کسی بھی جمہوری معاشرے میں شہری اور سرکار کا رشتہ محض کاغذ پر لگے انتخابی ٹھپے کا محتاج نہیں ہوتا۔ اس کا اصل بھرم تو بازار کی پٹڑی اور روزمرہ زندگی کے لین دین سے بندھا ہوتا ہے۔ آدمی صبح سویرے اپنے خون پسینے کی کمائی لے کر جب سڑک پر نکلتا ہے تو ریاست سے کم از کم اتنی امانت داری کی امید ضرور رکھتا ہے کہ جو دام وہ اپنی جیب سے ادا کر رہا ہے، اسی کے مطابق جنس اسے فراہم کی جائے گی۔ لیکن جب اربابِ اقتدار ماحولیات اور قومی ترقی کے سنہرے خواب دکھا کر خود ہی ڈنڈی مارنے پر اتر آئیں تو اسے محض انتظامی خرابی کہہ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کی گلی کوچوں میں آج کل ایک عجیب بے چینی پھیلی ہوئی ہے۔ ووٹوں کے جوڑ توڑ اور انتخابی مشینوں کے بارے میں شکوک و شبہات کی گرد ابھی پوری طرح بیٹھی بھی نہ تھی کہ پٹرول پمپ کی نلکی سے نکلنے والے ایندھن نے سرکار کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ کرناٹک حکومت کے محکمۂ اوزان و پیمائش نے جب ریاست کے سات اضلاع کے تریسٹھ پٹرول پمپوں سے ایندھن کے نمونے لے کر شری رام انسٹی ٹیوٹ فار انڈسٹریل ریسرچ کی لیبارٹریوں میں بھیجے تو وہاں سے آنے والے سائنسی نتائج نے ہر اس شخص کو حیران کر دیا جو یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ گاڑی میں بیس فیصد ایتھنول ملا پٹرول ڈلوا رہا ہے۔ چودہ ابتدائی رپورٹس میں سے گیارہ نمونوں میں ایتھنول کا تناسب چوبیس، ستائیس اور بعض میں تو اکتیس فیصد سے بھی زیادہ پایا گیا۔ انڈین آئل اور ہندوستان پیٹرولیم جیسی سرکاری کمپنیوں کے پمپوں سے سامنے آنے والے اس معاملے نے یہ تلخ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا اب عام آدمی کو پٹرول کے نام پر دیدہ دلیری سے دھوکا دیا جا رہا ہے؟
اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ان دلفریب نعروں کی حقیقت جاننا ضروری ہے جو گزشتہ دہائی سے دلی کے ایوانوں میں گونج رہے ہیں۔ وزیروں اور مشیروں کی فوج دن رات ٹی وی اسکرینوں پر آ کر داد سمیٹتی رہی کہ ہم نے گنے سے ایتھنول کشید کرکے پٹرول میں ملا دیا ہے۔ اس سے ملک کے دو لاکھ کروڑ روپے کا قیمتی زرمبادلہ بچا، کسانوں کی جھولیاں بھر گئیں اور ماحولیات کو بھی فائدہ پہنچا۔ بظاہر یہ کہانی اتنی خوش نما ہے کہ کوئی بھی باشعور انسان داد دیے بغیر نہ رہے۔ مگر عقل اور معاشیات کا ایک سیدھا سا اصول ہے کہ جس چیز کو ملا کر لاگت گھٹائی جا رہی ہو، اس کا فائدہ صارف تک بھی پہنچنا چاہیے۔ منڈی کا سیدھا حساب ہے کہ ایتھنول، پٹرول کے مقابلے میں سستا تیار ہوتا ہے۔ اگر پٹرول کی ٹنکی میں بیس یا تیس فیصد سستا ایندھن ملایا جا رہا ہے تو پھر پمپ پر ایک سو سے ایک سو بیس روپے فی لیٹر کا بھاری نرخ کس کھاتے میں وصول کیا جا رہا ہے؟ کسانوں کے نام پر خریدے گئے گنے اور چاول سے حاصل ہونے والے منافع کا فائدہ کس کی تجوری میں جا رہا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل سستا ہو یا مہنگا، بھارت کے عام شہری کو کبھی سکھ کا سانس نصیب نہیں ہوا۔ پٹرول میں سستے حیاتیاتی ایندھن (Biofuel) کی یہ آمیزش دراصل سرکاری خزانے اور پٹرولیم کمپنیوں کے منافع کو بڑھانے کا ایک چور دروازہ بن چکی ہے، جہاں صارف خالص پٹرول کی قیمت ادا کرکے گنے کا رس خریدنے پر مجبور ہے۔
