ایس آئی آر کے ذریعے دراندازوں کی شناخت
اور الیکشن کمیشن کا ریکارڈ
تحریر : محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755
ہندوستان میں فہرست رائے دہندگان کی خصوصی جامع نظرثانی، جسے انگریزی میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کہا جاتا ہے، کے آغاز پر مرکزی حکومت نے اسے غیر قانونی غیر ملکی تارکینِ وطن، بالخصوص مبینہ دراندازوں، کی شناخت اور ان کے نام فہرست رائے دہندگان سے خارج کرنے کا اہم ذریعہ قرار دیا تھا۔ سیاسی سطح پر اس مہم کو اس قدر نمایاں کیا گیا کہ غیر ملکی شہریوں کی شناخت، ان کے ناموں کا اخراج اور ملک بدری اس کارروائی کے بنیادی مقاصد کے طور پر پیش ہونے لگے۔ تاہم، اس عمل کے مختلف مراحل سے متعلق صحافتی تحقیقات، ریاستی انتخابی حکام کے بیانات اور حقِ اطلاعات قانون کے تحت حاصل ہونے والی معلومات نے اس دعوے کے عملی نفاذ اور انتظامی طریقۂ کار پر کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، چھ ریاستوں میں تقریباً نو کروڑ چھیاسی لاکھ رائے دہندوں کے درمیان صرف ایک ہزار چھ سو چالیس کے قریب ایسے افراد کی نشاندہی ہوئی جنہیں غیر ملکی یا مشتبہ غیر ملکی شہری قرار دیا گیا۔ دوسری جانب، ایس آئی آر کے مختلف مراحل کے دوران ملک بھر میں تقریباً تیرہ کروڑ نام فہرست رائے دہندگان سے حذف کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے برعکس، دی کلیکٹو اور دی وائر کی سولہ اکتوبر دو ہزار چھبیس کو شائع ہونے والی تحقیق نے یہ سوال اٹھایا کہ آیا الیکشن کمیشن کے پاس ابتدا ہی سے ایسا کوئی باقاعدہ انتظام موجود تھا جس کے ذریعے حذف کیے جانے والے افراد کو غیر ملکی شہری قرار دے کر الگ سے نشان زد کیا جا سکے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے چوبیس جون دو ہزار پچیس کو بہار میں ایس آئی آر شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کمیشن نے اس اقدام کی ضرورت بیان کرتے ہوئے تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، لوگوں کی نقل مکانی، نوجوانوں کے حقِ رائے دہی کی عمر کو پہنچنے، اموات کی اطلاع انتخابی ریکارڈ میں درج نہ ہونے اور غیر قانونی غیر ملکی تارکینِ وطن کے نام فہرست رائے دہندگان میں شامل ہونے جیسی وجوہات پیش کی تھیں۔ کمیشن کے مطابق، اس کارروائی کا بنیادی مقصد انتخابی فہرستوں کو درست، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا تھا۔
ہندوستان ٹائمز کی تحقیق میں ان چھبیس ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف الیکٹورل آفیسرز کے دفاتر سے رابطہ کیا گیا جہاں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا تھا یا انتخابی فہرستیں شائع کی جا چکی تھیں۔ ان میں سے صرف گیارہ ریاستوں کے حکام نے جواب دیا، جب کہ محض چھ ریاستوں نے مشتبہ غیر ملکی شہریوں سے متعلق اعداد و شمار فراہم کیے۔ ان ریاستوں میں مجموعی طور پر تقریباً نو کروڑ چھیاسی لاکھ ووٹر تھے اور فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایک ہزار چھ سو چالیس افراد ایسے تھے جن کے بارے میں غیر ملکی یا مشتبہ غیر ملکی شہری ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
