفر (حج) سے ہو کر آئے ہیں، لہذا آپ میرے لیے دعا کیجیے۔”
اصرار پرحضرت اویس قرنی رحمہ اللہ نے حضرت عمرؓ کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔
جب لوگوں کو ان کے بلند مقام اور فضیلت کا علم ہوا اور شہرت کا خطرہ محسوس ہوا، تو وہ وہاں سے گمنامی کی خاطر کسی اور جگہ منتقل ہونےکا ارادہ کرلیا ۔
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ چونکہ امیر المومنین تھے اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ سے درخواست کی یہیں حجاز مقدس میں قیام پذیر ہو جائیں تو حضرت اویس قرنی نے حجاز مقدس میں رہنے سے انکار کیا ۔۔۔۔۔پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت اویس سے پوچھا آپ کا یہاں سے کہاں جانے کا ارادہ ہے۔۔۔۔حضرت اویس قرنی نے فرمایا کہ مجھے کوفہ جانا ہے ۔۔۔حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے خواہش ظاہر کی کہ آپ کے لیے ایک خط کوفہ کے گورنر کے نام لکھ دوں؟ تاکہ آپ کا اعزاز اور اکرام ہو اور آ پ کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آ ئے ۔۔۔حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے گمنام رہنے دو اور کسی سفارشی خط کی ضرورت نہیں ہے میں تنہائی اور گمنامی میں رہنا پسند کرتا ہوں ۔۔۔۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں اصل اہمیت انسان کے دل اور اعمال کی ہے۔۔۔۔
چنانچہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا
إِنَّ اللَّهَ لَا يَنظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ
”بے شک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مالوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔“
آج سوشل میڈیا کا دورہے ریلییں بنائی جا رہی ہیں اپنی شہرت کے لیے نہ جانے کیا کیا حربے اور تدبیریں اختیار کی جارہی ہیں۔۔۔پہلے زمانے میں اخلاص کی مثال دینے کے لیے کہا جاتا تھا "نیکی کر دریا میں ڈال یعنی بھول جا اللہ کے پاس اس کا ثواب ہے۔۔۔اور اب جو عمل ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ نیکی کر اور سوشل میڈیا میں ڈال "۔ُ۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم ۔۔۔۔
ہم میں سے کتنے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں ہماری پہچان ہو، لوگ ہمارا نام جانیں، ہماری تعریف کریں اور ہماری عزت کریں۔ لیکن ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ہماری زندگی میں وہ کون سے اعمال ہیں جن کی وجہ سے ہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول بن سکیں؟
دنیا کی نگاہ میں مشہور ہونا ضروری نہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول ہونا ضروری ہے۔
ماں باپ کی عظمت سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا ماں باپ کیسے بھی ہوں بہر حال ان کی تکریم اور تعظیم کی جائے
یہ حقیقت ہے کہ جتنے بھی لوگوں نے دنیا میں ترقی کی سب کے سب ماں باپ کی دعاؤں کے طفیل میں ترقی کی ۔۔۔۔
حضرت اویس قرنی رحمہ اللہ کی زندگی ہم سب کے لیے نمونہ ہے کہ انہوں نے صحابیت کے امتیازی شرف کو حاصل کرنے سے زیادہ اہمیت اپنی ماں کی خدمت کو دی ۔۔۔۔