ستم بالائے ستم یہ کہ معاملہ صرف جیب کٹنے تک محدود نہیں۔ یہ ان موٹر سائیکلوں، اسکوٹروں اور چھوٹی کاروں کی عمر کے لیے بھی خطرہ بن چکا ہے جنہیں ایک متوسط طبقے کا شہری برسوں کی بچت سے خریدتا ہے۔ ہمارے ملک میں چلنے والی اسی سے نوے فیصد گاڑیاں بی ایس فور یا اس سے پرانے معیار کی ہیں۔ ان کے نازک پرزے اور اندرونی احتراق کے انجن زیادہ سے زیادہ دس فیصد ایتھنول برداشت کرنے کے لیے بنائے گئے تھے۔ سائنس کی معمولی سی سمجھ رکھنے والا بھی جانتا ہے کہ ایتھنول نمی جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب تیس فیصد ایتھنول گاڑی کے ٹینک میں موجود پٹرول کے ساتھ ملتا ہے تو نمی جذب کرنے کے بعد ایندھن سے الگ ہو کر تہہ میں بیٹھنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ گاڑی کی ایندھن کی نالیاں خراب ہو جائیں، پمپ جواب دے جائیں، کاربوریٹر میں کچرا جمع ہو جائے اور انجن پر اتنا بوجھ پڑے کہ گاڑی گھسٹ گھسٹ کر چلنے لگے۔ آج کسی گلی کے مکینک کی دکان پر چلے جائیں تو عام لوگ یہی شکایت کرتے نظر آئیں گے کہ گاڑی نہ پہلے جیسا مائلیج دے رہی ہے اور نہ ہی انجن پہلے جیسا دم خم دکھا رہا ہے۔ جو پٹرول کل تک ستر کلومیٹر کا فاصلہ طے کراتا تھا، وہ آج پچاس کلومیٹر پر ہی ہانپ جاتا ہے۔ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے پہلے تو حکومت کے دباؤ میں دبی زبان سے کہا تھا کہ ان کی گاڑیاں اس آمیزش کے لیے تیار نہیں ہیں، مگر پھر نجانے کیا ہوا کہ سب نے خاموشی اختیار کر لی اور عام آدمی کو اس صورتِ حال کے حوالے کر دیا جہاں وہ مہنگا ایندھن بھی خرید رہا ہے اور ہر دوسرے مہینے ورکشاپ کے چکر لگا کر مکینک کے بل بھی ادا کر رہا ہے۔
جب کرناٹک کے وزرا رضوان ارشد اور ڈاکٹر جی پرمیشورا نے پریس کانفرنس بلا کر شری رام انسٹی ٹیوٹ کی سرکاری مہر والی رپورٹس پیش کیں اور پوچھا کہ انڈین آئل کے نمونے میں اکتیس اعشاریہ دو فیصد ایتھنول کہاں سے آ گیا، نیز متاثرہ ڈرائیوروں کو معاوضہ کون دے گا، تو مرکز کی وزارت اور تیل کمپنیوں نے حسبِ روایت اپنا پرانا پینترا بدلا۔ کمپنیوں نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے تمام الزامات کو جھوٹ قرار دے دیا اور دعویٰ کیا کہ ان کے نو سو نمونوں میں سب کچھ ٹھیک پایا گیا ہے اور ان کے کمپیوٹرائزڈ نظام میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ یہ دلیل کتنی بھونڈی اور مضحکہ خیز ہے کہ جب کرناٹک حکومت نے ابتدا میں یہی نمونے خود تیل کمپنیوں کی لیبارٹریوں میں بھیجے تو انہوں نے رپورٹ میں ایتھنول کا تناسب درج کرنے سے ہی صاف انکار کر دیا تھا۔ اب جب ایک خود مختار اور معتبر ادارے نے پردہ چاک کیا ہے تو کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ خود ہی درست ہیں، کیونکہ اپنے ڈپو میں ایندھن کی جانچ بھی وہ خود کرتی ہیں۔ گویا ملزم ہی منصف کی کرسی پر بیٹھ کر خود کو بے قصور قرار دے رہا ہو۔ اگر ان کے دامن پر واقعی کوئی داغ نہیں تھا تو بہتر یہ ہوتا کہ ریاستی حکام کو ساتھ بٹھا کر ان نمونوں کی مشترکہ جانچ کرائی جاتی، نہ کہ ایک جملے میں یہ کہہ کر معاملہ ختم کر دیا جاتا کہ یہ الزام سیاسی ہے۔