کرناٹک میں انتخابی حکام نے سات سو سولہ ایسے افراد کی نشاندہی کی جن کے نام فہرست رائے دہندگان میں موجود تھے اور جنہیں خارج کرنے کی کارروائی مطلوب تھی۔ ان میں سے پانچ سو پینتالیس افراد بنگلورو نارتھ میں نیپالی شہری بتائے گئے۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر وی انبوکمار نے بھی تصدیق کی کہ ان کے دفتر نے ایک ہزار سے کم غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی کی ہے۔
جنوبی کنڑ میں چالیس افراد کی شناخت ہوئی، جن میں سترہ کا تعلق نیپال، چھ کا آسٹریلیا، چھ کا امریکہ، پانچ کا کینیڈا اور دو کا برطانیہ سے بتایا گیا۔ اس کے علاوہ نیدرلینڈز، جنوبی افریقہ، آئرلینڈ اور ناروے سے تعلق رکھنے والا ایک ایک فرد بھی شامل تھا۔ اتر اکھنڈ میں بائیس افراد کی نشاندہی ہوئی، جن کا تعلق نیپال، پاکستان، امریکہ اور بنگلہ دیش سے بتایا گیا، جب کہ اڈپی میں سینتالیس افراد کے بارے میں ایسی اطلاعات سامنے آئیں جن میں نیپال، امریکہ، برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کے شہری شامل تھے۔
انتخابی نظرثانی سے واقف ایک عہدے دار کے مطابق، بعض افراد کے پاس ووٹر شناختی کارڈ موجود تھے، لیکن دستاویزات کی جانچ کے دوران وہ اسکول کے اسناد، جائیداد کے کاغذات اور دیگر متعلقہ دستاویزات فراہم نہیں کر سکے۔ اس کے بعد ان کے انتخابی اندراجات کی مزید جانچ کی گئی۔ تاہم، مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کر پانا اور کسی شخص کی غیر ملکی شہریت کا قانونی طور پر ثابت ہونا دو الگ معاملات ہیں۔ شہریت کا حتمی تعین متعلقہ قانونی طریقۂ کار اور مجاز اتھارٹی ہی کے ذریعے ہونا چاہیے۔
جھارکھنڈ میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے تین غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ریاست میں پانچ اگست کو شائع ہونے والی ابتدائی انتخابی فہرست میں تقریباً دو کروڑ اکیس لاکھ نام شامل تھے، جب کہ ایس آئی آر سے قبل رائے دہندوں کی تعداد تقریباً دو کروڑ چونسٹھ لاکھ ساٹھ ہزار تھی۔ اس طرح تقریباً تینتالیس لاکھ ساٹھ ہزار نام کم ہوئے۔ ریاست کی حتمی انتخابی فہرست تیس نومبر کو شائع کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
میگھالیہ میں نیپالی نژاد دو ایسے مردوں کے نام انتخابی فہرست میں پائے گئے جو بھارتی خواتین سے شادی شدہ تھے۔ ان کی نشاندہی ایسٹ کھاسی ہلز کے علاقے موسینرام میں ہوئی۔ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر بی ڈی آر تیواری کے مطابق، ان افراد کے نام فوری طور پر فہرست سے خارج کیے گئے اور معاملہ مزید کارروائی کے لیے محکمہ داخلہ کے سپرد کر دیا گیا۔ چھبیس اکتوبر کو شائع ہونے والی حتمی فہرست میں تقریباً اکیس لاکھ اسی ہزار نام شامل تھے، جب کہ مجموعی طور پر ایک لاکھ پینسٹھ ہزار چھ سو بیاسی نام حذف کیے گئے۔کیرالا میں تقریباً پانچ سو ایسے افراد کی نشاندہی ہوئی جن کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ غیر ملکی شہریت رکھتے تھے، لیکن ان کے نام فہرست رائے دہندگان میں موجود تھے۔ اکیس فروری کو شائع ہونے والی حتمی فہرست میں تقریباً دو کروڑ انہتر لاکھ پچاس ہزار ووٹر شامل تھے، جب کہ آٹھ لاکھ ستانوے ہزار دو سو گیارہ نام خارج کیے گئے۔