یہ سارا معاملہ دراصل اس گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے جو سیاست کے ایوانوں اور شوگر ملوں کے طاقتور حلقوں کے درمیان دہائیوں سے قائم ہے۔ جسے کسانوں کی بھلائی کا نام دیا جاتا ہے، وہ دراصل چند بڑے صنعت کاروں اور سیاسی سرپرستی حاصل کرنے والے بااثر افراد کی جیبیں بھرنے کا ذریعہ بن چکا ہے، جو ملک بھر کی ڈسٹلریوں اور چینی ملوں کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ سرکار نے ان حلقوں کے آگے گھٹنے ٹیک کر انہیں ایتھنول کی من مانی قیمتیں اور کوٹے الاٹ کیے۔ جب کوٹے پورے کرنے اور بھاری منافع سمیٹنے کا لالچ حد سے بڑھ گیا تو ضابطے اور نگرانی کے تمام بندوبست ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ ان بااثر تاجروں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ کسی غریب رکشہ والے کا انجن خراب ہو رہا ہے یا کسی دیہاڑی دار کا اسکوٹر راستے میں بند پڑا ہے۔ ان کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ منافع کی فصل ہری بھری رہے۔ یہی بے حسی بھارت کے عام شہریوں میں یہ احساس پیدا کر رہی ہے کہ انہیں اپنی ہی سرزمین پر دھوکا دیا جا رہا ہے۔ حزبِ اختلاف کے رہنما راہل گاندھی کا یہ طنز کہ یہ ای ٹوئنٹی نہیں بلکہ چار سو بیس ہے اور عوام کی جیب سے کھلم کھلا پٹرول کی چوری ہو رہی ہے، دراصل اسی غم و غصے کی بازگشت ہے جو اس وقت ملک کے پٹرول پمپوں کی قطاروں میں کھڑے عام شہریوں کے دلوں میں موجود ہے۔
کسی بھی قوم کا سر اس وقت فخر سے بلند ہوتا ہے جب اس کی ترقی کی بنیاد سچائی، شفافیت اور عوام کے حقوق کے احترام پر رکھی جائے۔ سبز انقلاب اور صاف ستھری توانائی کے بلند بانگ دعوے اگر عام شہریوں کی گاڑیاں برباد کرکے اور ان کی تنخواہوں پر شب خون مار کر پورے کیے جائیں گے تو یہ قوم کو آگے لے جانے کے بجائے وسیع تر اخلاقی اور معاشی دیوالیہ پن کی طرف دھکیل دیں گے۔ سرکار کو اگر ذرا بھی اپنی ساکھ کا پاس ہے تو اسے فوری طور پر اپنی ہٹ دھرمی ترک کرنی ہوگی۔ سب سے پہلے تمام پٹرول پمپوں پر ایسے ڈیجیٹل میٹر نصب کیے جائیں جو ایندھن میں پٹرول اور ایتھنول کا تناسب واضح کریں، تاکہ خریدار کو کم از کم یہ معلوم ہو کہ وہ اپنی گاڑی میں کیا ڈلوا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان تمام شہریوں کے نقصان کی تلافی کے لیے ایک آزاد فنڈ قائم کیا جائے جن کی گاڑیاں اس غیر قانونی ملاوٹ سے متاثر ہوئی ہیں۔ ان کارپوریٹ ذمہ داروں کا بھی احتساب کیا جائے جنہوں نے مبینہ طور پر سرکاری سرپرستی میں یہ کھیل رچایا ہے۔ ورنہ تاریخ کا یہ فیصلہ اٹل رہے گا کہ جس راج میں ووٹ کی حرمت کے بعد غریب کی روزی اور اس کے پٹرول تک کو نہ بخشا جائے، وہاں جمہوریت محض ایک کھوکھلا ڈھونگ اور عوام کے اعتماد کا قبرستان بن کر رہ جاتی ہے۔