گوا کے چیف الیکٹورل آفیسر سنجے گوئل کے مطابق، چار سو انیس ایسے افراد کی نشاندہی ہوئی جن کے پاس مشتبہ غیر ملکی پاسپورٹ تھے۔ اکیس فروری کو شائع ہونے والی حتمی فہرست میں تقریباً دس لاکھ ساٹھ ہزار نام درج تھے، جب کہ ایک لاکھ ستائیس ہزار چار سو اڑسٹھ نام حذف کیے گئے۔ اس کے برعکس، میزورم کی چیف الیکٹورل آفیسر گریما گپتا کے مطابق، ریاست کی مسودہ فہرست میں غیر ملکی شہریوں کے اندراج کا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ سات ستمبر کو شائع ہونے والی حتمی فہرست میں آٹھ لاکھ پینتیس ہزار نام شامل تھے، جب کہ تقریباً انتالیس ہزار نام خارج کیے گئے۔
ہندوستان ٹائمز کی تحقیق کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ متعدد ریاستوں نے مشتبہ غیر ملکی شہریوں سے متعلق معلومات الگ سے محفوظ ہی نہیں کی تھیں۔ چار ریاستوں یا مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے بتایا کہ ان کے پاس اس نوعیت کا کوئی علیحدہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اڈیشہ کے ایک سرکاری عہدے دار نے اعتراف کیا کہ فہرست رائے دہندگان میں مشتبہ غیر ملکی شہریوں کے نام سامنے آئے، لیکن ان کی تعداد محفوظ رکھنے کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن کے ایک سینئر عہدے دار کے مطابق، ریاستوں کو مشتبہ غیر ملکی شہریوں سے متعلق معلومات الگ سے جمع کرنے کی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔ خود کمیشن کے پاس بھی اس سلسلے میں نہ مجموعی اعداد و شمار موجود ہیں اور نہ ریاست وار تفصیلات۔ اگر کسی ریاست میں ایسے معاملات سامنے آئے تو انہیں انتخابی ریکارڈ میں دیگر کے زمرے میں درج کیا گیا، لیکن ان کی الگ تفصیلات طلب نہیں کی گئیں۔پنجاب، دہلی، اتراکھنڈ اور تلنگانہ کے انتخابی حکام نے بھی مشتبہ غیر ملکی شہریوں کے بارے میں کوئی علیحدہ ریکارڈ مرتب نہ کرنے کی تصدیق کی۔ پنجاب کی چیف الیکٹورل آفیسر انندیتا مترا کے مطابق، رائے دہندوں کی درجہ بندی مقررہ زمروں کے تحت کی گئی تھی اور اس نوعیت کی مخصوص معلومات جمع نہیں کی گئیں۔ اتراکھنڈ کے چیف الیکٹورل آفیسر بی وی آر سی پروشوتم نے سوال اٹھایا کہ آیا انتخابی حکام کے لیے ایسے اعداد و شمار جمع کرنا ممکن بھی ہے، کیونکہ ان کے خیال میں یہ معاملہ انتخابی افسران کے دائرۂ اختیار سے باہر ہے۔ دہلی کے انتخابی دفتر کے ایک سینئر عہدے دار نے بھی بتایا کہ انہیں ضلعی انتخابی افسران کی جانب سے ایسی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
اس معاملے میں دی کلیکٹو کی سولہ اکتوبر دو ہزار چھبیس کو شائع ہونے والی تحقیق مزید اہمیت رکھتی ہے۔ صحافیوں نے حقِ اطلاعات قانون کے تحت الیکشن کمیشن سے دریافت کیا کہ ایس آئی آر کے دوران غیر ملکی شہری قرار دیے گئے افراد کی تفصیلات کیا ہیں اور کیا ایسے معاملات سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق مرکزی وزارتِ داخلہ کو بھیجے گئے؟ رپورٹ کے مطابق، الیکشن کمیشن نے بارہ ریاستوں سے متعلق مطلوبہ معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا، جب کہ بہار سے موصول ہونے والے جوابات میں غیر ملکی شہریوں کی باقاعدہ نشاندہی کا کوئی ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔
بہار وہ پہلی ریاست تھی جہاں جون دو ہزار پچیس میں ایس آئی آر کا عمل شروع کیا گیا تھا۔ اسی مرحلے پر الیکشن کمیشن نے گھر گھر تصدیق کے دوران غیر ملکی شہریوں کی شناخت کو بھی کارروائی کے مقاصد میں شامل قرار دیا تھا۔ دی کلیکٹو کے صحافیوں نے بہار کے سو سے زیادہ انتخابی رجسٹریشن افسران سے حقِ اطلاعات قانون کے تحت معلومات حاصل کیں۔ ان کے جوابات میں غیر حاضر، دوسری جگہ منتقل ہونے والے، فوت شدہ اور دیگر زمروں میں حذف کیے گئے رائے دہندوں کی تعداد تو موجود تھی، لیکن غیر ملکی شہریوں کی شناخت سے متعلق کوئی الگ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔
تحقیق کا ایک اہم دعویٰ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے انتخابی انتظامی نظام، جسے ای آر او نیٹ کہا جاتا ہے، میں ایسا کوئی واضح اختیار موجود نہیں تھا جس کے ذریعے کسی ووٹر کو غیر ملکی شہری قرار دے کر الگ سے نشان زد کیا جا سکے۔ صحافیوں نے مغربی بنگال میں انتخابی حکام کے زیرِ استعمال اس نظام کا جائزہ لیا اور نام حذف کرنے کے طریقۂ کار کا مشاہدہ کیا۔ ان کے مطابق، نظام میں غیر ملکی شہریت کی بنیاد پر کسی شخص کو الگ زمرے میں رکھنے کا مخصوص اختیار موجود نہیں تھا۔
دی کلیکٹو کی تحقیق کے مطابق، ایس آئی آر کے دوسرے مرحلے میں انتخابی حکام کو بنیادی طور پر چار وجوہات کی بنیاد پر نام حذف کرنے کا طریقہ بتایا گیا تھا’ ووٹر کا غیر حاضر ہونا۔ دوسری جگہ منتقل ہو جانا۔ ایک سے زیادہ جگہ اندراج ہونا۔ ووٹر کا فوت ہو جانا۔اس کے علاوہ ان رائے دہندوں کو خصوصی جانچ اور سماعت کے لیے طلب کیا جانا تھا جو دو ہزار دو سے دو ہزار چار کی فہرست رائے دہندگان میں اپنا یا اپنے خاندانی سلسلے کا اندراج ثابت نہیں کر سکے تھے۔ ایسے افراد کو غیر مربوط یا اَن میپڈ قرار دیا گیا تھا۔ اگر وہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کردہ دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہتے تو ان کے نام فہرست سے خارج کیے جا سکتے تھے۔
تاہم، تحقیق کے مطابق، دوسرے مرحلے کے داخلی قواعد میں غیر ہندوستانی شہری ہونا نام حذف کرنے کی الگ اور واضح وجہ کے طور پر شامل نہیں تھا۔ یہاں ایک بنیادی قانونی فرق کو سمجھنا ضروری ہے: کسی شخص کا پرانی انتخابی فہرست میں اپنا یا اپنے خاندان کا اندراج ثابت نہ کر پانا، مطلوبہ دستاویزات فراہم نہ کرنا یا سماعت میں غیر حاضر رہنا بذاتِ خود اس کی غیر ملکی شہریت کا قطعی ثبوت نہیں۔ اسی طرح ووٹر شناختی کارڈ بھی ہندوستانی شہریت کا حتمی ثبوت نہیں بنتا۔ اس لیے انتخابی اندراج کی اہلیت اور شہریت کے قانونی تعین کو الگ الگ معاملات کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔
ایس آئی آر کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں کے دوران الیکشن کمیشن نے غیر قانونی غیر ملکی تارکینِ وطن کی شناخت کو کارروائی کے اہم مقاصد میں شمار کیا تھا۔ دی کلیکٹو کی رپورٹ کے مطابق، سپریم کورٹ نے انتخابی نظرثانی کے عمل کو برقرار رکھتے ہوئے ہدایت دی تھی کہ جن افراد کے نام غیر شہری ہونے کی بنیاد پر حذف کیے جائیں، ان کے معاملات شہریت ایکٹ انیس سو پچپن کے تحت مجاز اتھارٹی کو بھیجے جائیں۔ اس سلسلے میں مجاز اتھاریٹی مرکزی وزارتِ داخلہ تھی‘ عدالت نے الیکشن کمیشن کو اس بارے میں تفصیلات پیش کرنے کے لیے چار ہفتوں کی مہلت دی تھی۔
تاہم، بعد میں یہ سوال پیدا ہوا کہ آیا الیکشن کمیشن نے واقعی ایسے افراد کی کوئی فہرست وزارتِ داخلہ کو بھیجی تھی۔ دی کلیکٹو نے اسی مقصد کے کے لیے قانون حقِ اطلاعات کے تحت درخواست دائر کی۔ رپورٹ کے مطابق، کمیشن نے مکمل معلومات فراہم کرنے کے بجائے بعض سوالات بہار کے انتخابی حکام کو بھیج دیے۔ وہاں سے موصول ہونے والے جوابات میں حذف شدہ رائے دہندوں کی مختلف وجوہات کی تفصیلات تو موجود تھیں، لیکن غیر ملکی شہریت کی بنیاد پر خارج کیے گئے افراد کی کوئی واضح فہرست سامنے نہیں آئی۔یوں ایک طرف سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت ایسے معاملات مجاز اتھارٹی تک پہنچانے کا سوال موجود تھا، جب کہ دوسری طرف اس عمل کے بارے میں دستیاب عوامی ریکارڈ واضح نہیں تھا۔
اتر پردیش میں فہرست رائے دہندگان سے نام خارج کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق بھی تحقیق میں ایک اہم پہلو سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق، کسی رائے دہندہ کا نام حذف کرنے کا فیصلہ ہونے کے بعد انتخابی افسران کو فارم نمبر سات تیار کرنا ہوتا ہے، جو اس مقصد کے لیے قانونی طریقۂ کار ہے۔تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ اتر پردیش میں یہ فارم خودکار طور پر تیار کیے گئےاور بعض فارموں پر پہلے ہی انتخابی افسر کے دستخط موجود تھے۔ اس کے نتیجے میں ایس آئی آر کی سماعتوں کے بعد حذف کیے گئے تقریباً چھیاسی ہزار رائے دہندوں کے ناموں کے ساتھ اخراج کی کوئی واضح وجہ درج نہیں تھی۔ اگر یہ صورتِ حال تحقیق کے مطابق درست ہے تو اس سے انتخابی کارروائی میں جواب دہی، ریکارڈ کی تکمیل اور متاثرہ رائے دہندوں کے حقِ اپیل سے متعلق سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
ایس آئی آر کے مجموعی نتائج میں مختلف ریاستوں سے حذف کیے گئے ناموں کی تعداد خاصی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ کرناٹک میں تقریباً ننانوے لاکھ ستر ہزار، جھارکھنڈ میں تینتالیس لاکھ ساٹھ ہزار، کیرالہ میں آٹھ لاکھ ستانوے ہزار دو سو گیارہ، گوا میں ایک لاکھ ستائیس ہزار چار سو اڑسٹھ، میگھالیہ میں ایک لاکھ پینسٹھ ہزار چھ سو بیاسی اور میزورم میں تقریباً انتالیس ہزار نام خارج کیے گئے۔ان اعداد و شمار کے مقابلے میں غیر ملکی شہریوں کی نشاندہی کی اطلاعات محدود دکھائی دیتی ہیں۔ تاہم، حذف کیے گئے تمام ناموں کو غیر ملکی شہریت سے جوڑنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ نام خارج کرنے کی دیگر وجوہات میں وفات، مستقل نقل مکانی، دوہرا اندراج اور دوسری انتخابی نااہلیاں بھی شامل ہیں۔ مزید یہ کہ چھ ریاستوں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو پورے ملک کی حتمی صورتِ حال قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ متعدد ریاستوں نے معلومات فراہم نہیں کیں اور بعض کے پاس ایسا الگ ریکارڈ موجود ہی نہیں تھا۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر غیر قانونی غیر ملکی تارکینِ وطن کے ناموں کا اندراج روکنا ایس آئی آر کے اہم مقاصد میں شامل تھا تو اس کے لیے واضح اور قابلِ پیمائش طریقۂ کار کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ لاکھوں رائے دہندوں کے نام حذف کیے جانے کے بعد یہ جاننا ضروری ہے کہ ان میں سے کتنے افراد کے نام غیر ملکی شہریت کی بنیاد پر خارج ہوئے، کتنے معاملات مجاز اتھاریٹی کو بھیجے گئے اور کتنے افراد کے خلاف صرف دستاویزات کی عدم فراہمی یا انتخابی ریکارڈ سے عدم مطابقت کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔ اسی طرح حذف شدہ ناموں کے خلاف دائر اپیلوں، تبدیل کیے گئے فیصلوں اور دوبارہ فہرست میں شامل کیے جانے والے افراد کی تعداد بھی سامنے آنی چاہیے۔
ان سوالات کے تسلی بخش جواب اسی وقت ممکن ہیں جب الیکشن کمیشن ایس آئی آر کے نتائج سے متعلق مکمل، مستند، قابلِ تصدیق اور ریاست وار اعداد و شمار عوام کے سامنے پیش کرے۔ ان میں ناموں کے اخراج کی وجوہات، غیر ملکی شہریت کے شبہے میں سامنے آنے والے معاملات، مجاز اتھارٹی کو بھیجے گئے مقدمات، اپیلوں اور ان کے فیصلوں کی تفصیلات شامل ہونی چاہئیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح کیا جانا چاہیے کہ انتخابی حکام کو شہریت کے تعین کے سلسلے میں کیا اختیارات حاصل تھے اور کن معاملات کو وزارتِ داخلہ یا دوسری مجاز قانونی اتھاریٹی کے حوالے کیا گیا۔
فہرست رائے دہندگان کی درستگی کسی بھی جمہوری نظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ کسی غیر ملکی شہری کا انتخابی فہرست میں اندراج درست نہیں اور اسے قانون کے مطابق درست کیا جانا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی اہل ہندوستانی شہری کا نام محض شبہے، دستاویزات کی عدم دستیابی یا انتظامی غلطی کی بنیاد پر خارج نہ ہو۔ کسی شخص کو غیر ملکی قرار دینا اور اس کا انتخابی اندراج ختم کرنا دو الگ قانونی مراحل ہیں، جن کے لیے شفاف طریقۂ کار، واضح ثبوت اور مؤثر حقِ اپیل ضروری ہے۔
چنانچہ ایس آئی آر کی حقیقی افادیت کا جائزہ صرف اس بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا کہ کتنے لاکھ نام فہرست رائے دہندگان سے حذف ہوئے، بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کتنے نام درست وجوہات کی بنیاد پر خارج کیے گئے، کتنے اہل رائے دہندہ متاثر ہوئے، غیر ملکی شہریت کے معاملات کی قانونی جانچ کس طرح ہوئی اور پورے عمل میں شفافیت اور جواب دہی کے تقاضے کس حد تک پورے کیے گئے۔ جمہوری انتخابی نظام میں فہرست رائے دہندگان کی اصلاح اور شہریوں کے حقِ رائے دہی کا تحفظ ایک دوسرے کے متضاد نہیں، بلکہ دونوں کو بیک وقت یقینی بنانا ہی شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد انتخابی عمل کا بنیادی تقاضا ہے۔